Jamiat Tirmidhi
36. جہنم کا بیان
جامع الترمذي
2574
Jamiat Tirmidhiحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْجُمَحِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ): يَخْرُجُ عُنُقٌ مِنَ النَّارِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ لَهَا عَيْنَانِ تُبْصِرَانِ، وَأُذُنَانِ تَسْمَعَانِ، وَلِسَانٌ يَنْطِقُ، يَقُولُ: إِنِّي وُكِّلْتُ بِثَلَاثَةٍ: بِكُلِّ جَبَّارٍ عَنِيدٍ، وَبِكُلِّ مَنْ دَعَا مَعَ اللَّهِ إِلَهًا آخَرَ، وَبِالْمُصَوِّرِينَ ، وفي الباب عن أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ صَحِيحٌ،
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : قیامت کے دن جہنم سے ایک گردن نکلے گی اس کی دو آنکھیں ہوں گی جو دیکھیں گی، دو کان ہوں گے جو سنیں گے اور ایک زبان ہوگی جو بولے گی، وہ کہے گی : مجھے تین لوگوں پر مقرر کیا گیا ہے : ہر سرکش ظالم پر، ہر اس آدمی پر جو اللہ کے سوا کسی دوسرے کو پکارتا ہو، اور مجسمہ بنانے والوں پر ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- یہ حدیث حسن غریب صحیح ہے،
2575
Jamiat Tirmidhiحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْجُعْفِيُّ، عَنْ فُضَيْلِ بْنِ عِيَاضٍ، عَنْ هِشَامٍ، عَنِ الْحَسَنِ، قَالَ: قَالَعُتْبَةُ بْنُ غَزْوَانَ: عَلَى مِنْبَرِنَا هَذَا مِنْبَرِ الْبَصْرَةِ، عَنِ النَّبِيِّ (ﷺ) قَالَ: إِنَّ الصَّخْرَةَ الْعَظِيمَةَ لَتُلْقَى مِنْ شَفِيرِ جَهَنَّمَ فَتَهْوِي فِيهَا سَبْعِينَ عَامًا وَمَا تُفْضِي إِلَى قَرَارِهَا ، قَالَ: وَكَانَ عُمَرُ، يَقُولُ: أَكْثِرُوا ذِكْرَ النَّارِ فَإِنَّ حَرَّهَا شَدِيدٌ وَإِنَّ قَعْرَهَا بَعِيدٌ وَإِنَّ مَقَامِعَهَا حَدِيدٌ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: لَا نَعْرِفُ لِلْحَسَنِ سَمَاعًا مِنْ عُتْبَةَ بْنِ غَزْوَانَ، وَإِنَّمَا قَدِمَ عُتْبَةُ بْنُ غَزْوَانَ الْبَصْرَةَ فِي زَمَنِ عُمَرَ وَوُلِدَ الْحَسَنُ لِسَنَتَيْنِ بَقِيَتَا مِنْ خِلَافَةِ عُمَرَ.
حسن بصری کہتے ہیں کہ عتبہ بن غزوان (رض) نے ہمارے اس بصرہ کے منبر پر بیان کیا کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اگر ایک بڑا بھاری پتھر جہنم کے کنارہ سے ڈالا جائے تو وہ ستر برس تک اس میں گرتا جائے گا پھر بھی اس کی تہہ تک نہیں پہنچے گا۔ عتبہ کہتے ہیں : عمر (رض) کہا کرتے تھے : جہنم کو کثرت یاد کرو، اس لیے کہ اس کی گرمی بہت سخت ہے۔ اس کی گہرائی بہت زیادہ ہے اور اس کے آنکس (آنکڑے) لوہے کے ہیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ہم عتبہ بن غزوان سے حسن بصری کا سماع نہیں جانتے ہیں، عمر (رض) کے عہد خلافت میں عتبہ بن غزوان (رض) بصرہ آئے تھے، اور حسن بصری کی ولادت اس وقت ہوئی جب عمر (رض) کے عہد خلافت کے دو سال باقی تھے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الزہد ١ (٢٩٦٧) ، سنن ابن ماجہ/الزہد ١٢ (٤١٥٦) (مختصراً جداً ) (تحفة الأشراف : ٩٧٥٧) ، و مسند احمد (٤/١٧٤) ، (٥/٦١) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح، الصحيحة (1612) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2575
2576
Jamiat Tirmidhiحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى، عَنِ ابْنِ لَهِيعَةَ، عَنْ دَرَّاجٍ، عَنْ أَبِي الْهَيْثَمِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ (ﷺ) قَالَ: الصَّعُودُ جَبَلٌ مِنْ نَارٍ يَتَصَعَّدُ فِيهِ الْكَافِرُ سَبْعِينَ خَرِيفًا وَيَهْوِي فِيهِ كَذَلِكَ مِنْهُ أَبَدًا ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ مَرْفُوعًا إِلَّا مِنْ حَدِيثِ ابْنِ لَهِيعَةَ.
ابو سعید خدری (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : «صعود» جہنم کا ایک پہاڑ ہے، اس پر کافر ستر سال میں چڑھے گا اور اتنے ہی سال میں نیچے گرے گا اور یہ عذاب اسے ہمیشہ ہوتا رہے گا ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف ابن لہیعہ کی روایت سے مرفوع جانتے ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف : ٤٠٦٣) (ضعیف) (سند میں دراج ابوالسمح ضعیف راوی ہیں ) قال الشيخ الألباني : ضعيف، المشکاة (5677) // ضعيف الجامع الصغير (3552) وسيأتي (657 / 3561) // صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2576
2578
Jamiat Tirmidhiحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنِي جَدِّي مُحَمَّدُ بْنُ عَمَّارٍ، وَصَالِحٌ مَوْلَى التَّوْءَمَةِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ): ضِرْسُ الْكَافِرِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِثْلُ أُحُدٍ، وَفَخِذُهُ مِثْلُ الْبَيْضَاءِ، وَمَقْعَدُهُ مِنَ النَّارِ مَسِيرَةُ ثَلَاثٍ مِثْلُ الرَّبَذَةِ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، وَمِثْلُ الرَّبَذَةِ: كَمَا بَيْنَ الْمَدِينَةِ، وَالرَّبَذَةِ، وَالْبَيْضَاءُ: جَبَلٌ مِثْلُ أُحُدٍ.
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : قیامت کے دن کافر کی ڈاڑھ احد پہاڑ جیسی ہوگی، اس کی ران بیضاء (پہاڑ) جیسی ہوگی اور جہنم کے اندر اس کے بیٹھنے کی جگہ تین میل کی مسافت کے برابر ہوگی جس طرح ربذہ کی دوری ہے ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث حسن غریب ہے، ٢ - «مثل الربذة» کا مطلب ہے کہ جس طرح ربذہ پہاڑ مدینہ سے دور ہے، ربذہ اور بیضاء احد کی طرح دو پہاڑ ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الجنة ١٣ (٢٨٥١) (تحفة الأشراف : ١٣٥٠٥، و ١٤٥٩٦) ، و مسند احمد (٢/٣٢٨، ٥٣٧) (حسن) (الصحیحہ ١١٠٥ ) قال الشيخ الألباني : حسن، الصحيحة (3 / 95) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2578
2579
Jamiat Tirmidhiحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا مُصْعَبُ بْنُ الْمِقْدَامِ، عَنْ فُضَيْلِ بْنِ غَزْوَانَ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَفَعَهُ، قَالَ: ضِرْسُ الْكَافِرِ مِثْلُ أُحُدٍ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ، وَأَبُو حَازِمٍ هُوَ الْأَشْجَعِيُّ اسْمُهُ: سَلْمَانُ مَوْلَى عَزَّةَ الْأَشْجَعِيَّةِ.
ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : کافر کی ڈاڑھ احد جیسی ہوگی ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن ہے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ماقبلہ (تحفة الأشراف : ١٣٤٢٦) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح، التعليق الرغيب (4 / 237) ، الصحيحة (3 / 96) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2579
2580
Jamiat Tirmidhiحَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنِ الْفَضْلِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ أَبِي الْمُخَارِقِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ): إِنَّ الْكَافِرَ لَيُسْحَبُ لِسَانُهُ الْفَرْسَخَ وَالْفَرْسَخَيْنِ يَتَوَطَّؤُهُ النَّاسُ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ إِنَّمَا نَعْرِفُهُ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، وَالْفَضْلُ بْنُ يَزِيدَ هُوَ كُوفِيٌّ، قَدْ رَوَى عَنْهُ غَيْرُ وَاحِدٍ مِنَ الْأَئِمَّةِ وَأَبُو الْمُخَارِقِ لَيْسَ بِمَعْرُوفٍ.
عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : کافر اپنی زبان کو ایک یا دو فرسخ تک گھسیٹے گا اور لوگ اسے روندیں گے ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ٢ - فضل بن یزید کوفی ہیں، ان سے کئی ائمہ حدیث نے روایت کی ہے، ٣ - ابوالمخارق غیر معروف راوی ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف : ٨٥٩٢) (ضعیف) (سند میں ابو المخارق مجہول راوی ہے ) قال الشيخ الألباني : ضعيف، المشکاة (5676) ، الضعيفة (1986) // ضعيف الجامع الصغير (1518) // صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2580
2577
Jamiat Tirmidhiحَدَّثَنَا عَبَّاسٌ الدُّورِيُّ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا شَيْبَانُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ (ﷺ) قَالَ: إِنَّ غِلَظَ جِلْدِ الْكَافِرِ اثْنَانِ وَأَرْبَعُونَ ذِرَاعًا، وَإِنَّ ضِرْسَهُ مِثْلُ أُحُدٍ، وَإِنَّ مَجْلِسَهُ مِنْ جَهَنَّمَ كَمَا بَيْنَ مَكَّةَ، وَالْمَدِينَةِ ، هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ حَدِيثِ الْأَعْمَشِ.
ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : کافر کے چمڑے کی موٹائی بیالیس گز ہوگی، اس کی ڈاڑھ احد پہاڑ جیسی ہوگی اور جہنم میں اس کے بیٹھنے کی جگہ اتنی ہوگی جتنا مکہ اور مدینہ کے درمیان کا فاصلہ ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث اعمش کی روایت سے حسن صحیح غریب ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف : ١٢٤١١) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح، المشکاة (5675) ، الصحيحة (1105) ، الظلال (610) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2577
2581
Jamiat Tirmidhiحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا رِشْدِينُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ دَرَّاجٍ، عَنْ أَبِي الْهَيْثَمِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، عَنِ النَّبِيِّ (ﷺ) فِي قَوْلِهِ: كَالْمُهْلِ سورة الكهف آية 29، قَالَ: كَعَكَرِ الزَّيْتِ فَإِذَا قَرَّبَهُ إِلَى وَجْهِهِ سَقَطَتْ فَرْوَةُ وَجْهِهِ فِيهِ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ رِشْدِينَ بْنِ سَعْدٍ، وَرِشْدِينُ قَدْ تُكُلِّمَ فِيهِ مِنْ قِبَلِ حِفْظِهِ.
ابو سعید خدری (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ سے اللہ تعالیٰ کے قول «کالمهل» کے بارے میں فرمایا : وہ پانی تلچھٹ کی طرح ہوگا جب اسے (کافر) اپنے منہ کے قریب کرے گا تو اس کے چہرے کی کھال اس میں گرجائے گی ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث ہم صرف رشدین بن سعد کی روایت سے جانتے ہیں، اور رشدین کے بارے میں کلام کیا گیا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف : ٤٠٥٨) (ضعیف) (سند میں ” دراج ابو السمح “ اور ” رشدین بن سعد “ ضعیف ہیں ) قال الشيخ الألباني : ضعيف، المشکاة (5678) ، التعليق الرغيب (4 / 234) // وسيأتي (478 / 2723 و 656 / 3556) // صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2581
2582
Jamiat Tirmidhiحَدَّثَنَا سُوَيْدٌ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ أَبِي السَّمْحِ، عَنْ ابْنِ حُجَيْرَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ (ﷺ) قَالَ: إِنَّ الْحَمِيمَ لَيُصَبُّ عَلَى رُءُوسِهِمْ، فَيَنْفُذُ الْحَمِيمُ حَتَّى يَخْلُصَ إِلَى جَوْفِهِ، فَيَسْلِتُ مَا فِي جَوْفِهِ حَتَّى يَمْرُقَ مِنْ قَدَمَيْهِ، وَهُوَ الصَّهْرُ، ثُمَّ يُعَادُ كَمَا كَانَ ، وَسَعِيدُ بْنُ يَزِيدَ يُكْنَى: أَبَا شُجَاعٍ وَهُوَ مِصْرِيٌّ، وَقَدْ رَوَى عَنْهُ اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ، وَابْنُ حُجَيْرَةَ هُوَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ حُجَيْرَةَ الْمِصْرِيُّ.
ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جہنمیوں کے سر پر «ماء حمیم» (گرم پانی) انڈیلا جائے گا تو وہ (بدن میں) سرایت کر جائے گا یہاں تک کہ اس کے پیٹ تک جا پہنچے گا اور اس کے پیٹ کے اندر جو کچھ ہے اسے کاٹے گا یہاں تک کہ اس کے پیروں (یعنی سرین) سے نکل جائے گا۔ یہی وہ «صہر» ہے (جس کا ذکر قرآن میں آیا ہے) پھر اسی طرح لوٹا دیا جائے گا جس طرح تھا ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف : ١٣٥٩١) (حسن) (سند میں دراج ابو السمح ضعیف راوی ہیں، لیکن امام ابوداود نے یہ فرق کیا ہے کہ ابو سمح کی ابوالہیثم سے ضعیف ہے، اور ابن حجیرہ سے روایت درست ہے، اور یہاں ابو السمح کے شیخ ابن حجیرہ ہیں، تراجع الالبانی ٩٥، والصحیحہ ٣٤٧٠ ) قال الشيخ الألباني : ضعيف، المشکاة (5679) ، التعليق أيضا // ضعيف الجامع الصغير (1433) // صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2582
2583
Jamiat Tirmidhiحَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، أَخْبَرَنَا صَفْوَانُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، عَنِ النَّبِيِّ (ﷺ) فِي قَوْلِهِ: وَيُسْقَى مِنْ مَاءٍ صَدِيدٍ 16 يَتَجَرَّعُهُ سورة إبراهيم آية 15-16، قَالَ: يُقَرَّبُ إِلَى فِيهِ فَيَكْرَهُهُ، فَإِذَا أُدْنِيَ مِنْهُ شَوَى وَجْهَهُ وَوَقَعَتْ فَرْوَةُ رَأْسِهِ، فَإِذَا شَرِبَهُ قَطَّعَ أَمْعَاءَهُ حَتَّى يَخْرُجَ مِنْ دُبُرِهِ ، يَقُولُ اللَّهُ: وَسُقُوا مَاءً حَمِيمًا فَقَطَّعَ أَمْعَاءَهُمْ سورة محمد آية 15 وَيَقُولُ: وَإِنْ يَسْتَغِيثُوا يُغَاثُوا بِمَاءٍ كَالْمُهْلِ يَشْوِي الْوُجُوهَ بِئْسَ الشَّرَابُ سورة الكهف آية 29 ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، وَهَكَذَا قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ، وَلَا نَعْرِفُ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ بُسْرٍ إِلَّا فِي هَذَا الْحَدِيثِ، وَقَدْ رَوَى صَفْوَانُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ صَاحِبِ النَّبِيِّ (ﷺ) غَيْرَ هَذَا الْحَدِيثِ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُسْرٍ لَهُ أَخٌ قَدْ سَمِعَ مِنَ النَّبِيِّ (ﷺ)، وَأُخْتُهُ قَدْ سَمِعَتْ مِنَ النَّبِيِّ (ﷺ)، وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ بُسْرٍ الَّذِي رَوَى عَنْهُ صَفْوَانُ بْنُ عَمْرٍو حَدِيثَ أَبِي أُمَامَةَ، لَعَلَّهُ أَنْ يَكُونَ أَخَا عَبْدِ اللهِ بْنِ بُسْرٍ.
ابوامامہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے اللہ تعالیٰ کے اس قول «ويسقی من ماء صديد يتجرعه» (ابراہیم : ١٦ ) کے بارے میں فرمایا : «صديد» (پیپ) اس کے منہ کے قریب کی جائے گی تو اسے ناپسند کرے گا جب اسے اور قریب کیا جائے گا تو اس کا چہرہ بھن جائے گا اور اس کے سر کی کھال گرجائے گی اور جب اسے پیئے گا تو اس کی آنت کٹ جائے گی یہاں تک کہ اس کے سرین سے نکل جائے گی۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے «وسقوا ماء حميما فقطع أمعاء هم» وہ «ماء حمیم» (گرم پانی) پلائے جائیں گے تو وہ ان کی آنتوں کو کاٹ دے گا (سورۃ محمد : ١٥ ) اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے «وإن يستغيثوا يغاثوا بماء کالمهل يشوي الوجوه بئس الشراب» اور اگر وہ فریاد کریں گے تو ان کی فریاد رسی ایسے پانی سے کی جائے گی جو تلچھٹ کی طرح ہوگا چہرے کو بھون دے گا اور وہ نہایت برا مشروب ہے (الکہف : ٢٩ ) امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث غریب ہے، ٢ - اسی طرح محمد بن اسماعیل بخاری نے بھی سند میں «عن عبيد اللہ بن بسر» کہا ہے اور ہم عبیداللہ بن بسر کو صرف اسی حدیث میں جانتے ہیں، ٣ - صفوان بن عمر نے عبداللہ بن بسر سے جو نبی اکرم ﷺ کے صحابی ہیں، ایک دوسری حدیث روایت کی ہے، عبداللہ بن بسر کے ایک بھائی ہیں جنہوں نے نبی اکرم ﷺ سے سنی ہے اور ان کی ایک بہن نے بھی نبی اکرم ﷺ سے حدیث سنی ہے۔ جس عبیداللہ بن بسر سے صفوان بن عمرو نے یہ حدیث روایت کی ہے، یہ صحابی نہیں ہیں کوئی دوسرے آدمی ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف (أخرجہ النسائي في الکبری) (تحفة الأشراف : ٤٨٩٤) (سند میں عبید اللہ بن بسر مجہول راوی ہے ) قال الشيخ الألباني : ضعيف، المشکاة (5680) ، التعليق أيضا صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2583