hadith book logo

Sahih Muslim

47. صلہ رحمی کا بیان

صحيح مسلم

6500
Sahih Muslim
صحیح
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ جَمِيلِ بْنِ طَرِيفٍ الثَّقَفِيُّ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ عَنْ أَبِي زُرْعَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ جَائَ رَجُلٌ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَنْ أَحَقُّ النَّاسِ بِحُسْنِ صَحَابَتِي قَالَ أُمُّکَ قَالَ ثُمَّ مَنْ قَالَ ثُمَّ أُمُّکَ قَالَ ثُمَّ مَنْ قَالَ ثُمَّ أُمُّکَ قَالَ ثُمَّ مَنْ قَالَ ثُمَّ أَبُوکَ وَفِي حَدِيثِ قُتَيْبَةَ مَنْ أَحَقُّ بِحُسْنِ صَحَابَتِي وَلَمْ يَذْکُرْ النَّاسَ
قتیبہ بن سعید، بن جمیل بن طریف ثقفی زہیر بن حرب، جریر، عمارہ بن قعقاع ابی زرعہ، حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ ایک آدمی رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آیا اور اس نے عرض کیا کہ لوگوں میں سے سب سے زیادہ میرے اچھے سلوک کا حقدار کون ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا تیری ماں۔ اس آدمی نے عرض کیا پھر کس کا ؟ (حق ہے) آپ ﷺ نے فرمایا تیری ماں کا۔ اس نے پھر عرض کیا پھر کس کا ؟ آپ ﷺ نے فرمایا تیری ماں کا۔ اس نے عرض کیا پھر کس کا ؟ آپ ﷺ نے فرمایا پھر تیرے باپ کا۔ اور قتیبہ ہی کی روایت میں ہے " میرے اچھے سلوک کا سب سے زیادہ حقدار کون ہے " کا ذکر ہے اور اس میں " الناس " یعنی لوگوں کا ذکر نہیں ہے۔
6501
Sahih Muslim
صحیح
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ الْهَمْدَانِيُّ حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ عَنْ أَبِي زُرْعَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَنْ أَحَقُّ النَّاسِ بِحُسْنِ الصُّحْبَةِ قَالَ أُمُّكَ ثُمَّ أُمُّكَ ثُمَّ أُمُّكَ ثُمَّ أَبُوكَ ثُمَّ أَدْنَاكَ أَدْنَاكَ
ابوکریب محمد بن علاء ہمدانی ابن فضیل عمارہ بن قعقاع ابی زرعہ حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ! لوگوں میں سے سب سے زیادہ میرے اچھے سلوک کا کون حقدار ہے ؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا تیری ماں پھر تیری ماں پھر تیری ماں پھر تیرے باپ کا پھر جو تیرے قریب ہو پھر جو تیرے قریب ہو۔
6502
Sahih Muslim
صحیح
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا شَرِيکٌ عَنْ عُمَارَةَ وَابْنِ شُبْرُمَةَ عَنْ أَبِي زُرْعَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ جَائَ رَجُلٌ إِلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَکَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ جَرِيرٍ وَزَادَ فَقَالَ نَعَمْ وَأَبِيکَ لَتُنَبَّأَنَّ
ابوبکر بن ابی شیبہ، شریک، عمارۃ، ابن شبرمۃ، ابنی زرعۃ، حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ ایک آدمی نبی ﷺ کی خدمت میں آیا پھر جریر کی حدیث کی طرح حدیث ذکر کی اور اس میں یہ الفاظ زائد ہیں کہ تیرے باپ کی قسم تجھے آگاہ کردیا جائے گا۔
6503
Sahih Muslim
صحیح
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ حَدَّثَنَا شَبَابَةُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ ح و حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ خِرَاشٍ حَدَّثَنَا حَبَّانُ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ كِلَاهُمَا عَنْ ابْنِ شُبْرُمَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ فِي حَدِيثِ وُهَيْبٍ مَنْ أَبَرُّ وَفِي حَدِيثِ مُحَمَّدِ بْنِ طَلْحَةَ أَيُّ النَّاسِ أَحَقُّ مِنِّي بِحُسْنِ الصُّحْبَةِ ثُمَّ ذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ جَرِيرٍ
محمد بن حاتم، شبابہ، محمد بن طلحہ، احمد بن خراش، حبان، وہیب ابن شبرمہ سے ان سندوں کے ساتھ روایت ہے وہیب کی روایت میں ہے کہ کون نیکی کا حقدار ہے اور محمد بن طلحہ کی روایت میں ہے کہ لوگوں میں سے سب سے زیادہ کون میرے اچھے سلوک کا زیادہ حقدار ہے پھر جریر کی حدیث کی طرح حدیث ذکر کی۔
6504
Sahih Muslim
صحیح
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا وَکِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ حَبِيبٍ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا يَحْيَی يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ الْقَطَّانَ عَنْ سُفْيَانَ وَشُعْبَةَ قَالَا حَدَّثَنَا حَبِيبٌ عَنْ أَبِي الْعَبَّاسِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ جَائَ رَجُلٌ إِلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَأْذِنُهُ فِي الْجِهَادِ فَقَالَ أَحَيٌّ وَالِدَاکَ قَالَ نَعَمْ قَالَ فَفِيهِمَا فَجَاهِدْ
ابوبکر بن ابی شیبہ، زہیر بن حرب، وکیع، سفیان، حبیب محمد بن مثنی یحییٰ ابن سعید قطان شعبہ، حبیب ابی عباس حضرت عبداللہ بن عمرو (رض) سے روایت ہے کہ ایک آدمی نبی ﷺ کی خدمت میں آیا اور اس نے آپ ﷺ سے جہاد میں جانے کی اجازت مانگی تو آپ ﷺ نے فرمایا کیا تیرے والدین زندہ ہیں اس نے عرض کیا جی ہاں آپ ﷺ نے فرمایا تو ان کی خدمت میں رہ تیرے لئے یہی جہاد ہے۔
6505
Sahih Muslim
صحیح
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ حَبِيبٍ سَمِعْتُ أَبَا الْعَبَّاسِ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ يَقُولُا جَائَ رَجُلٌ إِلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَکَرَ بِمِثْلِهِ قَالَ مُسْلِم أَبُو الْعَبَّاسِ اسْمُهُ السَّائِبُ بْنُ فَرُّوخَ الْمَکِّيُّ
عبیداللہ بن معاذ شعبہ، حبیب ابوعباس حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص (رض) فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نبی ﷺ کی خدمت میں آیا پھر آگے مذکورہ حدیث کی طرح حدیث ذکر کی۔
6506
Sahih Muslim
صحیح
حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ بِشْرٍ عَنْ مِسْعَرٍ ح و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو عَنْ أَبِي إِسْحَقَ ح و حَدَّثَنِي الْقَاسِمُ بْنُ زَکَرِيَّائَ حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْجُعْفِيُّ عَنْ زَائِدَةَ کِلَاهُمَا عَنْ الْأَعْمَشِ جَمِيعًا عَنْ حَبِيبٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ
ابوکریب ابن بشر مسعر محمد بن حاتم، معاویہ عمرو ابی اسحاق قاسم بن زکریا، حسین بن علی حضرت حبیب (رض) سے ان سندوں کے ساتھ مذکورہ حدیث مبارکہ کی طرح روایت نقل کی گئی ہے۔
6507
Sahih Muslim
صحیح
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ أَنَّ نَاعِمًا مَوْلَی أُمِّ سَلَمَةَ حَدَّثَهُ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ أَقْبَلَ رَجُلٌ إِلَی نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أُبَايِعُکَ عَلَی الْهِجْرَةِ وَالْجِهَادِ أَبْتَغِي الْأَجْرَ مِنْ اللَّهِ قَالَ فَهَلْ مِنْ وَالِدَيْکَ أَحَدٌ حَيٌّ قَالَ نَعَمْ بَلْ کِلَاهُمَا قَالَ فَتَبْتَغِي الْأَجْرَ مِنْ اللَّهِ قَالَ نَعَمْ قَالَ فَارْجِعْ إِلَی وَالِدَيْکَ فَأَحْسِنْ صُحْبَتَهُمَا
سعید بن منصور، عبداللہ بن و ہب عمرو بن حا رب یزید بن ابی حبیب، ام سلیم حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص (رض) فرماتے ہیں کہ ایک آدمی اللہ کے نبی ﷺ کی خدمت میں آیا اور اس نے عرض کیا میں ہجرت اور جہاد کی آپ ﷺ (کے ہاتھ پر) بیعت کرتا ہوں اور اللہ تعالیٰ سے اس کا اجر چاہتا ہوں آپ ﷺ نے فرمایا کیا تیرے والدین میں سے کوئی زندہ ہے اس نے عرض کیا جی ہاں بلکہ دونوں زندہ ہیں آپ ﷺ نے فرمایا کیا تم اللہ سے اس کا اجر چاہتے ہو اس نے عرض کیا جی ہاں آپ ﷺ نے فرمایا اپنے والدین کی طرف جا اور ان دونوں سے اچھا سلوک کر۔
6508
Sahih Muslim
صحیح
حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ هِلَالٍ عَنْ أَبِي رَافِعٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ قَالَ کَانَ جُرَيْجٌ يَتَعَبَّدُ فِي صَوْمَعَةٍ فَجَائَتْ أُمُّهُ قَالَ حُمَيْدٌ فَوَصَفَ لَنَا أَبُو رَافِعٍ صِفَةَ أَبِي هُرَيْرَةَ لِصِفَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُمَّهُ حِينَ دَعَتْهُ کَيْفَ جَعَلَتْ کَفَّهَا فَوْقَ حَاجِبِهَا ثُمَّ رَفَعَتْ رَأْسَهَا إِلَيْهِ تَدْعُوهُ فَقَالَتْ يَا جُرَيْجُ أَنَا أُمُّکَ کَلِّمْنِي فَصَادَفَتْهُ يُصَلِّي فَقَالَ اللَّهُمَّ أُمِّي وَصَلَاتِي فَاخْتَارَ صَلَاتَهُ فَرَجَعَتْ ثُمَّ عَادَتْ فِي الثَّانِيَةِ فَقَالَتْ يَا جُرَيْجُ أَنَا أُمُّکَ فَکَلِّمْنِي قَالَ اللَّهُمَّ أُمِّي وَصَلَاتِي فَاخْتَارَ صَلَاتَهُ فَقَالَتْ اللَّهُمَّ إِنَّ هَذَا جُرَيْجٌ وَهُوَ ابْنِي وَإِنِّي کَلَّمْتُهُ فَأَبَی أَنْ يُکَلِّمَنِي اللَّهُمَّ فَلَا تُمِتْهُ حَتَّی تُرِيَهُ الْمُومِسَاتِ قَالَ وَلَوْ دَعَتْ عَلَيْهِ أَنْ يُفْتَنَ لَفُتِنَ قَالَ وَکَانَ رَاعِي ضَأْنٍ يَأْوِي إِلَی دَيْرِهِ قَالَ فَخَرَجَتْ امْرَأَةٌ مِنْ الْقَرْيَةِ فَوَقَعَ عَلَيْهَا الرَّاعِي فَحَمَلَتْ فَوَلَدَتْ غُلَامًا فَقِيلَ لَهَا مَا هَذَا قَالَتْ مِنْ صَاحِبِ هَذَا الدَّيْرِ قَالَ فَجَائُوا بِفُؤُوسِهِمْ وَمَسَاحِيهِمْ فَنَادَوْهُ فَصَادَفُوهُ يُصَلِّي فَلَمْ يُکَلِّمْهُمْ قَالَ فَأَخَذُوا يَهْدِمُونَ دَيْرَهُ فَلَمَّا رَأَی ذَلِکَ نَزَلَ إِلَيْهِمْ فَقَالُوا لَهُ سَلْ هَذِهِ قَالَ فَتَبَسَّمَ ثُمَّ مَسَحَ رَأْسَ الصَّبِيِّ فَقَالَ مَنْ أَبُوکَ قَالَ أَبِي رَاعِي الضَّأْنِ فَلَمَّا سَمِعُوا ذَلِکَ مِنْهُ قَالُوا نَبْنِي مَا هَدَمْنَا مِنْ دَيْرِکَ بِالذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ قَالَ لَا وَلَکِنْ أَعِيدُوهُ تُرَابًا کَمَا کَانَ ثُمَّ عَلَاهُ
شیبان بن فروخ سلیمان بن مغیرہ حمید بن ہلال ابی رافع حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ جریج اپنے عبادت خانے میں عبادت کر رہے تھے کہ ان کی ماں آگئی حمید کہتے ہیں کہ حضرت ابوہریرہ (رض) نے ان کی اس طرح صفت بیان کی جس طرح کہ رسول اللہ ﷺ نے ان سے صفت بیان کی تھی جس وقت ان کی ماں نے ان کو بلایا تو انہوں نے اپنی ہتھیلی اپنی پلکوں پر رکھی ہوئی تھی پھر اپنا سر ابن جریج کی طرف اٹھا کر ابن جریج کو آواز دی اور کہنے لگیں اے جریج میں تیری ماں ہوں مجھ سے بات کر ابن جریج اس وقت نماز پڑھ رہے تھے ابن جریج نے کہا اے اللہ ایک طرف میری ماں ہے اور ایک طرف نماز ہے پھر ابن جریج نے نماز کو اختیار کیا پھر ان کی ماں نے کہا اے اللہ ! یہ جریج میرا بیٹا ہے میں اس سے بات کرتی ہوں تو یہ میرے ساتھ بات کرنے سے انکار کردیتا ہے اے اللہ ابن جریج کو اس وقت تک موت نہ دینا جب تک کہ یہ بدکار عورتوں کا منہ نہ دیکھ لے آپ ﷺ نے فرمایا اگر جریج کی ماں اس پر یہ دعا کرتی کہ وہ فتنہ میں پڑجائے تو وہ فتنے میں مبتلا ہوجاتا آپ ﷺ نے فرمایا بھیڑوں کا ایک چرواہا تھا جو جریج کے عبادت خانہ میں ٹھہرتا تھا (ایک دن) گاؤں سے ایک عورت نکلی تو اس چرواہے نے اس عورت کے ساتھ برا کام کیا تو وہ عورت حاملہ ہوگئی (جس کے نتیجہ میں) اس عورت کے ہاں ایک لڑکے کی ولادت ہوئی تو اس عورت سے پوچھا گیا کہ یہ لڑکا کہاں سے لائی ہے اس عورت نے کہا اس عبادت خانہ میں جو رہتا ہے یہ اس کا لڑکا ہے (یہ سنتے ہی اس گاؤں کے لوگ) پھاؤڑے لے کر آئے اور انہیں (جریج کو) آواز دی وہ نماز میں تھے انہوں نے کوئی بات نہ کی تو لوگوں نے اس کا عبادت خانہ گرانا شروع کردیا جب جریج نے یہ ماجرا دیکھا تو وہ اترا لوگوں نے اس سے کہا کہ اس عورت سے پوچھ یہ کیا کہتی ہے جریج ہنسا اور پھر اس نے بچے کے سر پر ہاتھ پھیرا اور اس نے کہا تیرا باپ کون ہے ؟ اس بچے نے کہا میرا باپ بھیڑوں کا چراوہا ہے جب لوگوں نے اس بچے کی آواز سنی تو وہ کہنے لگے کہ ہم نے آپ کا جتنا عبادت خانہ گرایا ہے ہم اس کے بدلے میں سونے اور چاندی کا عبادت خانہ بنا دیتے ہیں جریج نے کہا نہیں بلکہ تم اسے پہلے کی طرح مٹی ہی کا بنادو اور پھر ابن جریج اوپر چلے گئے۔
6509
Sahih Muslim
صحیح
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سِيرِينَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَمْ يَتَکَلَّمْ فِي الْمَهْدِ إِلَّا ثَلَاثَةٌ عِيسَی ابْنُ مَرْيَمَ وَصَاحِبُ جُرَيْجٍ وَکَانَ جُرَيْجٌ رَجُلًا عَابِدًا فَاتَّخَذَ صَوْمَعَةً فَکَانَ فِيهَا فَأَتَتْهُ أُمُّهُ وَهُوَ يُصَلِّي فَقَالَتْ يَا جُرَيْجُ فَقَالَ يَا رَبِّ أُمِّي وَصَلَاتِي فَأَقْبَلَ عَلَی صَلَاتِهِ فَانْصَرَفَتْ فَلَمَّا کَانَ مِنْ الْغَدِ أَتَتْهُ وَهُوَ يُصَلِّي فَقَالَتْ يَا جُرَيْجُ فَقَالَ يَا رَبِّ أُمِّي وَصَلَاتِي فَأَقْبَلَ عَلَی صَلَاتِهِ فَانْصَرَفَتْ فَلَمَّا کَانَ مِنْ الْغَدِ أَتَتْهُ وَهُوَ يُصَلِّي فَقَالَتْ يَا جُرَيْجُ فَقَالَ أَيْ رَبِّ أُمِّي وَصَلَاتِي فَأَقْبَلَ عَلَی صَلَاتِهِ فَقَالَتْ اللَّهُمَّ لَا تُمِتْهُ حَتَّی يَنْظُرَ إِلَی وُجُوهِ الْمُومِسَاتِ فَتَذَاکَرَ بَنُو إِسْرَائِيلَ جُرَيْجًا وَعِبَادَتَهُ وَکَانَتْ امْرَأَةٌ بَغِيٌّ يُتَمَثَّلُ بِحُسْنِهَا فَقَالَتْ إِنْ شِئْتُمْ لَأَفْتِنَنَّهُ لَکُمْ قَالَ فَتَعَرَّضَتْ لَهُ فَلَمْ يَلْتَفِتْ إِلَيْهَا فَأَتَتْ رَاعِيًا کَانَ يَأْوِي إِلَی صَوْمَعَتِهِ فَأَمْکَنَتْهُ مِنْ نَفْسِهَا فَوَقَعَ عَلَيْهَا فَحَمَلَتْ فَلَمَّا وَلَدَتْ قَالَتْ هُوَ مِنْ جُرَيْجٍ فَأَتَوْهُ فَاسْتَنْزَلُوهُ وَهَدَمُوا صَوْمَعَتَهُ وَجَعَلُوا يَضْرِبُونَهُ فَقَالَ مَا شَأْنُکُمْ قَالُوا زَنَيْتَ بِهَذِهِ الْبَغِيِّ فَوَلَدَتْ مِنْکَ فَقَالَ أَيْنَ الصَّبِيُّ فَجَائُوا بِهِ فَقَالَ دَعُونِي حَتَّی أُصَلِّيَ فَصَلَّی فَلَمَّا انْصَرَفَ أَتَی الصَّبِيَّ فَطَعَنَ فِي بَطْنِهِ وَقَالَ يَا غُلَامُ مَنْ أَبُوکَ قَالَ فُلَانٌ الرَّاعِي قَالَ فَأَقْبَلُوا عَلَی جُرَيْجٍ يُقَبِّلُونَهُ وَيَتَمَسَّحُونَ بِهِ وَقَالُوا نَبْنِي لَکَ صَوْمَعَتَکَ مِنْ ذَهَبٍ قَالَ لَا أَعِيدُوهَا مِنْ طِينٍ کَمَا کَانَتْ فَفَعَلُوا وَبَيْنَا صَبِيٌّ يَرْضَعُ مِنْ أُمِّهِ فَمَرَّ رَجُلٌ رَاکِبٌ عَلَی دَابَّةٍ فَارِهَةٍ وَشَارَةٍ حَسَنَةٍ فَقَالَتْ أُمُّهُ اللَّهُمَّ اجْعَلْ ابْنِي مِثْلَ هَذَا فَتَرَکَ الثَّدْيَ وَأَقْبَلَ إِلَيْهِ فَنَظَرَ إِلَيْهِ فَقَالَ اللَّهُمَّ لَا تَجْعَلْنِي مِثْلَهُ ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَی ثَدْيِهِ فَجَعَلَ يَرْتَضِعُ قَالَ فَکَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَحْکِي ارْتِضَاعَهُ بِإِصْبَعِهِ السَّبَّابَةِ فِي فَمِهِ فَجَعَلَ يَمُصُّهَا قَالَ وَمَرُّوا بِجَارِيَةٍ وَهُمْ يَضْرِبُونَهَا وَيَقُولُونَ زَنَيْتِ سَرَقْتِ وَهِيَ تَقُولُ حَسْبِيَ اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَکِيلُ فَقَالَتْ أُمُّهُ اللَّهُمَّ لَا تَجْعَلْ ابْنِي مِثْلَهَا فَتَرَکَ الرَّضَاعَ وَنَظَرَ إِلَيْهَا فَقَالَ اللَّهُمَّ اجْعَلْنِي مِثْلَهَا فَهُنَاکَ تَرَاجَعَا الْحَدِيثَ فَقَالَتْ حَلْقَی مَرَّ رَجُلٌ حَسَنُ الْهَيْئَةِ فَقُلْتُ اللَّهُمَّ اجْعَلْ ابْنِي مِثْلَهُ فَقُلْتَ اللَّهُمَّ لَا تَجْعَلْنِي مِثْلَهُ وَمَرُّوا بِهَذِهِ الْأَمَةِ وَهُمْ يَضْرِبُونَهَا وَيَقُولُونَ زَنَيْتِ سَرَقْتِ فَقُلْتُ اللَّهُمَّ لَا تَجْعَلْ ابْنِي مِثْلَهَا فَقُلْتَ اللَّهُمَّ اجْعَلْنِي مِثْلَهَا قَالَ إِنَّ ذَاکَ الرَّجُلَ کَانَ جَبَّارًا فَقُلْتُ اللَّهُمَّ لَا تَجْعَلْنِي مِثْلَهُ وَإِنَّ هَذِهِ يَقُولُونَ لَهَا زَنَيْتِ وَلَمْ تَزْنِ وَسَرَقْتِ وَلَمْ تَسْرِقْ فَقُلْتُ اللَّهُمَّ اجْعَلْنِي مِثْلَهَا
زہیر بن حرب، یزید بن ہارون، جریر، ابن حازم، محمد بن سیرین، ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا پن گھوڑے میں سوائے تین بچوں کے اور کسی نے کلام نہیں کیا حضرت عیسیٰ بن مریم اور صاحب جریج اور جریج ایک عبادت گزار آدمی تھا اس نے ایک عبادت خانہ بنایا ہوا تھا جس میں وہ نماز پڑھتا تھا جریج کی ماں آئی اور وہ نماز میں تھا اس کی ماں نے کہا اے جریج ! (جریج نے اپنے دل میں) کہا اے میرے پروردگار ایک طرف میری ماں ہے اور ایک طرف میری نماز ہے پھر وہ نماز کی طرف متوجہ رہا اور اس کی ماں واپس چلی گئی پھر اگلے دن آئی تو وہ نماز پڑھ رہا تھا تو وہ کہنے لگی اے جریج ! (جریج نے اپنے دل میں) کہا اے میرے پروردگار ایک طرف میری ماں ہے اور دوسری طرف میں نماز میں ہوں پھر وہ اپنی نماز کی طرف متوجہ رہا پھر اس کی ماں نے کہا اے اللہ جب تک جریج فاحشہ عورتوں کا چہرہ نہ دیکھ لے اس وقت تک اسے موت نہ دینا بنی اسرائیل (کے لوگ) جریج اور اس کی عبادت کا بڑا تذکرہ کرتے تھے بنی اسرائیل کی ایک عورت بڑی خوبصورت تھی وہ کہنے لگی کہ اگر تم چاہتے ہو تو میں جریج کو فتنے میں مبتلا کر دوں وہ عورت جریج کی طرف گئی لیکن جریج نے اس عورت کی طرف توجہ نہ کی ایک چرواہا جریج کے عبادت خانے میں رہتا تھا اس عورت نے اس چرواہے کو اپنی طرف بلایا۔ اس چرواہے نے اس عورت سے اپنی خواہش پوری کی جس سے وہ عورت حاملہ ہوگئی تو جب اس عورت کے ہاں ایک لڑکے کی پیدائش ہوئی تو اس نے کہا یہ جریج کا لڑکا ہے (یہ سن کر) لوگ آئے اور انہوں نے جریج کو اس کے عبادت خانہ سے نکالا اور اس کے عبادت خانہ کو گرا دیا اور لوگوں نے جریج کو مارنا شروع کردیا جریج نے کہا تم لوگ یہ سب کچھ کس وجہ سے کر رہے ہو لوگوں نے جریج سے کہا تو نے اس عورت سے بدکاری کی ہے اور تجھ سے لڑکا پیدا ہوا ہے جریج نے کہا وہ بچہ کہاں ہے تو لوگ اس بچے کو لے کر آئے جریج نے کہا مجھے چھوڑ دو میں نماز پڑھ لوں جریج نے نماز پڑھی پھر وہ نماز سے فارغ ہو کر اس بچے کے پاس آیا اور اس بچے کے پیٹ میں انگلی رکھ کر کہا اے لڑکے تیرا باپ کون ہے اس لڑکے نے کہا فلاں چرواہا۔ پھر لوگ جریج کی طرف متوجہ ہوئے اس کو بوسہ دینے لگے اور اسے چھونے لگے اور کہنے لگے کہ ہم آپ کے لئے سونے کا عبادت خانہ بنا دیتے ہیں جریج نے کہا نہیں بلکہ تم اسے اسی طرح مٹی کا بنادو پھر لوگوں نے اسی طرح بنادیا اور تیسرا وہ بچہ کہ جس نے پن گھوڑے میں بات کی اس کا واقعہ یہ ہے کہ ایک بچہ اپنی ماں کا دودھ پی رہا تھا تو ایک آدمی ایک عمدہ سواری پر بہترین لباس پہنے ہوئے وہاں سے گزرا تو اس بچے کی ماں نے کہا اے اللہ میرے بیٹے کو اس جیسا بنا دے پھر وہ بچہ دودھ چھوڑ کر اس سوار کی طرف مڑا اور اسے دیکھتا رہا پھر وہ بچہ کہنے لگا اے اللہ مجھے اس جیسا نہ بنانا پھر وہ بچہ پستان کی طرف متوجہ ہوا اور دودھ پینے لگا راوی کہتے ہیں گویا کہ میں رسول اللہ کو دیکھ رہا ہوں کہ آپ ﷺ حکایت بیان کر رہے ہیں اس کے دودھ پینے کو اپنی شہادت کی انگلی اپنے منہ میں ڈال کر آپ ﷺ نے اپنی انگلی کو چوسنا شروع کردیا۔ راوی کہتے ہیں پھر وہ ایک لونڈی کے پاس سے گزرے جسے لوگ مارتے ہوئے کہہ رہے تھے کہ تو نے زنا کیا ہے اور چوری کی ہے اور وہ کہتی ہے حَسْبِيَ اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَکِيلُ میرے لئے اللہ ہی کافی ہے اور بہتر کار ساز ہے تو اس بچے کی ماں نے کہا اے اللہ میرے بیٹے کو اس عورت کی طرح نہ بنانا تو اس بچے نے دودھ پینا چھوڑ کر اس باندی کی طرف دیکھا اور کہنے لگا اے اللہ مجھے اس جیسا بنا دے پس اس موقع پر ماں اور بیٹے کے درمیان ایک مکالمہ ہوا ماں نے کہا اے سر منڈے ایک خوبصورت شکل والا آدمی گزرا تو میں نے کہا اے اللہ میرے بیٹے کو اس جیسا بنا دے تو نے کہا اے اللہ مجھے اس جیسا نہ بنا اور لوگ اس باندی کے پاس سے گزرے تو لوگ اسے مارتے ہوئے کہہ رہے تھے تو نے زنا کیا ہے اور چوری کی ہے تو میں نے کہا اے اللہ میرے بیٹے کو اس جیسا نہ بنانا تو نے کہا اے اللہ مجھے اس عورت جیسا بنا دے بچے نے کہا بیشک وہ آدمی ظالم تھا تو میں نے کہا اے اللہ مجھے اس جیسا نہ بنا اور یہ عورت جسے لوگ کہہ رہے تھے کہ تو نے زنا کیا ہے حالانکہ اس نے زنا نہیں کیا اور تو نے چوری کی ہے حالانکہ اس نے چوری نہیں کی تھی میں نے کہا اے اللہ مجھے اس جیسا بنا دے۔