hadith book logo

Maarif ul Hadith

15. کتاب الفتن

معارف الحدیث

1935
Maarif ul Hadith
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَتَتْبَعُنَّ سَنَنَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ شِبْرًا شِبْرًا وَذِرَاعًا بِذِرَاعٍ، حَتَّى لَوْ دَخَلُوا جُحْرَ ضَبٍّ تَبِعْتُمُوهُمْ. قُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ الْيَهُودُ وَالنَّصَارَى قَالَ: فَمَنْ؟ (رواه البخارى ومسلم)
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ یقینا ایسا ہوگا کہ تم (یعنی میری امت کے لوگ) اگلی امتوں کے طریقوں کی پیروی کرو گے بالشت برابر بالشت اور برابر ذراع (یعنی بالکل ان کے قدم بہ قدم چلو گے) یہاں تک کہ اگر وہ گھسے ہوں گے گوہ کے بل میں تو اس میں بھی تم ان کی پیروی کرو گے۔ عرض کیا گیا کہ اے خدا کے رسول کیا یہود و نصاری (مراد ہیں؟) آپ نے فرمایا تو اور کون؟ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)

تشریح
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جس طرح عقائد و ایمانیات، عبادات، اخلاق اور معاشرت و معاملات، امر بالمعروف، نہی عن المنکر اور جہاد فی سبیل اللہ وغیرہ کے بارے میں ہدایت دیں اور امت کی رہنمائی فرمائی اسی طرح مستقبل میں واقع ہونے والے دینی زوال و انحطاط تغیرات اور فتنوں کے بارے میں بھی امت کو آگاہی دی ہے اور ہدایات فرمائی ہیں۔ اللہ تعالی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر منکشف فرمایا تھا کہ جس طرح اگلی امتوں میں دینی زوال و انحطاط آیا اور وہ طرح طرح کی گمراہیوں اور غلط کاریوں میں مبتلا ہوئیں اور اللہ تعالی کی نظر عنایت اور نصرت سے محروم ہوئیں ایسے ہی حالات آپ کی امت پر بھی آئیں گے۔ اس انکشاف و اطلاع کا مقصد یہی تھا کہ آپ صلی اللہ وسلم امت کو آنے والے اس خطرہ سے آگاہ کرے اور اس بارے میں ہدایات دیں۔
حدیث کی کتابوں میں “کتاب الفتن” یا “ابواب الفتن” کے زیر عنوان جو حدیثیں روایت کی گئی ہیں وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اسی سلسلہ کے ارشادات ہیں ان کی حیثیت صرف پیشن گوئیوں کی نہیں ہے بلکہ ان کا مقصد و مدعا امت کو آئندہ آنے والے فتنوں سے باخبر کرنا اور انکے اثرات سے تحفظ کا داعیہ پیدا کرنا اور طریق کار کے بارے میں ہدایات دینا ہے۔
اس تمہید کے بعد ذیل میں درج ہونے والی حدیثیں پڑھی جائیں ان میں غور و فکر کیا جائے ان کی روشنی میں خود اپنا اور اپنے ماحول کا جائزہ لیاجائے اوران سے ہدایت و رہنمائی حاصل کی جائے۔

تشریح ..... “شبر” کے معنی بالشت اور “ذراع” کے معنی ہاتھ کی انگلیوں کے سرے سے لے کر کہنی تک کی مقدار جو ٹھیک دو بالشت برابر ہوتی ہے۔ حدیث کے الفاظ “شِبْرًا شِبْرًا وَذِرَاعًا بِذِرَاعٍ” کا مطلب بالکل وہ ہے جو اردو محاورہ میں “قدم بقدم” کا ہوتا ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کا مطلب یہ ہے کہ یقینا ایک وقت ایسا آئے گا کہ میری امت کے کچھ لوگ اگلی امتوں کے گمراہ لوگوں کی قدم بقدم پیروی کریں گے جنگ گمراہیوں اور غلط کاریوں میں وہ مبتلا ہوئے تھے یہ بھی ان میں مبتلا ہوں گے یہاں تک کہ اگر ان میں سے کسی سر پھرے پاگل نے ضب (گوہ) کے بل میں گھسنے کی کوشش کی ہوگی تو میری امت میں بھی ایسے پاگل ہوں گے جو یہ مجنونانہ حرکت کریں گے (مطلب یہ ہے کہ اس طرح کی احمقانہ حرکتوں میں بھی ان کی پیروی اور نقالی کریں گے یہ دراصل کامل پیروی اور نقالی کی ایک تعبیر و تمثیل ہے) آگے حدیث میں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد سن کر کسی صحابی نے عرض کیا کہ حضرت! ہم سے پہلی امتوں سے کیا یہودونصاریٰ مراد ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا وہ نہیں تو اور کون ....... مطلب یہ ہے کہ ہاں میری مراد یہودونصاری ہی ہیں۔
جیسا کہ تمہیدی سطروں میں عرض کیا گیا یہ صرف پیشن گوئی نہیں ہے بلکہ بڑے مؤثر انداز میں آگاہی ہے کہ مجھ پر ایمان لانے والے خبردار اور ہوشیار رہیں اور یہود و نصاریٰ کی گمراہیوں اور غلط کاریوں سے اپنے کو محفوظ رکھنے کی فکر سے کبھی غافل نہ ہوں۔
1936
Maarif ul Hadith
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍوقَالَ: «شَبَكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَصَابِعَهُ» وَقَالَ كَيْفَ أَنْتَ يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو إِذَا بَقِيتَ حُثَالَةٌ قَدْ مَرِجَتْ عُهُودُهُمْ، وَأَمَانَاتُهُمْ، وَاخْتَلَفُوا، فَصَارُوْا هَكَذَا قَالَ: فَكَيْفَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: تَأْخُذُ مَا تَعْرِفُ وَتَدَعُ مَا تُنْكِرُ وَتُقْبِلُ عَلَى خَاصَّتِكَ، وَتَدَعُهُمْ وَعَوَامَهُمْ. (رواه البخارى)
حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ایک ہاتھ کی انگلیاں دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں ڈال دیں اور (مجھ سے مخاطب ہوکر) فرمایا کہ اے عبداللہ بن عمرو! تمہارا اس وقت کیا حال اور کیا رویہ ہوگا جب صرف ناکارہ لوگ باقی رہ جائیں گے ان کے معاہدات اور معاملات میں دغا فریب ہوگا اور ان میں (سخت) اختلاف (اور ٹکراؤ) ہوگا اور وہ باہم اس طرح گتھ جائیں گے (جیسے میرے ایک ہاتھ کی انگلیاں دوسرے ہاتھ کی انگلیوں سے گھتی ہوئی ہیں) عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہم نے عرض کیا کہ پھر مجھے کیسا ہونا چاہیے یا رسول اللہ؟ (یعنی اس فساد عام کے زمانہ میں مجھے کیا کرنا چاہیے؟) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جس بات اور جس عمل کو تم اچھا اور معروف جانو اس کو اختیار کرو اور جس کو منکر اور برا سمجھو اس کو چھوڑ دو اور اپنی پوری توجہ خاص اپنی ذات پر رکھو (اور اپنی فکر کرو) اور ان ناکارہ و بےصلاحیت اور آپس میں لڑنے بھڑنے والوں سے اوران عوام سے تعرض نہ کرو۔ (صحیح بخاری)

تشریح
“حثالہ” کےمعنی بھوسی کے ہیں یہاں اس سے مراد ایسے لوگ ہیں جو بظاہر آدمی ہونے کے باوجود آدمیت کے جوہر سے بالکل خالی ہوں ان میں کوئی صلاحیت نہ ہو جس ترا بھوسی میں صلاحیت نہیں ہوتی۔ آگے رسول اللہ صلی اللہ وسلم نے ان کا یہ حال بھی بیان فرمایا کہ ان کے معاہدات اور معاملات میں مکر و فریب اور دغا بازی ہو اور باہم جنگ و پیکار ان کا مشغلہ ہو۔
نوعمر صحابہ کرام میں عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ و فطری طور پر بڑے خیرپسند، پرہیزگار اور عبادت گزار تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن ان سے فرمایا کہ جب کبھی ایسا وقت آ جائے کہ ایسے ہی ناکارہ اور بدکردار اور باہم لڑنے بھڑنے والے لوگ باقی رہ جائے تو تمہارا رویہ اس وقت کیا ہوگا؟ رسول اللہ صلی اللہ وسلم نے یہ سوال ان سے اسی لیے کیا تھا کہ وہ اس بارے میں آپ سے ہدایت کے طالب ہوں تو آپ ہدایت فرمائیں۔ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ تعلیم تھا چنانچہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا اور آپ نے جواب دیا جس کا حاصل یہ ہے کہ جب واسطہ ایسے ہی لوگوں سے ہو جو آدمیت کے جوہر سے محروم ہوں اور نیکی کو قبول کرنے کی ان میں صلاحیت ہی نہ رہی ہو تو اہل ایمان کو چاہیے کے ایسے لوگوں سے صرف نظر کرکے بس اپنی فکر کریں۔
یہاں یہ بات خاص طور سے قابل لحاظ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قیامت تک کے مسلمانوں کو جو ہدایت دینا چاہتے تھے اس کا مخاطب صحابہ کرامؓ ہی کو بناتے تھے اللہ تعالی ان اصحاب کرام اور ان کے بعد والے راویان حدیث کو جزاء خیر عطا فرمائے کہ انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ ہدایات بعد والوں تک پہنچائیں اور ائمہ حدیث نے ان کو کتابوں میں محفوظ کر دیا۔
1937
Maarif ul Hadith
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يُوشِكُ أَنْ يَكُونَ خَيْرَ مَالِ الْمُسْلِمِ غَنَمٌ، يَتْبَعُ بِهَا شَعَفَ الْجِبَالِ وَمَوَاقِعَ الْقَطْرِ، يَفِرُّ بِدِينِهِ مِنَ الْفِتَنِ. (رواه البخارى)
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قریب ہے کہ ایسا زمانہ آئے گا ایک مسلمان کا اچھا مال بکریوں کا گلہ ہو جن کو لے کر وہ پہاڑیوں کی چوٹیوں اور بارش والی وادیوں کی تلاش کرے اپنے دین کو فتنوں سے بچانے کے لیے بھاگ جائے۔ (صحیح بخاری)

تشریح
قرآن پاک میں قیامت کو قریب ہی بتلایا گیا ہے (اقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ) رسول اللہ صلی اللہ وسلم بھی قیامت اور اس سے پہلے ظاہر ہونے والے فتنوں کا اس طرح ذکر فرماتے تھے جیسے کہ یہ سب کچھ عنقریب ہی ہونے والا ہے۔ اولا تو اس لئے کہ جو چیز آنے والی ہے اور اس کا آنا یقینی ہے اس کو قریب ہی سمجھنا چاہیے۔ دوسرے اس میں یہ بھی حکمت تھی کہ کوئی شخص اس کو بہت دور سمجھ کر مطمئن نہ ہو بیٹھے اور اس کے لیے جو کچھ کرنا چاہیے اس میں سستی نہ کرے۔ اسی اصول و معمول کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حدیث میں فتنہ کے ایسے زمانے کے قریب ہونے کی آگاہی گئی ہے جب بھری پڑی آبادیوں کا حال ایسا خراب ہو جائے گا کہ وہاں رہنے والے کے لئے دین پر قائم رہنا اور اللہ و رسول کے احکام کے مطابق زندگی گزارنا قریبا ناممکن ہو جائے گا آپ نے فرمایا ایسے وقت میں وہ بندہ مومن بڑی خیریت میں ہوگا جس کے پاس چند بکریوں کا گلہ ہو وہ ان کو لے کر پہاڑیوں کی چوٹیوں پر یا ایسی وادیوں میں چلا جائے جہاں بارشیں ہوتی ہوں بکریاں اللہ کے اگائے ہوئے سبزے سے اپنا پیٹ بھرے اور یہ بندہ ان بکریوں سے گزارا کرے اور اس طرح آبادیوں کے فتنوں سے محفوظ رہے۔
1938
Maarif ul Hadith
عَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ الصَّابِرُ فِيهِمْ عَلَى دِينِهِ كَالْقَابِضِ عَلَى الْجَمْرِ. (رواه الترمذى)
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ لوگوں کے لیے ایک وقت ایسا آئے گا کہ صبر و استقامت کے ساتھ دین پر قائم رہنے والا بندہ اس وقت اس آدمی کی مانند ہوگا جو ہاتھ میں جلتا ہوا انگارہ تھام لے۔ (جامع ترمذی)

تشریح
مطلب یہ ہے کہ ایک وقت ایسا بھی آئے گا کہ فسق و فجور اور خدا فراموشی ماحول اور فضا پر ایسی غالب آ جائے گی کہ خدا اور رسول کے احکام پر استقامت کے ساتھ عمل کرنا اور حرام سے بچ کر زندگی گزارنا اتنا مشکل اور صبر آزما ہو جائے گا جیسا کہ جلتا انگارہ ہاتھ میں تھام لینا یہ وہی زمانہ ہوگا جس کا ذکر حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کی مندرجہ بالا حدیث میں کیا گیا ہے۔ واللہ اعلم
1939
Maarif ul Hadith
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّكَ فِي زَمَانٍ مَنْ تَرَكَ مِنْكُمْ عُشْرَ مَا أُمِرَ بِهِ هَلَكَ ثُمَّ يَأْتِي زَمَانٌ مَنْ عَمِلَ مِنْهُمْ بِعُشْرِ مَا أُمِرَ بِهِ نَجَا. (رواه الترمذى)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم اس وقت ایسے زمانے میں ہو کہ جو کوئی اس زمانے میں احکام الہی کے (بڑے حصہ پر) عمل کرے صرف دسویں حصہ پر عمل ترک کردیں تو وہ ہلاک ہوجائے گا۔ (اس کی خیریت نہیں) اور بعد میں ایک ایسا زمانہ بھی آئے گا کہ جو کوئی اس زمانہ میں احکام الہی کے صرف دسویں حصہ پر عمل کر لے گا وہ نجات کا مستحق ہوگا۔ (جامع ترمذی)

تشریح
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک زمانہ میں آپ کی صحبت اور براہ راست تعلیم و تربیت اور معجزات و خوارق کے مشاہدہ کے نتیجہ میں ایسا ماحول بن گیا تھا کہ احکام الہی ذوق و شوق سے تعمیل کرنا نہ صرف آسان بلکہ مرغوب و محبوب بن گیا تھا اور اللہ و رسول کی اطاعت و فرماں برداری طبیعت ثانیہ بن گئی تھی اس ماحول اور اس ایمانی فضا میں جو شخص احکام الہی کی پیروی میں تھوڑی بھی کوتاہی کرے اس کے بارے میں اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ قصور وار اور قابل معاوضہ ہے۔ “قریبا نرا بیش بود حیرانی” اسی کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایک ایسا وقت بھی آئے گا جب ماحول دین کے سخت ناسازگار ہو گا (اور جیسا کہ حضرت انس رضی اللہ عنہٗ کی مندرجہ بالا حدیث میں فرمایا گیا ہے دین پر چلنا ایسا صبر آزما ہوگا جیسا ہاتھ میں انگارہ تھام لینا) ایسے زمانے کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس وقت میں اللہ کے جو بندے دین کے تقاضوں اور شریعت کے احکام پر تھوڑا بھی عمل کرلیں گے ان کی نجات ہو جائے گی۔(عاجز کا خیال ہے کہ “اس حدیث” میں “عشر ” کے لفظ سے متعین طور پر دسواں حصہ (10/1) مراد نہیں ہیں بلکہ کثیر کے مقابلہ میں قلیل مراد ہے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کا مدعا وہی ہے جو عاجز نے ان سطروں میں عرض کیا ہے) ..... واللہ اعلم ۔
1940
Maarif ul Hadith
عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ الْقُرَظِيِّ قَالَ حَدَّثَنِي مَنْ سَمِعَ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ يَقُولُ إِنَّا لَجُلُوسٌ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَسْجِدِ إِذْ طَلَعَ عَلَيْنَا مُصْعَبُ بْنُ عُمَيْرٍ مَا عَلَيْهِ إِلاَّ بُرْدَةٌ لَهُ مَرْقُوعَةٌ بِفَرْوٍ فَلَمَّا رَآهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَكَى لِلَّذِي كَانَ فِيهِ مِنَ النِّعْمَةِ وَالَّذِي هُوَ الْيَوْمَ فِيهِ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَيْفَ بِكُمْ إِذَا غَدَا أَحَدُكُمْ فِي حُلَّةٍ وَرَاحَ فِي حُلَّةٍ وَوُضِعَتْ بَيْنَ يَدَيْهِ صَحْفَةٌ وَرُفِعَتْ أُخْرَى وَسَتَرْتُمْ بُيُوتَكُمْ كَمَا تُسْتَرُ الْكَعْبَةُ. قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ نَحْنُ يَوْمَئِذٍ خَيْرٌ مِنَّا الْيَوْمَ نَتَفَرَّغُ لِلْعِبَادَةِ وَنُكْفَى الْمُؤْنَةَ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لأَنْتُمُ الْيَوْمَ خَيْرٌ مِنْكُمْ يَوْمَئِذٍ. (رواه الترمذى)
محمد بن کعب قرضی سے روایت ہے کہتے ہیں کہ ایک ایسے صاحب نے مجھ سے بیان کیا جنہوں نے حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہٗ سے خود (یہ واقعہ) سنا تھا کہ ہم لوگ (ایک دن) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے کہ مصعب بن عمیر (رضی اللہ عنہٗ) اس حالت اور ہیئت میں سامنے آ گئے کہ ان کے جسم پر بس ایک (پھٹی پرانی) چادر تھی جس میں کھال کے ٹکڑوں کے پیوند لگے ہوئے تھے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو (اس حالت اور ہیئت میں) دیکھا تو آپ کو رونا آ گیا ان کا وہ وقت یاد کرکے جب وہ (اسلام لانے سے پہلے مکہ میں) عیش و تنعم کی زندگی گزارتے تھے اور ان کی (فقر و فاقہ کی) موجودہ حالت کا خیال کرکے ..... اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (ہم لوگوں سے مخاطب ہو کر) فرمایا کہ (بتلاؤ) اس وقت تمہاری کیا کیفیت ہوگی اور کیا حال ہوگا جب (دولت اور سامان تعیش کی ایسی فراوانی ہوگی کہ) تم میں کے لوگ صبح کو ایک جوڑا پہن کر نکلیں گے اور شام کو دوسرا جوڑا پہن کر، اور (کھانے کے لئے) ان کے آگے ایک پیالہ رکھا جائے گا اور دوسرا اٹھایا جائے گا اور تم اپنے مکانوں کو اس طرح لباس پہناؤ گے جس طرح کعبۃ اللہ پر غلاف ڈالا جاتا ہے (آپ کے اس سوال کے جواب میں حاضرین مجلس میں سے کچھ) لوگوں نے عرض کیا کہ حضرت ہمارا حال اس وقت آج کے مقابلے میں بہت اچھا ہوگا ہمیں اللہ کی عبادت کے لیے پوری فراغت اور فرصت حاصل ہوگی (معاش وغیرہ کے لئے) محنت و مشقت اٹھانی نہیں پڑے گی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ نہیں! تم آج (فقر و فاقہ کے اس دور میں عیش و تنعم والے) اس دن کے مقابلہ میں بہت اچھے ہو۔ (جامع ترمذی)

تشریح
حدیث کے راوی محمد بن کعب قرضی تابعی ہیں جو علم قرآن اور صلاح و تقوی کے لحاظ سے اپنے طبقہ میں ممتاز تھے انہوں نے اس راوی کا نام ذکر نہیں کیا جنہوں نے حضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ کے حوالہ سے یہ واقعہ ان کو سنایا تھا لیکن ان کا اس طرح روایت کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ وہ راوی انکے نزدیک ثقہ اور قابل اعتماد ہے۔
مصعب بن عمیرؓ کی صحابہ کرامؓ میں ایک خاص شان اور تاریخ تھی وہ بڑے ناز پروردہ ایک رئیس زادے تھے ان کا گھرانہ مکہ کا بڑا دولت مند گھرانہ تھا اور یہ اپنے گھر کے بڑے لاڈلے چہیتے تھے اسلام قبول کرنے سے پہلے ان کی زندگی امیرانہ اور عیش و تنعم کی زندگی تھی پھر اسلام لانے کے بعد زندگی کا رخ بالکل بدل گیا اور وہ حال ہوگیا جو اس حدیث میں ذکر کیا گیا ہے ایک پھٹی پرانی چادر ہی جسم پر تھی جس میں جابجا چمڑے کے ٹکڑوں کے بھی پیوند تھے ان کو اس حالت اور ہیئت میں دیکھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں کے سامنے ان کی عیش و تنعم والی امیرانہ زندگی کا نقشہ آ گیا اور آپ کو رونا آگیا اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرامؓ کو ایک اہم حقیقت سے آگاہ کرنے کے لیے ان سے فرمایا کہ ایک وقت آئے گا جب تمہارے پاس یعنی میری امت کے پاس عیش و تنعم کے سامان کی فراوانی ہو گی ایک آدمی صبح کو ایک جوڑا پہن کر نکلے جا اور شام کو دوسرا جوڑا اسی طرح دسترخوان پر انواع و اقسام کے کھانے ہوا کریں گے بتلاؤ تمہارا کیا خیال ہے وہ وقت تمہارے لیے کیسا ہوگا؟ کچھ لوگوں نے عرض کیا کہ حضرت وہ وقت اور وہ دن تو بہت ہی اچھا ہوگا ہمیں فراغت اور فرصت ہی فرصت ہو گی بس اللہ کی عبادت کیا کریں گے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہارا یہ خیال صحیح نہیں ہے آج تم جس حال میں ہو یہ آئندہ آنے والے عیش و تنعم کے حال سے بہت بہتر ہے۔
واقعہ یہ ہے کہ جس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ حقیقت بیان فرمائی تھی اس وقت تو “ایمان بالغیب” ہی کی طور پر اس پر یقین کیا جاسکتا تھا لیکن پہلے بنو امیہ اور بنو عباس کے دور حکومت میں اور بعد کی اکثر دوسری مسلم حکومتیں کے دور میں بھی اور آج کی ان مسلم حکومتوں میں جن کو اللہ تعالی نے عیش و تنعم کا سامان انتہائی فراوانی سے دے رکھا ہے یہ حقیقت آنکھوں سے دیکھ لی گئی ہے اور دیکھی جا رہی ہے بلاشبہ یہ اور اس طرح کی تمام پیشنگوئیاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزات اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کے دلائل میں سے ہیں۔
1941
Maarif ul Hadith
عَنْ ثَوْبَانَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يُوشِكُ الأُمَمُ أَنْ تَدَاعَى عَلَيْكُمْ كَمَا تَدَاعَى الأَكَلَةُ إِلَى قَصْعَتِهَا. فَقَالَ قَائِلٌ وَمِنْ قِلَّةٍ نَحْنُ يَوْمَئِذٍ قَالَ: بَلْ أَنْتُمْ يَوْمَئِذٍ كَثِيرٌ وَلَكِنَّكُمْ غُثَاءٌ كَغُثَاءِ السَّيْلِ وَلَيَنْزِعَنَّ اللَّهُ مِنْ صُدُورِ عَدُوِّكُمُ الْمَهَابَةَ مِنْكُمْ وَلَيَقْذِفَنَّ اللَّهُ فِي قُلُوبِكُمُ الْوَهَنَ. فَقَالَ قَائِلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا الْوَهَنُ قَالَ: حُبُّ الدُّنْيَا وَكَرَاهِيَةُ الْمَوْتِ. (رواه ابوداؤد والبيهقى فى دلائل النبوة)
حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا قریب ہے (ایسا زمانہ) کہ (دشمن) قومیں تمہارے خلاف (جنگ کرنے اور تم کو مٹا دینے کے لیے) ایک دوسرے کو اس طرح دعوت دیں جس طرح کھانے والی جماعت کے آدمی کھانے کی لگن (تشت) کی طرف ایک دوسرے کو بلاتے ہیں کسی عرض کرنے والے نے عرض کیا کہ کیا اس دن ہماری تعداد کی قلت کی وجہ سے ایسا ہوگا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا (نہیں) بلکہ تم اس وقت بڑی تعداد میں ہوگے لیکن تم سیلاب کے کوڑے کرکٹ کی طرح (بے جان اور بےوزن) ہوگے اور اللہ تعالی تمہارے دشمنوں کے دل سے تمھاری ہیبت نکال دے گا اور (اس کے برعکس) تمہارے دلوں میں “وہن” ڈال دے گا کسی عرض کرنے والے نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ “وہن” کا کیا مطلب؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ دنیا کی محبت اور موت کی کراہت۔ (سنن ابی داود دلائل النبوۃ للبیہقی)

تشریح
حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ کی اس روایت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا جو ارشاد نقل ہوا ہے جس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ فرمایا ہوگا اس وقت بلکہ اس کے کئی صدی بعد تک بھی حالات ایسے رہے کہ بظاہر دور دور تک اس کا امکان بھی نظر نہیں آتا تھا کہ کبھی آپ صلی للہ علیہ وسلم کے امت کا ایسا حال بھی ہوگا اور وہ دشمن قوموں کے مقابلہ میں ایسی کمزور اور بے جان ہو جائے گی اور ان کے لیے نرم نوالہ بن جائے گی لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو فرمایا تھا وہ واقع ہو کر رہا اور بار بار وقوع میں آیا اور آج بھی اس کے مظاہرے آنکھوں کے سامنے ہیں اور اس انقلاب حال اور انحطاط و زوال کا بنیادی سبب جیساکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا یہی ہے کہ اس دنیا اور یہاں کی زندگی سے ہم کو عشق ہو گیا اور موت (راہ خدا کی موت بھی) ہمارے لیے کڑوا گھونٹ بن گئی خدا کی قسم بلاشبہ ہماری اس حالت نے ہم کو دشمنوں کے لیے تر نوالہ بنا دیا ہے جیسا کہ اوپر عرض کیا جاچکا ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد بھی صرف پیشن گوئی نہیں ہے بلکہ امت کو آگاہی ہے کہ “وہن” (یعنی حب دنیا اور کراہیت موت) کی بیماری سے قلوب کی حفاظت کی جائے۔
1942
Maarif ul Hadith
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا كَانَ أُمَرَاؤُكُمْ خِيَارَكُمْ وَأَغْنِيَاؤُكُمْ سُمَحَاءَكُمْ وَأُمُورُكُمْ شُورَى بَيْنَكُمْ فَظَهْرُ الأَرْضِ خَيْرٌ لَكُمْ مِنْ بَطْنِهَا وَإِذَا كَانَ أُمَرَاؤُكُمْ شِرَارَكُمْ وَأَغْنِيَاؤُكُمْ بُخَلاَءَكُمْ وَأُمُورُكُمْ إِلَى نِسَائِكُمْ فَبَطْنُ الأَرْضِ خَيْرٌ لَكُمْ مِنْ ظَهْرِهَا. (رواه الترمذى)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب (حالت یہ ہو کہ) تمہارے حکمران تم میں کے نیک لوگ ہیں اور تم میں کے دولت مندوں میں سماحت و سخاوت کی صفت اور تمہارے معاملات باہم مشورہ سے طے ہوتے ہیں تو (ایسی حالت میں) زمین کی پشت تمارے لیے اس کے بطن (پیٹ) سے بہتر ہے اور (اس کے برعکس) جب حالت یہ ہو کہ تمہارے حکمران تم میں کے بدترین لوگ ھوں اور تمہارے دولت مندوں میں (سماحت کے بجائے) بخل اور دولت پرستی آجائے اور تمہارے معاملات (بجائے اہل الرائے کی مشاورت کے) تمہاری عورتوں کی رایوں سے چلے تو (ایسی حالت میں) زمین کا بطن (پیٹ) تمہارے لئے اس کی پشت سے بہتر ہے۔ (جامع ترمذی)

تشریح
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر منکشف کیا گیا تھا کہ امت کا حال ایک زمانے تک یہ رہے گا کہ ان کے حکمران اور عمال حکومت نیک اور اچھے لوگ ہونگے اور ان میں کے دولت مندوں میں سماحت کی صفت ہوگی یعنی وہ اللہ تعالی کی عطا فرمائی ہوئی دولت کو اخلاص و خوش دلی سے اچھے مصارف میں صرف کریں گے ان کے معاملات خاص کر حکومتی اور اجتماعی معاملات باہمی مشورے سے ہوا کریں گے (یہ تین حالتیں اس بات کی علامت ہیں کہ امت کا اجتماعی حال اور مزاج اللہ و رسول کے احکام اور مرضیات کے مطابق ہے) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ امت کے لئے یہ زمانہ خیریت کا ہوگا اور اس دور کے یہ اہل ایمان اس کے مستحق ہونگے کہ اس دنیا میں اور اس زمین کی پشت پر رہیں خیر امت ہونے کی حیثیت سے دنیا کی ہدایت و قیادت کی ذمہ داری سنبھالیں اسی کے ساتھ آپ پر منکشف کیا گیا تھا کہ پھر ایک زمانہ آئے گا کہ امت کا حال اس کے بالکل برعکس ہو جائے گا۔
حکومت کی باگ اور سارا حکومتی نظام بدترین لوگوں کے ہاتھوں میں آ جائے گا اور مسلمانوں میں کے دولت مند لوگ سماحت و سخاوت کے بجائے دولت کے پجاری ہوجائیں گے اور اہم معاملات بجائے اسکے کے اہل الرائے کے باہمی مشورے سے طے کئے جائیں گھروالوں کی خواہشات اور ان کی رائے کے مطابق طے کیے جانے لگے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شروفساد کے اس زمانے کے بارے میں فرمایا کہ اس وقت یہ بگڑی ہوئی امت زمین کے اوپر چلنے اور رہنے بسنے سے زیادہ اس کے مستحق ہو گی کہ ختم ہو کر زمین کے پیٹ میں چلی جائے اور اس میں دفن ہوئے۔
جیسا کہ بار بار عرض کیا گیا یہ حدیث شریف بھی صرف ایک پیشن گوئی نہیں ہے بلکہ اس میں امت کو بڑی سخت آگاہی ہے کہ میری امت کو اللہ تعالی کی اس زمین پر رہنے اور چلنے پھرنے کا حق اس وقت تک ہے جب تک اس میں “خیر امت” والی ایمانی صفت رہیں لیکن جب وہ ان صفات سے محروم ہوجائے اور اسکی زندگی میں شر و فساد آ جائے تو وہ اس کی مستحق ہوگی کی ختم ہو کر زمین میں دفن ہو جائے۔
1943
Maarif ul Hadith
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: بَادِرُوا بِالأَعْمَالِ فِتَنًا كَقِطَعِ اللَّيْلِ الْمُظْلِمِ يُصْبِحُ الرَّجُلُ مُؤْمِنًا وَيُمْسِي كَافِرًا أَوْ يُمْسِي مُؤْمِنًا وَيُصْبِحُ كَافِرًا يَبِيعُ دِينَهُ بِعَرَضٍ مِنَ الدُّنْيَا. (رواه مسلم)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جلدی کر لو اعمال صالحہ ان فتنوں کے آنے سے پہلے جو اندھیری رات کے ٹکڑوں کی طرح پے بہ پے آئینگے (حال یہ ہو گا کہ) صبح کرےگا آدمی اس حال میں کہ اس میں ایمان ہوگا اور شام کرے گا اس حال میں کہ وہ ایمان سے محروم ہو چکا ہوگا اور شام کو وہ میں مومن ہوگا اور اگلی صبح وہ مومن نہ رہے گا کافر ہوجائے گا دنیا کی متاع قلیل کے بدلے وہ اپنا دین و ایمان بیچ ڈالے گا۔ (صحیح مسلم)

تشریح
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر منکشف کیا گیا تھا کہ آپ کی امت پر ایسے حالات بھی آئیں گے کہ رات کے اندھیرے کی طرح نوع بہ نوع فتنے لگاتار برپا ہوں گے ان کی وجہ سے ایسا بھی ہوگا کہ ایک آدمی صبح کو اس حال میں اٹھے گا کہ اپنے عقیدے اور عمل کے لحاظ سے اچھا خاصا مومن و مسلم ہوگا لیکن شام ہوتے ہوتے وہ کسی گمراہی یا بدعملی میں مبتلا ہوکر اپنا دین ایمان برباد کر دے گا۔
یہ فتنے گمراہانہ تحریکوں اور دعوتوں کی شکل میں بھی آ سکتے ہیں اور آتے رہے ہیں اور مال و دولت یا اقتدار کی ہوس اور دوسری نفسانی خواہشات کی شکل میں بھی، حدیث کا آخری جملہ “يَبِيعُ دِينَهُ بِعَرَضٍ مِنَ الدُّنْيَا” (دنیا کی قلیل متاع کے بدلے اپنا دین ایمان بیچ ڈالے گا) اس بات کا واضح قرینہ ہیں کہ حدیث کا مطلب یہی نہیں ہے کہ آدمی ڈینہ اسلام کا منکر ہو کر ملت سے خارج اور ٹھیٹ کافر ہو جائے گا بلکہ اس میں وہ سب صورتیں داخل ہیں جن میں آدمی دنیا کے لیے (جس میں مال و دولت اور اقتدار کی ہوس اور ہر طرح کی نفسانی اغراض شامل ہیں) دین کو یعنی اللہ و رسول کے احکام کو نظر انداز کر دے اس طرح دنیا کی طلب میں آخرت فراموشی اور ہر قسم کا فسق وفجور بھی اس میں شامل ہے جو عملی کفر ہے جیسے کہ بار بار عرض کیا جاچکا ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس طرح کے ارشادات کے مخاطب اگرچہ بظاہر صحابہ کرام ہی ہوتے تھے لیکن فی الحقیقت ان کے مخاطب ہر دور کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے امتی ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس پیام اور وصیت کا حاصل یہ ہے کہ ہر مومن آنے والے ایمان کش فتنوں سے ہوشیار رہے اور اعمال صالحہ کے اہتمام میں سبقت اور جلدی کرے ایسا نہ ہو کہ کسی فتنہ میں مبتلا ہو جائے اور پھر اعمال خیر کی توفیق ہی نہ ہو۔ نیز اگر اعمال صالحہ کرتا رہے گا تو وہ اس کا مستحق ہوگا کہ اللہ تعالیٰ ایسے فتنوں سے اس کی حفاظت فرمائے۔
1944
Maarif ul Hadith
عَنِ الْمِقْدَادِ بْنِ الأَسْوَدِ قَالَ لَقَدْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: إِنَّ السَّعِيدَ لَمَنْ جُنِّبَ الْفِتَنَ إِنَّ السَّعِيدَ لَمَنْ جُنِّبَ الْفِتَنَ إِنَّ السَّعِيدَ لَمَنْ جُنِّبَ الْفِتَنَ وَلَمَنِ ابْتُلِيَ فَصَبَرَ فَوَاهًا. (رواه ابوداؤد)
حضرت مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے خود سنا آپ فرما رہے تھے کہ یقینا وہ بندہ نیک بخت اور خوش نصیب ہے جو فتنوں سے محفوظ رکھا گیا وہ بندہ نیک بخت و خوش نصیب ہیں جو فتنوں سے دور رکھا گیا وہ بندہ نیک بخت اور خوش نصیب ہیں جو فتنوں سے الگ رکھا گیا اور جو بندہ مبتلا ہوگیا اور وہ صابر اور ثابت قدم رہا تو (اس کا کیا کہنا) اس کو شاباش اور مبارکباد۔ (سنن ابی داود)

تشریح
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ تھا کہ کسی بات کی اہمیت سامعین اور مخاطبین کے ذہن نشین فرمانا چاہتے تو اس کو مقرر سہ کرر ارشاد فرماتے اس حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین بار یہ جملہ ارشاد فرمایا “إِنَّ السَّعِيدَ لَمَنْ جُنِّبَ الْفِتَنَ” (وہ بندہ خوش نصیب ہے جو فتنوں سے دور اور الگ رکھا جائے) یہ بات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بار بار غالبا اس لیے ارشاد فرمائی کہ کسی بندہ کا فتنوں سے محفوظ رہنا فی الحقیقت اللہ تعالی کی بہت بڑی نعمت ہے لیکن یہ نعمت چونکہ نظر نہیں آتی اس لیے بہت سے بندوں کو اس کا احساس اور شعور بھی نہیں ہوتا اس وجہ سے نہ ان کے دل میں اس نعمت کی قدر ہوتی ہے نہ اس پر شکر کا جذبہ پیدا ہوتا ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات تین دفعہ ارشاد فرما کر اس نعمت کی اہمیت و عظمت ذہن نشین کرنے کی کوشش فرمائی۔ آخر میں فرمایا کہ اور جو بندہ تقدیر الہی سے فتنوں میں مبتلا کیا گیا اور اس نے اپنے کو تھاما یعنی وہ دین پر اور اللہ و رسول کی وفاداری پر صابر و ثابت قدم رہا تو اس کو شاباش اور مبارکباد اس کا کیا کہنا وہ بڑا ہی خوش نصیب ہے حدیث کے آخری جملے “وَلَمَنِ ابْتُلِيَ فَصَبَرَ فَوَاهًا” کا مطلب شارحین نے اور بھی بیان کیا ہے اس عاجز کے نزدیک وہی راجح ہے جو یہاں لکھا گیا ہے۔ والعلم عند الله