Jamiat Tirmidhi
23. کھانے کا بیان
جامع الترمذي
1788
Jamiat Tirmidhiحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ يُونُسَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ قَالَ: مَا أَكَلَ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ) عَلَى خُوَانٍ وَلَا فِي سُكُرُّجَةٍ وَلَا خُبِزَ لَهُ مُرَقَّقٌ ، قَالَ: فَقُلْتُ لِقَتَادَةَ: فَعَلَامَ كَانُوا يَأْكُلُونَ ؟، قَالَ: عَلَى هَذِهِ السُّفَرِ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، وَيُونُسُ: هَذَا هُوَ يُونُسُ الْإِسْكَافُ وَقَدْ رَوَى عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ (ﷺ) نَحْوَهُ.
انس (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے کبھی خوان (میز وغیرہ) پر نہیں کھایا، نہ چھوٹی طشتریوں اور پیالیوں میں کھایا، اور نہ آپ کے لیے کبھی پتلی روٹی پکائی گئی۔ یونس کہتے ہیں : میں نے قتادہ سے پوچھا : پھر کس چیز پر کھاتے تھے ؟ کہا : انہی دسترخوانوں پر۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث حسن غریب ہے، ٢ - محمد بن بشار کہتے ہیں : یہ یونس، یونس اسکاف ہیں، ٣ - عبدالوارث بن سعید نے بسند «سعيد بن أبي عروبة عن قتادة عن أنس عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» اسی جیسی حدیث روایت کی ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الأطعمة ٨ (٥٣٨٦) ، ٢٣ (٥٤١٥) ، والرقاق ١٦ (٦٤٥٠) ، سنن ابن ماجہ/الأطعمة ٢٠ (٣٢٩٢) ، والمؤلف في الزہد ٣٨ (٢٣٦٣) ، والشمائل ٢٥ (تحفة الأشراف : ١٤٤٤) ، و مسند احمد (٣/١٣٠) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (3292) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1788
1789
Jamiat Tirmidhiحَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ زَيْدِ بْنِ أَنَسٍ، قَال: سَمِعْتُ أَنَسًا يَقُولُ: أَنْفَجْنَا أَرْنَبًا بِمَرِّ الظَّهْرَانِ فَسَعَى أَصْحَابُ النَّبِيِّ (ﷺ) خَلْفَهَا فَأَدْرَكْتُهَا فَأَخَذْتُهَا فَأَتَيْتُ بِهَا أَبَا طَلْحَةَ فَذَبَحَهَا بِمَرْوَةٍ فَبَعَثَ مَعِي بِفَخِذِهَا أَوْ بِوَرِكِهَا إِلَى النَّبِيِّ (ﷺ) فَأَكَلَهُ ، قَالَ: قُلْتُ: أَكَلَهُ، قَالَ: قَبِلَهُ، قَالَ أَبُو عِيسَى، وَفِي الْبَاب، عَنْ جَابِرٍ، وَعَمَّارٍ، وَمُحَمَّدِ بْنِ صَفْوَانَ وَيُقَالُ مُحَمَّدُ بْنُ صَيْفِيٍّ: وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَكْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ لَا يَرَوْنَ بِأَكْلِ الْأَرْنَبِ بَأْسًا وَقَدْ كَرِهَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ أَكْلَ الْأَرْنَبِ، وَقَالُوا: إِنَّهَا تَدْمَى.
انس (رض) کہتے ہیں کہ ہم نے مقام مرالظہران میں ایک خرگوش کا پیچھا کیا، صحابہ کرام اس کے پیچھے دوڑے، میں نے اسے پا لیا اور پکڑ لیا، پھر اسے ابوطلحہ کے پاس لایا، انہوں نے اس کو پتھر سے ذبح کیا اور مجھے اس کی ران دے کر نبی اکرم ﷺ کے پاس بھیجا، چناچہ آپ نے اسے کھایا۔ راوی ہشام بن زید کہتے ہیں : میں نے (راوی حدیث اپنے دادا انس بن مالک (رض) سے) پوچھا : کیا آپ نے اسے کھایا ؟ کہا : آپ ﷺ نے اسے قبول کیا ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں جابر، عمار، محمد بن صفوان (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣ - اکثر اہل علم کا اسی پر عمل ہے، وہ خرگوش کھانے میں کوئی مضائقہ نہیں سمجھتے ہیں، ٤ - جب کہ بعض اہل علم خرگوش کھانے کو مکروہ سمجھتے ہیں، یہ لوگ کہتے ہیں : اسے (یعنی مادہ خرگوش کو) حیض کا خون آتا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الہبة ٥ (٢٥٧٢) ، والصید ١٠ (٥٤٨٩) ، و ٣٢ (٥٥٣٥) ، صحیح مسلم/الصید ٩ (١٩٥٣) ، سنن ابی داود/ الأطعمة ٢٧ (٣٧٩١) ، سنن النسائی/الصید ٢٥ (٤٣١٧) ، سنن ابن ماجہ/الصید ١٧ (٣٢٤٣) ، (تحفة الأشراف : ١٦٢٩) ، و مسند احمد (٣/١١٨، ١٧١) ، سنن الدارمی/الصید ٧ (٢٠٥٦) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : اس حدیث سے معلوم ہوا کہ خرگوش حلال ہے ، اگر حلال نہ ہوتا تو آپ اسے قبول نہ فرماتے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (3243) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1789
1790
Jamiat Tirmidhiحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنّ النَّبِيَّ (ﷺ) سُئِلَ عَنْ أَكْلِ الضَّبِّ فَقَالَ: لَا آكُلُهُ وَلَا أُحَرِّمُهُ ، قَالَ: وَفِي الْبَاب، عَنْ عُمَرَ، وَأَبِي سَعِيدٍ، وَابْنِ عَبَّاسٍ، وَثَابِتِ بْنِ وَدِيعَةَ، وَجَابِرٍ، وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَسَنَةَ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَقَدِ اخْتَلَفَ أَهْلُ الْعِلْمِ فِي أَكْلِ الضَّبِّ فَرَخَّصَ فِيهِ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ (ﷺ) وَغَيْرِهِمْ وَكَرِهَهُ بَعْضُهُمْ، وَيُرْوَى عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ قَالَ: أُكِلَ الضَّبُّ عَلَى مَائِدَةِ رَسُولِ اللَّهِ (ﷺ) وَإِنَّمَا تَرَكَهُ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ) تَقَذُّرًا .
عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ سے ضب (گوہ) کھانے کے بارے میں پوچھا گیا ؟ تو آپ نے فرمایا : میں نہ تو اسے کھاتا ہوں اور نہ حرام کہتا ہوں ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں عمر، ابو سعید خدری، ابن عباس، ثابت بن ودیعہ، جابر اور عبدالرحمٰن بن حسنہ (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣ - ضب کھانے کے سلسلے میں اہل علم کا اختلاف ہے، بعض اہل علم صحابہ نے رخصت دی ہے، ٤ - اور بعض نے اسے مکروہ سمجھا ہے، ابن عباس (رض) سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں : رسول اللہ ﷺ کے دستر خوان پر ضب کھایا گیا، رسول اللہ ﷺ نے طبعی کراہیت کی بنا پر اسے چھوڑ دیا۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف، (تحفة الأشراف : ٧٢٤٠) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : معلوم ہوا کہ ضب کھانا حلال ہے ، بعض روایات میں ہے کہ آپ نے اسے کھانے سے منع فرمایا ہے ، لیکن یہ ممانعت حرمت کی نہیں بلکہ کراہت کی ہے ، کیونکہ صحیح مسلم میں ہے کہ آپ نے فرمایا : اسے کھاؤ یہ حلال ہے ، لیکن یہ میرا کھانا نہیں ہے ، ضب کا ترجمہ گوہ سانڈا اور سوسمار سے کیا جاتا ہے ، واضح رہے کہ اگر ان میں سے کوئی قسم گرگٹ کی نسل سے ہے تو وہ حرام ہے ، زہریلا جانور کیچلی دانت والا پنجہ سے شکار کرنے اور اسے پکڑ کر کھانے والے سبھی جانور حرام ہیں۔ ایسے ہی وہ جانور جن کی نجاست و خباثت معروف ہے ، لفظ ضب پر تفصیلی بحث کے لیے سنن ابن ماجہ میں انہی ابواب کا مطالعہ کریں۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1790
1791
Jamiat Tirmidhiحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ ابْنِ أَبِي عَمَّارٍ قَالَ: قُلْتُ لِجَابِرٍ: الضَّبُعُ صَيْدٌ هِيَ ، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ، قُلْتُ: آكُلُهَا، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: قُلْتُ لَهُ: أَقَالَهُ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ) ؟، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَقَدْ ذَهَبَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ إِلَى هَذَا وَلَمْ يَرَوْا بِأَكْلِ الضَّبُعِ بَأْسًا وَهُوَ قَوْلُ أَحْمَدَ وَإِسْحَاق، وَرُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ (ﷺ) حَدِيثٌ فِي كَرَاهِيَةِ أَكْلِ الضَّبُعِ وَلَيْسَ إِسْنَادُهُ بِالْقَوِيِّ وَقَدْ كَرِهَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ أَكْلَ الضَّبُعِ وَهُوَ قَوْلُ ابْنِ الْمُبَارَكِ، قَالَ يَحْيَى الْقَطَّانُ: وَرَوَى جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ هَذَا الْحَدِيثَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ ابْنِ أَبِي عَمَّارٍ، عَنْ جَابِرٍ، عَنْ عُمَرَ قَوْلَهُ وَحَدِيثُ ابْنِ جُرَيْجٍ أَصَحُّ، وَابْنُ أَبِي عَمَّارٍ هُوَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ الْمَكِّيُّ.
ابن ابی عمار کہتے ہیں کہ میں نے جابر (رض) سے پوچھا : کیا لکڑبگھا بھی شکار ہے ؟ انہوں نے کہا : ہاں، میں نے پوچھا : اسے کھا سکتا ہوں ؟ کہا : ہاں، میں نے پوچھا : کیا یہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے ؟ کہا : ہاں۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - یحییٰ قطان کہتے ہیں : جریر بن حازم نے یہ حدیث اس سند سے روایت کی ہے : عبداللہ بن عبید بن عمیر نے ابن ابی عمار سے، ابن ابی عمار نے جابر سے، جابر نے عمر (رض) کے قول سے روایت کی ہے، ابن جریج کی حدیث زیادہ صحیح ہے، ٣ - بعض اہل علم کا یہی مذہب ہے، وہ لوگ لکڑبگھا کھانے میں کوئی حرج نہیں سمجھتے ہیں۔ احمد اور اسحاق بن راہویہ کا یہی قول ہے، ٤ - نبی اکرم ﷺ سے لکڑبگھا کھانے کی کراہت کے سلسلے میں ایک حدیث آئی ہے، لیکن اس کی سند قوی نہیں ہے، ٥ - بعض اہل علم نے بجو کھانے کو مکروہ سمجھا ہے، ابن مبارک کا بھی یہی قول ہے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/ الأطعمة ٣٢ (٣٨٠١) ، سنن النسائی/الحج ٨٩ (٢٨٣٩) ، والصید ٢٧ (٤٣٢٨) ، سنن ابن ماجہ/المناسک ٩٠ (٣٠٨٥) ، والصید ١٥ (٣٢٣٦) ، (تحفة الأشراف : ٢٣٨١) ، و مسند احمد (٣/٢٩٧، ٣١٨، ٣٢٢) ، سنن الدارمی/المناسک ٩٠ (١٩٨٤) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (3236) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1791
1792
Jamiat Tirmidhiحَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ بْنِ أَبِي الْمُخَارِقِ أَبِي أُمَيَّةَ، عَنْ حِبَّانَ بْنِ جَزْءٍ، عَنْ أَخِيهِ خُزَيْمَةَ بْنِ جَزْءٍ، قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ (ﷺ) عَنْ أَكْلِ الضَّبُعِ فَقَالَ: أَوَ يَأْكُلُ الضَّبُعَ أَحَدٌ ؟ ، وَسَأَلْتُهُ عَنِ الذِّئْبِ فَقَالَ: أَوَ يَأْكُلُ الذِّئْبَ أَحَدٌ فِيهِ خَيْرٌ ؟ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ لَيْسَ إِسْنَادُهُ بِالْقَوِيِّ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ إِسْمَاعِيل بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ أَبِي أُمَيَّةَ وَقَدْ تَكَلَّمَ بَعْضُ أَهْلِ الْحَدِيثِ فِي إِسْمَاعِيل وَعَبْدِ الْكَرِيمِ أَبِي أُمَيَّةَ وَهُوَ عَبْدُ الْكَرِيمِ بْنُ قَيْسِ بْنِ أَبِي الْمُخَارِقِ، وَعَبْدُ الْكَرِيمِ بْنُ مَالِكٍ الْجَزَرِيُّ ثِقَةٌ.
خزیمہ بن جزء (رض) کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے لکڑبگھا کھانے کے بارے میں پوچھا، تو آپ نے فرمایا : بھلا کوئی لکڑبگھا کھاتا ہے ؟ میں نے آپ سے بھیڑیئے کے بارے میں پوچھا، تو آپ نے فرمایا : بھلا کوئی نیک آدمی بھیڑیا کھاتا ہے ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - اس حدیث کی سند قوی نہیں ہے ہم اسے عبدالکریم ابی امیہ کے واسطہ سے صرف اسماعیل بن مسلم کی روایت سے جانتے ہیں، ٢ - بعض محدثین نے اسماعیل اور عبدالکریم ابی امیہ کے بارے میں کلام کیا ہے، (حدیث کی سند میں مذکور) یہ عبدالکریم، عبدالکریم بن قیس بن ابی المخارق ہیں، ٣ - اور عبدالکریم بن مالک جزری ثقہ ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابن ماجہ/الصید ١٤ (٣٢٣٥) ، و ١٥ (٣٢٣٧) (ضعیف) (سند میں اسماعیل بن مسلم مکی اور عبد الکریم بن ابی المخارق دونوں ضعیف راوی ہیں ) قال الشيخ الألباني : ضعيف، ابن ماجة (3237) // ضعيف سنن ابن ماجة برقم (696) // صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1792
1793
Jamiat Tirmidhiحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ وَنَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، قَالاَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ جَابِرٍ قَالَ: أَطْعَمَنَا رَسُولُ اللهِ (ﷺ) لُحُومَ الْخَيْلِ وَنَهَانَا عَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ.
جابر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں گھوڑے کا گوشت کھلایا، اور گدھے کا گوشت کھانے سے منع فرمایا ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اسی طرح کئی لوگوں نے عمرو بن دینار کے واسطہ سے جابر سے روایت کی ہے، ٣ - حماد بن زید نے اسے بسند «عمرو بن دينار عن محمد بن علي عن جابر» روایت کیا ہے، ابن عیینہ کی روایت زیادہ صحیح ہے، ٤ - میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو کہتے سنا : سفیان بن عیینہ حماد بن زید سے حفظ میں زیادہ قوی ہیں، ٥ - اس باب میں اسماء بنت ابی بکر سے بھی روایت ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/المغازي ٣٨ (٣٢١٩) ، والصید ٢٧ (٥٥٢٠) ، و ٢٨ (٥٥٢٤) ، صحیح مسلم/الصید ٦ (١٩٤١) ، سنن ابی داود/ الأطعمة ٢٦ (٣٧٨٨) ، سنن النسائی/الصید ٢٩ (٤٣٣٢) ، وانظر : سنن ابن ماجہ/النکاح ٤٤ (١٩٦١) ، والذبائح ١٢ (٣١٩١) ، (تحفة الأشراف : ٢٥٣٩) ، و مسند احمد (٣/٣٢٢، ٣٢٥٦، ٣٦١، ٣٦٢، ٣٨٥) ، سنن الدارمی/الأضاحي ٢٢ (٢٠٣٦) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : معلوم ہوا کہ گھوڑے کا گوشت حلال ہے ، سلف و خلف میں سے کچھ لوگوں کو چھوڑ کر علما کی اکثریت اس کی حلت کی قائل ہے ، جو اسے حرام سمجھتے ہیں ، یہ حدیث اور اسی موضوع کی دوسری احادیث ان کے خلاف ہیں ، اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ گدھے کا گوشت حرام ہے ، اس کی حرمت کی وجہ جیسا کہ بخاری میں ہے یہ ہے کہ یہ ناپاک اور پلید حیوان ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، الإرواء (8 / 138) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1793
1794
Jamiat Tirmidhiحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْالزُّهْرِيِّ، ح وحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، وَالْحَسَنِ ابني محمد بن علي، عَنْ أَبِيهِمَا، عَنْ عَلِيٍّ قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ) عَنْ مُتْعَةِ النِّسَاءِ زَمَنَ خَيْبَرَ، وَعَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ الْأَهْلِيَّةِ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَخْزُومِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، وَالْحَسَنِهما ابنا محمد ابن الحنفية، وعبد الله بن محمد يكنى أبا هاشم، قَالَ الزُّهْرِيُّ وَكَانَ أَرْضَاهُمَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ فَذَكَرَ نَحْوَهُ، وقَالَ غَيْرُ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ ابْنِ عُيَيْنَةَ وَكَانَ أَرْضَاهُمَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
علی (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے غزوہ خیبر کے موقع پر عورتوں سے نکاح متعہ کرنے سے ١ ؎ اور پالتو گدھوں کے گوشت سے منع فرمایا۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - ہم سے سعید بن عبدالرحمٰن مخزومی نے بسند «سفيان عن الزهري عن عبد اللہ والحسن» نے اسی جیسی حدیث بیان کی،
1795
Jamiat Tirmidhiحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْجُعْفِيُّ، عَنْ زَائِدَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ (ﷺ) حَرَّمَ يَوْمَ خَيْبَرَ كُلَّ ذِي نَابٍ مِنَ السِّبَاعِ وَالْمُجَثَّمَةَ وَالْحِمَارَ الْإِنْسِيَّ ، قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ عَلِيٍّ وَجَابِرٍ، وَالْبَرَاءِ، وَابْنِ أَبِي أَوْفَى، وَأَنَسٍ، وَالْعِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ، وَأَبِي ثَعْلَبَةَ، وَابْنِ عُمَرَ، وَأَبِي سَعِيدٍ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَرَوَى عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ وَغَيْرُهُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو هَذَا الْحَدِيثَ وَإِنَّمَا ذَكَرُوا حَرْفًا وَاحِدًا نَهَى رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ) عَنْ كُلِّ ذِي نَابٍ مِنَ السِّبَاعِ .
ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے غزوہ خیبر کے دن ہر کچلی دانت والے درندہ جانور، «مجثمة» ١ ؎ اور پالتو گدھے کو حرام قرار دیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - عبدالعزیز بن محمد اور دوسرے لوگوں نے بھی اسے محمد بن عمرو سے روایت کیا ہے اور ان لوگوں نے صرف ایک جملہ بیان کیا ہے «نهى رسول اللہ صلی اللہ عليه وسلم عن کل ذي ناب من السباع» یعنی صرف کچلی والے درندوں کا ذکر کیا، مجثمہ اور پالتو گدھے کا ذکر نہیں کیا ، ٣ - اس باب میں علی، جابر، براء، ابن ابی اوفی، انس، عرباض بن ساریہ، ابوثعلبہ، ابن عمر اور ابو سعید خدری (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف : ١٥٠٢٦) (حسن صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : وہ پرندہ یا خرگوش جس کو باندھ کر نشانہ لگایا جائے ، یہاں تک کہ مرجائے۔ قال الشيخ الألباني : حسن صحيح، الصحيحة (358 و 2391) ، الإرواء (2488 ) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1795
1796
Jamiat Tirmidhiحَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَخْزَمَ الطَّائِيُّ، حَدَّثَنَا سَلْمُ بْنُ قُتَيْبَةَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ، قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ) عَنْ قُدُورِ الْمَجُوسِ فَقَالَ: أَنْقُوهَا غَسْلًا وَاطْبُخُوا فِيهَا وَنَهَى عَنْ كُلِّ سَبْعٍ ذِي نَابٍ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ مَشْهُورٌ مِنْ حَدِيثِ أَبِي ثَعْلَبَةَ وَرُوِيَ عَنْهُ مِنْ غَيْرِ هَذَا الْوَجْهِ وَأَبُو ثَعْلَبَةَ اسْمُهُ جُرْثُومٌ، وَيُقَالُ جُرْهُمٌ وَيُقَالُ: نَاشِبٌ وَقَدْ ذُكِرَ هَذَا الْحَدِيثُ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ الرَّحَبِيِّ، عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ.
ابوثعلبہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے مجوس کی ہانڈیوں (برتنوں) کے بارے میں پوچھا گیا، تو آپ نے فرمایا : انہیں دھو کر صاف کرو اور ان میں کھانا پکاؤ، اور آپ نے ہر کچلی دانت والے درندے جانور سے منع فرمایا ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث ابوثعلبہ کی روایت سے مشہور ہے، ان سے یہ حدیث دوسری سند سے بھی آئی ہے، ٢ - ابوثعلبہ کا نام جرثوم ہے، انہیں جرہم اور ناشب بھی کہا گیا ہے، ٣ - یہ حدیث «عن أبي قلابة عن أبي أسماء الرحبي عن أبي ثعلبة» کی سند سے بھی بیان کی گئی ہے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم ١٤٦٤ و ١٥٦٠ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح ومضی برقم (1620) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1796
1797
Jamiat Tirmidhiحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عِيسَى بْنِ يَزِيدَ الْبَغْدَادِيُّ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَيْشِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَيُّوبَ،وَقَتَادَةَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ الرَّحَبِيِّ، عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ أَنَّهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا بِأَرْضِ أَهْلِ الْكِتَابِ فَنَطْبُخُ فِي قُدُورِهِمْ وَنَشْرَبُ فِي آنِيَتِهِمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ): إِنْ لَمْ تَجِدُوا غَيْرَهَا فَارْحَضُوهَا بِالْمَاءِ ، ثُمَّ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا بِأَرْضِ صَيْدٍ فَكَيْفَ نَصْنَعُ قَالَ: إِذَا أَرْسَلْتَ كَلْبَكَ الْمُكَلَّبَ وَذَكَرْتَ اسْمَ اللَّهِ فَقَتَلَ فَكُلْ وَإِنْ كَانَ غَيْرَ مُكَلَّبٍ فَذُكِّيَ فَكُلْ وَإِذَا رَمَيْتَ بِسَهْمِكَ وَذَكَرْتَ اسْمَ اللَّهِ فَقَتَلَ فَكُلْ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
ابوثعلبہ خشنی (رض) سے روایت ہے کہ انہوں نے سوال کیا : اللہ کے رسول ! ہم لوگ اہل کتاب کی سر زمین میں رہتے ہیں، کیا ہم ان کی ہانڈیوں میں کھانا پکائیں اور ان کے برتنوں میں پانی پئیں ؟ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اگر تمہیں اس کے علاوہ کوئی برتن نہ مل سکے تو اسے پانی سے دھو لو ، پھر انہوں نے پوچھا : اللہ کے رسول ! ہم شکار والی سر زمین میں رہتے ہیں کیسے کریں ؟ آپ نے فرمایا : جب تم اپنا سدھایا ہوا کتا روانہ کرو اور اس پر «بسم اللہ» پڑھ لو پھر وہ شکار مار ڈالے تو اسے کھاؤ، اور اگر کتا سدھایا ہوا نہ ہو اور شکار ذبح کردیا جائے تو اسے کھاؤ اور جب تم تیر مارو اور اس پر «بسم اللہ» پڑھ لو پھر اس سے شکار ہوجائے تو اسے کھاؤ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم ١٤٦٤ و ١٥٦٠ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (3207) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1797