Sahih Muslim
21. لعان کا بیان
صحيح مسلم
3743
Sahih Muslimو حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ أَنَّ سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ السَّاعِدِيَّ أَخْبَرَهُ أَنَّ عُوَيْمِرًا الْعَجْلَانِيَّ جَائَ إِلَی عَاصِمِ بْنِ عَدِيٍّ الْأَنْصَارِيِّ فَقَالَ لَهُ أَرَأَيْتَ يَا عَاصِمُ لَوْ أَنَّ رَجُلًا وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلًا أَيَقْتُلُهُ فَتَقْتُلُونَهُ أَمْ کَيْفَ يَفْعَلُ فَسَلْ لِي عَنْ ذَلِکَ يَا عَاصِمُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَ عَاصِمٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَکَرِهَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَسَائِلَ وَعَابَهَا حَتَّی کَبُرَ عَلَی عَاصِمٍ مَا سَمِعَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا رَجَعَ عَاصِمٌ إِلَی أَهْلِهِ جَائَهُ عُوَيْمِرٌ فَقَالَ يَا عَاصِمُ مَاذَا قَالَ لَکَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ عَاصِمٌ لِعُوَيْمِرٍ لَمْ تَأْتِنِي بِخَيْرٍ قَدْ کَرِهَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَسْأَلَةَ الَّتِي سَأَلْتُهُ عَنْهَا قَالَ عُوَيْمِرٌ وَاللَّهِ لَا أَنْتَهِي حَتَّی أَسْأَلَهُ عَنْهَا فَأَقْبَلَ عُوَيْمِرٌ حَتَّی أَتَی رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسَطَ النَّاسِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ رَجُلًا وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلًا أَيَقْتُلُهُ فَتَقْتُلُونَهُ أَمْ کَيْفَ يَفْعَلُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ نَزَلَ فِيکَ وَفِي صَاحِبَتِکَ فَاذْهَبْ فَأْتِ بِهَا قَالَ سَهْلٌ فَتَلَاعَنَا وَأَنَا مَعَ النَّاسِ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا فَرَغَا قَالَ عُوَيْمِرٌ کَذَبْتُ عَلَيْهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنْ أَمْسَکْتُهَا فَطَلَّقَهَا ثَلَاثًا قَبْلَ أَنْ يَأْمُرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ فَکَانَتْ سُنَّةَ الْمُتَلَاعِنَيْنِ
یحییٰ بن یحیی، مالک، حضرت ابن شہاب (رض) سے روایت ہے کہ حضرت سہل بن سعد ساعدی (رض) نے انہیں خبر دی ہے کہ حضرت عویمر عجلانی (رض) حضرت عاصم بن عدی انصاری (رض) کی طرف آئے اور ان سے کہا اے عاصم تمہارا کیا خیال ہے کہ اگر کوئی آدمی اپنی بیوی کے ساتھ کسی آدمی کو پائے تو کیا وہ اسے قتل کر دے اگر وہ اسی طرح کرے تو کیا تم اسے قتل کر دوگے ؟ اے عاصم ! اس بارے میں تم میرے لئے رسول اللہ ﷺ سے پوچھو حضرت عاصم نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا تو رسول اللہ ﷺ نے اس طرح کے مسائل کے بارے میں پوچھنے کو ناپسند فرمایا اور اس کی مذمت فرمائی حضرت عاصم پر رسول اللہ ﷺ کی یہ بات سن کر گراں گزرا جب حضرت عاصم اپنے گھر والوں کی طرف آئے تو حضرت عویمر ان کے پاس آئے اور کہنے لگے کہ تجھے رسول اللہ ﷺ نے کیا فرمایا ہے عاصم (رض) عویمر (رض) سے کہنے لگے کہ میں کوئی بھلائی کی خبر نہیں لایا رسول اللہ ﷺ نے اس مسئلہ کو جو میں نے آپ ﷺ سے پوچھا تھا اسے ناپسند فرمایا عویمر (رض) کہنے لگے اللہ کی قسم میں نہیں رکوں گا مگر یہاں تک کہ میں آپ ﷺ سے اس بارے میں پوچھ لوں عویمر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آئے تو اور لوگ بھی وہاں موجود تھے عویمر نے عرض کیا اے اللہ کے رسول آپ ﷺ کا کیا خیال ہے کہ ایک آدمی اپنی بیوی کے ساتھ کسی آدمی کو پائے تو کیا وہ اسے قتل کر دے اگر وہ ایسا کرے تو کیا آپ ﷺ اسے قتل کردیں گے یا وہ کیا کرے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تیرے اور تیری بیوی کے بارے میں آیت نازل ہوئی ہے جاؤ اور اپنی بیوی کو لے کر آؤ حضرت سہل کہتے ہیں کہ ان دونوں نے لعان کیا اور میں بھی لوگوں کے ساتھ رسول اللہ ﷺ کے پاس تھا تو جب وہ دونوں لعان سے فارغ ہوئے تو عویمر نے کہا اے اللہ کے رسول اگر میں اسے اپنے ساتھ رکھوں تو میں جھوٹا ہوں گا اور اس نے رسول اللہ ﷺ کے حکم فرمانے سے پہلے ہی اپنی اس عورت کو تین طلاقیں دے دیں ابن شہاب کہتے ہیں کہ پھر لعان کرنے والوں کے بارے میں یہی طریقہ جاری ہوگیا۔
3744
Sahih Muslimو حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ أَخْبَرَنِي سَهْلُ بْنُ سَعْدٍ الْأَنْصَارِيُّ أَنَّ عُوَيْمِرًا الْأَنْصَارِيَّ مِنْ بَنِي الْعَجْلَانِ أَتَی عَاصِمَ بْنَ عَدِيٍّ وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمِثْلِ حَدِيثِ مَالِکٍ وَأَدْرَجَ فِي الْحَدِيثِ قَوْلَهُ وَکَانَ فِرَاقُهُ إِيَّاهَا بَعْدُ سُنَّةً فِي الْمُتَلَاعِنَيْنِ وَزَادَ فِيهِ قَالَ سَهْلٌ فَکَانَتْ حَامِلًا فَکَانَ ابْنُهَا يُدْعَی إِلَی أُمِّهِ ثُمَّ جَرَتْ السُّنَّةُ أَنَّهُ يَرِثُهَا وَتَرِثُ مِنْهُ مَا فَرَضَ اللَّهُ لَهَا
حرملہ بن یحیی، ابن وہب، یونس، ابن شہاب، حضرت سہل بن سعد (رض) خبر دیتے ہیں کہ حضرت عویمر انصاری (رض) جو کہ قبیلہ عجلان سے تھے وہ حضرت عاصم بن عدی (رض) کے پاس آئے آگے حدیث میں یہ بھی زائد ہے کہ حضرت عویمر انصاری کا اپنی بیوی سے علیحدہ ہونا بعد میں لعان کرنے والوں کا معمول بن گیا اور اس حدیث میں یہ بھی زائد ہے کہ حضرت سہل فرماتے ہیں ان کی بیوی حاملہ تھی اور اس کے پیٹ کو اس کی ماں کی طرف منسوب کیا گیا پھر یہ طریقہ بھی جاری ہوگیا کہ ایسا بچہ اپنی ماں کا وارث ہوتا تھا اور ماں اس کی وارث ہوتی تھی جو اللہ نے ان کے لئے مقرر فرمایا۔
3745
Sahih Muslimو حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي ابْنُ شِهَابٍ عَنْ الْمُتَلَاعِنَيْنِ وَعَنْ السُّنَّةِ فِيهِمَا عَنْ حَدِيثِ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ أَخِي بَنِي سَاعِدَةَ أَنَّ رَجُلًا مِنْ الْأَنْصَارِ جَائَ إِلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ رَجُلًا وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلًا وَذَکَرَ الْحَدِيثَ بِقِصَّتِهِ وَزَادَ فِيهِ فَتَلَاعَنَا فِي الْمَسْجِدِ وَأَنَا شَاهِدٌ وَقَالَ فِي الْحَدِيثِ فَطَلَّقَهَا ثَلَاثًا قَبْلَ أَنْ يَأْمُرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَفَارَقَهَا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاکُمْ التَّفْرِيقُ بَيْنَ کُلِّ مُتَلَاعِنَيْنِ
محمد بن رافع، عبدالرزاق، ابن جریج، ابن شہاب، حضرت سہل بن سعد (رض) سے روایت ہے کہ انصار کا ایک آدمی نبی ﷺ کی خدمت میں آیا اور اس نے عرض کیا اے اللہ کے رسول آپ ﷺ کا کیا خیال ہے کہ ایک آدمی اپنی بیوی کے ساتھ کسی آدمی کو پاتا ہے پھر اس سے آگے وہی قصہ روایت کیا گیا ہے اور اس روایت میں یہ زائد ہے کہ دونوں میاں بیوی نے مسجد میں لعان کیا اور میں بھی وہاں موجود تھا اور اس حدیث میں یہ بھی ہے کہ اس سے پہلے کہ رسول اللہ ﷺ ان کو حکم فرماتے اس آدمی نے اپنی اس عورت کو تین طلاقیں دے دیں اور نبی ﷺ کی موجودگی ہی میں اس سے جدا ہوگیا تو نبی ﷺ نے فرمایا ہر لعان کرنے والوں کے درمیان اسی طرح جدائی ہوگی۔
3746
Sahih Muslimحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي ح و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَاللَّفْظُ لَهُ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ قَالَ سُئِلْتُ عَنْ الْمُتَلَاعِنَيْنِ فِي إِمْرَةِ مُصْعَبٍ أَيُفَرَّقُ بَيْنَهُمَا قَالَ فَمَا دَرَيْتُ مَا أَقُولُ فَمَضَيْتُ إِلَی مَنْزِلِ ابْنِ عُمَرَ بِمَکَّةَ فَقُلْتُ لِلْغُلَامِ اسْتَأْذِنْ لِي قَالَ إِنَّهُ قَائِلٌ فَسَمِعَ صَوْتِي قَالَ ابْنُ جُبَيْرٍ قُلْتُ نَعَمْ قَالَ ادْخُلْ فَوَاللَّهِ مَا جَائَ بِکَ هَذِهِ السَّاعَةَ إِلَّا حَاجَةٌ فَدَخَلْتُ فَإِذَا هُوَ مُفْتَرِشٌ بَرْذَعَةً مُتَوَسِّدٌ وِسَادَةً حَشْوُهَا لِيفٌ قُلْتُ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُتَلَاعِنَانِ أَيُفَرَّقُ بَيْنَهُمَا قَالَ سُبْحَانَ اللَّهِ نَعَمْ إِنَّ أَوَّلَ مَنْ سَأَلَ عَنْ ذَلِکَ فُلَانُ بْنُ فُلَانٍ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ أَنْ لَوْ وَجَدَ أَحَدُنَا امْرَأَتَهُ عَلَی فَاحِشَةٍ کَيْفَ يَصْنَعُ إِنْ تَکَلَّمَ تَکَلَّمَ بِأَمْرٍ عَظِيمٍ وَإِنْ سَکَتَ سَکَتَ عَلَی مِثْلِ ذَلِکَ قَالَ فَسَکَتَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يُجِبْهُ فَلَمَّا کَانَ بَعْدَ ذَلِکَ أَتَاهُ فَقَالَ إِنَّ الَّذِي سَأَلْتُکَ عَنْهُ قَدْ ابْتُلِيتُ بِهِ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ هَؤُلَائِ الْآيَاتِ فِي سُورَةِ النُّورِ وَالَّذِينَ يَرْمُونَ أَزْوَاجَهُمْ فَتَلَاهُنَّ عَلَيْهِ وَوَعَظَهُ وَذَکَّرَهُ وَأَخْبَرَهُ أَنَّ عَذَابَ الدُّنْيَا أَهْوَنُ مِنْ عَذَابِ الْآخِرَةِ قَالَ لَا وَالَّذِي بَعَثَکَ بِالْحَقِّ مَا کَذَبْتُ عَلَيْهَا ثُمَّ دَعَاهَا فَوَعَظَهَا وَذَکَّرَهَا وَأَخْبَرَهَا أَنَّ عَذَابَ الدُّنْيَا أَهْوَنُ مِنْ عَذَابِ الْآخِرَةِ قَالَتْ لَا وَالَّذِي بَعَثَکَ بِالْحَقِّ إِنَّهُ لَکَاذِبٌ فَبَدَأَ بِالرَّجُلِ فَشَهِدَ أَرْبَعَ شَهَادَاتٍ بِاللَّهِ إِنَّهُ لَمِنْ الصَّادِقِينَ وَالْخَامِسَةُ أَنَّ لَعْنَةَ اللَّهِ عَلَيْهِ إِنْ کَانَ مِنْ الْکَاذِبِينَ ثُمَّ ثَنَّی بِالْمَرْأَةِ فَشَهِدَتْ أَرْبَعَ شَهَادَاتٍ بِاللَّهِ إِنَّهُ لَمِنْ الْکَاذِبِينَ وَالْخَامِسَةُ أَنَّ غَضَبَ اللَّهِ عَلَيْهَا إِنْ کَانَ مِنْ الصَّادِقِينَ ثُمَّ فَرَّقَ بَيْنَهُمَا
محمد بن عبداللہ بن نمیر، ابوبکر بن ابی شیبہ، حضرت سعید بن جبیر (رض) سے روایت ہے کہ فرماتے ہیں کہ حضرت مصعب (رض) کے زمانہ میں مجھ سے لعان کرنے والوں کے بارے میں پوچھا گیا کہ کیا ان دونوں کے درمیان جدائی ڈال دی جائے گی حضرت سعید (رض) فرماتے ہیں میں نہیں جانتا تھا کہ میں کیا کہوں چناچہ میں حضرت ابن عمر (رض) کے گھر مکہ گیا میں نے غلام سے کہا میرے لئے اجازت لو حضرت سعید فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عمر (رض) نے میرے کہنے کی آواز سن لی اور فرمانے لگے کہ ابن جبیر ہو میں نے کہا جی ہاں فرمانے لگے اندر آجاؤ اللہ کی قسم تم بغیر کسی ضروری کام کے اس وقت نہیں آئے ہو گے حضرت سعید کہتے ہیں کہ میں اندر داخل ہوا تو انہوں نے ایک کمبل بچھایا ہوا تھا اور تکیہ سے ٹیک لگائے بیٹھے تھے وہ تکیہ کہ جس میں کھجور کی چھال بھری ہوئی تھی میں نے عرض کیا اے ابوعبدالرحمن کیا لعان کرنے والے دونوں کے درمیان جدائی ڈال دی جائے گی حضرت ابن عمر (رض) نے فرمایا سُبْحَانَ اللَّهِ ! ہاں کیونکہ سب سے پہلے جس نے اس بارے میں پوچھا وہ فلاں بن فلاں تھا اس نے عرض کیا اے اللہ کے رسول آپ ﷺ کی کیا رائے ہے کہ اگر ہم میں سے کوئی اپنی بیوی کو فحش کام زنا کرتا ہوا پائے تو وہ کیا کرے اگر وہ کسی سے بات کرے تو یہ بہت بڑی بات کہے گا اور اگر خاموش رہے تو اس جیسی بات پر کیسے خاموش رہا جاسکتا ہے راوی کہتے ہیں کہ نبی ﷺ خاموش رہے اور اسے کوئی جواب نہیں دیا اس کے بعد وہ آدمی پھر آیا اور اس نے عرض کیا کہ جس مسئلہ کے بارے میں میں نے آپ ﷺ سے پوچھا تھا اب میں خود مبتلا ہوگیا ہوں پھر اللہ تعالیٰ نے سورت النور میں (وَالَّذِينَ يَرْمُونَ أَزْوَاجَهُمْ ) آیات نازل فرمائیں آپ ﷺ نے ان آیات کو اس پر تلاوت فرمایا اور اسے نصیحت فرمائی اور اسے سمجھایا کہ دنیا کا عذاب آخرت کے عذاب سے ہلکا ہے اس آدمی نے کہا نہیں اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے میں نے اس عورت پر جھوٹ نہیں بولا، پھر آپ ﷺ نے اس عورت کو بلایا اور وعظ و نصیحت فرمائی اور اسے خبر دی کہ دنیا کا عذاب آخرت کے عذاب سے ہلکا ہے۔ اس عورت نے کہا نہیں اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا ہے یہ آدمی جھوٹا ہے پھر آپ ﷺ نے اس آدمی سے آغاز فرمایا اور اس نے چار مرتبہ گواہی دی اور کہا اللہ کی قسم میں سچا ہوں اور پانچویں مرتبہ اس نے کہا کہ اگر میں جھوٹا ہوں تو مجھ پر اللہ کی لعنت ہو پھر آپ ﷺ اس عورت کی طرف متوجہ ہوئے تو اس عورت نے چار مرتبہ گواہی دی کہ یہ آدمی جھوٹا ہے اور پانچویں مرتبہ اس عورت نے کہا کہ اس عورت پر اللہ کا غضب نازل ہو اگر یہ آدمی سچا ہو پھر آپ ﷺ نے ان دونوں کے درمیان مستقل جدائی ڈال دی۔
3747
Sahih Muslimو حَدَّثَنِيهِ عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ حَدَّثَنَا عِيسَی بْنُ يُونُسَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ قَالَ سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ قَالَ سُئِلْتُ عَنْ الْمُتَلَاعِنَيْنِ زَمَنَ مُصْعَبِ بْنِ الزُّبَيْرِ فَلَمْ أَدْرِ مَا أَقُولُ فَأَتَيْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ فَقُلْتُ أَرَأَيْتَ الْمُتَلَاعِنَيْنِ أَيُفَرَّقُ بَيْنَهُمَا ثُمَّ ذَکَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ ابْنِ نُمَيْرٍ
علی بن حجر سعدی، عیسیٰ بن یونس، عبدالملک بن ابی سلیمان، حضرت سعید بن جبیر (رضی اللہ عنہم) فرماتے ہیں کہ حضرت مصعب بن زبیر (رض) کے زمانہ (خلافت) میں مجھ سے لعان کرنے والوں کے بارے میں سوال کیا گیا تو میں اس بارے میں کچھ نہیں جانتا تھا۔ میں حضرت ابن عمر (رض) کے پاس آیا اور میں نے ان سے کہا کہ لعان کرنے والوں کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے ؟ کیا ان دونوں کے درمیان جدائی ڈال دی جائے گی ؟ پھر ابن نمیر (رضی اللہ عنہ) کی حدیث کی طرح ذکر فرمایا۔
3748
Sahih Muslimو حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی وَأَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَاللَّفْظُ لِيَحْيَی قَالَ يَحْيَی أَخْبَرَنَا وَقَالَ الْآخَرَانِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ عَمْرٍو عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْمُتَلَاعِنَيْنِ حِسَابُکُمَا عَلَی اللَّهِ أَحَدُکُمَا کَاذِبٌ لَا سَبِيلَ لَکَ عَلَيْهَا قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَالِي قَالَ لَا مَالَ لَکَ إِنْ کُنْتَ صَدَقْتَ عَلَيْهَا فَهُوَ بِمَا اسْتَحْلَلْتَ مِنْ فَرْجِهَا وَإِنْ کُنْتَ کَذَبْتَ عَلَيْهَا فَذَاکَ أَبْعَدُ لَکَ مِنْهَا قَالَ زُهَيْرٌ فِي رِوَايَتِهِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرٍو سَمِعَ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ يَقُولُ سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
یحییٰ بن یحیی، ابوبکر بن ابی شیبہ، زہیر بن حرب، سفیان بن عیینہ، عمر، سعید بن جبیر، حضرت ابن عمر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے لعان کرنے والوں کے لئے فرمایا تمہارا حساب اللہ پر ہے تم دونوں میں سے کوئی ایک جھوٹا ہے تیرے لئے اس عورت پر کوئی راستہ نہیں ہے اس نے عرض کیا اے اللہ کے رسول میرا مال آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا تیرے لئے مال بھی نہیں مال پر کوئی حق نہیں اگر تو سچا ہے تو وہ مال اس کی فرج کے بدلہ میں ہے اور اگر تو جھوٹا ہے تو یہ تیرے لئے اس عورت سے زیادہ بعید ہے کہ تو مال کا مطالبہ کرے۔
3749
Sahih Muslimو حَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ فَرَّقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَخَوَيْ بَنِي الْعَجْلَانِ وَقَالَ اللَّهُ يَعْلَمُ أَنَّ أَحَدَکُمَا کَاذِبٌ فَهَلْ مِنْکُمَا تَائِبٌ
ابوربیع زہرانی، حماد، ایوب، سعید بن جبیر، حضرت ابن عمر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے بنو عجلان کے میاں بیوی کے درمیان جدائی ڈال دی اور فرمایا اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ تم دونوں میں سے ایک جھوٹا ہے تو کیا تم دونوں میں سے کوئی توبہ کرنے والا ہے ؟
3750
Sahih Muslimو حَدَّثَنَاه ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَيُّوبَ سَمِعَ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ قَالَ سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ عَنْ اللِّعَانِ فَذَکَرَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ
ابن ابی عمر، سفیان، حضرت ایوب (رض) سے روایت ہے انہوں نے سعید بن جبیر (رض) سے سنا فرمایا کہ میں نے ابن عمر (رض) سے لعان کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے نبی ﷺ سے اسی طرح ذکر فرمایا۔
3751
Sahih Muslimو حَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ وَاللَّفْظُ لِلْمِسْمَعِيِّ وَابْنِ الْمُثَنَّی قَالُوا حَدَّثَنَا مُعَاذٌ وَهُوَ ابْنُ هِشَامٍ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ قَتَادَةَ عَنْ عَزْرَةَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ قَالَ لَمْ يُفَرِّقْ الْمُصْعَبُ بَيْنَ الْمُتَلَاعِنَيْنِ قَالَ سَعِيدٌ فَذُکِرَ ذَلِکَ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ فَقَالَ فَرَّقَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَخَوَيْ بَنِي الْعَجْلَانِ
ابوغسان مسمعی، محمد بن مثنی، ابن بشار، ابن مثنی، معاذ بن ہشام، قتادہ، عزرہ، حضرت سعید بن جبیر (رض) سے روایت ہے کہ حضرت مصعب (رض) نے لعان کرنے والوں کے درمیان جدائی نہیں ڈالی حضرت سعید (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عمر (رض) سے اس کا ذکر کیا تو انہوں نے فرمایا کہ نبی ﷺ نے بنو عجلان کے دو میاں بیوی کے درمیان جدائی ڈالی تھی۔
3752
Sahih Muslimو حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ قَالَا حَدَّثَنَا مَالِکٌ ح و حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی وَاللَّفْظُ لَهُ قَالَ قُلْتُ لِمَالِکٍ حَدَّثَکَ نَافِعٌ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَجُلًا لَاعَنَ امْرَأَتَهُ عَلَی عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَفَرَّقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَهُمَا وَأَلْحَقَ الْوَلَدَ بِأُمِّهِ قَالَ نَعَمْ
سعید بن منصور، قتیبہ بن سعید، مالک، یحییٰ بن یحیی، نافع، حضرت ابن عمر (رض) سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے رسول اللہ کے زمانہ مبارک میں لعان کیا چناچہ رسول اللہ ﷺ نے ان دونوں میاں بیوی کے درمیان جدائی ڈلوا دی اور لڑکے کو اس کی ماں کے ساتھ ملا دیا (منسوب کیا) ۔