An Nasai
3. حیض کا بیان
سنن النسائي
349
An Nasaiأَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللَّهُ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قالت: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ (ﷺ) لَا نُرَى إِلَّا الْحَجَّ، فَلَمَّا كُنَّا بِسَرِفَ حِضْتُ، فَدَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ) وَأَنَا أَبْكِي، فَقَالَ: مَا لَكِ ؟ أَنَفِسْتِ ؟قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: هَذَا أَمْرٌ كَتَبَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى بَنَاتِ آدَمَ، فَاقْضِي مَا يَقْضِي الْحَاجُّ غَيْرَ أَنْ لَا تَطُوفِي بِالْبَيْتِ.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ہم لوگ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نکلے، ہمارا مقصد صرف حج کرنا تھا، جب ہم مقام سرف میں پہنچے تو میں حائضہ ہوگئی، تو رسول اللہ ﷺ میرے پاس آئے اور میں رو رہی تھی، تو آپ ﷺ نے پوچھا : کیا بات ہے ؟ کیا تم حائضہ ہوگئی ہو ؟ میں نے عرض کیا : جی ہاں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : یہ ایک ایسا معاملہ ہے جسے اللہ تعالیٰ نے آدم زادیوں پر مقدر کردیا ہے ١ ؎، اب تم وہ سارے کام کرو، جو حاجی کرتا ہے، البتہ خانہ کعبہ کا طواف نہ کرنا ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٢٩١ (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: آدم زادیوں میں حواء بھی داخل ہیں اس لیے کہ آدم زاویوں سے عورتوں کی نوع مراد ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 348
350
An Nasaiأَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ يَزِيدَ، قال: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ وَهُوَ ابْنُ سَمَاعَةَ، قال: حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، قال: حَدَّثَنَايَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، قال: أَخْبَرَنِي هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ عُرْوَةَ، أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ قَيْسٍ مِنْ بَنِي أَسَدِ قُرَيْشٍ، أَنَّهَا أَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ (ﷺ) فَذَكَرَتْ أَنَّهَا تُسْتَحَاضُ، فَزَعَمَتْ أَنَّهُ قَالَ لَهَا: إِنَّمَا ذَلِكَ عِرْقٌ، فَإِذَا أَقْبَلَتِ الْحَيْضَةُ فَدَعِي الصَّلَاةَ، وَإِذَا أَدْبَرَتْ فَاغْتَسِلِي، وَاغْسِلِي عَنْكِ الدَّمَ ثُمَّ صَلِّي.
عروۃ سے روایت ہے کہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا جو قریش کی شاخ قبیلہ بنو اسد کی ایک خاتون ہیں رسول اللہ ﷺ کے پاس آئیں، اور ذکر کیا کہ انہیں استحاضہ آتا ہے، تو آپ ﷺ نے ان سے فرمایا : یہ تو ایک رگ ہے، تو جب حیض آئے تو نماز ترک کر دو ، اور جب وہ ختم ہوجائے تو تو غسل کرلو، اور اپنے (بدن سے) خون دھو لو پھر نماز پڑھو ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٢٠١ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 349
351
An Nasaiأَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، قال: حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ هَاشِمٍ، قال: حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنّ النَّبِيَّ (ﷺ)، قَالَ: إِذَا أَقْبَلَتِ الْحَيْضَةُ فَدَعِي الصَّلَاةَ، وَإِذَا أَدْبَرَتْ فَاغْتَسِلِي.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جب حیض آئے تو نماز چھوڑ دو اور جب بند ہوجائے تو غسل کرلو (اور نماز پڑھو) ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٢٠٢ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 350
352
An Nasaiأَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قالت: اسْتَفْتَتْ أُمُّ حَبِيبَةَ بِنْتُ جَحْشٍ رَسُولَ اللَّهِ (ﷺ)، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي أُسْتَحَاضُ، فَقَالَ: إِنَّ ذَلِكَ عِرْقٌ، فَاغْتَسِلِي ثُمَّ صَلِّي. فَكَانَتْ تَغْتَسِلُ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ام حبیبہ بنت جحش رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ ﷺ سے مسئلہ پوچھا، کہنے لگیں : اللہ کے رسول ! مجھے استحاضہ کا خون آتا ہے، آپ ﷺ نے فرمایا : یہ ایک رگ ہے، تو تم غسل کرلو پھر نماز پڑھو ، چناچہ وہ ہر نماز کے وقت غسل کرتی تھیں۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٢٠٦ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 351
353
An Nasaiأَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قالت: إِنَّ أُمَّ حَبِيبَةَ سَأَلَتْ رَسُولَ اللَّهِ (ﷺ) عَنِ الدَّمِ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ: رَأَيْتُ مِرْكَنَهَا مَلْآنَ دَمًا، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ): امْكُثِي قَدْرَ مَا كَانَتْ تَحْبِسُكِ حَيْضَتُكِ، ثُمَّ اغْتَسِلِي. أَخْبَرَنَا بِهِ قُتَيْبَةُ مَرَّةً أُخْرَى، وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ جَعْفَرَ بْنَ رَبِيعَةَ.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ ﷺ سے خون کے متعلق دریافت کیا، ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے ان کے ٹب کو خون سے بھرا دیکھا، تو رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا : تم (نماز روزے سے) اتنے دن رکی رہو جس قدر تمہیں تمہارا حیض روکے رکھتا تھا، پھر غسل کرلو ۔ (امام نسائی فرماتے ہیں) ہمیں قتیبہ نے دوبارہ یہ حدیث بیان کی تو (یزید بن ابی حبیب اور عراک بن مالک کے درمیان) جعفر بن ربیعہ کا ذکر نہیں کیا۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٢٠٧، ٢٠٨ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 352
354
An Nasaiأَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، قال: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، قال: أَخْبَرَنِي عَنْنَافِعٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قالت: سَأَلَتِ امْرَأَةٌ النَّبِيَّ (ﷺ)، قَالَتْ: إِنِّي أُسْتَحَاضُ فَلَا أَطْهُرُ، أَفَأَدَعُ الصَّلَاةَ ؟ قَالَ: لَا، وَلَكِنْ دَعِي قَدْرَ تِلْكَ الْأَيَّامِ وَاللَّيَالِي الَّتِي كُنْتِ تَحِيضِينَ فِيهَا، ثُمَّ اغْتَسِلِي وَاسْتَثْفِرِي وَصَلِّي.
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ایک عورت نے نبی اکرم ﷺ سے پوچھا : مجھے استحاضہ کا خون آتا ہے تو میں پاک نہیں رہ پاتی، کیا میں نماز چھوڑ دوں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : نہیں، البتہ صرف ان دنوں اور راتوں کے بقدر چھوڑ دو جن میں تم حائضہ رہتی ہو، پھر غسل کرلو اور لنگوٹ کس کر نماز پڑھو ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٢٠٩ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 354
355
An Nasaiأَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، أَنَّ امْرَأَةً كَانَتْ تُهَرَاقُ الدَّمَ عَلَى عَهْد رَسُولِ اللَّهِ (ﷺ) اسْتَفْتَتْ لَهَا أُمُّ سَلَمَةَ رَسُولَ اللَّهِ (ﷺ)، فَقَالَ: لِتَنْظُرْ عَدَدَ اللَّيَالِي وَالْأَيَّامِ الَّتِي كَانَتْ تَحِيضُ مِنَ الشَّهْرِ قَبْلَ أَنْ يُصِيبَهَا الَّذِي أَصَابَهَا، فَلْتَتْرُكِ الصَّلَاةَ قَدْرَ ذَلِكَ مِنَ الشَّهْرِ، فَإِذَا خَلَّفَتْ ذَلِكَ، فَلْتَغْتَسِلْ ثُمَّ لِتَسْتَثْفِرْ بِالثَّوْبِ ثُمَّ لِتُصَلِّي.
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک عورت کو رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں خون آتا تھا، تو انہوں نے اس کے لیے رسول اللہ ﷺ سے مسئلہ دریافت کیا : تو آپ ﷺ نے فرمایا : وہ ان راتوں اور دنوں کی تعداد شمار کر کے رکھے جن میں اسے اس بیماری سے پہلے جو اسے لاحق ہوئی ہے حیض آتا تھا، اور اسی کے بقدر ہر مہینہ نماز چھوڑ دے، پھر جب یہ دن گزر جائیں تو غسل کرے، پھر کپڑے کا لنگوٹ باندھ لے پھر نماز پڑھے ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٢٠٩ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 355
356
An Nasaiأَخْبَرَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ دَاوُدَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، قال: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ وَهُوَ ابْنُ بَكْرِ بْنِ مُضَرَ، قال: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْيَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ وَهُوَ ابْنُ أُسَامَةَ بْنِ الْهَادِ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ وَهُوَ ابْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْعَائِشَةَ، قالت: إِنَّ أُمَّ حَبِيبَةَ بِنْتَ جَحْشٍ الَّتِي كَانَتْ تَحْتَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ وَأَنَّهَا اسْتُحِيضَتْ لَا تَطْهُرُ، فَذُكِرَ شَأْنُهَا لِرَسُولِ اللَّهِ (ﷺ)، قال: لَيْسَتْ بِالْحَيْضَةِ، وَلَكِنَّهَا رَكْضَةٌ مِنَ الرَّحِمِ، لِتَنْظُرْ قَدْرَ قَرْئِهَا الَّتِي كَانَتْ تَحِيضُ لَهَا، فَلْتَتْرُكِ الصَّلَاةَ ثُمَّ تَنْظُرْ مَا بَعْدَ ذَلِكَ، فَلْتَغْتَسِلْ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ام حبیبہ بنت جحش رضی اللہ عنہا جو عبدالرحمٰن بن عوف (رض) کے عقد میں تھیں کو استحاضہ کا خون آتا تھا، وہ پاک نہیں رہ پاتی تھیں، تو رسول اللہ ﷺ سے ان کا معاملہ ذکر کیا گیا، تو آپ ﷺ نے فرمایا : یہ حیض نہیں ہے، بلکہ یہ رحم میں شیطان کی ایک ایڑ ہے، تو اسے چاہیئے کہ اپنے حیض کو دیکھ لے جس میں وہ حائضہ ہوتی تھی (اور اسی کے بقدر) نماز چھوڑ دے، پھر اس کے بعد جو دیکھے تو ہر نماز کے وقت غسل کرے ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٢١٠ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح الإسناد صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 356
357
An Nasaiأَخْبَرَنَا أَبُو مُوسَى، قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ ابْنَةَ جَحْشٍ كَانَتْ تُسْتَحَاضُ سَبْعَ سِنِينَ، فَسَأَلَتِ النَّبِيَّ (ﷺ)، فَقَالَ: لَيْسَتْ بِالْحَيْضَةِ، إِنَّمَا هُوَ عِرْقٌ، فَأَمَرَهَا أَنْ تَتْرُكَ الصَّلَاةَ قَدْرَ أَقْرَائِهَا وَحَيْضَتِهَا وَتَغْتَسِلَ وَتُصَلِّيَ. فَكَانَتْ تَغْتَسِلُ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ جحش کی بیٹی (ام حبیبہ) کو سات سال تک استحاضہ کا خون آتا رہا، تو انہوں نے نبی اکرم ﷺ سے مسئلہ پوچھا : تو آپ ﷺ نے فرمایا : یہ حیض نہیں ہے، یہ تو ایک رگ ہے ، آپ ﷺ نے انہیں حکم دیا کہ اپنے حیض کے دنوں کے برابر نماز ترک کردیں، اور غسل کریں اور نماز پڑھیں، تو وہ ہر نماز کے لیے غسل کرتی تھی ۔ تخریج دارالدعوہ : (تحفة الأشرف : ١٦٤٥٥، ١٧٩٢٢) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 357
358
An Nasaiأَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ، قال: أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ الْمُنْذِرِ بْنِ الْمُغِيرَةِ، عَنْ عُرْوَةَ، أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ أَبِي حُبَيْشٍ حَدَّثَتْهُ، أَنَّهَا أَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ (ﷺ)، فَشَكَتْ إِلَيْهِ الدَّمَ، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ): إِنَّمَا ذَلِكَ عِرْقٌ، فَانْظُرِي إِذَا أَتَاكِ قَرْؤُكِ فَلَا تُصَلِّي، وَإِذَا مَرَّ قَرْؤُكِ فَلْتَطَهَّرِي ثُمَّ صَلِّي مَا بَيْنَ الْقَرْءِ إِلَى الْقَرْءِ. قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: قَدْ رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ عُرْوَةَ، وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ مَا ذَكَرَ الْمُنْذِرُ.
فاطمہ بنت ابی حبیش رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئیں اور آپ سے استحاضہ کے خون کی شکایت کی، تو رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا : یہ تو بس ایک رگ ہے، تو تم دیکھتی رہو جب تمہارا حیض آئے تو نماز نہ پڑھو، اور جب تمہارا حیض گزر جائے تو پاکی حاصل کرو (یعنی غسل کرو) پھر اس حیض سے دوسرے حیض کے بیچ نماز پڑھو ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٢١٢ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 358