hadith book logo

Ibn Hammaam

1. ا ب ج

ابن همام

1
Ibn Hammaam
قَالَ: " نَحْنُ الْآخِرُونَ السَّابِقُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، بَيْدَ أَنَّهُمْ أُوتُوا الْكِتَابَ مِنْ قَبْلِنَا، فَاخْتَلَفُوا فِيهِ، وَأُوتِينَاهُ مِنْ بَعْدِهِمْ، فَهَذَا يَوْمُهُمُ الَّذِي فُرِضَ عَلَيْهِمْ، فَاخْتَلَفُوا فِيهِ، فَهَدَانَا اللَّهُ لَهُ فَهُمْ لَنَا فِيهِ تَبَعٌ، فَالْيَهُودُ غَدًا وَالنَّصَارَى بَعْدَ غَدٍ
ہم (دنیا میں) آخری لوگ ہیں (لیکن) قیامت کے دن (سب امتوں سے) آگے ہوں گے، اگرچہ ان کو (اللہ کی) کتاب ہم سے پہلے دی گئی اور ہم کو ان کے بعد، پس یہ ان کا وہ دن ہے جس کو (اللہ نے) ان پر فرض کیا۔ پھر انھوں نے اس میں اختلاف کیا لیکن اللہ نے اس بارے میں ہمیں ہدایت دی۔ پس وہ اس بارے میں ہمارے پیرو ہیں، یہودی کل اور نصاری پرسوں (یعنی عبادت کا دن مسلمانوں کے لیے جمعہ ہے اس کے بعد یہودیوں کے لیے ہفتہ اور اس کے بعد عیسائیوں کے لیے اتوار
2
Ibn Hammaam
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَثَلِي وَمَثَلُ الْأَنْبِيَاءِ مِنْ قَبْلِي كَمَثَلِ رَجُلٍ ابْتَنَى بُيُوتًا فَأَحْسَنَهَا وَأَجْمَلَهَا وَأَكْمَلَهَا إِلَّا مَوْضِعَ لَبِنَةٍ مِنْ زَاوِيَةٍ مِنْ زَوَايَاهَا، فَجَعَلَ النَّاسُ يَطُوفُونَ وَيُعْجِبُهُمُ الْبُنْيَانُ، فَيَقُولُونَ أَلَا وُضِعَتْ هَاهُنَا لَبِنَةٌ فَتَمَّ بِنَاؤُهُ، فَقَالَ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَأَنَا اللَّبِنَةُ
اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا میری مثال اور مجھ سے پہلے پیغمبروں کی مثال اس شخص کی مانند ہے جو حجرے تعمیر کرے ان کو عمدہ اور خوبصورت اور کامل بنائے مگر مکان کے کسی ایک کونے کی ایک اینٹ کی جگہ باقی رہ جائے۔ لوگ پھر پھر کر مکان دیکھتے ہیں اور عمارت کو پسند کرتے ہیں۔ پس وہ کہتے ہیں یہاں ایک اینٹ رکھ دی جاتی جس سے عمارت مکمل ہوجائے۔ پھر محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : وہ اینٹ میں ہی ہوں۔
3
Ibn Hammaam
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَثَلُ الْبَخِيلِ وَالْمُتَصَدِّقِ كَمَثَلِ رَجُلَيْنِ عَلَيْهِمَا جُبَّتَانِ أَوْ جُنَّتَانِ مِنْ حَدِيدٍ إِلَى ثَدْيَيْهِمَا أَوْ إِلَى تَرَاقِيهِمَا، فَجَعَلَ الْمُتَصَدِّقُ كُلَّمَا تَصَدَّقَ بِشَيْءٍ ذَهَبَتْ عَنْ جِلْدِهِ حَتَّى تُجِنَّ بَنَانَهُ وَيَعْفُوَ أَثَرُهُ، وَجَعَلَ الْبَخِيلُ كُلَّمَا أَنْفَقَ شَيْئًا أَوْ حَدَّثَ بِهِ نَفْسَهُ، عَضَّتْ كُلُّ حَلْقَةٍ مَكَانَهَا فَيُوَسِّعُهَا وَلَا تَتَّسِعُ
اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بخیل اور صدقہ دینے والے کی مثال دو آدمیوں کے مانند ہے جن پر دو لوہے کے جبے۔ یا دوزرہ بکتر۔ جو ان کے سینوں یا ہنسلی کی ہڈیوں تک ہوں ۔ جیسے جیسے صدقہ دینے والا شخص کوئی چیز صدقہ دیتا ہے تو وہ اس کے جسم سے دور ہوتا جاتا ہے اور اس کی انگلیوں کو چھپا دیتا ہے اور اثر مٹ جاتا ہے۔ اور بخیل جب کبھی کوئی چیز خرچ کرتا ہے یا اپنے دل میں اس کا خیال کرتا ہے تو زرہ کا ہر ایک حلقہ اپنی جگہ کاٹنے لگتا ہے وہ اس کو کشادہ کرنا چاہتا ہے مگر وہ کشادہ نہیں ہوتا۔
4
Ibn Hammaam
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَثَلِي كَمَثَلِ رَجُلٍ اسْتَوْقَدَ نَارًا فَلَمَّا أَضَاءَتْ مَا حَوْلَهَا جَعَلَ الْفَرَاشُ وَهَذِهِ الدَّوَابُّ الَّتِي يَقَعْنَ فِي النَّارِ يَقَعْنَ فِيهَا، وَجَعَلَ يَحْجُزُهُنَّ وَيَغْلِبْنَهُ فَيَتَقَحَّمْنَ فِيهَا فَذَاكَ مَثَلِي وَمَثَلُكُمْ، أَنَا آخِذٌ بِحُجَزِكُمْ عَنِ النَّارِ، هَلُمَّ عَنِ النَّارِ، هَلُمَّ عَنِ النَّارِ، فَتَغْلِبُونِي تَقَحَّمُونَ فِيهَا
اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میری مثال اس شخص کے مانند ہے جس نے آگ سلگائی جب اطراف کی چیزیں روشن ہوجاتی ہیں تو پروانے اور زمین پر رینگنے والے وہ (کیڑے مکوڑے) جو آگ میں گرا کرتے ہیں۔ اس میں گرنے لگتے ہیں او وہ شخص ان کو (اس میں گرنے سے) روکنے لگتا ہے لیکن وہ اس پر غالب ہوجاتے ہیں اور اس میں گھس جاتے ہیں۔ پس یہی میری اور تمہاری مثال ہے۔ میں تم کو آگ سے بچانے کی کوشش کرتا ہوں ( اور چلاتا ہوں) کہ آگ سے ہٹو۔ آگ سے ہٹو ( مگر تم سنتے ہی نہیں) لیکن تم مجھ پر غالب آجاتے ہو اور آگ میں گھس جاتے ہیں۔
5
Ibn Hammaam
وَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فِي الْجَنَّةِ شَجَرَةٌ يَسِيرُ الرَّاكِبُ فِي ظِلِّهَا مِائَةَ عَامٍ لَا يَقْطَعُهَا
اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جنت میں ایک (اتنا بڑا) درخت ہے کہ اگر سوار اس کے سایہ میں سو (100) برس چلتا رہے تو بھی اس کو ختم نہ کرے گا۔
6
Ibn Hammaam
وَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِيَّاكُمْ وَالظَّنَّ، إِيَّاكُمْ وَالظَّنَّ، إِيَّاكُمْ وَالظَّنَّ، فَإِنَّ الظَّنَّ أَكْذَبُ الْحَدِيثِ، وَلَا تَنَاجَشُوا، وَلَا تَحَاسَدُوا، وَلَا تَنَافَسُوا، وَلَا تَبَاغَضُوا، وَلَا تَدَابَرُوا، وَكُونُوا عِبَادَ اللَّهِ إِخْوَانًا
اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم (بد) گمانی سے بچو، تم (بد) گمانی سے بچو، کیونکہ (بد) گمانی سب سے زیادہ جھوٹی بات ہے اور تم آپس میں خریدو فروخت میں دھوکا بازی نہ کرو اور آپس میں حسد نہ کرو اور نہ نفسانیت سے آپس میں مقابلہ کرو اور نہ آپس میں بغض رکھو اور نہ قطع تعلق کرو، اور اے اللہ کے بندو ! تم آپس میں بھائی، بھائی بن جاؤ۔
7
Ibn Hammaam
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فِي الْجُمُعَةِ سَاعَةٌ لَا يُوَافِقُهَا مُسْلِمٌ وَهُوَ يُصَلِّي يَسْأَلُ رَبَّهُ شَيْئًا إِلَّا آتَاهُ إِيَّاهُ
اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جمعہ میں ایک گھڑی ایسی ہوتی ہے کہ اس گھڑی کوئی مسلمان نماز پڑھتے ہوئے اللہ سے کسی چیز کا سوال کرتا ہے تو اللہ ضرور اس چیز کو عطا کرتا ہے۔
8
Ibn Hammaam
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْمَلَائِكَةُ يَتَعَاقَبُونَ فِيكُمْ , مَلَائِكَةٌ بِاللَّيْلِ وَمَلَائِكَةٌ بِالنَّهَارِ وَيَجْتَمِعُونَ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ، وَصَلَاةِ الْعَصْرِ، ثُمَّ يَعْرُجُ إِلَيْهِ الَّذِينَ بَاتُوا فِيكُمْ فَيَسْأَلُهُمْ، وَهُوَ أَعْلَمُ بِهِمْ، كَيْفَ تَرَكْتُمْ عِبَادِي؟ قَالُوا: تَرَكْنَاهُمْ وَهُمْ يُصَلُّونَ وَأَتَيْنَاهُمْ وَهُمْ يُصَلُّونَ
اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : رات کے فرشتے اور دن کے فرشتے نوبت بہ نوبت تمہارے پاس آیا کرتے ہیں اور صبح کی نماز اور عصر کی نماز میں ایک دوسرے سے ملتے ہیں۔ پھر وہ فرشتے جنہوں نے تمہارے ساتھ رات گزاری (پروردگار) کے پاس اوپر جاتے ہیں اور وہ ان سے پوچھتا ہے حالانکہ وہ ان سے زیادہ جاننے والا ہے۔ تم نے میرے بندوں کو کس حال میں چھوڑا ؟ وہ کہتے ہیں، ہم نے ان کو اس حال میں چھوڑا کہ وہ نماز پڑھ رہے تھے اور ہم اس حال میں ان کے پاس گئے کہ وہ نماز پڑھ رہے تھے۔
9
Ibn Hammaam
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْمَلَائِكَةُ تُصَلِّي عَلَى أَحَدِكُمْ مَا دَامَ فِي مُصَلَّاهُ الَّذِي صَلَّى فِيهِ، وَتَقُولُ: اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ، اللَّهُمَّ ارْحَمْهُ مَا لَمْ يُحْدِثْ
اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : فرشتے تم میں سے ہر شخص پر اس وقت تک رحمت بھیجتے ہیں جب تک کہ وہ اپنی نماز پڑھنے کی جگہ پر جہاں اس نے نماز پڑھی تھی (بیٹھا) رہے اور وہ کہتے ہیں :“ یا اللہ ! تو اس کی مغفرت کر، یا اللہ تو اس پر رحم کر ” جب تک کہ اس شخص کا وضو نہ ٹوٹ جائے۔
10
Ibn Hammaam
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا قَالَ أَحَدُكُمْ: آمِينَ وَالْمَلَائِكَةُ فِي السَّمَاءِ: آمِينَ، فَوَافَقَ إِحْدَاهَا الْأُخْرَى؛ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ
اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب تم میں سے کوئی شخص : “ آمین ” (قبول کر) کہے اور فرشتے بھی آسمان پر “ آمین ” کہیں ان دونوں میں سے ہر ایک دوسرے کا ساتھ دینا موافق ہو تو اس کے تمام پچھلے گناہ معاف کردیئے جاتے۔