Jamiat Tirmidhi
6. سفرکا بیان
جامع الترمذي
544
Jamiat Tirmidhiحَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الْحَكَمِ الْوَرَّاقُ الْبَغْدَادِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: سَافَرْتُ مَعَ النَّبِيِّ (ﷺ) وَأَبِي بَكْرٍ، وَعُمَرَ، وَعُثْمَانَ فَكَانُوا يُصَلُّونَ الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ لَا يُصَلُّونَ قَبْلَهَا وَلَا بَعْدَهَا . وقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: لَوْ كُنْتُ مُصَلِّيًا قَبْلَهَا أَوْ بَعْدَهَا لَأَتْمَمْتُهَا، قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ عُمَرَ، وَعَلِيٍّ، وَابْنِ عَبَّاسٍ، وَأَنَسٍ، وَعِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، وَعَائِشَةَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ ابْنِ عُمَرَ حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ. لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ يَحْيَى بْنِ سُلَيْمٍ مِثْلَ هَذَا. قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل: وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ آلِ سُرَاقَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: وَقَدْ رُوِيَ عَنْ عَطِيَّةَ الْعَوْفِيِّ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ النَّبِيَّ (ﷺ) كَانَ يَتَطَوَّعُ فِي السَّفَرِ قَبْلَ الصَّلَاةِ وَبَعْدَهَا وَقَدْ صَحَّ عَنِ النَّبِيِّ (ﷺ)، أَنَّهُ كَانَ يَقْصُرُ فِي السَّفَرِ وَأَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ، وَعُثْمَانُ صَدْرًا مِنْ خِلَافَتِهِ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَكْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ (ﷺ) وَغَيْرِهِمْ، وَقَدْ رُوِيَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا كَانَتْ تُتِمُّ الصَّلَاةَ فِي السَّفَرِ وَالْعَمَلُ عَلَى مَا رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ (ﷺ) وَأَصْحَابِهِ. وَهُوَ قَوْلُ الشَّافِعِيِّ، وَأَحْمَدَ، وَإِسْحَاق. إِلَّا أَنَّ الشَّافِعِيَّ يَقُولُ: التَّقْصِيرُ رُخْصَةٌ لَهُ فِي السَّفَرِ فَإِنْ أَتَمَّ الصَّلَاةَ أَجْزَأَ عَنْهُ.
عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ ، ابوبکر، عمر اور عثمان (رض) کے ساتھ سفر کیا، یہ لوگ ظہر اور عصر دو دو رکعت پڑھتے تھے۔ نہ اس سے پہلے کوئی نماز پڑھتے اور نہ اس کے بعد۔ عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں : اگر میں اس سے پہلے یا اس کے بعد (سنت) نماز پڑھتا تو میں انہی (فرائض) کو پوری پڑھتا۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- ابن عمر (رض) کی حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے اس طرح یحییٰ بن سلیم ہی کی روایت سے جانتے ہیں، ٢- محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں : یہ حدیث بطریق : «عن عبيد اللہ بن عمر عن رجل من آل سراقة عن عبد اللہ بن عمر» بھی مروی ہے، ٣- اور عطیہ عوفی ابن عمر سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ سفر میں نماز سے پہلے اور اس کے بعد نفل پڑھتے تھے ١ ؎، ٤- اس باب میں عمر، علی، ابن عباس، انس، عمران بن حصین اور عائشہ (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں، ٥- نبی اکرم ﷺ سے یہ بھی ثابت ہے کہ آپ اور ابوبکر و عمر (رض) سفر میں قصر کرتے تھے اور عثمان (رض) بھی اپنی خلافت کے شروع میں قصر کرتے تھے، ٦- صحابہ کرام وغیرہم میں سے اکثر اہل علم کا عمل اسی پر ہے، ٧- اور عائشہ سے مروی ہے کہ وہ سفر میں نماز پوری پڑھتی تھیں ٢ ؎، ٨- اور عمل اسی پر ہے جو نبی اکرم ﷺ اور صحابہ کرام سے مروی ہے، یہی شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا قول ہے، البتہ شافعی کہتے ہیں کہ سفر میں قصر کرنا رخصت ہے، اگر کوئی پوری نماز پڑھ لے تو جائز ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ٨٢٢٣) (صحیح) وضاحت : ١ ؎ : یہ حدیث ٥٥١ پر مولف کے یہاں آرہی ہے ، اور ضعیف و منکر ہے۔ ٢ ؎ : یہ صحیح بخاری کی روایت ہے ، اور بیہقی کی روایت ہے کہ انہوں نے سبب یہ بیان کیا کہ پوری پڑھنی میرے لیے شاق نہیں ہے ، گویا سفر میں قصر رخصت ہے اور اتمام جائز ہے ، اور یہی راجح قول ہے۔ رخصت کے اختیار میں سنت پر عمل اور اللہ کی رضا حاصل ہوتے ہیں۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (1071) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 544
545
Jamiat Tirmidhiحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ الْقُرَشِيُّ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، قَالَ: سُئِلَ عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ عَنْ صَلَاةِ الْمُسَافِرِ، فَقَالَ: حَجَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ (ﷺ) فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، وَحَجَجْتُ مَعَ أَبِي بَكْرٍ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، وَمَعَ عُمَرَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، وَمَعَ عُثْمَانَ سِتَّ سِنِينَ مِنْ خِلَافَتِهِ أَوْ ثَمَانِيَ ثَمَانِي فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ.
ابونضرہ سے روایت ہے کہ عمران بن حصین (رض) سے مسافر کی نماز کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا : میں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ حج کیا تو آپ نے دو ہی رکعتیں پڑھیں، اور میں نے ابوبکر (رض) کے ساتھ حج کیا تو انہوں نے بھی دو ہی رکعتیں پڑھیں، اور عمر (رض) کے ساتھ کیا تو انہوں نے بھی دو ہی رکعتیں پڑھیں، اور عثمان (رض) کے ساتھ ان کی خلافت کے ابتدائی چھ یا آٹھ سالوں میں کیا تو انہوں نے بھی دو ہی رکعتیں پڑھیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث صحیح ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف بہذا السیاق، وأخرج أبوداود (الصلاة ٢٧٩/رقم ١٢٢٩) بہذا السند أیضا لکنہ بسیاق آخر ( تحفة الأشراف : ١٠٨٦٢) (صحیح) (سند میں علی بن زید بن جدعان ضعیف راوی ہیں، لیکن سابقہ حدیث سے تقویت پا کر یہ حدیث صحیح ہے) قال الشيخ الألباني : صحيح بما قبله صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 545
546
Jamiat Tirmidhiحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، وَإِبْرَاهِيمَ بْنِ مَيْسَرَةَ، سمعا أنس بن مالك، قَالَ: صَلَّيْنَا مَعَ النَّبِيِّ (ﷺ) الظُّهْرَ بِالْمَدِينَةِ أَرْبَعًا وَبِذِي الْحُلَيْفَةِ الْعَصْرَ رَكْعَتَيْنِ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
انس بن مالک (رض) کہتے ہیں کہ ہم نے نبی اکرم ﷺ کے ساتھ مدینہ میں چار رکعتیں پڑھیں ١ ؎ اور ذی الحلیفہ ٢ ؎ میں دو رکعتیں پڑھیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/تقصیر الصلاة ٥ (١٠٨٩) ، والحج ٢٤ (١٥٥٦) ، و ٢٥ (١٥٤٨) ، و ١١٩ (١٧١٤) ، والجہاد ١٠٤ (٢٩٥١) ، صحیح مسلم/المسافرین ١ (٦٩٠) ، سنن ابی داود/ الصلاة ٢٧١ (١٢٠٢) ، والحج ٢١ (١٧٧٣) ، سنن النسائی/الصلاة ١١ (٤٧٠) ، و ١٧ (٤٧٨) ، ( تحفة الأشراف : ١٥٧٣١٦٦) ، مسند احمد (٣/١١٠، ١١١، ١٧٧، ١٨٦، ٢٣٧، ٢٦٨، ٣٧٨) ، سنن الدارمی/الصلاة ١٧٩ (١٥٤٨) (صحیح) وضاحت : ١ ؎ : جب حج کے لیے مدینہ سے نکلے تو مسجد نبوی میں چار پڑھی ، جب مدینہ سے نکل کر ذوالحلیفہ میقات پر پہنچے تو وہاں دو قصر کر کے پڑھی۔ ٢ ؎ : ذوالحلیفہ : مدینہ سے جنوب میں مکہ کے راستہ میں لگ بھگ دس کیلو میٹر پر واقع ہے ، یہ اہل مدینہ کی میقات ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، صحيح أبي داود (1085) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 546
547
Jamiat Tirmidhiحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ مَنْصُورِ بْنِ زَاذَانَ، عَنْ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ النَّبِيَّ (ﷺ) خَرَجَ مِنْ الْمَدِينَةِ إِلَى مَكَّةَ لَا يَخَافُ إِلَّا اللَّهَ رَبَّ الْعَالَمِينَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
عبداللہ بن عباس (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ مدینہ سے مکہ کے لیے نکلے، آپ کو سوائے اللہ رب العالمین کے کسی کا خوف نہ تھا۔ (اس کے باوجود) آپ نے دو ہی رکعتیں پڑھیں ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن النسائی/تقصیر الصلاة ١ (١٤٣٦) ، ( تحفة الأشراف : ٦٤٣٦) ، مسند احمد (١/٢١٥، ٢٣٦، ٢٤٥، ٢٦٢) (صحیح) وضاحت : ١ ؎ : عبداللہ بن عباس (رض) اس سے یہ بتانا چاہتے ہیں کہ سفر میں قصر خوف کی وجہ سے نہیں ہے ، جیسا کہ بعض لوگ سمجھتے ہیں ، سفر خواہ کیسا بھی پرامن ہو اس میں قصر رخصت ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، الإرواء (3 / 6) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 547
548
Jamiat Tirmidhiحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي إِسْحَاق الْحَضْرَمِيُّ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ (ﷺ) مِنْ الْمَدِينَةِ إِلَى مَكَّةَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ. قَالَ: قُلْتُ لِأَنَسٍ: كَمْ أَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ) بِمَكَّةَ ؟ قَالَ: عَشْرًا. قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَجَابِرٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ أَنَسٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ. وَقَدْ رُوِيَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ (ﷺ) أَنَّهُ أَقَامَ فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ تِسْعَ عَشْرَةَ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: فَنَحْنُ إِذَا أَقَمْنَا مَا بَيْنَنَا وَبَيْنَ تِسْعَ عَشْرَةَ صَلَّيْنَا رَكْعَتَيْنِ، وَإِنْ زِدْنَا عَلَى ذَلِكَ أَتْمَمْنَا الصَّلَاةَ، وَرُوِي عَنْ عَلِيٍّ، أَنَّهُ قَالَ: مَنْ أَقَامَ عَشْرَةَ أَيَّامٍ أَتَمَّ الصَّلَاةَ. وَرُوِي عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ قَالَ: مَنْ أَقَامَ خَمْسَةَ عَشَرَ يَوْمًا أَتَمَّ الصَّلَاةَ، وَقَدْ رُوِيَ عَنْهُ ثِنْتَيْ عَشْرَةَ، وَرُوِي عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، أَنَّهُ قَالَ: إِذَا أَقَامَ أَرْبَعًا صَلَّى أَرْبَعًا، وَرَوَى عَنْهُ ذَلِكَ قَتَادَةُ، وَعَطَاءٌ الْخُرَاسَانِيُّ، وَرَوَى عَنْهُ دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ خِلَافَ هَذَا، وَاخْتَلَفَ أَهْلُ الْعِلْمِ بَعْدُ فِي ذَلِكَ، فَأَمَّا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ وَأَهْلُ الْكُوفَةِ فَذَهَبُوا إِلَى تَوْقِيتِ خَمْسَ عَشْرَةَ، وَقَالُوا: إِذَا أَجْمَعَ عَلَى إِقَامَةِ خَمْسَ عَشْرَةَ أَتَمَّ الصَّلَاةَ. وقَالَ الْأَوْزَاعِيُّ: إِذَا أَجْمَعَ عَلَى إِقَامَةِ ثِنْتَيْ عَشْرَةَ أَتَمَّ الصَّلَاةَ، وقَالَ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، وَالشَّافِعِيُّ، وَأَحْمَدُ: إِذَا أَجْمَعَ عَلَى إِقَامَةِ أَرْبَعَةٍ أَتَمَّ الصَّلَاةَ. وَأَمَّا إِسْحَاق فَرَأَى أَقْوَى الْمَذَاهِبِ فِيهِ حَدِيثَ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: لِأَنَّهُ رَوَى عَنِ النَّبِيِّ (ﷺ)، ثُمَّ تَأَوَّلَهُ بَعْدَ النَّبِيِّ (ﷺ) إِذَا أَجْمَعَ عَلَى إِقَامَةِ تِسْعَ عَشْرَةَ أَتَمَّ الصَّلَاةَ، ثُمَّ أَجْمَعَ أَهْلُ الْعِلْمِ عَلَى أَنَّ الْمُسَافِرَ يَقْصُرُ مَا لَمْ يُجْمِعْ إِقَامَةً وَإِنْ أَتَى عَلَيْهِ سِنُونَ.
انس بن مالک (رض) کہتے ہیں کہ ہم نبی اکرم ﷺ کے ساتھ مدینہ سے مکہ کے لیے نکلے۔ آپ نے دو رکعتیں پڑھیں، یحییٰ بن ابی اسحاق کہتے ہیں کہ میں نے انس (رض) سے پوچھا : رسول اللہ ﷺ مکہ میں کتنے دن رہے، انہوں نے کہا دس دن ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- انس (رض) کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں ابن عباس اور جابر (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣- اور ابن عباس (رض) نے نبی اکرم ﷺ سے روایت کی ہے کہ آپ اپنے سفر میں انیس دن ٹھہرے اور دو رکعتیں ادا کرتے رہے۔ ابن عباس کہتے ہیں، چناچہ جب ہم انیس دن یا اس سے کم ٹھہرتے تو دو رکعتیں پڑھتے۔ اور اگر اس سے زیادہ ٹھہرتے تو پوری پڑھتے، ٤- علی (رض) سے مروی ہے کہ انہوں نے کہا : جو دس دن ٹھہرے وہ پوری نماز پڑھے، ٥- ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ انہوں نے کہا : جو پندرہ دن قیام کرے وہ پوری نماز پڑھے۔ اور ان سے بارہ دن کا قول بھی مروی ہے، ٦- سعید بن مسیب سے مروی ہے کہ انہوں نے کہا : جب چار دن قیام کرے تو چار رکعت پڑھے۔ ان سے اسے قتادہ اور عطا خراسانی نے روایت کیا ہے، اور داود بن ابی ہند نے ان سے اس کے خلاف روایت کیا ہے، ٧- اس کے بعد اس مسئلہ میں اہل علم میں اختلاف ہوگیا۔ سفیان ثوری اور اہل کوفہ پندرہ دن کی تحدید کی طرف گئے اور ان لوگوں نے کہا کہ جب وہ پندرہ دن ٹھہرنے کی نیت کرلے تو پوری نماز پڑھے، ٨- اوزاعی کہتے ہیں : جب وہ بارہ دن ٹھہرنے کی نیت کرے تو نماز پوری پڑھے، ٩- مالک بن انس، شافعی، اور احمد کہتے ہیں : جب چار دن ٹھہرنے کی نیت کرے تو نماز پوری پڑھے، ١٠- اور اسحاق بن راہویہ کی رائے ہے کہ سب سے قوی مذہب ابن عباس کی حدیث ہے، اس لیے کہ انہوں نے نبی اکرم ﷺ سے روایت کی ہے، پھر یہ کہ نبی اکرم ﷺ کے بعد وہ اس پر عمل پیرا رہے جب وہ انیس دن ٹھہرتے تو نماز پوری پڑھتے۔ پھر اہل علم کا اجماع اس بات پر ہوگیا کہ مسافر جب تک قیام کی نیت نہ کرے وہ قصر کرتا رہے، اگرچہ اس پر کئی سال گزر جائیں ٢ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/تقصیر الصلاة ١ (١٠٨١) ، والمغازي ٥٢ (٤٢٩٩) ، صحیح مسلم/المسافرین ١ (٦٩٣) ، سنن ابی داود/ الصلاة ٢٧٩ (١٢٣٣) ، سنن النسائی/تقصیر الصلاة ١ (١٤٣٩) ، و ٤ (١٤٥٣) ، سنن ابن ماجہ/الإقامة ٧٦ (١٠٧٧) ، ( تحفة الأشراف : ١٦٥٢) ، مسند احمد (٣/١٨١، ١٩٠) ، سنن الدارمی/الصلاة ١٨٠، ١٥٥٠) (صحیح) وضاحت : ١ ؎ : یہ حجۃ الوداع کے موقع کی بات ہے ، آپ اس موقع سے ٤ ذی الحجہ کی صبح مکہ میں داخل ہوئے ، ٨ کو منی کو نکل گئے ، پھر ١٤ کو طواف وداع کے بعد مدینہ روانہ ہوئے یہ کل دس دن ہوئے ، مگر ان دس دنوں میں مستقل طور پر آپ صرف ٤ دن مکہ میں رہے ، باقی دنوں میں ادھر ادھر منتقل ہی ہوتے رہے ، اس لیے امام شافعی وغیرہ نے یہ استدلال کیا ہے جب ٤ دنوں کی اقامت کی نیت کرلے تب پوری نماز پڑھے۔ ٢ ؎ : حجۃ الوداع ، فتح مکہ ، یا جنگ پر موک میں یہی ہوا تھا ، اس لیے آپ نے ١٧ ، ١٨ دنوں یا دس دنوں تک قصر کیا ، اس لیے امام شافعی وغیرہ کا خیال ہی راجح ہے کہ ٤ دنوں سے زیادہ اقامت کی اگر نیت بن جائے تو قصر نہ کرے ، مہاجرین کو عمرہ میں تین دنوں سے زیادہ نہ ٹھہرنے کے حکم میں بھی یہی حکمت پوشیدہ تھی کہ وہ چوتھے دن مقیم ہوجاتے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (1077) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 548
549
Jamiat Tirmidhiحَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: سَافَرَ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ) سَفَرًا فَصَلَّى تِسْعَةَ عَشَرَ يَوْمًا رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ . قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: فَنَحْنُ نُصَلِّي فِيمَا بَيْنَنَا وَبَيْنَ تِسْعَ عَشْرَةَ رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ، فَإِذَا أَقَمْنَا أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ صَلَّيْنَا أَرْبَعًا. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے سفر کیا، تو آپ نے انیس دن تک دو دو رکعتیں پڑھیں ١ ؎، ابن عباس کہتے ہیں : تو ہم لوگ بھی انیس یا اس سے کم دنوں (کے سفر) میں دو دو رکعتیں پڑھتے تھے۔ اور جب ہم اس سے زیادہ قیام کرتے تو چار رکعت پڑھتے۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث غریب حسن صحیح ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/تقصیر الصلاة ١ (١٠٨٠) ، والمغازی ٥٢ (٤٢٩٨) ، سنن ابی داود/ الصلاة ٢٧٩ (١٢٣٠) ، (بلفظ ” سبعة عشر “ وشاذ) ، سنن ابن ماجہ/الإقامة ٧٦ (١٠٧٥) ، ( تحفة الأشراف : ٦١٣٤) (صحیح) وضاحت : ١ ؎ : یہ فتح مکہ کا واقعہ ہے ، اس موقع پر نبی اکرم ﷺ نے مکہ میں کتنے دن قیام کیا اس سلسلہ میں روایتیں مختلف ہیں ، بخاری کی روایت میں انیس دن کا ذکر ہے اور ابوداؤد کی ایک روایت میں اٹھارہ اور دوسری میں سترہ دن کا ذکر ہے ، تطبیق اس طرح دی جاتی ہے کہ جس نے دخول اور خروج کے دنوں کو شمار نہیں کیا اس نے سترہ کی روایت کی ہے ، جس نے دخول کا شمار کیا خروج کا نہیں یا خروج کا شمار کیا اور دخول کا نہیں اس نے اٹھارہ کی روایت کی ہے ، رہی پندرہ دن والی روایت تو یہ شاذ ہے اور اگر اسے صحیح مان لیا جائے تو یہ کہا جاسکتا ہے کہ راوی نے سمجھا کہ اصل ١٧ دن پھر اس میں سے دخول اور خروج کو خارج کر کے ١٥ دن کی روایت ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (1075) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 549
550
Jamiat Tirmidhiحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ، عَنْ أَبِي بُسْرَةَ الْغِفَارِيِّ، عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، قَالَ: صَحِبْتُ رَسُولَ اللَّهِ (ﷺ) ثَمَانِيَةَ عَشَرَ شَهْرَا فَمَا رَأَيْتُهُ تَرَكَ الرَّكْعَتَيْنِ إِذَا زَاغَتِ الشَّمْسُ قَبْلَ الظُّهْرِ . قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ ابْنِ عُمَرَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ الْبَرَاءِ حَدِيثٌ غَرِيبٌ، قَالَ: وَسَأَلْتُ مُحَمَّدًا عَنْهُ فَلَمْ يَعْرِفْهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ، وَلَمْ يَعْرِفْ اسْمَ أَبِي بُسْرَةَ الْغِفَارِيِّ وَرَآهُ حَسَنًا، وَرُوِي عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ النَّبِيَّ (ﷺ) كَانَ لَا يَتَطَوَّعُ فِي السَّفَرِ قَبْلَ الصَّلَاةِ وَلَا بَعْدَهَا وَرُوِيَ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ (ﷺ) أَنَّهُ كَانَ يَتَطَوَّعُ فِي السَّفَرِ ثُمَّ اخْتَلَفَ أَهْلُ الْعِلْمِ بَعْدَ النَّبِيِّ (ﷺ)، فَرَأَى بَعْضُ أَصْحَابِ النَّبِيِّ (ﷺ) أَنْ يَتَطَوَّعَ الرَّجُلُ فِي السَّفَرِ، وَبِهِ يَقُولُ: أَحْمَدُ، وَإِسْحَاق، وَلَمْ تَرَ طَائِفَةٌ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ أَنْ يُصَلَّى قَبْلَهَا وَلَا بَعْدَهَا، وَمَعْنَى مَنْ لَمْ يَتَطَوَّعْ فِي السَّفَرِ قَبُولُ الرُّخْصَةِ وَمَنْ تَطَوَّعَ فَلَهُ فِي ذَلِكَ فَضْلٌ كَثِيرٌ، وَهُوَ قَوْلُ أَكْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ يَخْتَارُونَ التَّطَوُّعَ فِي السَّفَرِ.
براء بن عازب (رض) کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ اٹھارہ مہینے رہا۔ لیکن میں نے سورج ڈھلنے کے بعد ظہر سے پہلے کی دونوں رکعتیں کبھی بھی آپ کو چھوڑتے نہیں دیکھا۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- براء (رض) کی حدیث غریب ہے، ٢- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری سے اس کے بارے میں پوچھا تو وہ اسے صرف لیث بن سعد ہی کی روایت سے جان سکے اور وہ ابوبسرہ غفاری کا نام نہیں جان سکے اور انہوں نے اسے حسن جانا ١ ؎، ٣- اس باب میں ابن عمر (رض) سے بھی روایت ہے، ٤- ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ نبی اکرم ﷺ سفر میں نہ نماز سے پہلے نفل پڑھتے تھے اور نہ اس کے بعد ٢ ؎، ٥- اور ابن عمر (رض) ہی سے مروی ہے وہ نبی اکرم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ سفر میں نفل پڑھتے تھے ٣ ؎، ٦- پھر نبی اکرم ﷺ کے بعد اہل علم میں اختلاف ہوگیا، بعض صحابہ کرام کی رائے ہوئی کہ آدمی نفل پڑھے، یہی احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی کہتے ہیں، ٧- اہل علم کے ایک گروہ کی رائے نہ نماز سے پہلے کوئی نفل پڑھنے کی ہے اور نہ نماز کے بعد۔ سفر میں جو لوگ نفل نہیں پڑھتے ہیں ان کا مقصود رخصت کو قبول کرنا ہے اور جو نفل پڑھے تو اس کی بڑی فضیلت ہے۔ یہی اکثر اہل علم کا قول ہے وہ سفر میں نفل پڑھنے کو پسند کرتے ہیں ٤ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/ الصلاة ٢٧٦ (١٢٢٢) (تحفة الأشراف : ١٩٢٤) (ضعیف) (اس کے راوی ” ابوبُسرہ الغفاری “ لین الحدیث ہیں) وضاحت : ١ ؎ : دیگر سارے لوگوں نے ان کو مجہول قرار دیا ہے ، اور مجہول کی روایت ضعیف ہوتی ہے۔ ٢ ؎ یہ صحیح بخاری کی روایت ہے۔ ٣ ؎ : اس بابت سب سے صحیح اور واضح حدیث ابن عمر کی ہے ، جو رقم ٥٤٤ پر گزری ، ابن عمر (رض) کی دلیل نقلی بھی ہے اور عقلی بھی کہ ایک تو رسول اللہ ﷺ اور ابوبکر و عمر (رض) سنت راتبہ نہیں پڑھتے تھے ، دوسرے اگر سنت راتبہ پڑھنی ہوتی تو اصل فرض میں کمی کرنے کا جو مقصد ہے وہ فوت ہوجاتا ، اگر سنت راتبہ پڑھنی ہو تو فرائض میں کمی کا کیا معنی ؟ رہی آپ ﷺ کے بعض اسفار میں چاشت وغیرہ پڑھنے کی بات ، تو بوقت فرصت عام نوافل کے سب قائل ہیں۔ ٤ ؎ : عام نوافل پڑھنے کے تو سب قائل ہیں مگر سنن راتبہ والی احادیث سنداً کمزور ہیں۔ قال الشيخ الألباني : ضعيف، ضعيف أبي داود (222) // عندنا برقم (263 / 1222) // صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 550
551
Jamiat Tirmidhiحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنْ الْحَجَّاجِ، عَنْ عَطِيَّةَ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ (ﷺ) الظُّهْرَ فِي السَّفَرِ رَكْعَتَيْنِ وَبَعْدَهَا رَكْعَتَيْنِ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ، وَقَدْ رَوَاهُ ابْنُ أَبِي لَيْلَى، عَنْ عَطِيَّةَ، وَنَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ.
عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کے ساتھ سفر میں ظہر کی دو رکعتیں پڑھیں اور اس کے بعد دو رکعں یی۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- یہ حدیث حسن ہے، ٢- ابن ابی لیلیٰ نے یہ حدیث عطیہ اور نافع سے روایت کی ہے اور ان دونوں نے ابن عمر (رض) سے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ٧٣٣٦) (ضعیف الإسناد، منکر المتن، لمخالفة حدیث رقم : ٥٤٤) (اس کے راوی ” عطیہ عوفی “ ضعیف ہیں) قال الشيخ الألباني : ضعيف الإسناد - منکر المتن لمخالفته لحديثه المتقدم (542) وغيره // صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 551
552
Jamiat Tirmidhiحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْمُحَارِبِيُّ يَعْنِي الْكُوفِيَّ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ هَاشِمٍ، عَنْ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ عَطِيَّةَ، وَنَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ (ﷺ) فِي الْحَضَرِ وَالسَّفَرِ، فَصَلَّيْتُ مَعَهُ فِي الْحَضَرِ الظُّهْرَ أَرْبَعًا وَبَعْدَهَا رَكْعَتَيْنِ، وَصَلَّيْتُ مَعَهُ فِي السَّفَرِ الظُّهْرَ رَكْعَتَيْنِ، وَبَعْدَهَا رَكْعَتَيْنِ وَالْعَصْرَ رَكْعَتَيْنِ وَلَمْ يُصَلِّ بَعْدَهَا شَيْئًا، وَالْمَغْرِبَ فِي الْحَضَرِ وَالسَّفَرِ سَوَاءً ثَلَاثَ رَكَعَاتٍ لَا تَنْقُصُ فِي الْحَضَرِ وَلَا فِي السَّفَرِ هِيَ وِتْرُ النَّهَارِ وَبَعْدَهَا رَكْعَتَيْنِ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ. سَمِعْت مُحَمَّدًا، يَقُولُ: مَا رَوَى ابْنُ أَبِي لَيْلَى حَدِيثًا أَعْجَبَ إِلَيَّ مِنْ هَذَا، وَلَا أَرْوِي عَنْهُ شَيْئًا.
عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ میں نے حضر اور سفر دونوں میں نبی اکرم ﷺ کے ساتھ نماز پڑھی، میں نے آپ کے ساتھ حضر میں ظہر کی چار رکعتیں پڑھیں، اور اس کے بعد دو رکعتیں، اور سفر میں آپ کے ساتھ ظہر کی دو رکعتیں پڑھیں اور اس کے بعد دو رکعتیں اور عصر کی دو رکعتیں، اور اس کے بعد کوئی چیز نہیں پڑھی۔ اور مغرب کی سفر و حضر دونوں ہی میں تین رکعتیں پڑھیں۔ نہ حضر میں کوئی کمی کی نہ سفر میں، یہ دن کی وتر ہے اور اس کے بعد دو رکعتیں پڑھیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- یہ حدیث حسن ہے، ٢- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو کہتے سنا کہ ابن ابی لیلیٰ نے کوئی ایسی حدیث روایت نہیں کی جو میرے نزدیک اس سے زیادہ تعجب خیز ہو، میں ان کی کوئی روایت نہیں لیتا۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ٧٣٣٧ و ٨٤٢٨) (ضعیف الإسناد، منکر المتن) (اس کے راوی ” محمد بن عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ “ ضعیف ہیں، اور یہ حدیث صحیح احادیث کے خلاف ہے) قال الشيخ الألباني : ضعيف الإسناد، منکر المتن انظر ما قبله (551) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 552
553
Jamiat Tirmidhiحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ هُوَ عَامِرُ بْنُ وَاثِلَةَ، عَنْمُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، أَنّ النَّبِيَّ (ﷺ) كَانَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ إِذَا ارْتَحَلَ قَبْلَ زَيْغِ الشَّمْسِ أَخَّرَ الظُّهْرَ إِلَى أَنْ يَجْمَعَهَا إِلَى الْعَصْرِ فَيُصَلِّيَهُمَا جَمِيعًا، وَإِذَا ارْتَحَلَ بَعْدَ زَيْغِ الشَّمْسِ عَجَّلَ الْعَصْرَ إِلَى الظُّهْرِ وَصَلَّى الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ جَمِيعًا ثُمَّ سَارَ، وَكَانَ إِذَا ارْتَحَلَ قَبْلَ الْمَغْرِبِ أَخَّرَ الْمَغْرِبَ حَتَّى يُصَلِّيَهَا مَعَ الْعِشَاءِ، وَإِذَا ارْتَحَلَ بَعْدَ الْمَغْرِبِ عَجَّلَ الْعِشَاءَ فَصَلَّاهَا مَعَ الْمَغْرِبِ . قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ عَلِيٍّ، وَابْنِ عُمَرَ، وَأَنَسٍ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، وَعَائِشَةَ، وَابْنِ عَبَّاسٍ، وَأُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، وَجَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ. قَالَ أَبُو عِيسَى: وَالصَّحِيحُ عَنْ أُسَامَةَ، وَرَوَى عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، عَنْ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، عَنْ قُتَيْبَةَ هَذَا الْحَدِيثَ. حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا اللُّؤْلُئِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الْأَعْيَنُ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، حَدَّثَنَاأَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، بِهَذَا الْحَدِيثِ يَعْنِي حَدِيثَ مُعَاذٍ، وَحَدِيثُ مُعَاذٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ تَفَرَّدَ بِهِ قُتَيْبَةُ، لَا نَعْرِفُ أَحَدًا رَوَاهُ، عَنْ اللَّيْثِ غَيْرَهُ وَحَدِيثُ اللَّيْثِ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ، عَنْ مُعَاذٍ حَدِيثٌ غَرِيبٌ، وَالْمَعْرُوفُ عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ حَدِيثُ مُعَاذٍ مِنْ حَدِيثِ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ، عَنْ مُعَاذٍ، أَنّ النَّبِيَّ (ﷺ) جَمَعَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ وَبَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ . رَوَاهُ قُرَّةُ بْنُ خَالِدٍ، وَسُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، ومالك، وغير واحد، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ الْمَكِّيِّ. وَبِهَذَا الْحَدِيثِ يَقُولُ الشَّافِعِيُّ، وَأَحْمَدُ، وَإِسْحَاق، يقولان: لا بأس أن يجمع بين الصلاتين في السفر في وقت إحداهما.
معاذ بن جبل (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ غزوہ تبوک میں جب سورج ڈھلنے سے پہلے کوچ کرتے تو ظہر کو مؤخر کرتے یہاں تک کہ اسے عصر کے ساتھ ملا دیتے اور دونوں کو ایک ساتھ پڑھتے، اور جب سورج ڈھلنے کے بعد کوچ کرتے تو عصر کو پہلے کر کے ظہر سے ملا دیتے اور ظہر اور عصر کو ایک ساتھ پڑھتے پھر روانہ ہوتے۔ اور جب مغرب سے پہلے کوچ فرماتے تو مغرب کو مؤخر کرتے یہاں تک کہ اسے عشاء کے ساتھ ملا کر پڑھتے، اور جب مغرب کے بعد کوچ فرماتے تو عشاء کو پہلے کر کے مغرب کے ساتھ ملا کر پڑھتے۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- اور صحیح یہ ہے کہ اسامہ سے مروی ہے، ٢- نیز یہ حدیث علی بن مدینی نے احمد بن حنبل سے اور احمد بن حنبل نے قتیبہ سے روایت کی ہے ١ ؎، ٣- اس باب میں علی، ابن عمر، انس، عبداللہ بن عمرو، عائشہ، ابن عباس، اسامہ بن زید اور جابر بن عبداللہ (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/المسافرین ٦ (٧٠٦) ، سنن ابی داود/ الصلاة ٢٧٤ (١٢٠٦، ١٢٢٠) ، سنن ابن ماجہ/الإقامة ٧٤ (١٠٧٠) ، ( تحفة الأشراف : ١١٣٢٠) ، موطا امام مالک/قصر الصلاة ١ (٢) ، مسند احمد (٥/٢٢٩، ٢٣٠، ٢٣٣، ٢٣٦، ٢٣٧، ٢٤١) ، سنن الدارمی/الصلاة ١٨٢ (١٥٥٦) (صحیح) وضاحت : ١ ؎ : جو آگے آرہی ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، صحيح أبي داود (1106) ، الإرواء (578) ، التعليقات الجياد صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 553 اس سند سے بھی قتیبہ سے یہ حدیث یعنی معاذ (رض) کی حدیث مروی ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- معاذ (رض) کی حدیث حسن غریب ہے، ٢- قتیبہ اسے روایت کرنے میں منفرد ہیں ہم ان کے علاوہ کسی کو نہیں جانتے جس نے اسے لیث سے روایت کیا ہو، ٣- لیث کی حدیث جسے انہوں نے یزید بن ابی حبیب سے، اور یزید نے ابوالطفیل سے اور ابوالطفیل نے معاذ سے روایت کی ہے غریب ہے، ٤- اہل علم کے نزدیک معروف معاذ کی (وہ) حدیث ہے جسے ابو الزبیر نے ابوالطفیل سے اور ابوالطفیل نے معاذ سے روایت کی ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے غزوہ تبوک میں ظہر اور عصر کو ایک ساتھ اور مغرب و عشاء کو ایک ساتھ جمع کیا ١ ؎، ٥- اسے قرہ بن خالد، سفیان ثوری، مالک اور دیگر کئی لوگوں نے بھی ابوالزبیر مکی سے روایت کیا ہے، ٦- اور اسی حدیث کے مطابق شافعی کا بھی قول ہے، احمد اور اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں کہ سفر میں دو صلاۃ کو کسی ایک کے وقت میں ملا کر ایک ساتھ پڑھ لینے میں کوئی حرج نہیں۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ (صحیح) وضاحت : ١ ؎ : مؤلف اور ابوداؤد کی ایک روایت ( ١٢٢٠) کے سوا سب نے اسی طریق سے اور اسی مختصر متن کے ساتھ روایت کی ہے۔ صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 554