Jamiat Tirmidhi
10. جنازوں کا بیان
جامع الترمذي
965
Jamiat Tirmidhiحَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ): لَا يُصِيبُ الْمُؤْمِنَ شَوْكَةٌ فَمَا فَوْقَهَا، إِلَّا رَفَعَهُ اللَّهُ بِهَا دَرَجَةً، وَحَطَّ عَنْهُ بِهَا خَطِيئَةً . قَالَ: وَفِي الْبَاب، عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، وَأَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ الْجَرَّاحِ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، وَأَبِي أُمَامَةَ، وَأَبِي سَعِيدٍ، وَأَنَسٍ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، وَأَسَدِ بْنِ كُرْزٍ، وَجَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَزْهَرَ، وَأَبِي مُوسَى. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ عَائِشَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
ام المؤمنین عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : مومن کو کوئی کانٹا بھی چبھتا ہے، یا اس سے بھی کم کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی وجہ سے اس کا ایک درجہ بلند اور اس کے بدلے اس کا ایک گناہ معاف کردیتا ہے ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- عائشہ (رض) کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں سعد بن ابی وقاص، ابوعبیدہ بن جراح، ابوہریرہ، ابوامامہ، ابو سعید خدری، انس، عبداللہ بن عمرو بن العاص، اسد بن کرز، جابر بن عبداللہ، عبدالرحمٰن بن ازہر اور ابوموسیٰ اشعری (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/البر والصلة ١٤ (٢٥٧٢) ، ( تحفة الأشراف : ١٩٩٥٣) ، موطا امام مالک/العین ٣ (٦) ، مسند احمد (٦/٣٩، ٤٢، ١٦٠، ١٧٣، ١٧٥، ١٨٥، ٢٠٢، ٢١٥، ٢١٥، ٢٥٥، ٢٥٧، ٢٧٨، ٢٧٩) (صحیح) وأخرجہ صحیح البخاری/المرضی ١ (٥٦٤٠) من غیر ہذا الوجہ بمعناہ۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، الروض النضير (819) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 965
966
Jamiat Tirmidhiحَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْأَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ): مَا مِنْ شَيْءٍ يُصِيبُ الْمُؤْمِنَ مِنْ نَصَبٍ وَلَا حَزَنٍ وَلَا وَصَبٍ حَتَّى الْهَمُّ يَهُمُّهُ إِلَّا يُكَفِّرُ اللَّهُ بِهِ عَنْهُ سَيِّئَاتِهِ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ فِي هَذَا الْبَابِ، قَالَ: وسَمِعْت الْجَارُودَ، يَقُولُ: سَمِعْتُ وَكِيعًا، يَقُولُ: لَمْ يُسْمَعْ فِي الْهَمِّ أَنَّهُ يَكُونُ كَفَّارَةً إِلَّا فِي هَذَا الْحَدِيثِ، قَالَ: وَقَدْ رَوَى بَعْضُهُمْ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ (ﷺ).
ابو سعید خدری (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : مومن کو جو بھی تکان، غم، اور بیماری حتیٰ کہ فکر لاحق ہوتی ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے بدلے اس کے گناہ مٹا دیتا ہے ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- اس باب میں یہ حدیث حسن ہے، ٢- بعض لوگوں نے یہ حدیث بطریق : «عطاء بن يسار عن أبي هريرة رضي اللہ عنه عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» روایت کی ہے، ٣- وکیع کہتے ہیں : اس حدیث کے علاوہ کسی حدیث میں «همّ» فکر کے بارے میں نہیں سنا گیا کہ وہ بھی گناہوں کا کفارہ ہوتا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/المرضی ١ (٥٦٤١، ٥٦٤٢) ، صحیح مسلم/البروالصلة ١٤ (٢٥٧٣) ، ( تحفة الأشراف : ٤١٦٥) ، مسند احمد (٣/٤، ٢٤، ٣٨) (حسن صحیح) وضاحت : ١ ؎ : مطلب یہ ہے کہ مومن کو دنیا میں جو بھی آلام و مصائب پہنچتے ہیں اللہ انہیں اپنے فضل سے اس کے گناہوں کا کفارہ بنا دیتا ہے ، لیکن یہ اسی صورت میں ہے جب مومن صبر کرے ، اور اگر وہ صبر کے بجائے بےصبری کا مظاہرہ اور تقدیر کا رونا رونے لگے تو وہ اس اجر سے تو محروم ہو ہی جائے گا ، اور خطرہ ہے کہ اسے مزید گناہوں کا بوجھ نہ اٹھانا پڑجائے۔ قال الشيخ الألباني : حسن صحيح، الصحيحة (2503) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 966
967
Jamiat Tirmidhiحَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ الرَّحَبِيِّ، عَنْثَوْبَانَ، عَنِ النَّبِيِّ (ﷺ)، قَالَ: إِنَّ الْمُسْلِمَ إِذَا عَادَ أَخَاهُ الْمُسْلِمَ لَمْ يَزَلْ فِي خُرْفَةِ الْجَنَّةِ . وَفِي الْبَاب: عَنْ عَلِيٍّ، وَأَبِي مُوسَى، وَالْبَرَاءِ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، وَأَنَسٍ، وَجَابِرٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ ثَوْبَانَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَرَوَى أَبُو غِفَارٍ، وَعَاصِمٌ الْأَحْوَلُ هَذَا الْحَدِيثَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ، عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ، عَنْ ثَوْبَانَ، عَنِ النَّبِيِّ (ﷺ) نَحْوَهُ، وسَمِعْت مُحَمَّدًا، يَقُولُ: مَنْ رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ، عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ فَهُوَ أَصَحُّ، قَالَ مُحَمَّدٌ: وَأَحَادِيثُ أَبِي قِلَابَةَ إِنَّمَا هِيَ عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ، إِلَّا هَذَا الْحَدِيثَ فَهُوَ عِنْدِي عَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ، عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ.
ثوبان (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : مسلمان جب اپنے مسلمان بھائی کی عیادت کرتا ہے تو وہ برابر جنت میں پھل چنتا رہتا ہے ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- ثوبان کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- ابوغفار اور عاصم احول نے یہ حدیث بطریق : «عن أبي قلابة عن أبي الأشعث عن أبي أسماء عن ثوبان عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» روایت کی ہے، ٣- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو کہتے سنا کہ جس نے یہ حدیث بطریق : «عن أبي الأشعث عن أبي أسماء» روایت کی ہے وہ زیادہ صحیح ہے، ٤- محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں : ابوقلابہ کی حدیثیں ابواسماء ہی سے مروی ہیں سوائے اس حدیث کے یہ میرے نزدیک بطریق : «عن أبي الأشعث عن أبي أسماء» مروی ہے، ٥- اس باب میں علی، ابوموسیٰ ، براء، ابوہریرہ، انس اور جابر (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/البروالصلة ١٣ (٢٥٦٨) ، ( تحفة الأشراف : ٢١٠٥) ، مسند احمد (٥/٢٧٧، ٢٨١، ٢٨١، ٢٨٣، ٢٨٤) (صحیح) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 967
968
Jamiat Tirmidhiحَدَّثَنَا بْنُ وَزِيرٍ الْوَاسِطِيُّ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ، عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ، عَنْ ثَوْبَانَ، عَنِ النَّبِيِّ (ﷺ) نَحْوَهُ وَزَادَ فِيهِ، قِيلَ: مَا خُرْفَةُ الْجَنَّةِ، قَالَ: جَنَاهَا .
اس سند سے بھی ثوبان (رض) نے نبی اکرم ﷺ سے اسی طرح روایت کی ہے، البتہ اس میں اتنا اضافہ ہے : عرض کیا گیا : جنت کا خرفہ کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا : اس کے پھل توڑنا ۔ ایک دوسری سند سے ایوب سے اور ایوب نے ابوقلابہ سے، اور ابوقلابہ نے ابواسماء سے، اور ابواسماء نے ثوبان سے اور ثوبان نے نبی اکرم ﷺ سے خالد الحذاء کی حدیث کی طرح روایت کی ہے، اور اس میں احمد بن عبدہ نے ابواشعث کے واسطے کا ذکر نہیں کیا ہے۔
969
Jamiat Tirmidhiحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ ثُوَيْرٍ هُوَ: ابْنُ أَبِي فَاخِتَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: أَخَذَ عَلِيٌّ بِيَدِي، قَالَ: انْطَلِقْ بِنَا إِلَى الْحَسَنِ نَعُودُهُ، فَوَجَدْنَا عِنْدَهُ أَبَا مُوسَى، فَقَالَ عَلِيٌّ رضي الله عنه: أَعَائِدًا جِئْتَ يَا أَبَا مُوسَى أَمْ زَائِرًا، فَقَالَ: لَا بَلْ عَائِدًا. فَقَالَ عَلِيٌّ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ (ﷺ) يَقُولُ: مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَعُودُ مُسْلِمًا غُدْوَةً إِلَّا صَلَّى عَلَيْهِ سَبْعُونَ أَلْفَ مَلَكٍ حَتَّى يُمْسِيَ، وَإِنْ عَادَهُ عَشِيَّةً إِلَّا صَلَّى عَلَيْهِ سَبْعُونَ أَلْفَ مَلَكٍ حَتَّى يُصْبِحَ، وَكَانَ لَهُ خَرِيفٌ فِي الْجَنَّةِ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، وَقَدْ رُوِيَ عَنْ عَلِيٍّ هَذَا الْحَدِيثُ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ، مِنْهُمْ مَنْ وَقَفَهُ وَلَمْ يَرْفَعْهُ، وَأَبُو فَاخِتَةَ: اسْمُهُ سَعِيدُ بْنُ عِلَاقَةَ.
ابوفاختہ سعید بن علاقہ کہتے ہیں کہ علی (رض) نے میرا ہاتھ پکڑ کر کہا : ہمارے ساتھ حسن کے پاس چلو ہم ان کی عیادت کریں گے تو ہم نے ان کے پاس ابوموسیٰ کو پایا۔ تو علی (رض) نے پوچھا : ابوموسیٰ کیا آپ عیادت کے لیے آئے ہیں ؟ یا زیارت «شماتت» کے لیے ؟ تو انہوں نے کہا : نہیں، بلکہ عیادت کے لیے آیا ہوں۔ اس پر علی (رض) نے کہا : میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے : جو مسلمان بھی کسی مسلمان کی صبح کے وقت عیادت کرتا ہے تو شام تک ستر ہزار فرشتے اس کے لیے استغفار کرتے ہیں۔ اور جو شام کو عیادت کرتا ہے تو صبح تک ستر ہزار فرشتے اس کے لیے استغفار کرتے ہیں۔ اور اس کے لیے جنت میں ایک باغ ہوگا ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- یہ حدیث حسن غریب ہے، ٢- علی (رض) سے یہ حدیث کئی اور بھی طرق سے بھی مروی ہے، ان میں سے بعض نے موقوفاً اور بعض نے مرفوعاً روایت کی ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ١٠١٠٨) (صحیح اس میں ” زائرا “ لفظ صحیح نہیں ہے، اس کی جگہ ” شامتا “ صحیح ہے ملاحظہ ہو ” الصحیحة “ رقم : ١٣٦٧) قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (1442) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 969
970
Jamiat Tirmidhiحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ حَارِثَةَ بْنِ مُضَرِّبٍ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى خَبَّابٍ وَقَدِ اكْتَوَى فِي بَطْنِهِ، فَقَالَ: مَا أَعْلَمُ أَحَدًا لَقِيَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ (ﷺ) مِنَ الْبَلَاءِ مَا لَقِيتُ لَقَدْ كُنْتُ وَمَا أَجِدُ دِرْهَمًا عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ (ﷺ) وَفِي نَاحِيَةٍ مِنْ بَيْتِي أَرْبَعُونَ أَلْفًا، وَلَوْلَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ (ﷺ) نَهَانَا أَوْ نَهَى أَنْ نَتَمَنَّى الْمَوْتَ لَتَمَنَّيْتُ. قَالَ: وَفِي الْبَاب، عَنْ أَنَسٍ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، وَجَابِرٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ خَبَّابٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ. وَقَدْ رُوِيَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنِ النَّبِيِّ (ﷺ)، أَنَّهُ قَالَ: لَا يَتَمَنَّيَنَّ أَحَدُكُمُ الْمَوْتَ لِضُرٍّ نَزَلَ بِهِ وَلْيَقُلْ: اللَّهُمَّ أَحْيِنِي مَا كَانَتِ الْحَيَاةُ خَيْرًا لِي وَتَوَفَّنِي إِذَا كَانَتِ الْوَفَاةُ خَيْرًا لِي .
حارثہ بن مضرب کہتے ہیں کہ میں خباب بن ارت (رض) کے پاس گیا، ان کے پیٹ میں آگ سے داغ کے نشانات تھے، تو انہوں نے کہا : نہیں جانتا کہ صحابہ میں کسی نے اتنی مصیبت جھیلی ہو جو میں نے جھیلی ہے، نبی اکرم ﷺ کے عہد میں میرے پاس ایک درہم بھی نہیں ہوتا تھا، جب کہ اس وقت میرے گھر کے ایک کونے میں چالیس ہزار درہم پڑے ہیں، اگر رسول اللہ ﷺ نے ہمیں موت کی تمنا کرنے سے نہ روکا ہوتا تو میں موت کی تمنا ضرور کرتا۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- خباب (رض) کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں انس، ابوہریرہ، اور جابر (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابن ماجہ/الزہد ١٣ (٤١٦٣) ، ( تحفة الأشراف : ٣٥١١) ، مسند احمد (٥/١٠٩، ١١٠، ١١١) ، والمؤلف فی القیامة ٤٠ (٢٤٨٣) (صحیح) وأخرجہ کل من : صحیح البخاری/المرضی ١٩ (٥٦٧٢) ، والدعوات ٣٠ (٦٣٤٩) ، والرقاق ٧ (٦٤٣٠) ، والتمنی ٦ (٧٢٣٤) ، صحیح مسلم/الذکر ٤ (٢٦٨١) ، سنن النسائی/الجنائز ٢ (١٨٢٤) ، مسند احمد (٥/١٠٩، ١١١، ١١٢) من غیر ہذا الوجہ۔ قال الشيخ الألباني : صحيح أحكام الجنائز (59) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 970 انس بن مالک (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم میں سے کوئی ہرگز کسی مصیبت کی وجہ سے جو اس پر نازل ہوئی ہو موت کی تمنا نہ کرے۔ بلکہ وہ یوں کہے : «اللهم أحيني ما کانت الحياة خيرا لي وتوفني إذا کانت الوفاة خيرا لي» اے اللہ ! مجھے زندہ رکھ جب تک کہ زندگی میرے لیے بہتر ہو، اور مجھے موت دے جب میرے لیے موت بہتر ہو ۔
972
Jamiat Tirmidhiحَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ هِلَالٍ الْبَصْرِيُّ الصَّوَّافُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، أَنَّ جِبْرِيلَ أَتَى النَّبِيَّ (ﷺ)، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ اشْتَكَيْتَ، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: بِاسْمِ اللَّهِ أَرْقِيكَ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ يُؤْذِيكَ، مِنْ شَرِّ كُلِّ نَفْسٍ وَعَيْنِ حَاسِدٍ، بِاسْمِ اللَّهِ أَرْقِيكَ وَاللَّهُ يَشْفِيكَ
ابو سعید خدری (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کے پاس آ کر جبرائیل نے پوچھا : اے محمد ! کیا آپ بیمار ہیں ؟ فرمایا : ہاں، جبرائیل نے کہا : «باسم اللہ أرقيك من کل شيء يؤذيك من شر کل نفس وعين حاسد باسم اللہ أرقيك والله يشفيك» میں اللہ کے نام سے آپ پر دم کرتا ہوں ہر اس چیز سے جو آپ کو ایذاء پہنچا رہی ہے، ہر نفس کے شر سے اور ہر حاسد کی آنکھ سے، میں اللہ کے نام سے آپ پر دم کرتا ہوں، اللہ آپ کو شفاء عطا فرمائے گا ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/السلام ١٦ (٢١٨٦) ، سنن ابن ماجہ/الطب ٣٦ (٣٥٢٣) ، ( تحفة الأشراف : ٤٣٦٣) ، مسند احمد (٣/٢٨، ٥٦) (صحیح) قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (3523) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 972
973
Jamiat Tirmidhiحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ، قَالَ: دَخَلْتُ أَنَا وَثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ عَلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، فَقَالَ ثَابِتٌ: يَا أَبَا حَمْزَةَ اشْتَكَيْتُ ؟ فَقَالَ أَنَسٌ: أَفَلَا أَرْقِيكَ بِرُقْيَةِ رَسُولِ اللَّهِ (ﷺ) ؟ قَالَ: بَلَى، قَالَ: اللَّهُمَّ رَبَّ النَّاسِ مُذْهِبَ الْبَاسِ، اشْفِ أَنْتَ الشَّافِي لَا شَافِيَ إِلَّا أَنْتَ، شِفَاءً لَا يُغَادِرُ سَقَمًا . قَالَ: وَفِي الْبَاب، عَنْ أَنَسٍ، وَعَائِشَةَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ أَبِي سَعِيدٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَسَأَلْتُ أَبَا زُرْعَةَ عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ، فَقُلْتُ لَهُ: رِوَايَةُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ أَصَحُّ، أَوْ حَدِيثُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: كِلَاهُمَا صَحِيحٌ، وَرَوَى عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أبِي سَعِيدٍ، وعَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ، عَنْ أَنَسٍ.
عبدالعزیز بن صہیب کہتے ہیں کہ میں اور ثابت بنانی دونوں انس بن مالک (رض) کے پاس گئے۔ ثابت نے کہا : ابوحمزہ ! میں بیمار ہوگیا ہوں، انس نے کہا : کیا میں تم پر رسول اللہ ﷺ کے منتر کے ذریعہ دم نہ کر دوں ؟ انہوں نے کہا : کیوں نہیں ! انس نے کہا : «اللهم رب الناس مذهب الباس اشف أنت الشافي لا شافي إلا أنت شفاء لا يغادر سقما» اے اللہ ! لوگوں کے رب ! مصیبت کو دور کرنے والے ! شفاء عطا فرما، تو ہی شفاء دینے والا ہے، تیرے سوا کوئی شافی نہیں۔ ایسی شفاء دے کہ کوئی بیماری باقی نہ رہ جائے ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- ابو سعید خدری کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- میں نے ابوزرعہ سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا کہ عبدالعزیز بن صہیب کی روایت بسند «ابی نضرة عن ابی سعید الخدری» زیادہ صحیح ہے یا عبدالعزیز کی انس سے روایت ہے ؟ تو انہوں نے کہا : دونوں صحیح ہیں، ٣- عبدالصمد بن عبدالوارث نے بسند «عبدالوارث عن أبيه عن عبد العزيز بن صهيب عن أبي نضرة عن أبي سعيد» روایت کی ہے اور عبدالعزیز بن صھیب نے انس سے بھی روایت کی ہے، ٤- اس باب میں انس اور عائشہ (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الطب ٣٨ (٥٧٤٢) ، سنن ابی داود/ الطب ١٩ (٣٨٩٠) ، ( تحفة الأشراف : ١٠٣٤) ، مسند احمد (٣/١٥١) (صحیح) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 973
974
Jamiat Tirmidhiحَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ (ﷺ)، قَالَ: مَا حَقُّ امْرِئٍ مُسْلِمٍ يَبِيتُ لَيْلَتَيْنِ وَلَهُ شَيْءٌ يُوصِي فِيهِ إِلَّا وَوَصِيَّتُهُ مَكْتُوبَةٌ عِنْدَهُ . قَالَ: وَفِي الْبَاب، عَنْ ابْنِ أَبِي أَوْفَى. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ ابْنِ عُمَرَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ایک مسلمان، جس کی دو راتیں بھی اس حال میں گزریں کہ اس کے پاس وصیت کرنے کی کوئی چیز ہو، اس پر لازم ہے کہ اس کی وصیت اس کے پاس لکھی ہوئی ہو ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- ابن عمر (رض) کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں ابن ابی اوفی (رض) سے بھی حدیث آئی ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الوصایا ١ (١٦٢٧) ، سنن ابن ماجہ/الوصایا ٢ (٢٦٩٩) ، ( تحفة الأشراف : ٧٩٤٤) (صحیح) مسند احمد (٢/٥٧، ٨٠) ، (ویأتي عند المؤلف فی الوصایا ٣ (٢١١٨) ، وأخرجہ کل من : صحیح البخاری/الوصایا ١ (٢٧٣٨) ، صحیح مسلم/الوصایا (المصدر المذکور) ، سنن النسائی/الوصایا ١ (٣٦٤٥، ٣٦٤٦، ٣٦٤٨) ، موطا امام مالک/الوصایا ١ (١) ، مسند احمد (٢/٤، ١٠، ٣٤، ٥٠، ١١٣) ، سنن الدارمی/الوصایا ١ (٣٢٣٩) ، من غیر ہذا الوجہ۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (2699) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 974
975
Jamiat Tirmidhiحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ، عَنْ سَعْدِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: عَادَنِي رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ) وَأَنَا مَرِيضٌ، فَقَالَ: أَوْصَيْتَ ، قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: بِكَمْ ، قُلْتُ: بِمَالِي كُلِّهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، قَالَ: فَمَا تَرَكْتَ لِوَلَدِكَ ؟ قُلْتُ: هُمْ أَغْنِيَاءُ بِخَيْرٍ، قَالَ: أَوْصِ بِالْعُشْرِ ، فَمَا زِلْتُ أُنَاقِصُهُ حَتَّى قَالَ: أَوْصِ بِالثُّلُثِ وَالثُّلُثُ كَثِيرٌ . قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ: وَنَحْنُ نَسْتَحِبُّ أَنْ يَنْقُصَ مِنَ الثُّلُثِ لِقَوْلِ رَسُولِ اللَّهِ (ﷺ) وَالثُّلُثُ كَثِيرٌ. قَالَ: وَفِي الْبَاب، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ سَعْدٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ رُوِيَ عَنْهُ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ، وَقَدْ رُوِيَ عَنْهُ: وَالثُّلُثُ كَبِيرٌ ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ لَا يَرَوْنَ أَنْ يُوصِيَ الرَّجُلُ بِأَكْثَرَ مِنَ الثُّلُثِ، وَيَسْتَحِبُّونَ أَنْ يَنْقُصَ مِنَ الثُّلُثِ، قَالَ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ: كَانُوا يَسْتَحِبُّونَ فِي الْوَصِيَّةِ الْخُمُسَ دُونَ الرُّبُعِ، وَالرُّبُعَ دُونَ الثُّلُثِ، وَمَنْ أَوْصَى بِالثُّلُثِ فَلَمْ يَتْرُكْ شَيْئًا وَلَا يَجُوزُ لَهُ إِلَّا الثُّلُثُ.
سعد بن مالک (سعد بن ابی وقاص) (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے میری عیادت فرمائی، میں بیمار تھا۔ تو آپ نے پوچھا : کیا تم نے وصیت کردی ہے ؟ میں نے عرض کیا : جی ہاں (کر دی ہے) ، آپ نے فرمایا : کتنے کی ؟ میں نے عرض کیا : اللہ کی راہ میں اپنے سارے مال کی۔ آپ نے پوچھا : اپنی اولاد کے لیے تم نے کیا چھوڑا ؟ میں نے عرض کیا : وہ مال سے بےنیاز ہیں، آپ نے فرمایا : دسویں حصے کی وصیت کرو ۔ تو میں برابر اسے زیادہ کراتا رہا یہاں تک کہ آپ نے فرمایا : تہائی مال کی وصیت کرو، اور تہائی بھی زیادہ ہے ۔ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں : ہم لوگ رسول اللہ ﷺ کے اس فرمان کی وجہ سے کہ تہائی مال کی وصیت بھی زیادہ ہے مستحب یہی سمجھتے ہیں کہ تہائی سے بھی کم کی وصیت کی جائے۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- سعد (رض) کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- سعد (رض) سے یہ حدیث دوسرے اور طرق سے بھی مروی ہے، ٣- اس باب میں ابن عباس (رض) سے بھی روایت ہے۔ اور ان سے «والثلث کثير» کی جگہ «والثلث کبير» تہائی بڑی مقدار ہے بھی مروی ہے، ٤- اہل علم کا اسی پر عمل ہے، وہ اس بات کو صحیح قرار نہیں دیتے کہ آدمی تہائی سے زیادہ کی وصیت کرے اور مستحب سمجھتے ہیں کہ تہائی سے کم کی وصیت کرے، ٥- سفیان ثوری کہتے ہیں : لوگ چوتھائی حصہ کے مقابل میں پانچویں حصہ کو اور تہائی کے مقابلے میں چوتھائی حصہ کو مستحب سمجھتے تھے، اور کہتے تھے کہ جس نے تہائی کی وصیت کردی اس نے کچھ نہیں چھوڑا۔ اور اس کے لیے تہائی سے زیادہ جائز نہیں۔ تخریج دارالدعوہ : سنن النسائی/الوصایا ٣ (٣٦٦١) ، ( تحفة الأشراف : ٣٨٩٨) (صحیح) وأخرجہ کل من : صحیح البخاری/الجنائز ٣٦ (١٢٩٥) ، والوصایا ٢ (٢٧٤٢) ، ومناقب الأنصار ٤٩ (٣٩٣٦) ، والمغازي ٧٧ (٤٣٩٥) ، والنفقات ١ (٥٣٥٤) ، المرضی ١٣ (٥٦٥٩) ، والدعوات ٤٣ (٦٣٧٣) ، والفرائض ٦ (٦٧٣٣) ، صحیح مسلم/الوصایا ٢ (١٦٢٨) ، سنن ابی داود/ الوصایا ٢ (٢٨٦٤) ، سنن النسائی/الوصایا ٣ (٣٦٥٦، ٣٦٦٠، ٣٦٦١، ٣٦٦٢، ٣٦٦٥) ، سنن ابن ماجہ/الوصایا ٥ (٢٧٠٨) ، موطا امام مالک/الوصایا ٣ (٤) ، مسند احمد (١/١٦٨، ١٧٢، ١٧٦، ١٧٩) ، سنن الدارمی/الوصایا ٧ (٣٢٣٨، ٣٢٣٩) والمؤلف/الوصایا ١ (٢١١٦) من غیر ہذا الوجہ۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (2708) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 975