Jamiat Tirmidhi
22. لباس کا بیان
جامع الترمذي
1720
Jamiat Tirmidhiحَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ (ﷺ) قَالَ: حُرِّمَ لِبَاسُ الْحَرِيرِ وَالذَّهَبِ عَلَى ذُكُورِ أُمَّتِي، وَأُحِلَّ لِإِنَاثِهِمْ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَاب، عَنْ عُمَرَ، وَعَلِيٍّ، وَعُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، وَأَنَسٍ، وَحُذَيْفَةَ، وَأُمِّ هَانِئٍ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، وَعِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، وَجَابِرٍ، وَأَبِي رَيْحَانَ، وَابْنِ عُمَرَ، وَالْبَرَاءِ، وَوَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
ابوموسیٰ اشعری (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ریشم کا لباس اور سونا میری امت کے مردوں پر حرام ہے اور ان کی عورتوں کے لیے حلال کیا گیا ہے ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں عمر، علی، عقبہ بن عامر، انس، حذیفہ، ام ہانی، عبداللہ بن عمرو، عمران بن حصین، عبداللہ بن زبیر، جابر، ابوریحان، ابن عمر، براء، اور واثلہ بن اسقع (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : سنن النسائی/الزینة ٤٠ (٥١٥١) ، و ٧٤ (٥٢٦٧) ، (تحفة الأشراف : ٨٩٩٨) ، و مسند احمد (٤/٣٩٢، ٣٩٣، ٤٠٧) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : مسلمان مردوں کے لیے سونا اور ریشم کے کپڑے حرام ہیں ، حرمت کی کئی وجہیں ہیں : کفار و مشرکین سے اس میں مشابہت پائی جاتی ہے ، زیب و زینت عورتوں کا خاص وصف ہے ، مردوں کے لیے یہ پسندیدہ نہیں ، اس پہلو سے یہ دونوں حرام ہیں ، اسلام جس سادگی کی تعلیم دیتا ہے یہ اس سادگی کے خلاف ہے ، حالانکہ سادگی رسول اللہ ﷺ کے فرمان کے مطابق ایمان کا حصہ ہے ، آپ کا ارشاد ہے «البذاذة من الإيمان» یعنی سادہ اور بےتکلف رہن سہن اختیار کرنا ایمان کا حصہ ہے ، یہ دونوں چیزیں عورتوں کے لیے حلال ہیں ، لیکن حلال ہونے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ان کے استعمال میں حد سے تجاوز کیا جائے ، اسی طرح یہاں حلت کا تعلق صرف سونے کے زیورات سے ہے ، نہ کہ ان سے بنے ہوئے برتنوں سے کیونکہ سونے (اور چاندی) سے بنے ہوئے برتن سب کے لیے حرام ہیں۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (3595) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1720
1721
Jamiat Tirmidhiحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ غَفَلَةَ، عَنْ عُمَرَ، أَنَّهُ خَطَبَ بِالْجَابِيَةِ، فَقَالَ: نَهَى نَبِيُّ اللَّهِ (ﷺ) عَنْ الْحَرِيرِ، إِلَّا مَوْضِعَ أُصْبُعَيْنِ، أَوْ ثَلَاثٍ، أَوْ أَرْبَعٍ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
سوید بن غفلہ (رض) کہتے ہیں کہ عمر نے مقام جابیہ میں خطبہ دیا اور کہا : نبی اکرم ﷺ نے ریشم سے منع فرمایا سوائے دو ، یا تین، یا چار انگشت کے برابر ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/اللباس ٢ (٢٠٦٩/١٥) ، (تحفة الأشراف : ١٠٤٥٩) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : ریشم کا لباس مردوں کے لیے شرعی طور پر حرام ہے ، البتہ دو یا تین یا چار انگلی کے برابر کسی کپڑے پر ریشم لگا ہو ، یا کوئی عذر مثلاً خارش وغیرہ ہو تو اس کی گنجائش ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1721
1722
Jamiat Tirmidhiحَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ، وَالزُّبَيْرَ بْنَ الْعَوَّامِ شَكَيَا الْقَمْلَ إِلَى النَّبِيِّ (ﷺ) فِي غَزَاةٍ لَهُمَا، فَرَخَّصَ لَهُمَا فِي قُمُصِ الْحَرِيرِ ، قَالَ: وَرَأَيْتُهُ عَلَيْهِمَا، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
انس بن مالک (رض) سے روایت ہے کہ عبدالرحمٰن بن عوف اور زبیر بن عوام (رض) نے ایک غزوہ میں نبی اکرم ﷺ سے جوؤں کی شکایت کی، تو آپ نے انہیں ریشم کی قمیص کی اجازت دے دی، انس (رض) کہتے ہیں : میں نے ان کے بدن پر ریشم کی قمیص دیکھی۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الجہاد ٩٠ (٢٩١٩- ٢٩٢٢) ، واللباس ٢٩ (٥٨٣٩) ، صحیح مسلم/اللباس ٣ (٢٠٧٦) ، سنن ابی داود/ اللباس ١٣ (٤٠٥٦) ، سنن النسائی/الزینة ٩٢ (٥٣١٢) ، سنن ابن ماجہ/اللباس ١٧ (٣٥٩٢) ، (تحفة الأشراف : ١٣٩٤) ، و مسند احمد (٣/١٢٧، ١٨٠، ٢١، ٢٥٥، ٢٧٣) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (3592) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1722
1723
Jamiat Tirmidhiحَدَّثَنَا أَبُو عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، حَدَّثَنَا وَاقِدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ، قَالَ: قَدِمَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، فَأَتَيْتُهُ، فَقَالَ: مَنْ أَنْتَ ؟ فَقُلْتُ: أَنَا وَاقِدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ، قَالَ: فَبَكَى، وَقَالَ: إِنَّكَ لَشَبِيهٌ بِسَعْدٍ، وَإِنَّ سَعْدًا كَانَ مِنْ أَعْظَمِ النَّاسِ وَأَطْوَلِهِمْ، وَإِنَّهُ بُعِثَ إِلَى النَّبِيِّ (ﷺ) جُبَّةٌ مِنْ دِيبَاجٍ مَنْسُوجٌ فِيهَا الذَّهَبُ، فَلَبِسَهَا رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ)، فَصَعِدَ الْمِنْبَرَ فَقَامَ أَوْ قَعَدَ، فَجَعَلَ النَّاسُ يَلْمِسُونَهَا، فَقَالُوا: مَا رَأَيْنَا كَالْيَوْمِ ثَوْبًا قَطُّ، فَقَالَ: أَتَعْجَبُونَ مِنْ هَذِهِ ؟ لَمَنَادِيلُ سَعْدٍ فِي الْجَنَّةِ خَيْرٌ مِمَّا تَرَوْنَ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَاب، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
واقد بن عمرو بن سعد بن معاذ کہتے ہیں کہ انس بن مالک (رض) (ہمارے پاس) آئے تو میں ان کے پاس گیا، انہوں نے پوچھا : تم کون ہو ؟ میں نے کہا : میں واقد بن عمرو بن سعد بن معاذ (رض) ہوں، انس (رض) رو پڑے اور بولے : تم سعد کی شکل کے ہو، سعد بڑے دراز قد اور لمبے تھے، نبی اکرم ﷺ کے پاس ایک ریشمی جبہ بھیجا گیا جس میں زری کا کام کیا ہوا تھا ١ ؎ آپ اسے پہن کر منبر پر چڑھے، کھڑے ہوئے یا بیٹھے تو لوگ اسے چھو کر کہنے لگے : ہم نے آج کی طرح کبھی کوئی کپڑا نہیں دیکھا، آپ نے فرمایا : کیا تم اس پر تعجب کر رہے ہو ؟ جنت میں سعد کے رومال اس سے کہیں بہتر ہیں جو تم دیکھ رہے ہو ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں اسماء بنت ابی بکر سے بھی روایت ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الہبة ٢٨ (٢٦١٥) ، وبدء الخلق ٨ (٣٢٤٨) ، صحیح مسلم/فضائل الصحابة ٢٤ (٢٤٦٩) ، سنن النسائی/الزینة ٨٨ (٥٣٠٤) ، (تحفة الأشراف : ١٦٤٨) ، و مسند احمد (٣/١١١، ١٢١-١٢٢، ٢٠٧، ٢٠٩، ٢٢٩، ٢٣٨، ٢٥١، ٢٧٧) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : یہ جبہ اکیدردومہ نے نبی اکرم ﷺ کے لیے بطور ہدیہ بھیجا تھا ، یہ ریشم کی حرمت سے پہلے کا واقعہ ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1723
1724
Jamiat Tirmidhiحَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ الْبَرَاءِ، قَالَ: مَا رَأَيْتُ مِنْ ذِي لِمَّةٍ فِي حُلَّةٍ حَمْرَاءَ أَحْسَنَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ (ﷺ)، لَهُ شَعْرٌ يَضْرِبُ مَنْكِبَيْهِ بَعِيدُ مَا بَيْنَ الْمَنْكِبَيْنِ، لَمْ يَكُنْ بِالْقَصِيرِ وَلَا بِالطَّوِيلِ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَاب، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، وَأَبِي رِمْثَةَ، وَأَبِي جُحَيْفَةَ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
براء (رض) کہتے ہیں کہ میں نے سرخ جوڑے میں کسی لمبے بال والے کو رسول اللہ ﷺ سے خوبصورت نہیں دیکھا، آپ کے بال شانوں کو چھوتے تھے، آپ کے شانوں کے درمیان دوری تھی، آپ نہ کوتاہ قد تھے اور نہ لمبے ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں جابر بن سمرہ، ابورمثہ اور ابوجحیفہ (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/المناقب ٣٣ (٣٥٥١) ، واللباس ٣٥ (٥٨٤٨) ، و ٦٨ (٥٩٠٣) ، صحیح مسلم/الفضائل ٢٥ (٢٣٣٧) ، سنن ابی داود/ الترجل ٩ (٤١٨٣) ، سنن النسائی/الزینة ٩ (٥٠٦٣) ، و ٥٩ (٥٢٣٤) ، و ٩٣ (٥٢٤٨) ، سنن ابن ماجہ/اللباس ٢٠ (٣٥٩٩) ، (تحفة الأشراف : ١٨٤٧) ، و مسند احمد (٤/٢٨١، ٢٩٥) و یأتي برقم ٣٦٣٥ (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : سرخ لباس کی بابت حالات و ظروف کی رعایت ضروری ہے ، اگر یہ عورتوں کا مخصوص زیب و زینت والا لباس ہے جیسا کہ آج کے اس دور میں شادی کے موقع پر سرخ جوڑا دلہن کو خاص طور سے دیا جاتا ہے تو مردوں کا اس سے بچنا بہتر ہے ، خود نبی اکرم ﷺ کے اس سرخ جوڑے کے بارے میں اختلاف ہے کہ وہ کیسا تھا ؟ خلاصہ اقوال یہ ہے کہ یہ سرخ جوڑا یا دیگر لال لباس جو آپ ﷺ پہنے تھے ، ان میں تانا اور بانا میں رنگوں کا اختلاف تھا ، بالکل خالص لال رنگ کے وہ جوڑے نہیں تھے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (3599 ) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1724
1725
Jamiat Tirmidhiحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُنَيْنٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ: نَهَانِي النَّبِيُّ (ﷺ) عَنْ لُبْسِ الْقَسِّيِّ وَالْمُعَصْفَرِ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَاب، عَنْ أَنَسٍ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، وَحَدِيثُ عَلِيٍّ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
علی (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے مجھے قسی کے بنے ہوئے ریشمی اور زرد رنگ کے کپڑے پہننے سے منع فرمایا ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - علی (رض) کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں انس اور عبداللہ بن عمرو (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم ٢٦٤ (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : «معصفر» وہ کپڑا ہے جو عصفر سے رنگا ہوا ہو ، اس کا رنگ سرخی اور زردی کے درمیان ہوتا ہے ، اس رنگ کا لباس عام طور سے کاہن ، جوگی اور سادھو پہنتے ہیں ، ممکن ہے نبی اکرم ﷺ کے زمانے کے کاہنوں کا لباس یہی رہا ہو جس کی وجہ سے اسے پہننے سے منع کیا گیا۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (3602) ، ويأتي بأتم (3637) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1725
1726
Jamiat Tirmidhiحَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مُوسَى الْفَزَارِيُّ، حَدَّثَنَا سَيْفُ بْنُ هَارُونَ الْبُرْجُمِيُّ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْسَلْمَانَ، قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ) عَنِ السَّمْنِ وَالْجُبْنِ وَالْفِرَاءِ، فَقَالَ: الْحَلَالُ مَا أَحَلَّ اللَّهُ فِي كِتَابِهِ، وَالْحَرَامُ مَا حَرَّمَ اللَّهُ فِي كِتَابِهِ، وَمَا سَكَتَ عَنْهُ فَهُوَ مِمَّا عَفَا عَنْهُ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَاب، عَنْ الْمُغِيرَةِ، وَهَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ مَرْفُوعًا إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، وَرَوَى سُفْيَانُ، وَغَيْرُهُ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ سَلْمَانَ قَوْلَهُ، وَكَأَنَّ هَذَا الْحَدِيثَ الْمَوْقُوفَ أَصَحُّ، وَسَأَلْتُ الْبُخَارِيَّ عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ، فَقَالَ: مَا أُرَاهُ مَحْفُوظًا رَوَى سُفْيَانُ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ سَلْمَانَ، مَوْقُوفًا، قَالَ الْبُخَارِيُّ: وَسَيْفُ بْنُ هَارُونَ مُقَارِبُ الْحَدِيثِ، وَسَيْفُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَاصِمٍ ذَاهِبُ الْحَدِيثِ.
سلمان (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے گھی، پنیر اور پوستین (چمڑے کا لباس) کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا : حلال وہ ہے جسے اللہ نے اپنی کتاب میں حلال کردیا، اور حرام وہ ہے، جسے اللہ نے اپنی کتاب میں حرام کردیا اور جس چیز کے بارے میں وہ خاموش رہا وہ اس قبیل سے ہے جسے اللہ نے معاف کردیا ہے ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے مرفوع جانتے ہیں، ٢ - اسے سفیان نے بسند «سليمان التيمي عن أبي عثمان عن سلمان» موقوفاً روایت کیا ہے، گویا یہ موقوف حدیث زیادہ صحیح ہے، اس باب میں مغیرہ سے بھی حدیث آئی ہے، ٣ - میں نے امام بخاری سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا : تو انہوں نے کہا : میں اس کو محفوظ نہیں سمجھتا ہوں، سفیان نے بسند «سليمان التيمي عن أبي عثمان عن سلمان» موقوفا روایت کی ہے، ٤ - امام بخاری کہتے ہیں : سیف بن ہارون مقارب الحدیث ہیں، اور سیف بن محمد عاصم سے روایت کرنے میں ذاہب الحدیث ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابن ماجہ/الأطعمة ٦٠ (٣٣٦٧) ، (تحفة الأشراف : ٤٤٩٦) (حسن) (شواہد کی بنا پر یہ حدیث حسن ہے، ورنہ اس کے راوی سیف سخت ضعیف ہیں، دیکھئے : غایة المرام رقم : ٣، وتراجع الألبانی ٤٢٨ ) وضاحت : ١ ؎ : یعنی اس کا استعمال جائز اور مباح ہے ، یہی وجہ ہے کہ فقہاء نے یہ اصول اپنایا کہ چیزیں اپنی اصل کے اعتبار سے حلال و مباح ہیں ، اس کی تائید اس آیت کریمہ سے بھی ہوتی ہے «هو الذي خلق لکم ما في الأرض جميعا» لیکن شرط یہ ہے کہ ان کی حرمت سے متعلق کوئی دلیل نہ ہو ، کیونکہ حرمت کی دلیل آ جانے کے بعد وہ حرام ہوجائیں گی ، فقہاء کے مذکورہ اصول اور مذکورہ آیت سے بعض نے پان ، تمباکو اور بیڑی سگریٹ کے مباح ہونے پر استدلال کیا ہے ، لیکن یہ استدلال درست نہیں ہے ، کیونکہ چیزیں اپنی اصل کے اعتبار سے مباح ہیں ، لیکن اس شرط کے ساتھ کہ وہ ضرر رساں نہ ہوں ، اگر دیر یا سویر نقصان ظاہر ہوتا ہے تو ایسی صورت میں وہ ہرگز مباح نہیں ہوں گی ، اور مذکورہ چیزوں میں جو ضرر و نقصان ہے یہ کسی سے مخفی نہیں ، نیز ان کا استعمال «تبذیر» (اسراف اور فضول خرچی) کے باب میں آتا ہے ، لہٰذا ان کی حرمت میں کسی کو شک نہیں ہونا چاہیئے۔ قال الشيخ الألباني : حسن، ابن ماجة (3366) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1726
1727
Jamiat Tirmidhiحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، قَال: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ، يَقُولُ: مَاتَتْ شَاةٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ) لِأَهْلِهَا: أَلَا نَزَعْتُمْ جِلْدَهَا ثُمَّ دَبَغْتُمُوهُ فَاسْتَمْتَعْتُمْ بِهِ .
عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ ایک بکری مرگئی، رسول اللہ ﷺ نے بکری والے سے کہا : تم نے اس کی کھال کیوں نہ اتار لی ؟ پھر تم دباغت دے کر اس سے فائدہ حاصل کرتے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف : ٥٩٦٩) ، وانظر : صحیح البخاری/الزکاة ٦١ (١٤٩٢) ، والبیوع ١٠١ (٢٢٢١) ، والذبائح ٣٠ (٥٥٣١، ٥٥٣٢) ، صحیح مسلم/الحیض ٢٧ (٣٦٣-٣٦٥) ، سنن ابی داود/ اللبا ٤١ (٤١٢١) ، سنن النسائی/الفرع ٤ (٤٢٤٠-٤٢٤٤) ، سنن ابن ماجہ/اللباس ٢٥ (٣٦١٠) ، وط/الصید ٦ (١٦) ، مسند احمد (١/٢٣٧) ، ٣٢٧، ٣٣٠، ٣٦٥، ٣٦٦، ٣٧٢) ، سنن الدارمی/الأضاحي ٢٠ (٢٠٢٨) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : معلوم ہوا کہ مردہ جانور کی کھال سے فائدہ دباغت (پکانے) کے بعد ہی اٹھایا جاسکتا ہے ، اور ان روایتوں کو جن میں دباغت (پکانے) کی قید نہیں ہے ، اسی دباغت والی روایت پر محمول کیا جائے گا۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (3609 - 3610 ) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1727
1728
Jamiat Tirmidhiحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، وَعَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ وَعْلَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ): أَيُّمَا إِهَابٍ دُبِغَ فَقَدْ طَهُرَ ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَكْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ قَالُوا فِي جُلُودِ الْمَيْتَةِ: إِذَا دُبِغَتْ فَقَدْ طَهُرَتْ، قَالَ أَبُو عِيسَى: قَالَ الشَّافِعِيُّ: أَيُّمَا إِهَابِ مَيْتَةٍ دُبِغَ فَقَدْ طَهُرَ، إِلَّا الْكَلْبَ وَالْخِنْزِيرَ، وَاحْتَجَّ بِهَذَا الْحَدِيثِ، وقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ (ﷺ) وَغَيْرِهِمْ: إِنَّهُمْ كَرِهُوا جُلُودَ السِّبَاعِ وَإِنْ دُبِغَ، وَهُوَ قَوْلُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ، وَأَحْمَدَ، وَإِسْحَاق، وَشَدَّدُوا فِي لُبْسِهَا، وَالصَّلَاةِ فِيهَا، قَالَ إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ: إِنَّمَا مَعْنَى قَوْلِ رَسُولِ اللَّهِ (ﷺ): أَيُّمَا إِهَابٍ دُبِغَ فَقَدْ طَهُرَ : جِلْدُ مَا يُؤْكَلُ لَحْمُهُ، هَكَذَا فَسَّرَهُ النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، وقَالَ إِسْحَاق: قَالَ النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ: إِنَّمَا يُقَالُ الْإِهَابُ: لِجِلْدِ مَا يُؤْكَلُ لَحْمُهُ، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَاب، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْمُحَبَّقِ، وَمَيْمُونَةَ، وَعَائِشَةَ، وَحَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ (ﷺ) نَحْوَ هَذَا، وَرُوِيَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ مَيْمُونَةَ، عَنِ النَّبِيِّ (ﷺ)، وَرُوِيَ عَنْهُ، عَنْ سَوْدَةَ، وسَمِعْت مُحَمَّدًا يُصَحِّحُ حَدِيثَ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ (ﷺ)، وَحَدِيثَ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ مَيْمُونَةَ، وَقَالَ: احْتَمَلَ أَنْ يَكُونَ رَوَى ابْنُ عَبَّاسٍ، عَنْ مَيْمُونَةَ، عَنِ النَّبِيِّ (ﷺ)، وَرَوَى ابْنُ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ (ﷺ)، وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ عَنْ مَيْمُونَةَ، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَكْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ، وَهُوَ قَوْلُ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، وَابْنِ الْمُبَارَكِ، وَالشَّافِعِيِّ، وَأَحْمَدَ، وَإِسْحَاق.
عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جس چمڑے کو دباغت دی گئی، وہ پاک ہوگیا ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - ابن عباس (رض) کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - بواسطہ ابن عباس نبی اکرم ﷺ سے دوسری سندوں سے بھی اسی طرح مروی ہے، ٣ - یہ حدیث ابن عباس سے کبھی میمونہ کے واسطہ سے نبی اکرم ﷺ سے اور کبھی سودہ کے واسطہ سے نبی اکرم ﷺ سے آئی ہے، ٤ - میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو نبی اکرم ﷺ سے مروی ابن عباس کی حدیث اور میمونہ کے واسطہ سے مروی ابن عباس کی حدیث کو صحیح کہتے ہوئے سنا، انہوں نے کہا : احتمال ہے کہ ابن عباس نے بواسطہ میمونہ نبی اکرم ﷺ سے روایت کیا ہو، اور ابن عباس نے نبی اکرم ﷺ سے براہ راست بھی روایت کیا، اکثر اہل علم کا اسی پر عمل ہے، سفیان ثوری، ابن مبارک، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا یہی قول ہے، ٥ - نضر بن شمیل نے بھی اس کا یہی مفہوم بیان کیا ہے، اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں : نضر بن شمیل نے کہا : «إهاب» اس جانور کے چمڑے کو کہا جاتا ہے، جس کا گوشت کھایا جاتا ہے، ٦ - اکثر اہل علم کا اسی پر عمل ہے، وہ کہتے ہیں : مردار کا چمڑا دباغت دینے کے بعد پاک ہوجاتا ہے ، ٧ - شافعی کہتے ہیں : کتے اور سور کے علاوہ جس مردار جانور کا چمڑا دباغت دیا جائے وہ پاک ہوجائے گا، انہوں نے اسی حدیث سے استدلال کیا ہے، ٨ - بعض اہل علم صحابہ اور دوسرے لوگوں نے درندوں کے چمڑوں کو مکروہ سمجھا ہے، اگرچہ اس کو دباغت دی گئی ہو، عبداللہ بن مبارک، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا یہی قول ہے، ان لوگوں نے اسے پہننے اور اس میں نماز ادا کرنے کو برا سمجھا ہے، ٩ - اسحاق بن ابراہیم بن راہویہ کہتے ہیں : رسول اللہ ﷺ کے قول «أيما إهاب دبغ فقد طهر» کا مطلب یہ ہے کہ اس جانور کا چمڑا دباغت سے پاک ہوجائے گا جس کا گوشت کھایا جاتا ہے، ١٠ - اس باب میں سلمہ بن محبق، میمونہ اور عائشہ (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الحیض ٢٧ (٣٦٦) ، سنن ابی داود/ اللباس ٤١ (٤١٢٣) ، سنن النسائی/الفرع ٤ (٤٢٤٦) ، سنن ابن ماجہ/اللباس ٢٥ (٣٦٠٩) ، (تحفة الأشراف : ٥٨٢٢) ، وط/الصید ٦ (١٧) ، و مسند احمد (١/٢١٩، ٢٧٠، ٢٧٩، ٢٨٠، ٣٤٣) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ہر چمڑا جسے دباغت دیا گیا ہو وہ پاک ہے ، لیکن اس عموم سے درندوں کی کھالیں نکل جائیں گی ، کیونکہ اس سلسلہ میں فرمان رسول ہے «أن رسول اللہ صلی اللہ عليه وسلم نهى عن جلود السباع» یعنی آپ ﷺ نے درندوں کی کھالوں (کے استعمال) سے منع فرمایا ہے ، اس حدیث کی بنیاد پر درندوں کی کھالیں ہر صورت میں ناپاک ہی رہیں گی ، اور ان کا استعمال ناجائز ہوگا۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (3609 - 3610) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1728
1729
Jamiat Tirmidhiحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ طَرِيفٍ الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ الْأَعْمَشِ، وَالشَّيْبَانِيِّ، عَنْ الْحَكَمِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُكَيْمٍ، قَالَ: أَتَانَا كِتَابُ رَسُولِ اللَّهِ (ﷺ): أَنْ لَا تَنْتَفِعُوا مِنَ الْمَيْتَةِ بِإِهَابٍ وَلَا عَصَبٍ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ، وَيُرْوَى عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُكَيْمٍ، عَنْ أَشْيَاخٍ لَهُمْ هَذَا الْحَدِيثُ، وَلَيْسَ الْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَكْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ، وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُكَيْمٍ، أَنَّهُ قَالَ: أَتَانَا كِتَابُ النَّبِيِّ (ﷺ) قَبْلَ وَفَاتِهِ بِشَهْرَيْنِ، قَالَ: وسَمِعْت أَحْمَدَ بْنَ الْحَسَنِ، يَقُولُ: كَانَ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ يَذْهَبُ إِلَى هَذَا الْحَدِيثِ لِمَا ذُكِرَ فِيهِ قَبْلَ وَفَاتِهِ بِشَهْرَيْنِ، وَكَانَ يَقُولُ: كَانَ هَذَا آخِرَ أَمْرِ النَّبِيِّ (ﷺ)، ثُمَّ تَرَكَ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ هَذَا الْحَدِيثَ لَمَّا اضْطَرَبُوا فِي إِسْنَادِهِ، حَيْثُ رَوَى بَعْضُهُمْ فَقَالَ: عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُكَيْمٍ، عَنْ أَشْيَاخٍ لَهُمْ مِنْ جُهَيْنَةَ.
عبداللہ بن عکیم کہتے ہیں کہ ہمارے پاس رسول اللہ ﷺ کا خط آیا کہ تم لوگ مردہ جانوروں کے چمڑے ١ ؎ اور پٹھوں سے فائدے نہ حاصل کرو۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث حسن ہے، ٢ - یہ حدیث عبداللہ بن عکیم سے ان کے شیوخ کے واسطہ سے بھی آئی ہے، ٣ - اکثر اہل علم کا اس پر عمل نہیں ہے، ٤ - عبداللہ بن عکیم سے یہ حدیث مروی ہے، انہوں نے کہا : ہمارے پاس نبی اکرم ﷺ کا خط آپ کی وفات سے دو ماہ پہلے آیا، ٥ - میں نے احمد بن حسن کو کہتے سنا، احمد بن حنبل اسی حدیث کو اختیار کرتے تھے اس وجہ سے کہ اس میں آپ کی وفات سے دو ماہ قبل کا ذکر ہے، وہ یہ بھی کہتے تھے : یہ نبی اکرم ﷺ کا آخری حکم تھا، ٦ - پھر احمد بن حنبل نے اس حدیث کو چھوڑ دیا اس لیے کہ راویوں سے اس کی سند میں اضطراب واقع ہے، چناچہ بعض لوگ اسے عبداللہ بن عکیم سے ان کے جہینہ کے شیوخ کے واسطہ سے روایت کرتے ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/ اللباس ٤٢ (٤١٢٧) ، سنن النسائی/الفرع ٥٤ (٢٤٥٥، ٢٤٥٦) ، سنن ابن ماجہ/اللباس ٢٦ (٣٦١٣) ، (تحفة الأشراف : ٦٦٤٢) ، و مسند احمد (٤/٢١٠، ٣١١) (صحیح) (نیز ملاحظہ ہو : الإرواء ٣٨، والصحیحة ٣١٣٣، والضعیفة ١١٨، تراجع الألبانی ١٥ و ٤٧٠ ) وضاحت : ١ ؎ : دباغت سے پہلے کی حالت پر محمول ہے ، گویا حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ دباغت سے قبل مردہ جانوروں کے چمڑے سے فائدہ اٹھانا صحیح نہیں ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (3613) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1729