hadith book logo

Jamiat Tirmidhi

9. حج کا بیان

جامع الترمذي

809
Jamiat Tirmidhi
صحیح
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي شُرَيْحٍ الْعَدَوِيِّ، أَنَّهُ قَالَ لِعَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ وَهُوَ يَبْعَثُ الْبُعُوثَ إِلَى مَكَّةَ:‏‏‏‏ ائْذَنْ لِي أَيُّهَا الْأَمِيرُ أُحَدِّثْكَ قَوْلًا قَامَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ) الْغَدَ مِنْ يَوْمِ الْفَتْحِ سَمِعَتْهُ أُذُنَايَ وَوَعَاهُ قَلْبِي وَأَبْصَرَتْهُ عَيْنَايَ حِينَ تَكَلَّمَ بِهِ أَنَّهُ حَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ قَالَ:‏‏‏‏ إِنَّ مَكَّةَ حَرَّمَهَا اللَّهُ وَلَمْ يُحَرِّمْهَا النَّاسُ، ‏‏‏‏‏‏وَلَا يَحِلُّ لِامْرِئٍ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أَنْ يَسْفِكَ فِيهَا دَمًا أَوْ يَعْضِدَ بِهَا شَجَرَةً، ‏‏‏‏‏‏فَإِنْ أَحَدٌ تَرَخَّصَ بِقِتَالِ رَسُولِ اللَّهِ (ﷺ) فِيهَا، ‏‏‏‏‏‏فَقُولُوا لَهُ:‏‏‏‏ إِنَّ اللَّهَ أَذِنَ لِرَسُولِهِ (ﷺ) وَلَمْ يَأْذَنْ لَكَ، ‏‏‏‏‏‏وَإِنَّمَا أَذِنَ لِي فِيهِ سَاعَةً مِنَ النَّهَارِ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ عَادَتْ حُرْمَتُهَا الْيَوْمَ كَحُرْمَتِهَا بِالْأَمْسِ وَلْيُبَلِّغْ الشَّاهِدُ الْغَائِبَ . فَقِيلَ لِأَبِي شُرَيْحٍ:‏‏‏‏ مَا قَالَ لَكَ عَمْرٌو ؟ قَالَ:‏‏‏‏ أَنَا أَعْلَمُ مِنْكَ بِذَلِكَ يَا أَبَا شُرَيْحٍ إِنَّ الْحَرَمَ لَا يُعِيذُ عَاصِيًا وَلَا فَارًّا بِدَمٍ وَلَا فَارًّا بِخَرْبَةٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ وَيُرْوَى وَلَا فَارًّا بِخِزْيَةٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَابْنِ عَبَّاسٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدِيثُ أَبِي شُرَيْحٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبُو شُرَيْحٍ الْخُزَاعِيُّ اسْمُهُ خُوَيْلِدُ بْنُ عَمْرٍو وَهُوَ الْعَدَوِيُّ وَهُوَ الْكَعْبِيُّ، ‏‏‏‏‏‏وَمَعْنَى قَوْلِهِ:‏‏‏‏ وَلَا فَارًّا بِخَرْبَةٍ يَعْنِي الْجِنَايَةَ، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ مَنْ جَنَى جِنَايَةً أَوْ أَصَابَ دَمًا ثُمَّ لَجَأَ إِلَى الْحَرَمِ، ‏‏‏‏‏‏فَإِنَّهُ يُقَامُ عَلَيْهِ الْحَدُّ.
ابوشریح عدوی (رض) سے روایت ہے کہ انہوں نے عمرو بن سعید ٢ ؎ سے - جب وہ مکہ کی طرف (عبداللہ بن زبیر سے قتال کے لیے) لشکر روانہ کر رہے تھے کہا : اے امیر ! مجھے اجازت دیجئیے کہ میں آپ سے ایک ایسی بات بیان کروں جسے رسول اللہ ﷺ نے فتح مکہ کے دوسرے دن فرمایا، میرے کانوں نے اسے سنا، میرے دل نے اسے یاد رکھا اور میری آنکھوں نے آپ کو دیکھا، جب آپ نے یہ حدیث بیان فرمائی تو اللہ کی حمد و ثنا بیان کی پھر فرمایا : مکہ (میں جنگ و جدال کرنا) اللہ نے حرام کیا ہے۔ لوگوں نے حرام نہیں کیا ہے، لہٰذا کسی شخص کے لیے جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو، یہ جائز نہیں کہ وہ اس میں خون بہائے، یا اس کا کوئی درخت کاٹے۔ اگر کوئی اس میں رسول اللہ ﷺ کے قتال کو دلیل بنا کر (قتال کا) جواز نکالے تو اس سے کہو : اللہ نے اپنے رسول ﷺ کو اس کی اجازت دی تھی، تمہیں نہیں دی ہے۔ تو مجھے بھی دن کے کچھ وقت کے لیے آج اجازت تھی، آج اس کی حرمت ویسے ہی لوٹ آئی ہے جیسے کل تھی۔ جو لوگ موجود ہیں وہ یہ بات ان لوگوں کو پہنچا دیں جو موجود نہیں ہیں ، ابوشریح سے پوچھا گیا : اس پر عمرو بن سعید نے آپ سے کیا کہا ؟ کہا : اس نے مجھ سے کہا : ابوشریح ! میں یہ بات آپ سے زیادہ اچھی طرح جانتا ہوں، حرم مکہ کسی نافرمان (یعنی باغی) کو پناہ نہیں دیتا اور نہ کسی کا خون کر کے بھاگنے والے کو اور نہ چوری کر کے بھاگنے والے کو۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- ابوشریح (رض) کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- ابوشریح خزاعی کا نام خویلد بن عمرو ہے۔ اور یہی عدوی اور کعبی یہی ہیں، ٣- اس باب میں ابوہریرہ اور ابن عباس (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں، ٤- «ولا فارا بخربة» کی بجائے «ولا فارا بخزية» زائے منقوطہٰ اور یاء کے ساتھ بھی مروی ہے، ٥- اور «ولا فارا بخربة» میں «خربہ» کے معنی گناہ اور جرم کے ہیں یعنی جس نے کوئی جرم کیا یا خون کیا پھر حرم میں پناہ لی تو اس پر حد جاری کی جائے گی۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/العلم ٣٧ (١٠٤) ، وجزاء الصید ٨ (١٨٣٢) ، والمغازي ٥١ (٤٢٩٥) ، صحیح مسلم/الحج ٨٢ (١٣٥٤) ، سنن النسائی/الحج ١١١ (٢٨٧٩) ، ( تحفة الأشراف : ١٢٠٥٧) ، مسند احمد (٤/٣١) ، ویأتي عند المؤلف في الدیات (برقم : ١٤٠٦) ، و مسند احمد (٦/٣٨٥) من غیر ہذا الطریق (صحیح) وضاحت : ١ ؎ : حج اسلام کا پانچواں بنیادی رکن ہے اس کی فرضیت ٥ ھ یا ٦ ھ میں ہوئی اور بعض نے ٩ ھ یا ١٠ ھ کہا ہے ، زادالمعاد میں ابن القیم کا رجحان اسی طرف ہے۔ ٢ ؎ : عمرو بن سعید : یزید کی طرف سے مدینہ کا گونر تھا اور یزید کی حکومت کا عبداللہ بن زبیر (رض) کی خلافت کے خلاف لشکر کشی کرنا اور وہ بھی مکہ مکرمہ پر قطعا غلط تھی۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 809
810
Jamiat Tirmidhi
صحیح
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، وَأَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ، قَالَا:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ قَيْسٍ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنْعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ):‏‏‏‏ تَابِعُوا بَيْنَ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ فَإِنَّهُمَا يَنْفِيَانِ الْفَقْرَ وَالذُّنُوبَ كَمَا يَنْفِي الْكِيرُ خَبَثَ الْحَدِيدِ وَالذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ، ‏‏‏‏‏‏وَلَيْسَ لِلْحَجَّةِ الْمَبْرُورَةِ ثَوَابٌ إِلَّا الْجَنَّةُ . قَالَ:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب عَنْ عُمَرَ، ‏‏‏‏‏‏وَعَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُبْشِيٍّ، ‏‏‏‏‏‏وَأُمِّ سَلَمَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَجَابِرٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدِيثُ ابْنِ مَسْعُودٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ، ‏‏‏‏‏‏مِنْ حَدِيثِ عَبْدُ الله ابْنِ مَسْعُودٍ.
عبداللہ بن مسعود (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : حج اور عمرہ ایک کے بعد دوسرے کو ادا کرو اس لیے کہ یہ دونوں فقر اور گناہوں کو اس طرح مٹا دیتے ہیں جیسے بھٹی لوہے، سونے اور چاندی کے میل کو مٹا دیتی ہے اور حج مبرور ١ ؎ کا بدلہ صرف جنت ہے ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- ابن مسعود کی حدیث حسن ہے، اور ابن مسعود کی روایت سے غریب ہے، ٢- اس باب میں عمر، عامر بن ربیعہ، ابوہریرہ، عبداللہ بن حبشی، ام سلمہ اور جابر (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : سنن النسائی/الحج ٦ (٢٦٣٢) ، ( تحفة الأشراف : ٩٢٧٤) ، مسند احمد (١/٣٨٧) (حسن صحیح) وضاحت : ١ ؎ : حج مبرور وہ حج ہے جس میں حاجی اللہ کی کسی نافرمانی کا ارتکاب نہ کرے اور بعض نے حج مبرور کے معنی حج مقبول کے کئے ہیں ، اس کی علامت یہ بتائی ہے کہ حج کے بعد وہ انسان اللہ کا عبادت گزار بن جائے جب کہ وہ اس سے پہلے غافل رہا ہو۔ اور ہر طرح کے شرک و کفر اور بدعت اور فسق و فجور کے کام سے تائب ہو کر اسلامی تعلیم کے مطابق زندگی گزارے۔ قال الشيخ الألباني : حسن صحيح، ابن ماجة (2887) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 810
811
Jamiat Tirmidhi
صحیح
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ):‏‏‏‏ مَنْ حَجَّ فَلَمْ يَرْفُثْ وَلَمْ يَفْسُقْ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبُو حَازِمٍ كُوفِيٌّ وَهُوَ الْأَشْجَعِيُّ وَاسْمُهُ سَلْمَانُ مَوْلَى عَزَّةَ الْأَشْجَعِيَّةِ.
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جس نے حج کیا اور اس نے کوئی فحش اور بیہیودہ بات نہیں کی، اور نہ ہی کوئی گناہ کا کام کیا ١ ؎ تو اس کے گزشتہ تمام گناہ ٢ ؎ بخش دئیے جائیں گے ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ابوہریرہ (رض) کی حدیث حسن صحیح ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الحج ٤ (١٥٢١) ، والمحصر ٩ (١٨١٩) ، و ١٠ (١٨٢٠) ، صحیح مسلم/الحج ٧٩ (١٣٥٠) ، سنن النسائی/الحج ٤ (٢٦٢٨) ، سنن ابن ماجہ/الحج ٣ (٢٨٨٩) ، ( تحفة الأشراف : ١٣٤٣١) ، مسند احمد (٢/٤١٠، ٤٨٤، ٤٩٤) (صحیح) (غفر له ما تقدم من ذنبه کا لفظ شاذ ہے، اور اس کی جگہ رجع من ذنوبه كيوم ولدته أمهصحیح اور متفق علیہ ہے، تراجع الالبانی ٣٤٢) وضاحت : ١ ؎ : «رفث» کے اصل معنی جماع کرنے کے ہیں ، یہاں مراد فحش گوئی اور بےہودگی کی باتیں کرنی اور بیوی سے زبان سے جنسی خواہش کی آرزو کرنا ہے ، حج کے دوران چونکہ بیوی سے مجامعت جائز نہیں ہے اس لیے اس موضوع پر اس سے گفتگو بھی ناپسندیدہ ہے ، اور «فسق» سے مراد اللہ کی نافرمانی ہے ، اور «جدال» سے مراد لوگوں سے لڑائی جھگڑا ہے ، دوران حج ان چیزوں سے اجتناب ضروری ہے۔ ٢ ؎ : اس سے مراد وہ صغیر ( چھوٹے ) گناہ ہیں جن کا تعلق حقوق اللہ سے ہے ، رہے بڑے بڑے گناہ اور وہ چھوٹے گناہ جو حقوق العباد سے متعلق ہیں تو وہ توبہ حق کے ادا کئے بغیر معاف نہیں ہوں گے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح حجة النبی صلی اللہ عليه وسلم (5) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 811
812
Jamiat Tirmidhi
ضعیف
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الْقُطَعِيُّ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا هِلَالُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ مَوْلَى رَبِيعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ مُسْلِمٍ الْبَاهِلِيِّ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاق الْهَمْدَانِيُّ، عَنْ الْحَارِثِ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ):‏‏‏‏ مَنْ مَلَكَ زَادًا وَرَاحِلَةً تُبَلِّغُهُ إِلَى بَيْتِ اللَّهِ وَلَمْ يَحُجَّ فَلَا عَلَيْهِ أَنْ يَمُوتَ يَهُودِيًّا أَوْ نَصْرَانِيًّا، ‏‏‏‏‏‏وَذَلِكَ أَنَّ اللَّهَ يَقُولُ فِي كِتَابِهِ:‏‏‏‏ وَلِلَّهِ عَلَى النَّاسِ حِجُّ الْبَيْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلا سورة آل عمران آية 97 . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، ‏‏‏‏‏‏وَفِي إِسْنَادِهِ مَقَالٌ، ‏‏‏‏‏‏وَهِلَالُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ مَجْهُولٌ، ‏‏‏‏‏‏وَالْحَارِثُ يُضَعَّفُ فِي الْحَدِيثِ.
علی (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : سفر کے خرچ اور سواری کا مالک ہو جو اسے بیت اللہ تک پہنچا سکے اور وہ حج نہ کرے تو اس میں کوئی فرق نہیں کہ وہ یہودی ہو کر مرے یا عیسائی ہو کر، اور یہ اس لیے کہ اللہ نے اپنی کتاب (قرآن) میں فرمایا ہے : اللہ کے لیے بیت اللہ کا حج کرنا لوگوں پر فرض ہے جو اس تک پہنچنے کی استطاعت رکھتے ہوں ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- یہ حدیث غریب ہے ١ ؎، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ٢- اس کی سند میں کلام ہے۔ ہلال بن عبداللہ مجہول راوی ہیں۔ اور حارث حدیث میں ضعیف گردانے جاتے ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف (ضعیف) (سند میں ہلال اور حارث اعور دونوں ضعیف راوی ہیں) وضاحت : ١ ؎ : ضعیف ہے ، مگر علی (رض) کے اپنے قول سے صحیح ہے ، اور ایسی بات کوئی صحابی اپنی رائے سے نہیں کہہ سکتا۔ قال الشيخ الألباني : ضعيف، المشکاة (2521) ، التعليق الرغيب (2 / 134) // ضعيف الجامع الصغير (5860) // صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 812
813
Jamiat Tirmidhi
صحیح
حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبَّادِ بْنِ جَعْفَرٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ:‏‏‏‏ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ (ﷺ)، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا يُوجِبُ الْحَجَّ ؟ قَالَ:‏‏‏‏ الزَّادُ وَالرَّاحِلَةُ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ، ‏‏‏‏‏‏وَالْعَمَلُ عَلَيْهِ عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ أَنَّ الرَّجُلَ إِذَا مَلَكَ زَادًا وَرَاحِلَةً وَجَبَ عَلَيْهِ الْحَجُّ، ‏‏‏‏‏‏وَإِبْرَاهِيمُ هُوَ ابْنُ يَزِيدَ الْخُوزِيُّ الْمَكِّيُّ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ تَكَلَّمَ فِيهِ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ قِبَلِ حِفْظِهِ.
عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی اکرم ﷺ کے پاس آ کر پوچھا : اللہ کے رسول ! کیا چیز حج واجب کرتی ہے ؟ آپ نے فرمایا : سفر خرچ اور سواری ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- یہ حدیث حسن ہے، ٢- ابراہیم ہی ابن یزید خوزی مکی ہیں اور ان کے حافظہ کے تعلق سے بعض اہل علم نے ان پر کلام کیا ہے، ٣- اہل علم کا اسی پر عمل ہے کہ آدمی جب سفر خرچ اور سواری کا مالک ہوجائے تو اس پر حج واجب ہوجاتا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابن ماجہ/الصیام ٦ (٢٨٩٦) ، ویأتي في التفسیر (برقم : ٢٩٩٨) (تحفة الأشراف : ٨٤٤) (ضعیف جدا) (سند میں ” ابراہیم بن یزید الخوزی “ متروک الحدیث راوی ہے) قال الشيخ الألباني : ضعيف جدا، ابن ماجة (2896) // ضعيف سنن ابن ماجة برقم (631) ، وانظر صحيح ابن ماجة رقم (2341) ، الإرواء (988) // صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 813
814
Jamiat Tirmidhi
ضعیف
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ، حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ وَرْدَانَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ الْأَعْلَى، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، قَالَ:‏‏‏‏ لَمَّا نَزَلَتْ وَلِلَّهِ عَلَى النَّاسِ حِجُّ الْبَيْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلا سورة آل عمران آية 97 قَالُوا:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَفِي كُلِّ عَامٍ ؟ فَسَكَتَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالُوا:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ فِي كُلِّ عَامٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ لَا، ‏‏‏‏‏‏وَلَوْ قُلْتُ:‏‏‏‏ نَعَمْ، ‏‏‏‏‏‏لَوَجَبَتْ فَأَنْزَلَ اللَّهُ يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تَسْأَلُوا عَنْ أَشْيَاءَ إِنْ تُبْدَ لَكُمْ تَسُؤْكُمْ سورة المائدة آية 101. قَالَ:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبِي هُرَيْرَةَ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدِيثُ عَلِيٍّ حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، ‏‏‏‏‏‏وَاسْمُ أَبِي البَخْتَرِيِّ سَعِيدُ بْنُ أَبِي عِمْرَانَ وَهُوَ سَعِيدُ بْنُ فَيْرُوزَ.
علی بن ابی طالب (رض) کہتے ہیں کہ جب یہ حکم نازل ہوا کہ اللہ کے لیے لوگوں پر خانہ کعبہ کا حج فرض ہے جو اس تک پہنچنے کی طاقت رکھیں ، تو لوگوں نے پوچھا : اللہ کے رسول ! کیا حج ہر سال (فرض ہے) ؟ آپ خاموش رہے۔ لوگوں نے پھر پوچھا : اللہ کے رسول ! کیا ہر سال ؟ آپ نے فرمایا : نہیں ، اور اگر میں ہاں کہہ دیتا تو (ہر سال) واجب ہوجاتا اور پھر اللہ نے یہ حکم نازل فرمایا : اے ایمان والو ! ایسی چیزوں کے بارے میں مت پوچھا کرو کہ اگر وہ تمہارے لیے ظاہر کردی جائیں تو تم پر شاق گزریں ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- علی (رض) کی حدیث اس سند سے حسن غریب ہے، ٢- ابوالبختری کا نام سعید بن ابی عمران ہے اور یہی سعید بن فیروز ہیں، ٣- اس باب میں ابن عباس اور ابوہریرہ (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابن ماجہ/الصیام ٢ (٢٨٨٤) ، ویأتي عند المؤلف في تفسیر المائدہ (٣٠٥٥) (ضعیف) (سند میں ابو البختری کی علی (رض) سے معاصرت وسماع نہیں ہے، اس لیے سند منقطع ہے) قال الشيخ الألباني : ضعيف، ابن ماجة (2884) // ضعيف سنن ابن ماجة برقم (628) ، الإرواء (980) ، وسيأتي برقم (584 / 3261) // صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 814
815
Jamiat Tirmidhi
صحیح
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي زِيَادٍ الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ حُبَاب، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْجَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنّ النَّبِيَّ (ﷺ) حَجَّ ثَلَاثَ حِجَجٍ، ‏‏‏‏‏‏حَجَّتَيْنِ قَبْلَ أَنْ يُهَاجِرَ، ‏‏‏‏‏‏وَحَجَّةً بَعْدَ مَا هَاجَرَ وَمَعَهَا عُمْرَةٌ، ‏‏‏‏‏‏فَسَاقَ ثَلَاثَةً وَسِتِّينَ بَدَنَةً، ‏‏‏‏‏‏وَجَاءَ عَلِيٌّ مِنْ الْيَمَنِ بِبَقِيَّتِهَا فِيهَا جَمَلٌ لِأَبِي جَهْلٍ فِي أَنْفِهِ بُرَةٌ مِنْ فِضَّةٍ فَنَحَرَهَا رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ)، ‏‏‏‏‏‏ وَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ) مِنْ كُلِّ بَدَنَةٍ بِبَضْعَةٍ فَطُبِخَتْ وَشَرِبَ مِنْ مَرَقِهَا . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ مِنْ حَدِيثِ سُفْيَانَ، ‏‏‏‏‏‏لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ زَيْدِ بْنِ حُبَاب، ‏‏‏‏‏‏وَرَأَيْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ فِي كُتُبِهِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وَسَأَلْتُ مُحَمَّدًا عَنْ هَذَا فَلَمْ يَعْرِفْهُ مِنْ حَدِيثِ الثَّوْرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ جَعْفَرٍ عَنْ أَبِيهِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ جَابِرٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ (ﷺ)، ‏‏‏‏‏‏وَرَأَيْتُهُ لَمْ يَعُدَّ هَذَا الْحَدِيثَ مَحْفُوظًا، ‏‏‏‏‏‏وقَالَ:‏‏‏‏ إِنَّمَا يُرْوَى عَنْ الثَّوْرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي إِسْحَاق، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مُجَاهِدٍ مُرْسَلًا.
جابر بن عبداللہ (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے تین حج کئے، دو حج ہجرت سے پہلے اور ایک حج ہجرت کے بعد، اس کے ساتھ آپ نے عمرہ بھی کیا اور ترسٹھ اونٹ ہدی کے طور پر ساتھ لے گئے اور باقی اونٹ یمن سے علی لے کر آئے۔ ان میں ابوجہل کا ایک اونٹ تھا۔ اس کی ناک میں چاندی کا ایک حلقہ تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے انہیں نحر کیا، پھر آپ نے ہر اونٹ میں سے ایک ایک ٹکڑا لے کر اسے پکانے کا حکم دیا، تو پکایا گیا اور آپ نے اس کا شوربہ پیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- یہ حدیث سفیان کی روایت سے غریب ہے، ہم اسے صرف زید بن حباب کے طریق سے جانتے ہیں ١ ؎، ٢- میں نے عبداللہ بن عبدالرحمٰن دارمی کو دیکھا کہ انہوں نے اپنی کتابوں میں یہ حدیث عبداللہ بن ابی زیاد کے واسطہ سے روایت کی ہے، ٣- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری سے اس حدیث کے سلسلے میں پوچھا تو وہ اسے بروایت «الثوري عن جعفر عن أبيه عن جابر عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» نہیں جان سکے، میں نے انہیں دیکھا کہ انہوں نے اس حدیث کو محفوظ شمار نہیں کیا، اور کہا : یہ ثوری سے روایت کی جاتی ہے اور ثوری نے ابواسحاق سے اور ابواسحاق نے مجاہد سے مرسلاً روایت کی ہے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابن ماجہ/الحج ٨٤ (٣٠٧٦) (تحفة الأشراف : ٢٦٠٦) (صحیح) وضاحت : ١ ؎ : ابن ماجہ کے یہاں عبدالرحمٰن بن داود نے زید بن حباب کی متابعت کی ہے ، نیز ان کے یہاں اس کی ابن عباس (رض) کی روایت شاہد بھی موجود ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (3076) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 815
816
Jamiat Tirmidhi
صحیح
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْعَطَّارُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ النَّبِيَّ (ﷺ) اعْتَمَرَ أَرْبَعَ عُمَرٍ:‏‏‏‏ عُمْرَةَ الْحُدَيْبِيَةِ، ‏‏‏‏‏‏وَعُمْرَةَ الثَّانِيَةِ مِنْ قَابِلٍ، ‏‏‏‏‏‏وَعُمْرَةَ الْقَضَاءِ فِي ذِي الْقَعْدَةِ، ‏‏‏‏‏‏وَعُمْرَةَ الثَّالِثَةِ مِنْ الْجِعِرَّانَةِ، ‏‏‏‏‏‏وَالرَّابِعَةِ الَّتِي مَعَ حَجَّتِهِ . قَالَ:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب عَنْ أَنَسٍ، ‏‏‏‏‏‏وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، ‏‏‏‏‏‏وَابْنِ عُمَرَ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ،‏‏‏‏وَرَوَى ابْنُ عُيَيْنَةَ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عِكْرِمَةَ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ النَّبِيَّ (ﷺ) اعْتَمَرَ أَرْبَعَ عُمَرٍ وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ.
عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے چار عمرے کئے : حدیبیہ کا عمرہ، دوسرا عمرہ اگلے سال یعنی ذی قعدہ میں قضاء کا عمرہ، تیسرا عمرہ جعرانہ ١ ؎ کا، چوتھا عمرہ جو اپنے حج کے ساتھ کیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- ابن عباس (رض) کی حدیث حسن غریب ہے، ٢- اس باب میں انس، عبداللہ بن عمرو اور ابن عمر (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/ المناسک ٨٠ (١٩٩٣) ، سنن ابن ماجہ/المناسک ٥٠ (٣٠٠٣) (تحفة الأشراف : ٦١٦٨) ، مسند احمد (١/٢٤٦) (صحیح) وضاحت : ١ ؎ : جعرانہ طائف اور مکہ کے درمیان ایک جگہ کا نام ہے نبی اکرم ﷺ نے غزوہ حنین کے مال غنیمت کی تقسیم کے بعد یہیں سے عمرہ کا احرام باندھا تھا۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (3003) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 816 ابن عیینہ نے بسند عمرو بن دینار عن عکرمہ روایت کی کہ نبی اکرم ﷺ نے چار عمرے کئے، اس میں عکرمہ نے ابن عباس کا ذکر نہیں کیا ہے،
817
Jamiat Tirmidhi
صحیح
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ:‏‏‏‏ لَمَّا أَرَادَ النَّبِيُّ (ﷺ) الْحَجَّ أَذَّنَ فِي النَّاسِ فَاجْتَمَعُوا، ‏‏‏‏‏‏فَلَمَّا أَتَى الْبَيْدَاءَ أَحْرَمَ . قَالَ:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب عَنْ ابْنِ عُمَرَ، ‏‏‏‏‏‏وَأَنَسٍ، ‏‏‏‏‏‏وَالْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدِيثُ جَابِرٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
جابر بن عبداللہ (رض) کہتے ہیں کہ جب نبی اکرم ﷺ نے حج کا ارادہ کیا تو آپ نے لوگوں میں اعلان کرایا۔ (مدینہ میں) لوگ اکٹھا ہوگئے، چناچہ جب آپ (وہاں سے چل کر) بیداء پہنچے تو احرام باندھا ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- جابر (رض) کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں ابن عمر، انس، مسور بن مخرمہ (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ٢٦١٢) (صحیح) وضاحت : ١ ؎ : آپ ﷺ نے درحقیقت ذو الحلیفہ کی مسجد میں نماز کے بعد احرام باندھا ، دیکھئیے اگلی حدیث۔ قال الشيخ الألباني : صحيح حجة النبی صلی اللہ عليه وسلم (45 / 2) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 817
818
Jamiat Tirmidhi
صحیح
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيل، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ:‏‏‏‏ الْبَيْدَاءُ الَّتِي يَكْذِبُونَ فِيهَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ (ﷺ)، ‏‏‏‏‏‏ وَاللَّهِ مَا أَهَلَّ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ) إِلَّا مِنْ عِنْدِ الْمَسْجِدِ مِنْ عِنْدِ الشَّجَرَةِ. قَالَ:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں : بیداء جس کے بارے میں لوگ رسول اللہ ﷺ پر جھوٹ باندھتے ہیں (کہ وہاں سے احرام باندھا) ١ ؎ اللہ کی قسم ! رسول اللہ ﷺ نے مسجد (ذی الحلیفہ) کے پاس درخت کے قریب تلبیہ پکارا ٢ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الحج ٢ (١٥١٥) ، و ٢٠ (١٥٤١) ، والجہاد ٥٣ (٢٨٦٥) ، صحیح مسلم/الحج (١١٨٦) ، سنن ابی داود/ المناسک ٢١ (١٧٧١) ، سنن النسائی/الحج ٥٦ (٢٧٥٨) ، ( تحفة الأشراف : ٧٠٢٠) ، موطا امام مالک/الحج ٩ (٣٠) ، مسند احمد (٢/١٠، ٦٦، ١٥٤) (صحیح) وضاحت : ١ ؎ : یہ بات ابن عمر نے ان لوگوں کی غلط فہمی کے ازالہ کے لیے کہی جو یہ کہتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ نے بیداء کے مقام سے احرام باندھا تھا۔ ٢ ؎ : ان روایات میں بظاہر تعارض ہے ، ان میں تطبیق اس طرح سے دی گئی ہے کہ آپ نے احرام تو مسجد کے اندر ہی باندھا تھا جنہوں نے وہاں آپ کے احرام کا مشاہدہ کیا انہوں نے اس کا ذکر کیا اور جب آپ مسجد سے باہر تشریف لائے اور اپنی اونٹنی پر سوار ہوئے اور بلند آواز سے تلبیہ پکارا تو دیکھنے والوں نے سمجھا کہ آپ نے اسی وقت احرام باندھا ہے ، پھر جب آپ بیداء پر پہنچے اور آپ نے لبیک کہا تو جن حضرات نے وہاں لبیک کہتے سنا انہوں نے سمجھا کہ آپ نے یہاں احرام باندھا ہے ، گویا ہر شخص نے اپنے مشاہدہ کے مطابق خبر دی۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 818