hadith book logo

Sahih Muslim

27. وصیت کا بیان

صحيح مسلم

4204
Sahih Muslim
صحیح
حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی الْعَنَزِيُّ وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّی قَالَا حَدَّثَنَا يَحْيَی وَهُوَ ابْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ أَخْبَرَنِي نَافِعٌ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا حَقُّ امْرِئٍ مُسْلِمٍ لَهُ شَيْئٌ يُرِيدُ أَنْ يُوصِيَ فِيهِ يَبِيتُ لَيْلَتَيْنِ إِلَّا وَوَصِيَّتُهُ مَکْتُوبَةٌ عِنْدَهُ
ابوخیثمہ، زہیر بن حرب، محمد بن مثنی، یحیی، ابن سعید قطان، عبیداللہ، نافع، حضرت ابن عمر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا اس مسلمان کے لئے مناسب نہیں جس کے پاس کوئی چیز ہو اور وہ اس میں وصیت کا ارادہ رکھتا ہو کہ وہ دو راتیں گزار دے سوائے اس کے کہ اس کی وصیت لکھی ہوئی اس کے پاس موجود نہ ہو۔
4205
Sahih Muslim
صحیح
و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنِي أَبِي کِلَاهُمَا عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ غَيْرَ أَنَّهُمَا قَالَا وَلَهُ شَيْئٌ يُوصِي فِيهِ وَلَمْ يَقُولَا يُرِيدُ أَنْ يُوصِيَ فِيهِ
ابوبکر بن ابی شیبہ، عبدہ بن سلیمان، عبداللہ بن نمیر، ابن نمیر، حضرت عبیداللہ (رض) سے بھی دوسری سند کے ساتھ یہ حدیث مبارکہ مروی ہے اس میں یہ ہے کہ اس کے کوئی چیز ہو جس میں وصیت ہوسکتی ہو۔ انہوں نے یہ نہیں کہا کہ وہ اس میں وصیت کرنے کا ارادہ رکھتا ہو۔
4206
Sahih Muslim
صحیح
و حَدَّثَنَا أَبُو کَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ح و حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ يَعْنِي ابْنَ عُلَيَّةَ کِلَاهُمَا عَنْ أَيُّوبَ ح و حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ ح و حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ اللَّيْثِيُّ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْکٍ أَخْبَرَنَا هِشَامٌ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ کُلُّهُمْ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ حَدِيثِ عُبَيْدِ اللَّهِ وَقَالُوا جَمِيعًا لَهُ شَيْئٌ يُوصِي فِيهِ إِلَّا فِي حَدِيثِ أَيُّوبَ فَإِنَّهُ قَالَ يُرِيدُ أَنْ يُوصِيَ فِيهِ کَرِوَايَةِ يَحْيَی عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ
ابوکامل حجدری، حماد ابن زید، زہیر بن حرب، اسماعیل ابن علیہ، ایوب، ابوطاہر، ابن وہب، یونس، ہارون بن سعید ایلی، ابن وہب، اسامہ بن زید لیثی، محمد بن رافع، ابن ابی فدیک، ہشام ابن سعد، نافع، ابن عمران مختلف اسانید سے حضرت ابن عمر (رض) کی نبی کریم ﷺ سے یہ حدیث مروی ہے کہ اس کے پاس قبل وصیت کوئی چیز ہو۔ ایوب کی حدیث میں ہے کہ وصیت کرنے کا ارادہ رکھتا ہو یحییٰ عن عبیداللہ کی روایت کی طرح۔
4207
Sahih Muslim
صحیح
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي عَمْرٌو وَهُوَ ابْنُ الْحَارِثِ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ سَالِمٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا حَقُّ امْرِئٍ مُسْلِمٍ لَهُ شَيْئٌ يُوصِي فِيهِ يَبِيتُ ثَلَاثَ لَيَالٍ إِلَّا وَوَصِيَّتُهُ عِنْدَهُ مَکْتُوبَةٌ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ مَا مَرَّتْ عَلَيَّ لَيْلَةٌ مُنْذُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ ذَلِکَ إِلَّا وَعِنْدِي وَصِيَّتِي
ہارون بن معروف، ابن وہب، عمرو، ابن حارث، ابن شہاب، سالم، حضرت ابن عمر (رض) سے روایت ہے۔ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا۔ آپ ﷺ نے فرمایا۔ کسی مسلمان مرد کے لئے مناسب نہیں ہے کہ اس کے پاس کوئی چیز قابل وصیت ہو اور وہ وصیت اپنے پاس لکھ کر رکھے بغیر تین راتیں گزار دے۔ عبداللہ بن عمر (رض) سے فرمایا جب سے میں نے رسول اللہ ﷺ سے یہ حدیث سنی ہے مجھ پر ایک رات بھی نہیں گزری کہ جس میں میری وصیت میرے پاس موجود نہ ہو
4208
Sahih Muslim
صحیح
و حَدَّثَنِيهِ أَبُو الطَّاهِرِ وَحَرْمَلَةُ قَالَا أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ ح و حَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ جَدِّي حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ قَالَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ کُلُّهُمْ عَنْ الزُّهْرِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَ حَدِيثِ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ
ابوطاہر، حرملہ بن یحیی، ابن وہب، یونس، عبدالملک بن شعیب بن لیث، عقیل، ابن ابی عمر، عبد بن حمید، عبدالرزاق، معمر، حضرت زہری سے مختلف اسانید کے ساتھ یہ حدیث کی مروی ہے۔
4209
Sahih Muslim
صحیح
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی التَّمِيمِيُّ أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ عَادَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ مِنْ وَجَعٍ أَشْفَيْتُ مِنْهُ عَلَی الْمَوْتِ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ بَلَغَنِي مَا تَرَی مِنْ الْوَجَعِ وَأَنَا ذُو مَالٍ وَلَا يَرِثُنِي إِلَّا ابْنَةٌ لِي وَاحِدَةٌ أَفَأَتَصَدَّقُ بِثُلُثَيْ مَالِي قَالَ لَا قَالَ قُلْتُ أَفَأَتَصَدَّقُ بِشَطْرِهِ قَالَ لَا الثُّلُثُ وَالثُّلُثُ کَثِيرٌ إِنَّکَ أَنْ تَذَرَ وَرَثَتَکَ أَغْنِيَائَ خَيْرٌ مِنْ أَنْ تَذَرَهُمْ عَالَةً يَتَکَفَّفُونَ النَّاسَ وَلَسْتَ تُنْفِقُ نَفَقَةً تَبْتَغِي بِهَا وَجْهَ اللَّهِ إِلَّا أُجِرْتَ بِهَا حَتَّی اللُّقْمَةُ تَجْعَلُهَا فِي فِي امْرَأَتِکَ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أُخَلَّفُ بَعْدَ أَصْحَابِي قَالَ إِنَّکَ لَنْ تُخَلَّفَ فَتَعْمَلَ عَمَلًا تَبْتَغِي بِهِ وَجْهَ اللَّهِ إِلَّا ازْدَدْتَ بِهِ دَرَجَةً وَرِفْعَةً وَلَعَلَّکَ تُخَلَّفُ حَتَّی يُنْفَعَ بِکَ أَقْوَامٌ وَيُضَرَّ بِکَ آخَرُونَ اللَّهُمَّ أَمْضِ لِأَصْحَابِي هِجْرَتَهُمْ وَلَا تَرُدَّهُمْ عَلَی أَعْقَابِهِمْ لَکِنْ الْبَائِسُ سَعْدُ بْنُ خَوْلَةَ قَالَ رَثَی لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَنْ تُوُفِّيَ بِمَکَّةَ
یحییٰ بن یحییٰ تمیمی، ابراہیم بن سعد، ابن شہاب، عامر بن سعد، حضرت سعد (رض) سے روایت ہے کہ حجتہ الوداع کے موقعہ پر رسول اللہ ﷺ نے میری عیادت ایسے درد میں کی جس میں موت کے قریب ہوگیا تھا۔ عرض کیا اے اللہ کہ رسول ! آپ ﷺ جانتے ہیں کہ جیسا درد مجھے پہنچا ہے میں مالدار ہوں اور میرا، میری ایک بیٹی کہ سوا کوئی وارث نہیں۔ کیا میں اپنے مال سے دو تہائی خیرات کردوں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا نہیں۔ میں نے عرض کیا کیا میں نصف خیرات کردوں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا نہیں، بلکہ تہائی اور تہائی بہت ہے بیشک اگر تو اپنے وارثوں کو مالدار چھوڑے یہ اس سے بہتر ہے کہ تو انہیں تنگ دست لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلانے والا چھوڑے اور تو جو مال بھی خرچ کرتا ہے کہ اس سے اللہ کی رضا کا طالب ہوتا ہے تو اس پر تجھے اجر دیا جاتا ہے یہاں تک کہ وہ لقمہ جو تو اپنی بیوی کے منہ میں ڈالتا ہے۔ میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ! کیا میں اپنے ساتھیوں کے بعد پیچھے رہ جاؤں گا ؟ آپ ﷺ نے فرمایا تو ہرگز پیچھے نہ رہے گا اگر تو کوئی بھی عمل کرے گا جس سے اللہ کی رضا کا طالب ہوگا تو اس سے تیرا ایک درجہ بلند ہوگا اور بڑھے گا اور شاید تو پیچھے رہے یہاں تک کہ تیرے ذریعے لوگوں کو نفع دیا جائے گا اور دوسروں کو نقصان۔ اے اللہ ! میرے صحابہ (رض) کے لئے ان کی ہجرت کو پورا فرما دے اور ان کو اپنی ایڑھیوں پر واپس نہ لوٹا لیکن سعد بن خولہ نقصان اٹھانے والا ہے اور آپ ﷺ نے اس کے لئے افسوس کا اظہار فرمایا اس وجہ سے مکہ میں فوت ہوا۔
4210
Sahih Muslim
صحیح
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالَا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ح و حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ وَحَرْمَلَةُ قَالَا أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ ح و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ قَالَا أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ کُلُّهُمْ عَنْ الزُّهْرِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ
قتیبہ بن سعید، ابوبکر بن ابی شیبہ، سفیان بن عیینہ، حرملہ، ابن وہب، یونس، اسحاق بن ابراہیم، عبد بن حمید، عبدالرزاق، معمر، حضرت زہری سے مختلف اسناد کے ساتھ یہ حدیث اسی طرح مروی ہے۔
4211
Sahih Muslim
صحیح
و حَدَّثَنِي إِسْحَقُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الْحَفَرِيُّ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ سَعْدٍ قَالَ دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيَّ يَعُودُنِي فَذَکَرَ بِمَعْنَی حَدِيثِ الزُّهْرِيِّ وَلَمْ يَذْکُرْ قَوْلَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَعْدِ بْنِ خَوْلَةَ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ وَکَانَ يَکْرَهُ أَنْ يَمُوتَ بِالْأَرْضِ الَّتِي هَاجَرَ مِنْهَا
اسحاق بن منصور، ابوداود، سفیان، سعد بن ابراہیم، عامربن سعد، حضرت سعد (رض) سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ میرے پاس میری عیادت کے لئے تشریف لائے۔ باقی حدیث زہری کی حدیث کی طرح ذکر کی ہے لیکن سعد بن خولہ (رض) کے بارے میں نبی کریم ﷺ کا قول ذکر نہیں کیا لیکن یہ فرمایا کہ حضرت سعد (رض) اس زمین میں مرنا ناپسند کرتے تھے جہاں سے انہوں نے ہجرت کی تھی۔
4212
Sahih Muslim
صحیح
و حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَی حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا سِمَاکُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنِي مُصْعَبُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ مَرِضْتُ فَأَرْسَلْتُ إِلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ دَعْنِي أَقْسِمْ مَالِي حَيْثُ شِئْتُ فَأَبَی قُلْتُ فَالنِّصْفُ فَأَبَی قُلْتُ فَالثُّلُثُ قَالَ فَسَکَتَ بَعْدَ الثُّلُثِ قَالَ فَکَانَ بَعْدُ الثُّلُثُ جَائِزًا
زہیر بن حرب، حسن بن موسی، زہیر، سماک بن حرب، مصعب بن سعد، حضرت سعد (رض) سے روایت ہے کہ میں بیمار ہوا تو میں نے نبی کریم ﷺ کے پاس پیغام بھیجا۔ میں نے عرض کیا مجھے آپ اپنے مال کے تقسیم کرنے کی اجازت دے دیں۔ جیسے میں چاہوں۔ آپ ﷺ نے انکار فرمایا۔ میں نے نصف کے لئے عرض کیا تو بھی آپ ﷺ نے انکار فرمایا میں نے تہائی کے لئے عرض کیا تو تہائی کے بعد آپ ﷺ خاموش رہے کہتے ہیں تو اس کے بعد ایک تہائی جائز ہوگیا۔
4213
Sahih Muslim
صحیح
و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سِمَاکٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ وَلَمْ يَذْکُرْ فَکَانَ بَعْدُ الثُّلُثُ جَائِزًا
محمد بن مثنی، ابن بشار، محمد بن جعفر، شعبہ، سماک، حضرت سماک سے روایت ہے کہ اس سند کے ساتھ یہ حدیث اسی طرح مروی ہے لیکن انہوں نے اس کے بعد تہائی جائز ہوگیا کو ذکر نہیں کیا