Sahih Muslim
10. عیدین کا بیان
صحيح مسلم
2044
Sahih Muslimحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ جَمِيعًا عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ قَالَ ابْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي الْحَسَنُ بْنُ مُسْلِمٍ عَنْ طَاوُسٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ شَهِدْتُ صَلَاةَ الْفِطْرِ مَعَ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي بَکْرٍ وَعُمَرَ وَعُثْمَانَ فَکُلُّهُمْ يُصَلِّيهَا قَبْلَ الْخُطْبَةِ ثُمَّ يَخْطُبُ قَالَ فَنَزَلَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهِ حِينَ يُجَلِّسُ الرِّجَالَ بِيَدِهِ ثُمَّ أَقْبَلَ يَشُقُّهُمْ حَتَّی جَائَ النِّسَائَ وَمَعَهُ بِلَالٌ فَقَالَ يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا جَائَکَ الْمُؤْمِنَاتُ يُبَايِعْنَکَ عَلَی أَنْ لَا يُشْرِکْنَ بِاللَّهِ شَيْئًا فَتَلَا هَذِهِ الْآيَةَ حَتَّی فَرَغَ مِنْهَا ثُمَّ قَالَ حِينَ فَرَغَ مِنْهَا أَنْتُنَّ عَلَی ذَلِکِ فَقَالَتْ امْرَأَةٌ وَاحِدَةٌ لَمْ يُجِبْهُ غَيْرُهَا مِنْهُنَّ نَعَمْ يَا نَبِيَّ اللَّهِ لَا يُدْرَی حِينَئِذٍ مَنْ هِيَ قَالَ فَتَصَدَّقْنَ فَبَسَطَ بِلَالٌ ثَوْبَهُ ثُمَّ قَالَ هَلُمَّ فِدًی لَکُنَّ أَبِي وَأُمِّي فَجَعَلْنَ يُلْقِينَ الْفَتَخَ وَالْخَوَاتِمَ فِي ثَوْبِ بِلَالٍ
محمد بن رافع، عبد بن حمید، عبدالرزاق، ابن جریج، حسن بن مسلم، طاؤس، حضرت ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ میں رسول اللہ ﷺ ابوبکر و عثمان (رض) کے ساتھ عیدالفطر کی نماز میں حاضر ہوا سب نے خطبہ سے پہلے نماز پڑھائی پھر خطبہ دیا اللہ کے نبی ﷺ منبر سے اترے گویا کہ میں اب ان کی طرف دیکھ رہا ہوں آپ ﷺ اپنے ہاتھ سے اشارہ فرما کر لوگوں کو بٹھا رہے تھے پھر ان کے درمیان سے گزرتے ہوئے عورتوں کے پاس تشریف لائے اور آپ ﷺ کے ساتھ حضرت بلال تھے اور آپ ﷺ نے یہ آیت تلاوت کی (يٰ اَيُّهَا النَّبِيُّ اِذَا جَا ءَكَ الْمُؤْمِنٰتُ يُبَايِعْنَكَ عَلٰ ي اَنْ لَّا يُشْرِكْنَ بِاللّٰهِ شَ يْ ً ا) 60 ۔ الممتحنہ : 12) جب اس آیت کی تلاوت سے فارغ ہوئے تو فرمایا کہ تم سب اس کا اقرار کرتی ہو ؟ ان میں سے ایک عورت کے علاوہ کسی نے جواب نہ دیا، اس نے کہا جی ہاں اے اللہ کے نبی ﷺ ! اور راوی نہیں جانتا کہ وہ اس وقت کون عورت تھی فرماتے ہیں پھر انہوں نے صدقہ دینا شروع کیا بلال (رض) نے اپنا کپڑا بچھا یا اور کہا لے آؤ میرے ماں باپ تم پر فدا ہوں پس انہوں نے اپنے چھلے اور انگوٹھیاں بلال (رض) کے کپڑے میں ڈالنا شروع کردیں۔
2045
Sahih Muslimحَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَابْنُ أَبِي عُمَرَ قَالَ أَبُو بَکْرٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ قَالَ سَمِعْتُ عَطَائً قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُا أَشْهَدُ عَلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَصَلَّی قَبْلَ الْخُطْبَةِ قَالَ ثُمَّ خَطَبَ فَرَأَی أَنَّهُ لَمْ يُسْمِعْ النِّسَائَ فَأَتَاهُنَّ فَذَکَّرَهُنَّ وَوَعَظَهُنَّ وَأَمَرَهُنَّ بِالصَّدَقَةِ وَبِلَالٌ قَائِلٌ بِثَوْبِهِ فَجَعَلَتْ الْمَرْأَةُ تُلْقِي الْخَاتَمَ وَالْخُرْصَ وَالشَّيْئَ
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابن ابی عمر، سفیان بن عیینہ، ایوب، حضرت ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ رسول اللہ ﷺ نے خطبہ سے پہلے نماز پڑھائی بعد میں خطبہ دیا اور خیال کیا کہ آپ ﷺ نے عورتوں کو نہیں سنایا پھر آپ ﷺ عورتوں کے پاس تشریف لائے اور ان کو وعظ و نصیحت کی اور ان کو صدقہ کرنے کا حکم دیا اور بلال (رض) اپنا کپڑا بچھانے والے تھے اور عورتوں میں سے کسی نے انگوٹھی، کسی نے چھلا اور کسی نے کوئی اور چیز ڈالنا شروع کیا۔
2046
Sahih Muslimحَدَّثَنِيهِ أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ح و حَدَّثَنِي يَعْقُوبُ الدَّوْرَقِيُّ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ کِلَاهُمَا عَنْ أَيُّوبَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ
ابوربیع زہرانی، حماد، ح، یعقوب دورقی، اسماعیل بن ابراہیم، حضرت ایوب سے اسی حدیث کی سند ذکر کردی گئی ہے۔
2047
Sahih Muslimحَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ابْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي عَطَائٌ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ سَمِعْتُهُ يَقُولُ إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ يَوْمَ الْفِطْرِ فَصَلَّی فَبَدَأَ بِالصَّلَاةِ قَبْلَ الْخُطْبَةِ ثُمَّ خَطَبَ النَّاسَ فَلَمَّا فَرَغَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَزَلَ وَأَتَی النِّسَائَ فَذَکَّرَهُنَّ وَهُوَ يَتَوَکَّأُ عَلَی يَدِ بِلَالٍ وَبِلَالٌ بَاسِطٌ ثَوْبَهُ يُلْقِينَ النِّسَائُ صَدَقَةً قُلْتُ لِعَطَائٍ زَکَاةَ يَوْمِ الْفِطْرِ قَالَ لَا وَلَکِنْ صَدَقَةً يَتَصَدَّقْنَ بِهَا حِينَئِذٍ تُلْقِي الْمَرْأَةُ فَتَخَهَا وَيُلْقِينَ وَيُلْقِينَ قُلْتُ لِعَطَائٍ أَحَقًّا عَلَی الْإِمَامِ الْآنَ أَنْ يَأْتِيَ النِّسَائَ حِينَ يَفْرُغُ فَيُذَکِّرَهُنَّ قَالَ إِي لَعَمْرِي إِنَّ ذَلِکَ لَحَقٌّ عَلَيْهِمْ وَمَا لَهُمْ لَا يَفْعَلُونَ ذَلِکَ
اسحاق بن ابراہیم، محمد بن رافع، عبدالرزاق، ابن جریج، عطاء، حضرت جابر بن عبداللہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی ﷺ عیدالفطر کے دن کھڑے ہوئے اور نماز سے ابتداء کی خطبہ سے پہلے پھر لوگوں کو خطبہ دیا جب آپ ﷺ فارغ ہوئے تو منبر سے اتر آئے اور عورتوں کے پاس تشریف لائے اور آپ ﷺ نے حضرت بلال کے ہاتھ پر سہارا لگائے ہوئے ان کو نصیحت کی اور حضرت بلال اپنا کپڑا پھیلانے والے تھے عورتیں اس میں صدقہ ڈالتی تھیں راوی کہتے ہیں میں نے عطاء سے عرض کیا کہ عیدالفطر کے دن کا صدقہ ؟ فرمایا نہیں یہ اور صدقہ تھا جو وہ اس وقت دیتی تھیں ایک عورت پہلے ڈالتی تھی اور پھر مزید ڈالتی تھیں اور دوسرے راوی کہتے ہیں کہ میں نے عطا سے پوچھا کیا اب بھی امام کے لئے فارغ ہونے کے بعد عورتوں کو نصیحت کرنے کے لئے جانے کا حق ہے ؟ فرمایا مجھے اپنی جان کی قسم یہ ان پر حق ہے اور ان کو کیا ہوگیا ہے کہ وہ ایسا نہیں کرتے۔
2048
Sahih Muslimحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ عَنْ عَطَائٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ شَهِدْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّلَاةَ يَوْمَ الْعِيدِ فَبَدَأَ بِالصَّلَاةِ قَبْلَ الْخُطْبَةِ بِغَيْرِ أَذَانٍ وَلَا إِقَامَةٍ ثُمَّ قَامَ مُتَوَکِّئًا عَلَی بِلَالٍ فَأَمَرَ بِتَقْوَی اللَّهِ وَحَثَّ عَلَی طَاعَتِهِ وَوَعَظَ النَّاسَ وَذَکَّرَهُمْ ثُمَّ مَضَی حَتَّی أَتَی النِّسَائَ فَوَعَظَهُنَّ وَذَکَّرَهُنَّ فَقَالَ تَصَدَّقْنَ فَإِنَّ أَکْثَرَکُنَّ حَطَبُ جَهَنَّمَ فَقَامَتْ امْرَأَةٌ مِنْ سِطَةِ النِّسَائِ سَفْعَائُ الْخَدَّيْنِ فَقَالَتْ لِمَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ لِأَنَّکُنَّ تُکْثِرْنَ الشَّکَاةَ وَتَکْفُرْنَ الْعَشِيرَ قَالَ فَجَعَلْنَ يَتَصَدَّقْنَ مِنْ حُلِيِّهِنَّ يُلْقِينَ فِي ثَوْبِ بِلَالٍ مِنْ أَقْرِطَتِهِنَّ وَخَوَاتِمِهِنَّ
محمد بن عبداللہ بن نمیر، عبدالملک بن ابوسلیمان، عطاء، حضرت جابر بن عبداللہ (رض) سے روایت ہے کہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ عید کے دن نماز کے لئے حاضر ہوا تو آپ ﷺ نے اذان اور اقامت کے بغیر نماز پڑھائی خطبے سے پہلے پھر بلال (رض) پر ٹیک لگائے کھڑے ہوگئے، اللہ پر تقوی کا حکم دیا اور اس کی اطاعت کی ترغیب دی اور لوگوں کو وعظ و نصیحت کی پھر عورتوں کے پاس جا کر ان کو وعظ و نصیحت کی اور فرمایا کہ صدقہ کرو کیونکہ تم میں سے اکثر جہنم کا ایندھن ہیں، عورتوں کے درمیان سے ایک سرخی مائل سیاہ رخساروں والی عورت نے کھڑے ہو کر عرض کیا کیوں یا رسول اللہ ﷺ ؟ فرمایا : کیونکہ تم شکوہ زیادہ کرتی ہو اور شوہر کی ناشکری، حضرت جابر فرماتے ہیں وہ اپنے زیوروں کو صدقہ کرنا شروع ہوگئیں حضرت بلال (رض) کے کپڑے میں اپنی بالیاں اور انگوٹھیاں ڈالنے لگیں۔
2049
Sahih Muslimحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي عَطَائٌ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ قَالَا لَمْ يَکُنْ يُؤَذَّنُ يَوْمَ الْفِطْرِ وَلَا يَوْمَ الْأَضْحَی ثُمَّ سَأَلْتُهُ بَعْدَ حِينٍ عَنْ ذَلِکَ فَأَخْبَرَنِي قَالَ أَخْبَرَنِي جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيُّ أَنْ لَا أَذَانَ لِلصَّلَاةِ يَوْمَ الْفِطْرِ حِينَ يَخْرُجُ الْإِمَامُ وَلَا بَعْدَ مَا يَخْرُجُ وَلَا إِقَامَةَ وَلَا نِدَائَ وَلَا شَيْئَ لَا نِدَائَ يَوْمَئِذٍ وَلَا إِقَامَةَ
محمد بن رافع، عبدالرزاق، ابن جریج، عطاء، ابن عباس، جابر بن عبداللہ انصاری سے روایت ہے کہ عید الفطر اور عید الاضحی کے دن اذان نہ تھی راوی کہتا ہے کہ میں نے تھوڑی دیر بعد اس بارے میں سوال کیا تو حضرت عطاء نے فرمایا کہ مجھے حضرت جابر بن عبداللہ انصاری (رض) نے خبر دی کہ عید الفطر کے دن نماز کے لئے اذان نہیں دی جاتی تھی امام کے نکلنے کے وقت اور نہ بعد میں، نہ اقامت اور نہ اذان، نہ اور کچھ، اس دن اذان اور نہ اقامت ہوتی ہے۔
2050
Sahih Muslimحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي عَطَائٌ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ أَرْسَلَ إِلَی ابْنِ الزُّبَيْرِ أَوَّلَ مَا بُويِعَ لَهُ أَنَّهُ لَمْ يَکُنْ يُؤَذَّنُ لِلصَّلَاةِ يَوْمَ الْفِطْرِ فَلَا تُؤَذِّنْ لَهَا قَالَ فَلَمْ يُؤَذِّنْ لَهَا ابْنُ الزُّبَيْرِ يَوْمَهُ وَأَرْسَلَ إِلَيْهِ مَعَ ذَلِکَ إِنَّمَا الْخُطْبَةُ بَعْدَ الصَّلَاةِ وَإِنَّ ذَلِکَ قَدْ کَانَ يُفْعَلُ قَالَ فَصَلَّی ابْنُ الزُّبَيْرِ قَبْلَ الْخُطْبَةِ
محمد بن رافع، عبدالرزاق، ابن جریج، عطاء سے روایت ہے کہ حضرت ابن عباس (رض) نے حضرت ابن زبیر کو جب ان کے لئے بیعت لی گئی تو پیغام بھیجا کہ عید الفطر کی نماز کے لئے اذان نہیں دی جاتی پس آپ اس کے لئے اذان نہ دلوائیں پس ابن زبیر نے اس کے لئے اذان نہ دلوائی اور اسی طرح یہ پیغام بھی بھیجا کہ خطبہ نماز کے بعد ہوتا ہے کہ اسی وجہ سے وہ یہی کرتے تھے پس ابن زبیر نے بھی خطبہ سے پہلے ہی نماز عید پڑھائی۔
2051
Sahih Muslimحَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی وَحَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالَ يَحْيَی أَخْبَرَنَا و قَالَ الْآخَرُونَ حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ عَنْ سِمَاکٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعِيدَيْنِ غَيْرَ مَرَّةٍ وَلَا مَرَّتَيْنِ بِغَيْرِ أَذَانٍ وَلَا إِقَامَةٍ
یحییٰ بن یحیی، حسن بن ربیع، قتیبہ بن سعید، ابوبکر بن ابی شیبہ، یحیی، ابوالاحوص، سماک، حضرت جابر بن سمرہ (رض) سے روایت ہے کہ میں نے نماز عیدین رسول اللہ کے ساتھ ایک یا دو مرتبہ سے زیادہ بغیر اذان اور اقامت ادا کی۔
2052
Sahih Muslimحَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ وَأَبُو أُسَامَةَ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبَا بَکْرٍ وَعُمَرَ کَانُوا يُصَلُّونَ الْعِيدَيْنِ قَبْلَ الْخُطْبَةِ
ابوبکر بن ابی شیبہ، عبدہ بن سلیمان، ابواسامہ، عبیداللہ، نافع، حضرت ابن عمر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ اور ابوبکر (رض) و عمر (رض) عیدین کی نماز خطبہ سے پہلے ادا کرتے تھے۔
2053
Sahih Muslimحَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ أَيُّوبَ وَقُتَيْبَةُ وَابْنُ حُجْرٍ قَالُوا حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ عَنْ دَاوُدَ بْنِ قَيْسٍ عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ يَخْرُجُ يَوْمَ الْأَضْحَی وَيَوْمَ الْفِطْرِ فَيَبْدَأُ بِالصَّلَاةِ فَإِذَا صَلَّی صَلَاتَهُ وَسَلَّمَ قَامَ فَأَقْبَلَ عَلَی النَّاسِ وَهُمْ جُلُوسٌ فِي مُصَلَّاهُمْ فَإِنْ کَانَ لَهُ حَاجَةٌ بِبَعْثٍ ذَکَرَهُ لِلنَّاسِ أَوْ کَانَتْ لَهُ حَاجَةٌ بِغَيْرِ ذَلِکَ أَمَرَهُمْ بِهَا وَکَانَ يَقُولُ تَصَدَّقُوا تَصَدَّقُوا تَصَدَّقُوا وَکَانَ أَکْثَرَ مَنْ يَتَصَدَّقُ النِّسَائُ ثُمَّ يَنْصَرِفُ فَلَمْ يَزَلْ کَذَلِکَ حَتَّی کَانَ مَرْوَانُ بْنُ الْحَکَمِ فَخَرَجْتُ مُخَاصِرًا مَرْوَانَ حَتَّی أَتَيْنَا الْمُصَلَّی فَإِذَا کَثِيرُ بْنُ الصَّلْتِ قَدْ بَنَی مِنْبَرًا مِنْ طِينٍ وَلَبِنٍ فَإِذَا مَرْوَانُ يُنَازِعُنِي يَدَهُ کَأَنَّهُ يَجُرُّنِي نَحْوَ الْمِنْبَرِ وَأَنَا أَجُرُّهُ نَحْوَ الصَّلَاةِ فَلَمَّا رَأَيْتُ ذَلِکَ مِنْهُ قُلْتُ أَيْنَ الِابْتِدَائُ بِالصَّلَاةِ فَقَالَ لَا يَا أَبَا سَعِيدٍ قَدْ تُرِکَ مَا تَعْلَمُ قُلْتُ کَلَّا وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَا تَأْتُونَ بِخَيْرٍ مِمَّا أَعْلَمُ ثَلَاثَ مِرَارٍ ثُمَّ انْصَرَفَ
یحییٰ بن ایوب، قتیبہ، ابن حجر، اسماعیل بن جعفر، داود بن قیس، عیاض بن عبداللہ بن سعد، حضرت ابوسعید خدری (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ عید الفطر و عید الاضحی کے دن تشریف لاتے تو نماز سے ابتداء فرماتے جب نماز ادا کرلیتے تو کھڑے ہوتے اور لوگوں کی طرف متوجہ ہوتے اور صحابہ اپنی صفوں میں بیٹھے ہوتے پس اگر آپ ﷺ کو کسی لشکر کے روانہ کی ضرورت ہوتی تو ان سے اس کا ذکر فرماتے اور اگر اس کے علاوہ کوئی اور ضرورت ہوتی تو ان سے اس کا ذکر فرماتے اور فرماتے صدقہ کرو، صدقہ کرو، صدقہ کرو اور عورتیں زیادہ صدقہ کرتیں پھر آپ ﷺ واپس آتے، اسی طرح ہوتا رہا یہاں تک کہ مروان بن حکم حکمران ہوا تو راوی کہتے ہیں کہ میں مروان کے ہاتھ میں ہاتھ ڈالے عید گاہ کی طرف آیا تو کثیر بن صلت نے مٹی اور اینٹوں سے منبر بنایا تو مروان نے مجھے سے ہاتھ چھڑوانا چاہا گویا کہ وہ مجھے منبر کی طرف کھینچ رہا تھا اور میں اس کو نماز کی طرف کھینچ رہا تھا جب میں نے اس کی یہ کیفیت دیکھی تو میں نے کہا نماز سے ابتداء کہاں گئی تو اس نے کہا اے ابوسعید جو تو جانتا ہے وہ بات اب چھوڑی جا چکی ہے، میں نے کہا ہرگز نہیں، اس ذات کی قسم جس کے قبصہ قدرت میں میری جان ہے تم میری معلومات سے زیادہ نہیں پیش کرسکتے میں نے تین بار یہی بات دہرائی پھر واپس آگیا۔