Ibn Majah
1. سنت کی پیروی کا بیان
سنن ابن ماجه
1
Ibn Majahحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ): مَا أَمَرْتُكُمْ بِهِ فَخُذُوهُ، وَمَا نَهَيْتُكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا.
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : میں تمہیں جس چیز کا حکم دوں اسے مانو، اور جس چیز سے روک دوں اس سے رک جاؤ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف : ١٢٣٩٢) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٢/٣٥٥) (صحیح) (اس سند میں شریک بن عبد اللہ القاضی ضعیف ہیں، لیکن متابعت سے حدیث صحیح ہے، ملاحظہ ہو اگلی حدیث کی تخریج میں دئیے گئے حوالہ جات )
2
Ibn Majahحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، قَالَ: أَنْبَأَنَا جَرِيرٌ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ): ذَرُونِي مَا تَرَكْتُكُمْ فَإِنَّمَا هَلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ بِسُؤَالِهِمْ، وَاخْتِلَافِهِمْ عَلَى أَنْبِيَائِهِمْ، فَإِذَا أَمَرْتُكُمْ بِشَيْءٍ فَخُذُوا مِنْهُ مَا اسْتَطَعْتُمْ، وَإِذَا نَهَيْتُكُمْ عَنْ شَيْءٍ فَانْتَهُوا.
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جو چیز میں نے تمہیں نہ بتائی ہو اسے یوں ہی رہنے دو ١ ؎، اس لیے کہ تم سے پہلے کی امتیں زیادہ سوال اور اپنے انبیاء سے اختلاف کی وجہ سے ہلاک ہوئیں، لہٰذا جب میں تمہیں کسی چیز کا حکم دوں تو طاقت بھر اس پر عمل کرو، اور جب کسی چیز سے منع کر دوں تو اس سے رک جاؤ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف : ١٢٣٦١) ، الحدیث أخرجہ من طریق الأعمش : صحیح مسلم/الحج ٧٣ (١٣٣٧) ، الفضائل ٣٧ (١٣١) ، سنن الترمذی/العلم ١٧ (٦٢٧٩) ، مسند احمد (٢/٤٩٥) ، وقد أخرجہ من طرق أخری : صحیح البخاری/الاعتصام ٢ (٧٢٨٨) ، صحیح مسلم/الفضائل ٣٧ (١٣٠) ، سنن النسائی/الحج ١ (٢٦٢٠) ، مسند احمد (٢/٢٤٧، ٢٥٨، ٣١٣، ٤٢٨، ٤٤٨) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: ذروني ما ترکتكم میں ما مصدریہ ظرفیہ ہے، یعنی جب تک میں تمہیں چھوڑے رکھوں، مطلب یہ ہے کہ جس چیز کے بارے میں میں تم سے کچھ نہ کہوں اس کے بارے میں تم مجھ سے غیر ضروری سوالات کرنے سے بچو۔
3
Ibn Majahحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، وَوَكِيعٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ): مَنْ أَطَاعَنِي فَقَدْ أَطَاعَ اللَّهَ، وَمَنْ عَصَانِي فَقَدْ عَصَى اللَّهَ.
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جس نے میری اطاعت کی اس نے اللہ کی اطاعت کی، اور جس نے میری نافرمانی کی اس نے اللہ کی نافرمانی کی ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف ١٢٤٧٧، ١٢٥٤٧) ، الحدیث أخرجہ : صحیح البخاری/الجہاد ١٠٩ (٢٩٥٧) ، الأحکام ١ (٧١٣٧) ، صحیح مسلم/الإمارة ٨ (٨١٣٥) ، سنن النسائی/البیعة ٢٧ (٤١٩٨) ، مسند احمد (٢/٢٤٤، ٢٥٢، ٢٧٠، ٣١٣، ٣٤٢، ٤١٦، ٤٦٧) (صحیح) (یہ حدیث مکرر ہے، دیکھئے حدیث نمبر : ٢٨٥٩ ) وضاحت : ١ ؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ رسول اکرم ﷺ کی اطاعت دراصل اللہ تعالیٰ ہی کی اطاعت ہے، اور ان کی نافرمانی اللہ تعالیٰ کی نافرمانی ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : من يطع الرسول فقد أطاع الله جو اطاعت کرے رسول کی وہ اطاعت کرچکا اللہ کی (سورة النساء : 80) ۔
4
Ibn Majahحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ، عَنِ ابْنِ الْمُبَارَكِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سُوقَةَ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ، قَالَ: كَانَ ابْنُ عُمَرَ إِذَا سَمِعَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ (ﷺ) حَدِيثًا لَمْ يَعْدُهُ وَلَمْ يُقَصِّرْ دُونَهُ .
ابو جعفر کہتے ہیں کہ عبداللہ بن عمر (رض) جب رسول اللہ ﷺ سے کوئی حدیث سنتے تو نہ اس میں کچھ بڑھاتے، اور نہ ہی کچھ گھٹاتے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف : ٧٤٤٢، ومصباح الزجاجة : ٢) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٢/٨٢) ، سنن الدارمی/المقدمة ٣١ (٣٢٧) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: یعنی وہ حدیث کی روایت میں حد درجہ محتاط تھے، الفاظ کی پوری پابندی کرتے تھے، اور ہوبہو اسی طرح روایت کرتے جس طرح سنتے۔
5
Ibn Majahحَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى بْنِ سُمَيْعٍ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْأَفْطَسُ، عَنِالْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْجُرَشِيِّ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، قَالَ: خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ)، وَنَحْنُ نَذْكُرُ الْفَقْرَ وَنَتَخَوَّفُهُ، فَقَالَ: آلْفَقْرَ تَخَافُونَ؟ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَتُصَبَّنَّ عَلَيْكُمُ الدُّنْيَا صَبًّا حَتَّى لَا يُزِيغَ قَلْبَ أَحَدِ مِنْكُمْ إِزَاغَةً إِلَّا هِيَهْ، وَايْمُ اللَّهِ لَقَدْ تَرَكْتُكُمْ عَلَى مِثْلِ الْبَيْضَاءِ لَيْلُهَا وَنَهَارُهَا سَوَاءٌ ، قَالَ أَبُو الدَّرْدَاءِ: صَدَقَ وَاللَّهِ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ)، تَرَكَنَا وَاللَّهِ عَلَى مِثْلِ الْبَيْضَاء، لَيْلُهَا وَنَهَارُهَا سَوَاءٌ.
ابو الدرداء (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس آئے، ہم اس وقت غربت و افلاس اور فقر کا تذکرہ کر رہے تھے، اور اس سے ڈر رہے تھے، آپ ﷺ نے فرمایا : کیا تم لوگ فقر سے ڈرتے ہو ؟ قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، ضرور تم پر دنیا آئندہ ایسی لائی جائے گی کہ اس کی طلب مزید تمہارے دل کو حق سے پھیر دے گی ١ ؎، قسم اللہ کی ! میں نے تم کو ایسی تابناک اور روشن شریعت پر چھوڑا ہے جس کی رات (تابناکی میں) اس کے دن کی طرح ہے ۔ ابوالدرداء (رض) کہتے ہیں کہ قسم اللہ کی ! رسول اللہ ﷺ نے سچ فرمایا، قسم اللہ کی ! آپ نے ہم کو ایک تابناک اور روشن شریعت پر چھوڑا، جس کی رات (تابناکی میں) اس کے دن کی طرح ہے ٢ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف : ١٠٩٢٩، ومصباح الزجاجة : ١) (حسن ) وضاحت : ١ ؎: إلا هيه میں ھی کی ضمیر دنیا کی طرف لوٹ رہی ہے، اور اس کے آخر میں ھا ھائے سکت ہے۔ ٢ ؎: اس کا ایک مفہوم یہ بھی ہوسکتا ہے کہ میں نے تمہیں ایک ایسے حال پر چھوڑا ہے کہ تمہارے دل پاک و صاف ہیں، ان میں باطل کی طرف کوئی میلان نہیں، اور اللہ تعالیٰ کی طرف توجہ سے تنگی و خوشحالی کوئی بھی چیز انہیں پھیر نہیں سکتی۔
6
Ibn Majahحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ): لَا تَزَالُ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي مَنْصُورِينَ لَا يَضُرُّهُمْ مَنْ خَذَلَهُمْ حَتَّى تَقُومَ السَّاعَةُ .
قرہ بن ایاس (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : میری امت میں سے ایک گروہ کو ہمیشہ قیامت تک اللہ تعالیٰ کی مدد حاصل رہے گی ١ ؎، اور جو اس کی تائید و مدد نہ کرے گا اسے کوئی نقصان نہیں پہنچا سکے گا ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/کتاب الفتن ٢٧ (٢١٩٢) ، ٥١ (٢٢٢٩) ، (تحفة الأشراف : ١١٠٨١) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٣/٤٣٦ ٤/٩٧، ١٠١) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: طائفة کا لفظ نکرہ استعمال ہوا ہے جس سے قلت مراد ہے، یعنی یہ ایک ایسا گروہ ہوگا جو تعداد میں کم ہوگا، یا تعظیم کے لئے ہے یعنی یہ ایک بڑے رتبے والا گروہ ہوگا، امام احمد بن حنبل (رح) اس گروہ کے بارے میں فرماتے ہیں کہ اگر اس سے مراد اہل حدیث نہیں ہیں تو میں نہیں جانتا کہ پھر اس سے مراد کون ہوں گے، اس حدیث میں نبی کریم ﷺ نے عاملین بالحدیث کو یہ بشارت دی ہے کہ کسی کی موافقت یا مخالفت اس کو نقصان نہ پہنچا سکے گی، اس لئے کہ وہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی حفاظت و امان میں ہیں، اس لئے متبع سنت کو اس حدیث کی روشنی میں یہ طریقہ اختیار کرنا چاہیے کہ حدیث رسول کے ثابت ہوجانے کے بعد سلف صالحین کے فہم و مراد کے مطابق اس پر بلا خوف و خطر عمل کرے اور اگر ساری دنیا بھی اس کی مخالف ہو تو اس کی ذرہ برابر پرواہ نہ کرے، اس لئے کہ آپ ﷺ کی لائی ہوئی شریعت اللہ کا آخری دین ہے، اور اسی پر چل کر ہمارے لئے نجات ہے۔
7
Ibn Majahحَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَلْقَمَةَ نَصْرُ بْنُ عَلْقَمَةَ، عَنْ عُمَيْرِ بْنِ الْأَسْوَدِ، وَكَثِيرِ بْنِ مُرَّةَ الْحَضْرَمِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ (ﷺ) قَالَ: لَا تَزَالُ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي قَوَّامَةً عَلَى أَمْرِ اللَّهِ لَا يَضُرُّهَا مَنْ خَالَفَهَا .
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : میری امت میں ایک گروہ ہمیشہ اللہ کے حکم (دین) پر قائم رہنے والا ہوگا، اس کی مخالفت کرنے والا اس کا کچھ نہ بگاڑ سکے گا ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ ابن ماجہ (تحفة الأشراف : ١٤٢٧٨، ومصباح الزجاجة : ٣) ، وقد أ خرجہ : مسند احمد (٣/٤٣٦، ٤/٩٧) (حسن صحیح )
8
Ibn Majahحَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا الْجَرَّاحُ بْنُ مَلِيحٍ، حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ زُرْعَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا عِنَبَةَ الْخَوْلَانِيَّ، وَكَانَ قَدْ صَلَّى الْقِبْلَتَيْنِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ (ﷺ) قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ (ﷺ) يَقُولُ: لَا يَزَالُ اللَّهُ يَغْرِسُ فِي هَذَا الدِّينِ غَرْسًا يَسْتَعْمِلُهُمْ فِي طَاعَتِهِ .
ابوعنبہ خولانی (رض) سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ دونوں قبلوں کی طرف نماز پڑھی تھی، وہ کہتے ہیں : میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا : اللہ ہمیشہ اس دین میں نئے پودے اگا کر ان سے اپنی اطاعت کراتا رہے گا ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف : ١٢٠٧٥، ومصباح الزجاجة : ٤) ، مسند احمد (٤/٢٠٠) (حسن ) وضاحت : ١ ؎: نئے پودے اگانے کا مطلب یہ ہے کہ وہ نئے نئے لوگوں کو پیدا فرمائے گا، جو اس کی اطاعت و فرمانبرداری کریں گے۔
9
Ibn Majahحَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ، حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ نَافِعٍ، حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَامَ مُعَاوِيَةُ خَطِيبًا، فَقَالَ: أَيْنَ عُلَمَاؤُكُمْ؟ أَيْنَ عُلَمَاؤُكُمْ؟ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ (ﷺ) يَقُولُ: لَا تَقُومُ السَّاعَةُ إِلَّا وَطَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي ظَاهِرُونَ عَلَى النَّاسِ لَا يُبَالُونَ مَنْ خَذَلَهُمْ، وَلَا مَنْ نَصَرَهُمْ .
شعیب کہتے ہیں کہ معاویہ (رض) خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے اور کہا : تمہارے علماء کہاں ہیں ؟ تمہارے علماء کہاں ہیں ؟ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے : قیامت تک میری امت میں سے ایک گروہ لوگوں پر غالب رہے گا، کوئی اس کی مدد کرے یا نہ کرے اسے اس کی پرواہ نہ ہوگی ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف : ١١٤١٩) ، وقد أخرجہ : صحیح البخاری/فرض الخمس ٧ (٣١١٦) ، المناقب ٢٨ (٣٦٤٠) ، الاعتصام ١٠ (٧٣١١) ، التوحید ٢٩ (٧٤٥٩) ، صحیح مسلم/الإمارة ٥٣ (١٩٢٣) ، مسند احمد (٤/٩٣) (صحیح )
10
Ibn Majahحَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ شُعَيْبٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ بَشِيرٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ الرَّحَبِيِّ، عَنْ ثَوْبَانَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ (ﷺ) قَالَ: لَا يَزَالُ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي عَلَى الْحَقِّ مَنْصُورِينَ لَا يَضُرُّهُمْ مَنْ خَالَفَهُمْ حَتَّى يَأْتِيَ أَمْرُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ .
ثوبان (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : میری امت میں سے ایک گروہ ہمیشہ نصرت الٰہی سے بہرہ ور ہو کر حق پر قائم رہے گا، مخالفین کی مخالفت اسے (اللہ کے امر یعنی :) ١ ؎ قیامت تک کوئی نقصان نہ پہنچا سکے گی ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الإمارة ٥٣ (١٩٢٠) ، الفتن ٥ (٢٨٨٩) ، سنن الترمذی/الفتن ١٤ (٢١٧٦) ، ٥١ (٢٢٢٩) ، (تحفة الأشراف : ٢١٠٢) ، وقد أخرجہ : سنن ابی داود/الفتن ١ (٤٢٥٢) ، مسند احمد (٥/٣٤، ٣٥) ، سنن الدارمی/الجہاد ٣٨ (٢٤٧٦) (یہ حدیث مکرر ہے، دیکھئے : ٣٩٥٢) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: امر اللہ سے مراد وہ ” ہوا “ ہے جو سارے مومنوں کی روحوں کو قبض کرے گی۔