Sahih Muslim
34. جہاد کا بیان
صحيح مسلم
4519
Sahih Muslimحَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی التَّمِيمِيُّ حَدَّثَنَا سُلَيْمُ بْنُ أَخْضَرَ عَنْ ابْنِ عَوْنٍ قَالَ کَتَبْتُ إِلَی نَافِعٍ أَسْأَلُهُ عَنْ الدُّعَائِ قَبْلَ الْقِتَالِ قَالَ فَکَتَبَ إِلَيَّ إِنَّمَا کَانَ ذَلِکَ فِي أَوَّلِ الْإِسْلَامِ قَدْ أَغَارَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَی بَنِي الْمُصْطَلِقِ وَهُمْ غَارُّونَ وَأَنْعَامُهُمْ تُسْقَی عَلَی الْمَائِ فَقَتَلَ مُقَاتِلَتَهُمْ وَسَبَی سَبْيَهُمْ وَأَصَابَ يَوْمَئِذٍ قَالَ يَحْيَی أَحْسِبُهُ قَالَ جُوَيْرِيَةَ أَوْ قَالَ الْبَتَّةَ ابْنَةَ الْحَارِثِ وَحَدَّثَنِي هَذَا الْحَدِيثَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ وَکَانَ فِي ذَاکَ الْجَيْشِ
یحییٰ بن یحییٰ تمیمی، سلیم بن احضر، حضرت ابن عون (رض) سے روایت ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت نافع (رض) کو لکھا اور ان سے قتال سے قبل کافروں کو اسلام کی دعوت دینے کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے مجھے لکھا کہ یہ بات ابتداء اسلام میں تھی کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے بنی مصطلق پر حملہ کیا اس حال میں کہ وہ بیخبر تھے اور ان کے جانور پانی پی رہے تھے تو آپ ﷺ نے ان کے جنگجو مردوں کو قتل کیا اور باقیوں کو قید کرلیا اور اس دن حضرت جویریہ (رض) آپ ﷺ کو ملیں راوی کہتا ہے کہ میرا گمان ہے کہ حضرت جویریہ (رض) حارث کی بیٹی ہیں اور یہ حدیث مجھے ابن عمر (رض) نے بیان کی کیونکہ وہ اس لشکر میں تھے۔
4520
Sahih Muslimحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ ابْنِ عَوْنٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ وَقَالَ جُوَيْرِيَةَ بِنْتَ الْحَارِثِ وَلَمْ يَشُکَّ
محمد بن مثنی، ابن ابی عدی، ابن عون سے ان سندوں کے ساتھ اسی طرح یہ حدیث منقول ہے اور اس میں ہے کہ حضرت جویریہ حارث کی بیٹی ہیں اور شک نہیں کیا۔
4521
Sahih Muslimحَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا وَکِيعُ بْنُ الْجَرَّاحِ عَنْ سُفْيَانَ ح و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا يَحْيَی بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ قَالَ أَمْلَاهُ عَلَيْنَا إِمْلَائً
ابوبکر بن ابی شیبہ، وکیع بن جراح، سفیان، اسحاق ابن ابراہیم، حضرت یحییٰ بن آدم (رض) سے روایت ہے کہ حضرت سفیان نے ہمیں یہ حدیث بیان کی اور کہا کہ یہ حدیث انہوں نے حضرت علقمہ بن مرثد نے ہمیں لکھوائی۔
4522
Sahih Muslimو حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمٍ وَاللَّفْظُ لَهُ حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ مَهْدِيٍّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَمَّرَ أَمِيرًا عَلَی جَيْشٍ أَوْ سَرِيَّةٍ أَوْصَاهُ فِي خَاصَّتِهِ بِتَقْوَی اللَّهِ وَمَنْ مَعَهُ مِنْ الْمُسْلِمِينَ خَيْرًا ثُمَّ قَالَ اغْزُوا بِاسْمِ اللَّهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ قَاتِلُوا مَنْ کَفَرَ بِاللَّهِ اغْزُوا وَلَا تَغُلُّوا وَلَا تَغْدِرُوا وَلَا تَمْثُلُوا وَلَا تَقْتُلُوا وَلِيدًا وَإِذَا لَقِيتَ عَدُوَّکَ مِنْ الْمُشْرِکِينَ فَادْعُهُمْ إِلَی ثَلَاثِ خِصَالٍ أَوْ خِلَالٍ فَأَيَّتُهُنَّ مَا أَجَابُوکَ فَاقْبَلْ مِنْهُمْ وَکُفَّ عَنْهُمْ ثُمَّ ادْعُهُمْ إِلَی الْإِسْلَامِ فَإِنْ أَجَابُوکَ فَاقْبَلْ مِنْهُمْ وَکُفَّ عَنْهُمْ ثُمَّ ادْعُهُمْ إِلَی التَّحَوُّلِ مِنْ دَارِهِمْ إِلَی دَارِ الْمُهَاجِرِينَ وَأَخْبِرْهُمْ أَنَّهُمْ إِنْ فَعَلُوا ذَلِکَ فَلَهُمْ مَا لِلْمُهَاجِرِينَ وَعَلَيْهِمْ مَا عَلَی الْمُهَاجِرِينَ فَإِنْ أَبَوْا أَنْ يَتَحَوَّلُوا مِنْهَا فَأَخْبِرْهُمْ أَنَّهُمْ يَکُونُونَ کَأَعْرَابِ الْمُسْلِمِينَ يَجْرِي عَلَيْهِمْ حُکْمُ اللَّهِ الَّذِي يَجْرِي عَلَی الْمُؤْمِنِينَ وَلَا يَکُونُ لَهُمْ فِي الْغَنِيمَةِ وَالْفَيْئِ شَيْئٌ إِلَّا أَنْ يُجَاهِدُوا مَعَ الْمُسْلِمِينَ فَإِنْ هُمْ أَبَوْا فَسَلْهُمْ الْجِزْيَةَ فَإِنْ هُمْ أَجَابُوکَ فَاقْبَلْ مِنْهُمْ وَکُفَّ عَنْهُمْ فَإِنْ هُمْ أَبَوْا فَاسْتَعِنْ بِاللَّهِ وَقَاتِلْهُمْ وَإِذَا حَاصَرْتَ أَهْلَ حِصْنٍ فَأَرَادُوکَ أَنْ تَجْعَلَ لَهُمْ ذِمَّةَ اللَّهِ وَذِمَّةَ نَبِيِّهِ فَلَا تَجْعَلْ لَهُمْ ذِمَّةَ اللَّهِ وَلَا ذِمَّةَ نَبِيِّهِ وَلَکِنْ اجْعَلْ لَهُمْ ذِمَّتَکَ وَذِمَّةَ أَصْحَابِکَ فَإِنَّکُمْ أَنْ تُخْفِرُوا ذِمَمَکُمْ وَذِمَمَ أَصْحَابِکُمْ أَهْوَنُ مِنْ أَنْ تُخْفِرُوا ذِمَّةَ اللَّهِ وَذِمَّةَ رَسُولِهِ وَإِذَا حَاصَرْتَ أَهْلَ حِصْنٍ فَأَرَادُوکَ أَنْ تُنْزِلَهُمْ عَلَی حُکْمِ اللَّهِ فَلَا تُنْزِلْهُمْ عَلَی حُکْمِ اللَّهِ وَلَکِنْ أَنْزِلْهُمْ عَلَی حُکْمِکَ فَإِنَّکَ لَا تَدْرِي أَتُصِيبُ حُکْمَ اللَّهِ فِيهِمْ أَمْ لَا قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ هَذَا أَوْ نَحْوَهُ وَزَادَ إِسْحَقُ فِي آخِرِ حَدِيثِهِ عَنْ يَحْيَی بْنِ آدَمَ قَالَ فَذَکَرْتُ هَذَا الْحَدِيثَ لِمُقَاتِلِ بْنِ حَيَّانَ قَالَ يَحْيَی يَعْنِي أَنَّ عَلْقَمَةَ يَقُولُهُ لِابْنِ حَيَّانَ فَقَالَ حَدَّثَنِي مُسْلِمُ بْنُ هَيْصَمٍ عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ مُقَرِّنٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ
عبداللہ بن ہاشم، عبدالرحمن ابن مہدی، سفیان، علقمہ بن مرثد، حضرت سلیمان بن بریدہ (رض) اپنے باپ سے روایت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب کسی آدمی کو کسی لشکر یا سریہ کا امیر بناتے تو آپ ﷺ اسے خاص طور پر اللہ سے ڈرنے اور جو ان کے ساتھ ہوں ان کے ساتھ مسلمان (مجاہدین) کے ساتھ بھلائی کرنے کی وصیت فرماتے پھر آپ ﷺ نے فرمایا اللہ کا نام لے کر اللہ کے راستے میں جہاد کرو عہد شکنی نہ کرو اور مثلہ (یعنی کسی کے اعضاء کاٹ کر اس کی شکل نہ بگاڑی جائے) نہ کرو اور کسی بچے کو قتل نہ کرو اور جب تمہارا اپنے دشمن مشرکوں سے مقابلہ ہوجائے تو ان کو تین باتوں کی دعوت دینا وہ ان میں سے جس کو بھی قبول کرلیں تو ان کے ساتھ جنگ سے رک جانا پھر انہیں اسلام کی دعوت دو تو اگر وہ تیری دعوت اسلام کو قبول کرلیں تو ان سے جنگ نہ کرنا پھر ان کو دعوت دینا کہ اپنا شہر چھوڑ کر مہاجرین کے گھروں میں چلے جائیں اور ان کو خبر دیدیں کہ اگر وہ اس طرح کرلیں تو جو مہاجرین کو مل رہا ہے وہ انہیں بھی ملے گا اور ان کی وہ ذمہ داریاں ہوں گی جو مہاجرین پر ہیں اور اگر وہ اس سے انکار کردیں تو انہیں خبر دے دو کہ پھر ان پر دیہاتی مسلمانوں کا حکم ہوگا اور ان پر اللہ کے وہ احکام جاری ہوں گے جو کہ مومنوں پر جاری ہوتے ہیں اور انہیں جہاد کے بغیر مال غنیمت اور مال فئے میں سے کوئی حصہ نہیں ملے گا اور اگر وہ تمہاری دعوت قبول کرلیں تو تم بھی ان سے قبول کرو اور ان سے جنگ نہ کرو اور اگر وہ انکار کردیں تو اللہ کی مدد کے ساتھ ان سے قتال کرو اور جب تم کسی قلعہ کا محاصرہ کرلو اور وہ قلعہ والے اللہ اور رسول کو کسی بات پر ضامن بنانا چاہیں تو تم ان کے لئے نہ اللہ کے ضامن اور نہ ہی اللہ کے نبی ﷺ کو ضامن بنانا بلکہ تم اپنے آپ کو اور اپنے ساتھیوں کو ضامن بنانا کیونکہ تمہارے لئے اپنے اور اپنے ساتھیوں کے عہد سے پھرجانا اس بات سے آسان ہے کہ تم اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے عہد کو توڑو اور جب تم کسی قلعہ والوں کو محاصرہ کرلو اور وہ قلعہ والے یہ چاہتے ہوں کہ تم انہیں اللہ کے حکم کے مطابق قلعہ سے نکالو تو تم اللہ کے حکم کے مطابق نہ نکالو بلکہ انہیں اپنے حکم کے مطابق نکالو کیونکہ تم اس بات کو نہیں جانتے کہ تمہاری رائے اور اجتہاد اللہ کے حکم کے مطابق ہے یا نہیں۔
4523
Sahih Muslimو حَدَّثَنِي حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ حَدَّثَنِي عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ حَدَّثَنِي عَلْقَمَةُ بْنُ مَرْثَدٍ أَنَّ سُلَيْمَانَ بْنَ بُرَيْدَةَ حَدَّثَهُ عَنْ أَبِيهِ قَالَ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا بَعَثَ أَمِيرًا أَوْ سَرِيَّةً دَعَاهُ فَأَوْصَاهُ وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمَعْنَی حَدِيثِ سُفْيَانَ
حجاج بن شاعر، عبدالصمد بن عبدالوارث، شعبہ، علقمہ بن مرثد، حضرت سلیمان بن بریدہ (رض) اپنے باپ سے روایت کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب کسی کو امیر بنا کر یا کوئی سریہ بھیجتے تو آپ ﷺ اسے وصیت فرماتے۔
4524
Sahih Muslimحَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ الْفَرَّائُ عَنْ الْحُسَيْنِ بْنِ الْوَلِيدِ عَنْ شُعْبَةَ بِهَذَا
ابراہیم، محمد بن عبدالوہاب، حسین بن ولید حضرت شعبہ سے اسی طرح حدیث منقول ہے۔
4525
Sahih Muslimحَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو کُرَيْبٍ وَاللَّفْظُ لِأَبِي بَکْرٍ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ بُرَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ أَبِي مُوسَی قَالَ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا بَعَثَ أَحَدًا مِنْ أَصْحَابِهِ فِي بَعْضِ أَمْرِهِ قَالَ بَشِّرُوا وَلَا تُنَفِّرُوا وَيَسِّرُوا وَلَا تُعَسِّرُوا
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوکریب، ابوبکر، ابواسامہ، برید بن عبداللہ، ابی بردہ، حضرت ابوموسی (رض) سے روایت ہے کہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب اپنے صحابہ (رض) میں سے کسی کو کسی کام کے لئے بھیجتے تو آپ ﷺ فرماتے کہ لوگوں کو بشارت سناؤ اور متنفر نہ کرو اور لوگوں سے آسانی والا معاملہ کرو اور تنگی والا معاملہ نہ کرو۔
4526
Sahih Muslimحَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَهُ وَمُعَاذًا إِلَی الْيَمَنِ فَقَالَ يَسِّرَا وَلَا تُعَسِّرَا وَبَشِّرَا وَلَا تُنَفِّرَا وَتَطَاوَعَا وَلَا تَخْتَلِفَا
ابوبکر بن ابی شیبہ، وکیع، شعبہ، حضرت سعید بن ابی بردہ (رض) اپنے باپ سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے ان کو اور حضرت معاذ (رض) کو یمن کی طرف بھیجا تو ان سے فرمایا کہ آسانی والا معاملہ کرنا اور تنگی والا معاملہ نہ کرنا اور ان کو بشارت سنانا اور متنفر نہ کرنا اور آپس میں ایک دوسرے کی اطاعت کرنا اور اختلاف نہ کرنا۔
4527
Sahih Muslimو حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرٍو ح و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَابْنُ أَبِي خَلَفٍ عَنْ زَکَرِيَّائَ بْنِ عَدِيٍّ أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ کِلَاهُمَا عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَ حَدِيثِ شُعْبَةَ وَلَيْسَ فِي حَدِيثِ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ وَتَطَاوَعَا وَلَا تَخْتَلِفَا
محمد بن عباد، سفیان، عمرو، اسحاق بن ابراہیم، ابن ابی خلف، زکریا بن عدی، عبیداللہ بن زید بن ابی انسیہ، سعید بن ابی بردہ، اپنے والد سے، جدہ اس سند کے ساتھ یہ حدیث بھی شعبہ کی حدیث کی طرح منقول ہے اور اس زید بن ابی انیس کی حدیث میں (وَتَطَاوَعَا وَلَا تَخْتَلِفَا) کے الفاظ ذکر نہیں کئے۔
4528
Sahih Muslimحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ عَنْ أَنَسٍ ح و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ کِلَاهُمَا عَنْ شُعْبَةَ عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ يَقُولُا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسِّرُوا وَلَا تُعَسِّرُوا وَسَکِّنُوا وَلَا تُنَفِّرُوا
عبیداللہ بن معاذ عنبری، شعبہ، ابی التیاح، انس، ابوبکر بن ابی شیبہ، عبیداللہ بن سعید، محمد بن ولید، محمد بن جعفر، شعبہ، ابی التیاح، حضرت انس بن مالک (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا لوگوں سے آسانی والا معاملہ کرنا اور ان کو تنگی میں نہ ڈالنا اور لوگوں کو سکون دینا اور ان کو متنفر نہ کرنا۔