Jamiat Tirmidhi
43. قرآن کی تفسیر کا بیان
جامع الترمذي
2950
Jamiat Tirmidhiحَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ السَّرِيِّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ): مَنْ قَالَ فِي الْقُرْآنِ بِغَيْرِ عِلْمٍ فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جس نے بغیر علم کے (بغیر سمجھے بوجھے) قرآن کی تفسیر کی، تو وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لے ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف (أخرجہ النسائي في الکبری) (تحفة الأشراف : ٥٥٤٣) (ضعیف) (سند میں عبدالاعلی بن عامر ثعلبی روایت میں وہم کا شکار ہوجایا کرتے تھے ) قال الشيخ الألباني : ضعيف، المشکاة (234) ، نقد التاج، // ضعيف الجامع الصغير (5737) // صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2950
2951
Jamiat Tirmidhiحَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ، حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ عَمْرٍو الْكَلْبِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ (ﷺ)، قَالَ: اتَّقُوا الْحَدِيثَ عَنِّي إِلَّا مَا عَلِمْتُمْ، فَمَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ، وَمَنْ قَالَ فِي الْقُرْآنِ بِرَأْيِهِ فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ.
عبداللہ بن عباس (رض) سے روایت کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : میری طرف سے کوئی بات اس وقت تک نہ بیان کرو جب تک کہ تم (اچھی طرح) جان نہ لو کیونکہ جس نے جان بوجھ کر جھوٹی بات میری طرف منسوب کی تو وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لے اور جس نے قرآن میں اپنی عقل و رائے سے کچھ کہا وہ بھی اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لے ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن ہے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ماقبلہ (ضعیف) (تراجع الالبانی ١٥٨ ) قال الشيخ الألباني : ضعيف، المشکاة (235) ، نقد التاج، الضعيفة (1783) ، صفة الصلاة // ضعيف الجامع الصغير وزيادته (114) // صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2951
2952
Jamiat Tirmidhiحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا حَبَّانُ بْنُ هِلَالٍ، حَدَّثَنَا سُهَيْلُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ وَهُوَ ابْنُ أَبِي حَزْمٍ أَخُو حَزْمٍ الْقُطَعِيِّ، حَدَّثَنَا أَبُو عِمْرَانَ الْجَوْنِيُّ، عَنْ جُنْدَبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ): مَنْ قَالَ فِي الْقُرْآنِ بِرَأْيِهِ فَأَصَابَ فَقَدْ أَخْطَأَ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، وَقَدْ تَكَلَّمَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ فِي سُهَيْلِ بْنِ أَبِي حَزْمٍ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَكَذَا رُوِيَ عَنْ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ (ﷺ) وَغَيْرِهِمْ أَنَّهُمْ شَدَّدُوا فِي هَذَا فِي أَنْ يُفَسَّرَ الْقُرْآنُ بِغَيْرِ عِلْمٍ، وَأَمَّا الَّذِي رُوِيَ عَنْ مُجَاهِدٍ، وَقَتَادَةَ، وَغَيْرِهِمَا مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ أَنَّهُمْ فَسَّرُوا الْقُرْآنَ، فَلَيْسَ الظَّنُّ بِهِمْ أَنَّهُمْ قَالُوا فِي الْقُرْآنِ أَوْ فَسَّرُوهُ بِغَيْرِ عِلْمٍ أَوْ مِنْ قِبَلِ أَنْفُسِهِمْ، وَقَدْ رُوِيَ عَنْهُمْ مَا يَدُلُّ عَلَى مَا قُلْنَا أَنَّهُمْ لَمْ يَقُولُوا مِنْ قِبَلِ أَنْفُسِهِمْ بِغَيْرِ عِلْمٍ. حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مَهْدِيٍّ الْبَصْرِيُّ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ: مَا فِي الْقُرْآنِ آيَةٌ إِلَّا وَقَدْ سَمِعْتُ فِيهَا شَيْئًا. حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، قَالَ: قَالَ مُجَاهِدٌ: لَوْ كُنْتُ قَرَأْتُ قِرَاءَةَ ابْنِ مَسْعُودٍ لَمْ أَحْتَجْ إِلَى أَنْ أَسْأَلَ ابْنَ عَبَّاسٍ، عَنْ كَثِيرٍ مِنَ الْقُرْآنِ مِمَّا سَأَلْتُ.
جندب بن عبداللہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جس نے قرآن کی تفسیر اپنی رائے (اور اپنی صواب دید) سے کی، اور بات صحیح و درست نکل بھی گئی تو بھی اس نے غلطی کی ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث غریب ہے، ٢ - بعض محدثین نے سہیل بن ابی حزم کے بارے کلام کیا ہے، ٣ - اسی طرح بعض اہل علم صحابہ اور دوسروں سے مروی ہے کہ انہوں نے سختی سے اس بات سے منع کیا ہے کہ قرآن کی تفسیر بغیر علم کے کی جائے، لیکن مجاہد، قتادہ اور ان دونوں کے علاوہ بعض اہل علم کے بارے میں جو یہ بات بیان کی جاتی ہے کہ انہوں نے قرآن کی تفسیر (بغیر علم کے) کی ہے تو یہ کہنا درست نہیں، ایسے (ستودہ صفات) لوگوں کے بارے میں یہ بدگمانی نہیں کی جاسکتی کہ انہوں نے قرآن کے بارے میں جو کچھ کہا ہے یا انہوں نے قرآن کی جو تفسیر کی ہے یہ بغیر علم کے یا اپنے جی سے کی ہے، ٤ - ان ائمہ سے ایسی باتیں مروی ہیں جو ہمارے اس قول کو تقویت دیتی ہیں کہ انہوں نے کوئی بات بغیر علم کے اپنی جانب سے نہیں کہی ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/ العلم ٥ (٣٦٥٢) (تحفة الأشراف : ٣٢٦٢) (ضعیف) (سند میں سہیل ضعیف راوی ہیں) قال الشيخ الألباني : ضعيف، المشکاة (235) ، نقد التاج //، ضعيف أبي داود (789 / 3652) // صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2952 قتادہ کہتے ہیں کہ قرآن میں کوئی آیت ایسی نہیں ہے جس کی تفسیر میں میں نے کوئی بات (یعنی کوئی روایت) نہ سنی ہو۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف : ١٩٢٦٢) (صحیح) قال الشيخ الألباني : ضعيف، المشکاة (235) ، نقد التاج //، ضعيف أبي داود (789 / 3652) // صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2952 مجاہد کہتے ہیں کہ اگر میں نے ابن مسعود کی قرأت پڑھی ہوتی تو مجھے قرآن سے متعلق ابن عباس (رض) سے وہ بہت سی باتیں پوچھنے کی ضرورت پیش نہ آئی ہوتی جو میں نے ان سے پوچھیں۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف : ١٩٢٦٣) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : ضعيف، المشکاة (235) ، نقد التاج //، ضعيف أبي داود (789 / 3652) // صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2952
2953
Jamiat Tirmidhiحَدَّثَنَا حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ (ﷺ)، قَالَ: مَنْ صَلَّى صَلَاةً لَمْ يَقْرَأْ فِيهَا بِأُمِّ الْقُرْآنِ فَهِيَ خِدَاجٌ هِيَ خِدَاجٌ غَيْرُ تَمَامٍ، قَالَ: قُلْتُ: يَا أَبَا هُرَيْرَةَ، إِنِّي أَحْيَانًا أَكُونُ وَرَاءَ الْإِمَامِ، قَالَ: يَا ابْنَ الْفَارِسِيِّ فَاقْرَأْهَا فِي نَفْسِكَ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ (ﷺ)، يَقُولُ: قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: قَسَمْتُ الصَّلَاةَ بَيْنِي وَبَيْنَ عَبْدِي نِصْفَيْنِ فَنِصْفُهَا لِي وَنِصْفُهَا لِعَبْدِي وَلِعَبْدِي مَا سَأَلَ، يَقْرَأُ الْعَبْدُ فَيَقُولُ: الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ سورة الفاتحة آية 2، فَيَقُولُ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: حَمِدَنِي عَبْدِي، فَيَقُولُ: الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ سورة الفاتحة آية 3 فَيَقُولُ اللَّهُ: أَثْنَى عَلَيَّ عَبْدِي، فَيَقُولُ: مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ سورة الفاتحة آية 4، فَيَقُولُ: مَجَّدَنِي عَبْدِي وَهَذَا لِي وَبَيْنِي وَبَيْنَ عَبْدِي إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ سورة الفاتحة آية 5 وَآخِرُ السُّورَةِ لِعَبْدِي وَلِعَبْدِي مَا سَأَلَ، يَقُولُ: اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ 6 صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلا الضَّالِّينَ 7 سورة الفاتحة آية 6-7 ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ، وَقَدْ رَوَى شُعْبَةُ،وَإِسْمَاعِيل بْنُ جَعْفَرٍ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ (ﷺ) نَحْوَ هَذَا الْحَدِيثِ. وَرَوَى ابْنُ جُرَيْجٍ، وَمَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي السَّائِبِ، مَوْلَى هِشَامِ بْنِ زُهْرَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ (ﷺ) نَحْوَ هَذَا. وَرَوَى ابْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، وَأَبُو السَّائِبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ (ﷺ) نَحْوَ هَذَا،
ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جس نے کوئی نماز پڑھی اور اس میں سورة فاتحہ نہ پڑھی تو وہ نماز ناقص ہے، وہ نماز ناقص ہے، نامکمل ہے ١ ؎ عبدالرحمٰن کہتے ہیں : میں نے کہا : ابوہریرہ ! میں کبھی امام کے پیچھے ہوتا ہوں ؟ انہوں نے کہا : فارسی لڑکے ! اسے اپنے جی میں (دل ہی دل میں) پڑھ لیا کرو ٢ ؎ کیونکہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے : اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : میں نے نماز ٣ ؎ اپنے اور بندے کے درمیان دو حصوں میں بانٹ دی ہے۔ آدھی نماز میرے لیے ہے اور آدھی میرے بندے کے لیے، اور میرے بندے کے لیے وہ ہے جو مانگے۔ میرا بندہ پڑھتا ہے : «الحمد لله رب العالمين» تو اللہ کہتا ہے : میرے بندے نے میری حمد یعنی تعریف کی۔ بندہ کہتا ہے : «الرحمن الرحيم» تو اللہ کہتا ہے : میرے بندے نے میری ثنا کی، بندہ «مالک يوم الدين» کہتا ہے تو اللہ کہتا ہے : میرے بندے نے میری عظمت اور بزرگی بیان کی اور عظمت اور بزرگی صرف میرے لیے ہے، اور میرے اور میرے بندے کے درمیان «إياک نعبد وإياک نستعين» سے لے کر سورة کی آخری آیات تک ہیں، اور بندے کے لیے وہ سب کچھ ہے جو وہ مانگے۔ بندہ کہتا ہے «اهدنا الصراط المستقيم صراط الذين أنعمت عليهم غير المغضوب عليهم ولا الضالين» ہمیں سیدھی اور سچی راہ دکھا، ان لوگوں کی راہ جن پر تو نے انعام کیا ان کی نہیں جن پر غضب کیا گیا اور نہ گمراہوں کی امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث حسن ہے، ٢ - شعبہ، اسماعیل بن جعفر اور کئی دوسرے رواۃ نے ایسی ہی حدیث علاء بن عبدالرحمٰن سے، علاء نے اپنے باپ سے اور ان کے باپ نے ابوہریرہ (رض) کے واسطہ سے نبی اکرم ﷺ سے روایت کی ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الصلاة ١ (٣٩٥) ، سنن ابی داود/ الصلاة ١٣٦ (٨٢١) ، سنن النسائی/الإفتتاح ٢٣ (٩١٠) ، سنن ابن ماجہ/الإقامة ١١ (٨٣٨) (تحفة الأشراف : ١٤٠٨٠) ، وط/الصلاة ٩ (٣٩) ، و مسند احمد (٢/٢٤١، ٢٥٠، ٢٨٥، ٤٥٧) (صحیح) وضاحت : ١ ؎ : معلوم ہوا کہ سورة فاتحہ ہر نماز اور نماز کی ہر رکعت میں پڑھی جائے گی ، کیونکہ اس کے بغیر کوئی نماز نہیں ہوتی۔ ٢ ؎ : نبی اکرم ﷺ کی وفات کے بعد حدیث کے سب سے بڑے راوی اور جانکار صحابی ابوہریرہ (رض) کا یہ قول اس بات پر دلالت کر رہا ہے کہ ہر رکعت میں سورة فاتحہ خواہ امام کے پیچھے ہی کیوں نہ ہو پڑھنی فرض ہے اور یہ کہ یہ مسئلہ منسوخ نہیں ہوا ہے۔ ٣ ؎ : فرمایا تو تھا میں نے نماز کو اپنے اور بندے کے درمیان آدھا آدھا بانٹ دیا ہے ، اور جب اس تقسیم کی تفصیل بیان کی تو سورة فاتحہ کا نام لیا اور اس کی تقسیم بتائی ، پتا چلا کہ صلاۃ فاتحہ ہے ، اور فاتحہ صلاۃ ہے ، یعنی فاتحہ نماز کا ایسا رنگ ہے جو نماز کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے ، اس کا آدھا حصہ اللہ کی حمد و ثنا اور اس کی رحمت و ربوبیت اور عدل و بادشاہت کے بیان میں ہے اور آدھا حصہ دعا و مناجات پر مشتمل ہے جسے بندہ اللہ کی بارگاہ میں کرتا ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (838) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2953 ابن جریج اور مالک بن انس علاء بن عبدالرحمٰن سے علاء نے ہشام بن زہر کے آزاد کردہ غلام ابوسائب سے اور ابوسائب نے ابوہریرہ (رض) سے نبی ﷺ سے اسی جیسی حدیث روایت کی ہے - تخریج دارالدعوہ : انظر ماقبلہ (صحیح) قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (838) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2953 ابن ابی اویس نے اپنے باپ ابواویس سے اور ابواویس نے علاء بن عبدالرحمٰن سے روایت کی ہے، انہوں نے ابوہریرہ کے واسطہ سے نبی ﷺ سے اسی طرح کی حدیث روایت کی
2954
Jamiat Tirmidhiأَخْبَرَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَعْدٍ، أَنْبَأَنَا عَمْرُو بْنُ أَبِي قَيْسٍ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ حُبَيْشٍ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ (ﷺ) وَهُوَ جَالِسٌ فِي الْمَسْجِدِ، فَقَالَ الْقَوْمُ: هَذَا عَدِيُّ بْنُ حَاتِمٍ، وَجِئْتُ بِغَيْرِ أَمَانٍ وَلَا كِتَابٍ، فَلَمَّا دُفِعْتُ إِلَيْهِ أَخَذَ بِيَدِي وَقَدْ كَانَ قَالَ قَبْلَ ذَلِكَ: إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ يَجْعَلَ اللَّهُ يَدَهُ فِي يَدِي، قَالَ: فَقَامَ بِي فَلَقِيَتْهُ امْرَأَةٌ وَصَبِيٌّ مَعَهَا، فَقَالَا: إِنَّ لَنَا إِلَيْكَ حَاجَةً، فَقَامَ مَعَهُمَا حَتَّى قَضَى حَاجَتَهُمَا، ثُمَّ أَخَذَ بِيَدِي حَتَّى أَتَى بِي دَارَهُ، فَأَلْقَتْ لَهُ الْوَلِيدَةُ وِسَادَةً فَجَلَسَ عَلَيْهَا وَجَلَسْتُ بَيْنَ يَدَيْهِ، فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: مَا يُفِرُّكَ أَنْ تَقُولَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، فَهَلْ تَعْلَمُ مِنْ إِلَهٍ سِوَى اللَّهِ ؟ قَالَ: قُلْتُ: لَا، قَالَ: ثُمَّ تَكَلَّمَ سَاعَةً، ثُمَّ قَالَ: إِنَّمَا تَفِرُّ أَنْ تَقُولَ: اللَّهُ أَكْبَرُ وَتَعْلَمُ أَنَّ شَيْئًا أَكْبَرُ مِنَ اللَّهِ ؟ قَالَ: قُلْتُ: لَا، قَالَ: فَإِنَّ الْيَهُودَ مَغْضُوبٌ عَلَيْهِمْ وَإِنَّ النَّصَارَى ضُلَّالٌ، قَالَ: قُلْتُ: فَإِنِّي جِئْتُ مُسْلِمًا، قَالَ: فَرَأَيْتُ وَجْهَهُ تَبَسَّطَ فَرَحًا، قَالَ: ثُمَّ أَمَرَ بِي فَأُنْزِلْتُ عِنْدَ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ جَعَلْتُ أَغْشَاهُ آتِيهِ طَرَفَيِ النَّهَارِ، قَالَ: فَبَيْنَمَا أَنَا عِنْدَهُ عَشِيَّةً إِذْ جَاءَهُ قَوْمٌ فِي ثِيَابٍ مِنَ الصُّوفِ مِنْ هَذِهِ النِّمَارِ، قَالَ: فَصَلَّى، وَقَامَ فَحَثَّ عَلَيْهِمْ، ثُمَّ قَالَ: وَلَوْ صَاعٌ، وَلَوْ بِنِصْفِ صَاعٍ، وَلَوْ بِقَبْضَةٍ، وَلَوْ بِبَعْضِ قَبْضَةٍ يَقِي أَحَدُكُمْ وَجْهَهُ حَرَّ جَهَنَّمَ أَوِ النَّارِ، وَلَوْ بِتَمْرَةٍ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ، فَإِنَّ أَحَدَكُمْ لَاقِي اللَّهَ، وَقَائِلٌ لَهُ مَا أَقُولُ لَكُمْ: أَلَمْ أَجْعَلْ لَكَ سَمْعًا وَبَصَرًا ؟ فَيَقُولُ: بَلَى، فَيَقُولُ: أَلَمْ أَجْعَلْ لَكَ مَالًا وَوَلَدًا ؟ فَيَقُولُ: بَلَى، فَيَقُولُ: أَيْنَ مَا قَدَّمْتَ لِنَفْسِكَ ؟ فَيَنْظُرُ قُدَّامَهُ وَبَعْدَهُ وَعَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ شِمَالِهِ ثُمَّ لَا يَجِدُ شَيْئًا يَقِي بِهِ وَجْهَهُ حَرَّ جَهَنَّمَ، لِيَقِ أَحَدُكُمْ وَجْهَهُ النَّارَ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ، فَإِنْ لَمْ يَجِدْ فَبِكَلِمَةٍ طَيِّبَةٍ، فَإِنِّي لَا أَخَافُ عَلَيْكُمُ الْفَاقَةَ، فَإِنَّ اللَّهَ نَاصِرُكُمْ وَمُعْطِيكُمْ حَتَّى تَسِيرَ الظَّعِينَةُ فِيمَا بَيْنَ يَثْرِبَ وَالْحِيرَةِ أَوْ أَكْثَرَ مَا تَخَافُ عَلَى مَطِيَّتِهَا السَّرَقَ، قَالَ: فَجَعَلْتُ أَقُولُ فِي نَفْسِي فَأَيْنَ لُصُوصُ طَيِّئٍ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، وَرَوَى شُعْبَةُ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ حُبَيْشٍ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، عَنِ النَّبِيِّ (ﷺ) الْحَدِيثَ بِطُولِهِ.
عدی بن حاتم (رض) کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا۔ آپ اس وقت مسجد میں تشریف فرما تھے، لوگوں نے کہا : یہ عدی بن حاتم ہیں، میں آپ کے پاس بغیر کسی امان اور بغیر کسی تحریر کے آیا تھا، جب مجھے آپ کے پاس لایا گیا تو آپ نے میرا ہاتھ تھام لیا۔ آپ اس سے پہلے فرما چکے تھے کہ مجھے امید ہے کہ اللہ ان کا ہاتھ میرے ہاتھ میں دے گا ١ ؎۔ عدی کہتے ہیں : آپ مجھے لے کر کھڑے ہوئے، اسی اثناء میں ایک عورت ایک بچے کے ساتھ آپ سے ملنے آ گئی، ان دونوں نے عرض کیا : ہمیں آپ سے ایک ضرورت ہے۔ آپ ان دونوں کے ساتھ کھڑے ہوگئے اور ان کی ضرورت پوری فرما دی۔ پھر آپ نے میرا ہاتھ تھام لیا اور مجھے لیے اپنے گھر آ گئے۔ ایک بچی نے آپ کے لیے ایک گدا بچھا دیا، جس پر آپ بیٹھ گئے اور میں بھی آپ کے سامنے بیٹھ گیا، آپ نے اللہ کی حمد و ثنا کی، پھر فرمایا : (بتاؤ) تمہیں «لا إلہ إلا اللہ» کہنے سے کیا چیز روک رہی ہے ؟ کیا تم اللہ کے سوا کسی اور کو معبود سمجھتے ہو ؟ میں نے کہا : نہیں، آپ نے کچھ دیر باتیں کیں، پھر فرمایا : اللہ اکبر کہنے سے بھاگ رہے ہو ؟ کیا تم سمجھتے ہو کہ اللہ سے بھی بڑی کوئی چیز ہے ؟ میں نے کہا : نہیں، آپ نے فرمایا : یہود پر اللہ کا غضب نازل ہوچکا ہے اور نصاریٰ گمراہ ہیں ، اس پر وہ کہتے ہیں کہ میں نے کہا : میں تو مسلمان ہونے کا ارادہ کر کے آیا ہوں۔ وہ کہتے ہیں : میں نے دیکھا کہ آپ ﷺ کا چہرہ خوشی سے دمک اٹھا، پھر آپ نے میرے لیے حکم فرمایا : تو میں ایک انصاری صحابی کے یہاں (بطور مہمان) ٹھہرا دیا گیا، پھر میں دن کے دونوں کناروں پر یعنی صبح و شام آپ کے پاس حاضر ہونے لگا۔ ایک شام میں آپ کے پاس بیٹھا ہی ہوا تھا کہ لوگ چیتے کی سی دھاری دار گرم کپڑے پہنے ہوئے آپ کے پاس حاضر ہوئے (ان کے آنے کے بعد) آپ نے نماز پڑھی، پھر آپ نے کھڑے ہو کر تقریر فرمائی اور لوگوں کو ان پر خرچ کرنے کے لیے ابھارا۔ آپ نے فرمایا : (صدقہ) دو اگرچہ ایک صاع ہو، اگرچہ آدھا صاع ہو، اگرچہ ایک مٹھی ہو، اگرچہ ایک مٹھی سے بھی کم ہو جس کے ذریعہ سے تم میں کا کوئی بھی اپنے آپ کو جہنم کی گرمی یا جہنم سے بچا سکتا ہے۔ (تم صدقہ دو ) چاہے ایک کھجور ہی کیوں نہ ہو ؟ چاہے آدھی کھجور ہی کیوں نہ ہو ؟ کیونکہ تم میں سے ہر کوئی اللہ کے پاس پہنچنے والا ہے، اللہ اس سے وہی بات کہنے والا ہے جو میں تم سے کہہ رہا ہوں، (وہ پوچھے گا) کیا ہم نے تمہارے لیے کان اور آنکھیں نہیں بنائیں ؟ وہ کہے گا : ہاں، کیوں نہیں ! اللہ پھر کہے گا : کیا میں نے تمہیں مال اور اولاد نہ دی ؟ ، وہ کہے گا : کیوں نہیں تو نے ہمیں مال و اولاد سے نوازا۔ وہ پھر کہے گا وہ سب کچھ کہاں ہے جو تم نے اپنی ذات کی حفاظت کے لیے آگے بھیجا ہے ؟ (یہ سن کر) وہ اپنے آگے، اپنے پیچھے، اپنے دائیں بائیں (چاروں طرف) دیکھے گا، لیکن ایسی کوئی چیز نہ پائے گا جس کے ذریعہ وہ اپنے آپ کو جہنم کی گرمی سے بچا سکے۔ اس لیے تم میں سے ہر ایک کو اپنے آپ کو جہنم کی گرمی سے بچانے کی کوشش و تدبیر کرنی چاہیئے ایک کھجور ہی صدقہ کر کے کیوں نہ کرے۔ اور اگر یہ بھی نہ میسر ہو تو اچھی و بھلی بات کہہ کر ہی اپنے کو جہنم کی گرمی سے بچائے۔ مجھے اس کا خوف نہیں ہے کہ تم فقر و فاقہ کا شکار ہوجاؤ گے، کیونکہ اللہ تعالیٰ تمہارا مددگار ہے، اور تمہیں دینے والا ہے (اتنا دینے والا ہے) کہ ایک ہودج سوار عورت (تنہا) یثرب (مدینہ) سے حیرہ تک یا اس سے بھی لمبا سفر کرے گی اور اسے اپنی سواری کے چوری ہوجانے تک کا ڈر نہ ہوگا ٢ ؎ عدی (رض) کہتے ہیں : (اس وقت) میں سوچنے لگا کہ قبیلہ بنی طی کے چور کہاں چلے جائیں گے ٣ ؎؟ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث حسن غریب ہے، ٢ - ہم اسے صرف سماک بن حرب کی روایت ہی سے جانتے ہیں، ٣ - شعبہ نے سماک بن حرب سے، سماک نے، عباد بن حبیش سے، اور عباد بن حبیش نے عدی بن حاتم (رض) کے واسطہ سے نبی اکرم ﷺ سے پوری حدیث روایت کی ہے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ماقبلہ (حسن) (الصحیحة ٣٢٦٣ ) وضاحت : ١ ؎ : وہ مجھ پر ایمان لے آئیں گے اور میری اطاعت قبول کرلیں گے۔ ٢ ؎ : یعنی اس وقت اتنی مالداری آ جائے گی اور اسلامی شریعت کے نفاذ کی برکت سے چاروں طرف امن و امان ہوگا کہ کسی کو چوری کرنے کی نہ ضرورت ہوگی اور نہ ہی ہمت۔ ٣ ؎ : عدی بن حاتم (رض) قبیلہ بنی طے کے چوروں کا خیال انہیں اس لیے آیا کہ وہ خود بھی اسی قبیلہ کے تھے ، اور اسی تعلق کی بنا پر انہیں اپنے قبیلہ کے چوروں کا خیال آیا ، اس قبیلہ کے لوگ عراق اور حجاز کے درمیان آباد تھے ، ان کے قریب سے جو بھی گزرتا تھا وہ ان پر حملہ کر کے اس کا سارا سامان لوٹ لیا کرتے تھے ، اسی لیے عدی (رض) کو تعجب ہوا کہ میرے قبیلے والوں کی موجودگی میں ایک عورت تن تنہا امن و امان کے ساتھ کیسے سفر کرے گی ؟ قال الشيخ الألباني : (قول عدي بن حاتم : أتيت ... الحديث) حسن، (قول عدي بن حاتم عن النبي صلی اللہ عليه وسلم قال : اليهود مغضوب عليهم والنصاری ضلال فذکر الحديث بطوله) صحيح (قول عدي بن حاتم عن النبي صلی اللہ عليه وسلم قال : اليهود مغضوب عليهم والنصاری ضلال فذکر الحديث بطوله) تخريج الطحاوية (811) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2954
2955
Jamiat Tirmidhiحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، وَابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، ومحمد بن جعفر، وعبد الوهاب، قَالُوا: حَدَّثَنَاعَوْفُ بْنُ أَبِي جَمِيلَةَ الْأَعْرَابِيِّ، عَنْ قَسَامَةَ بْنِ زُهَيْرٍ، عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ): إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى خَلَقَ آدَمَ مِنْ قَبْضَةٍ قَبَضَهَا مِنْ جَمِيعِ الْأَرْضِ، فَجَاءَ بَنُو آدَمَ عَلَى قَدْرِ الْأَرْضِ، فَجَاءَ مِنْهُمُ الْأَحْمَرُ وَالْأَبْيَضُ وَالْأَسْوَدُ، وَبَيْنَ ذَلِكَ، وَالسَّهْلُ وَالْحَزْنُ وَالْخَبِيثُ وَالطَّيِّبُ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
ابوموسیٰ اشعری (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے ساری زمین کے ہر حصے سے ایک مٹھی مٹی لے کر اس سے آدم (علیہ السلام) کو پیدا کیا، چناچہ ان کی اولاد میں مٹی کی مناسبت سے کوئی لال، کوئی سفید، کالا اور ان کے درمیان مختلف رنگوں کے اور نرم مزاج و گرم مزاج، بد باطن و پاک طینت لوگ پیدا ہوئے ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/ السنة ١٧ (٤٦٩٣) (تحفة الأشراف : ٩٠٢٥) ، و مسند احمد (٤/٤٠٠، ٤٠٦) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : یہ حدیث سورة البقرہ کی آیت : «إني جاعل في الأرض خليفة» (البقرة : 30) کی تفسیر میں ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، المشکاة (100) ، الصحيحة (1630) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2955
2956
Jamiat Tirmidhiحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ) فِي قَوْلِهِ: ادْخُلُوا الْبَابَ سُجَّدًا سورة النساء آية 154، قَالَ: دَخَلُوا مُتَزَحِّفِينَ عَلَى أَوْرَاكِهِمْ ، أَيْ مُنْحَرِفِينَ.
ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے آیت کریمہ : «ادخلوا الباب سجدا» اور جھکے جھکے دروازہ میں داخل ہونا (البقرہ : ٥٨ ) کے بارے میں فرمایا : بنی اسرائیل چوتڑ کے بل کھسکتے ہوئے داخل ہوئے ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/أحادیث الأنبیاء ٢٨ (٣٤٠٣) ، وتفسیر البقرة ٥ (٤٤٧٩) ، وسورة الأعراف ٤ (٤٦٤١) ، صحیح مسلم/التفسیر ح ١ (٣٠١٥) (تحفة الأشراف : ١٤٦٩٧) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2956
2957
Jamiat Tirmidhiحَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا أَشْعَثُ السَّمَّانُ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ (ﷺ) فِي سَفَرِهِ فِي لَيْلَةٍ مُظْلِمَةٍ، فَلَمْ نَدْرِ أَيْنَ الْقِبْلَةُ فَصَلَّى كُلُّ رَجُلٍ مِنَّا عَلَى حِيَالِهِ، فَلَمَّا أَصْبَحْنَا ذَكَرْنَا ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ (ﷺ)، فَنَزَلَتْ: فَأَيْنَمَا تُوَلُّوا فَثَمَّ وَجْهُ اللَّهِ سورة البقرة آية 115 ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ أَشْعَثَ السَّمَّانِ أَبِي الرَّبِيعِ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، وَأَشْعَثُ يُضَعَّفُ فِي الْحَدِيثِ.
عامر بن ربیعہ (رض) کہتے ہیں کہ ہم ایک انتہائی اندھیری رات میں نبی اکرم ﷺ کے ساتھ سفر میں تھے، کوئی نہ جان سکا کہ قبلہ کدھر ہے۔ چناچہ جو جس رخ پر تھا اس نے اسی رخ پر نماز پڑھ لی، جب صبح ہوئی تو ہم نے نبی اکرم ﷺ سے اس بات کا ذکر کیا تو (اس وقت) یہ آیت «فأينما تولوا فثم وجه الله» تم جدھر بھی منہ کروا ادھر اللہ کا منہ ہے (البقرہ : ١١٥ ) نازل ہوئی۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابن ماجہ/الإقامة ٦٠ (١٠٢٠) (تحفة الأشراف : ٥٠٣٥) (حسن ) وضاحت : ١ ؎ : لیکن بہرحال یہ اضطراری حالت کے لیے ہے ، عام حالات اور معلوم ہوجانے کی صورت میں خانہ کعبہ کی طرف منہ کرنا نماز کی شرط ہے۔ قال الشيخ الألباني : حسن، ابن ماجة (1020) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2957
2958
Jamiat Tirmidhiحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ، قَال: سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍيُحَدِّثُ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ (ﷺ) يُصَلِّي عَلَى رَاحِلَتِهِ تَطَوُّعًا أَيْنَمَا تَوَجَّهَتْ بِهِ، وَهُوَ جَاءٍ مِنْ مَكَّةَ إِلَى الْمَدِينَةِ، ثُمَّ قَرَأَ ابْنُ عُمَرَ هَذِهِ الْآيَةَ وَلِلَّهِ الْمَشْرِقُ وَالْمَغْرِبُ سورة البقرة آية 115، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: فَفِي هَذَا أُنْزِلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ. وَيُرْوَى عَنْ قَتَادَةَ، أَنَّهُ قَالَ: فِي هَذِهِ الْآيَةِ وَلِلَّهِ الْمَشْرِقُ وَالْمَغْرِبُ فَأَيْنَمَا تُوَلُّوا فَثَمَّ وَجْهُ اللَّهِ سورة البقرة آية 115 قَالَ قَتَادَةُ: هِيَ مَنْسُوخَةٌ نَسَخَهَا قَوْلُهُ: فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ سورة البقرة آية 144 أَيْ تِلْقَاءَهُ، حَدَّثَنَا بِذَلِكَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ. وَيُرْوَى عَنْ مُجَاهِدٍ فِي هَذِهِ الْآيَةِ: فَأَيْنَمَا تُوَلُّوا فَثَمَّ وَجْهُ اللَّهِ سورة البقرة آية 115، قَالَ: فَثَمَّ قِبْلَةُ اللَّهِ، حَدَّثَنَا بِذَلِكَأَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ النَّضْرِ بْنِ عَرَبِيٍّ، عَنْ مُجَاهِدٍ بِهَذَا.
عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ مکہ سے مدینہ آتے ہوئے نفل نماز اپنی اونٹنی پر بیٹھے بیٹھے پڑھ رہے تھے۔ اونٹنی جدھر بھی چاہتی منہ پھیرتی ١ ؎، ابن عمر نے پھر یہ آیت «ولله المشرق والمغرب» اللہ ہی کے لیے مغرب و مشرق ہیں (البقرہ : ١١٥ ) پڑھی۔ ابن عمر کہتے ہیں : یہ آیت اسی تعلق سے نازل ہوئی ہے ٣ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - قتادہ سے مروی ہے وہ کہتے ہیں : آیت : «ولله المشرق والمغرب فأينما تولوا فثم وجه الله» (البقرة : ١١٥ ) منسوخ ہے، اور اسے منسوخ کرنے والی آیت «فول وجهك شطر المسجد الحرام» آپ اپنا منہ مسجد الحرام کی طرف پھیر لیں (البقرہ : ١٤٤ ) ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/المسافرین ٤ (٧٠٠) ، سنن النسائی/الصلاة ٢٣ (٤٩٢) ، تحفة الأشراف : ٧٠٥٧) ، و مسند احمد (٢/٢٠، ٤١) ، وراجع أیضا : صحیح البخاری/الوتر ٦ (١٠٠٠) وتقصیر الصلاة ٩ (١٠٩٨) ، ١٢ (١١٠٥) ، و سنن ابی داود/ الصلاہ ٢٧٧ (١٢٢٤) ، وسنن النسائی/الصلاة ٢٣ (٤٩١) ، والقبلة ١ (٧٤٥) (صحیح) وضاحت : ١ ؎ : معلوم ہوا کہ مسافر اپنی سواری پر نفلی نماز پڑھ سکتا ہے ، اس سواری کا رخ کسی بھی سمت ہو ، شرط یہ ہے کہ تکبیر تحریمہ کے وقت قبلہ رخ ہونا ضروری ہے اس کے بعد جہت قبلہ سے ہٹ جانے میں کوئی حرج نہیں۔ ٢ ؎ : عموماً ایسا ہوتا ہے کہ ایک آیت کے سبب نزول کے سلسلے میں کئی واقعات منقول ہوتے ہیں ، دراصل ان سب پر وہ آیت صادق آتی ہے ، یا متعدد واقعات پر وہ آیت دوبارہ نازل ہوتی ہے ، وغیرہ وغیرہ۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، صفة الصلاة صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2958 بیان کیا اسے مجھ سے محمد بن عبدالملک بن ابی الشوارب نے، وہ کہتے ہیں کہ مجھ سے بیان کیا یزید بن زریع نے اور یزید بن زریع نے سعید کے واسطہ سے قتادہ سے روایت کی۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف : ١٩٢٧٦) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح، صفة الصلاة صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2958 مجاہد سے اس آیت : «فأينما تولوا فثم وجه الله» سے متعلق مروی ہے، وہ کہتے ہیں : جدھر منہ کرو ادھر قبلہ ہے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ماقبلہ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح، صفة الصلاة صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2958
2959
Jamiat Tirmidhiحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَوْ صَلَّيْنَا خَلْفَ الْمَقَامِ، فَنَزَلَتْ وَاتَّخِذُوا مِنْ مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلًّى سورة البقرة آية 125 ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
انس (رض) سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب (رض) نے کہا : اللہ کے رسول ! کاش ہم مقام (مقام ابراہیم) کے پیچھے نماز پڑھتے، تو آیت : «واتخذوا من مقام إبراهيم مصلی» تم مقام ابراہیم کو جائے صلاۃ مقرر کرلو (البقرہ : ١٢٥ ) نازل ہوئی ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الصلاة ٣٢ (٤٠٢) ، وتفسیر البقرة ٩ (٤٤٨٣) ، سنن ابن ماجہ/الإقامة ٥٦ (١٠٠٩) (تحفة الأشراف : ١٠٤٠٩) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : اور یہ حکم طواف کے بعد کی دو رکعتوں کے سلسلے میں ہے ، لیکن طواف میں اگر بھیڑ بہت زیادہ ہو تو حرم میں جہاں بھی جگہ ملے یہ دو رکعتیں پڑھی جاسکتی ہیں ، کوئی حرج نہیں ہے۔ ٢ ؎ : مقام ابراہیم سے مراد وہ پتھر ہے جس پر ابراہیم (علیہ السلام) نے کھڑے ہو کر خانہ کعبہ کی تعمیر کی تھی۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2959