Ibn Majah
27. حج کا بیان
سنن ابن ماجه
2882
Ibn Majahحَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، وَأَبُو مُصْعَبٍ الزُّهْرِيُّ، وَسُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالُوا: حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ سُمَيٍّ مَوْلَى أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ السَّمَّانِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ (ﷺ) قَالَ: السَّفَرُ قِطْعَةٌ مِنَ الْعَذَابِ يَمْنَعُ أَحَدَكُمْ نَوْمَهُ وَطَعَامَهُ وَشَرَابَهُ، فَإِذَا قَضَى أَحَدُكُمْ نَهْمَتَهُ مِنْ سَفَرِهِ فَلْيُعَجِّلِ الرُّجُوعَ إِلَى أَهْلِهِ. حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ (ﷺ) بِنَحْوِهِ.
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : سفر عذاب کا ایک ٹکڑا ہے، وہ تمہارے سونے، اور کھانے پینے (کی سہولتوں) میں رکاوٹ بنتا ہے، لہٰذا تم میں سے کوئی جب اپنے سفر کی ضرورت پوری کرلے، تو جلد سے جلد اپنے گھر لوٹ آئے ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/العمرة ١٩ (١٨٠٤) ، الجہاد ١٣٦ (٣٠٠١) ، الأطعمة ٣٠ (٥٤٢٩) ، صحیح مسلم/الإمارة ٥٥ (١٩٢٧) ، (تحفة الأشراف : ١٢٥٧٢) ، وقد أخرجہ : موطا امام مالک/الاستئذان ١٥ (٣٩) ، مسند احمد (٢/٢٣٦، ٤٤٥) ، سنن الدارمی/الاستئذان ٤٠ (٢٧١٢) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ بلا ضرورت سفر میں رہنا اور تکلیفیں اٹھانا صحیح نہیں ہے، یہ بھی معلوم ہوا کہ سفر گرچہ حج یا جہاد کے لیے ہو تب بھی کام پورا ہونے کے بعد جلدی گھر لوٹنا بہتر ہے، اس میں خود اس شخص کو بھی آرام ہے اور اس کے گھر والوں کو بھی جو جدائی سے پریشان رہتے ہیں، اور مدت دراز تک شوہر کا اپنی بیوی سے علاحدہ رہنا بھی مناسب نہیں ہے، حاجت بشری اور خواہش انسانی ساتھ لگی ہوئی ہے مبادا گناہ میں گرفتاری ہو، اللہ بچائے۔ اس سند سے بھی ابوہریرہ (رض) سے اسی طرح مروی ہے۔
2883
Ibn Majahحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، وَعَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل أَبُو إِسْرَائِيلَ، عَنْ فُضَيْلِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ الْفَضْلِ، أَوْ أَحَدِهِمَا عَنِ الْآخَرِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ): مَنْ أَرَادَ الْحَجَّ فَلْيَتَعَجَّلْ، فَإِنَّهُ قَدْ يَمْرَضُ الْمَرِيضُ، وَتَضِلُّ الضَّالَّةُ، وَتَعْرِضُ الْحَاجَةُ.
عبداللہ بن عباس، فضل رضی اللہ عنہم سے روایت کرتے ہیں یا ان میں ایک دوسرے سے روایت کرتے ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جو شخص حج کا قصد کرے تو اسے جلدی سے انجام دے لے، اس لیے کہ کبھی آدمی بیمار پڑجاتا ہے یا کبھی کوئی چیز گم ہوجاتی ہے، (جیسے سواری وغیرہ) یا کبھی کوئی ضرورت پیش آجاتی ہے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف : ١١٠٤٧، ومصباح الزجاجة : ١٠١٥) ، وقد أخرجہ : سنن ابی داود/المناسک ٦ (١٧٣٢) ، مسند احمد (١/٢٢٥، ٣٢٣، ٣٥٥) ، سنن الدارمی/الحج ١ (١٨٢٥) (حسن) (سند میں اسماعیل بن خلیفہ ضعیف ہیں، لیکن متابعات و شواہد کی وجہ سے یہ حسن ہے، ملاحظہ ہو : الإرواء : ٩٩٠ ) وضاحت : ١ ؎: تاخیر کی صورت میں اس قسم کے حالات سے دو چار ہوسکتا ہے، اور آدمی ایک فرض کا تارک ہوسکتا ہے۔
2884
Ibn Majahحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ وَرْدَانَ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ وَلِلَّهِ عَلَى النَّاسِ حِجُّ الْبَيْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلا سورة آل عمران آية 97، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، الْحَجُّ فِي كُلِّ عَامٍ؟، فَسَكَتَ، ثُمَّ قَالُوا: أَفِي كُلِّ عَامٍ؟، فَقَالَ: لَا، وَلَوْ قُلْتُ: نَعَمْ، لَوَجَبَتْ، فَنَزَلَتْ يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تَسْأَلُوا عَنْ أَشْيَاءَ إِنْ تُبْدَ لَكُمْ تَسُؤْكُمْ سورة المائدة آية 101.
علی (رض) کہتے ہیں کہ جب آیت کریمہ : ولله على الناس حج البيت من استطاع إليه سبيلا اللہ کے لیے ان لوگوں پر بیت اللہ کا حج کرنا فرض ہے، جو وہاں تک پہنچنے کی قدرت رکھتے ہوں (سورۃ آل عمران : ٩٧ ) نازل ہوئی تو لوگوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! کیا حج ہر سال فرض ہے ١ ؎؟ آپ ﷺ خاموش رہے، لوگوں نے پھر سوال کیا : کیا ہر سال حج فرض ہے ؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا : نہیں، اور اگر میں، ہاں، کہہ دیتا تو (ہر سال) واجب ہوجاتا ، اس پر آیت کریمہ : يا أيها الذين آمنوا لا تسألوا عن أشياء إن تبد لکم تسؤكم اے ایمان والو ! تم ان چیزوں کے بارے میں سوال نہ کرو اگر وہ تم پر ظاہر کردی جائیں تو تمہارے لیے بار خاطر ہوں گی (سورۃ المائدہ : ١٠١ ) نازل ہوئی ٢ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/الحج ٥ (٨١٤) ، (تحفة الأشراف : ١٠١١١) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (١/١١٣) (ضعیف) (سند میں عبدالاعلی ضعیف راوی ہیں، لیکن متن حدیث نزول آیت کے علاوہ صحیح و ثابت ہے، ملاحظہ ہو : آگے حدیث نمبر ٢٨٨٥ ) وضاحت : ١ ؎: حج اسلام کا پانچواں بنیادی رکن ہے جو ٥ ھ یا ٦ ھ میں فرض ہوا، بعض لوگوں کے نزدیک ٩ ھ یا ١٠ ھ میں فرض ہوا ہے زادالمعاد میں حافظ ابن القیم کا رجحان اسی طرف ہے۔ ٢ ؎: بلا ضرورت سوال کرنا منع ہے، کیونکہ سوال سے ہر چیز کھول کر بیان کی جاتی ہے اور جو سوال نہ ہو تو مجمل رہتی ہے اور مجمل میں بڑی گنجائش رہتی ہے، اسی حج کی آیت میں دیکھیں کہ اس میں تفصیل نہیں تھی کہ ہر سال حج فرض ہے یا زندگی میں ایک بار، پس اگر زندگی میں ایک بار بھی حج کرلیا تو آیت پر عمل ہوگیا، اور یہ کافی تھا پوچھنے کی حاجت نہ تھی، لیکن صحابہ کرام (رض) نے پوچھا، اگر رسول اکرم ﷺ ہاں فرما دیتے تو ہر سال حج فرض ہوجاتا اور امت کو بڑی تکلیف ہوتی خصوصاً دور دراز ملک والوں کو وہ ہر سال حج کے لیے کیونکر جاسکتے ہیں، مگر آپ ﷺ نے اپنی امت پر رحم فرمایا، اور خاموش رہے جب انہوں نے پھر سوال کیا تو انکار میں جواب دیا یعنی ہر سال فرض نہیں، اور آئندہ کے لیے ان کو بلاضرورت سوال کرنے سے منع فرمایا۔
2885
Ibn Majahحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، الْحَجُّ فِي كُلِّ عَامٍ؟، قَالَ: لَوْ قُلْتُ: نَعَمْ، لَوَجَبَتْ، وَلَوْ وَجَبَتْ، لَمْ تَقُومُوا بِهَا، وَلَوْ لَمْ تَقُومُوا بِهَا عُذِّبْتُمْ.
انس (رض) کہتے ہیں کہ لوگوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! کیا حج ہر سال واجب ہے ؟ آپ ﷺ نے جواب دیا : اگر میں ہاں کہہ دوں تو وہ (ہر سال) واجب ہوجائے گا، اور اگر (ہر سال) واجب ہوگیا تو تم اسے انجام نہ دے سکو گے، اور اگر انجام نہ دے سکے تو تمہیں عذاب دیا جائے گا ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف : ٩٢٧، ومصباح الزجاجة : ١٠١٦) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (١/٣٨٧) (صحیح )
2886
Ibn Majahحَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ بْنُ حُسَيْنٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سِنَانٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّ الْأَقْرَعَ بْنَ حَابِسٍ، سَأَلَ النَّبِيَّ (ﷺ)، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، الْحَجُّ فِي كُلِّ سَنَةٍ أَوْ مَرَّةً وَاحِدَةً؟، قَالَ: بَلْ مَرَّةً وَاحِدَةً فَمَنِ اسْتَطَاعَ فَتَطَوَّعَ.
عبداللہ بن عباس (رض) سے روایت ہے کہ اقرع بن حابس (رض) نے نبی اکرم ﷺ سے سوال کیا اور کہا : اللہ کے رسول ! کیا حج ہر سال فرض ہے، یا صرف ایک بار ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : نہیں، صرف ایک مرتبہ فرض ہے، البتہ جو (مزید کی) استطاعت رکھتا ہو تو وہ اسے بطور نفل کرے ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/الحج ١ (١٧٢١) ، سنن النسائی/الحج ١ (٢٦٢١) ، (تحفة الأشراف : ٦٥٥٦، ومصباح الزجاجة : ١٠١٧) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (١/٢٥٥، ٢٩٠، ٣٠١، ٣٠٣، ٣٢٣، ٣٢٥، ٣٥٢، ٣٧٠، ٣٧١) ، سنن الدارمی/الحج ٤ (١٨٢٩) (صحیح )
2887
Ibn Majahحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرٍ، عَنْعُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ (ﷺ) قَالَ: تَابِعُوا بَيْنَ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ، فَإِنَّ الْمُتَابَعَةَ بَيْنَهُمَا تَنْفِي الْفَقْرَ وَالذُّنُوبَ، كَمَا يَنْفِي الْكِيرُ خَبَثَ الْحَدِيدِ. حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، عَنِ النَّبِيِّ (ﷺ) نَحْوَهُ.
عمر (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : حج اور عمرہ کو یکے بعد دیگرے ادا کرو، اس لیے کہ انہیں باربار کرنا فقر اور گناہوں کو ایسے ہی دور کردیتا ہے جیسے بھٹی لوہے کے میل کو ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف : ١٠٤٧٧، ومصباح الزجاجة : ١٠١٨) (صحیح) (سند میں عاصم بن عبید اللہ ضعیف راوی ہیں، لیکن اصل حدیث ابن مسعود (رض) وغیرہ سے ثابت ہے، ملاحظہ ہو : سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی : ١٢٠٠ ) اس سند سے بھی عمر بن خطاب (رض) سے اسی جیسی حدیث مروی ہے۔
2888
Ibn Majahحَدَّثَنَا أَبُو مُصْعَبٍ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ سُمَيٍّ مَوْلَى أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ السَّمَّانِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ النَّبِيَّ (ﷺ) قَالَ: الْعُمْرَةُ إِلَى الْعُمْرَةِ كَفَّارَةُ مَا بَيْنَهُمَا، وَالْحَجُّ الْمَبْرُورُ لَيْسَ لَهُ جَزَاءٌ إِلَّا الْجَنَّةُ.
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ایک عمرے سے دوسرے عمرے تک جتنے گناہ ہوں ان سب کا کفارہ یہ عمرہ ہوتا ہے، اور حج مبرور (مقبول) کا بدلہ سوائے جنت کے کچھ اور نہیں ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/العمرة ١ (١٧٧٣) ، صحیح مسلم/الحج ٧٩ (١٣٤٩) ، سنن النسائی/الحج ٥ (٢٦٣٠) ، (تحفة الأشراف : ١٢٥٧٣) ، وقد أخرجہ : سنن الترمذی/الحج ٩٠ (٩٣٣) ، موطا امام مالک/الحج ٢١ (٦٥) ، مسند احمد (٢/٢٤٦، ٤٦١، ٤٦٢) ، سنن الدارمی/الحج ٧ (١٨٣٦) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: حج مبرور : حج مقبول کو کہتے ہیں اور بعض کے نزدیک مبرور وہ حج ہے جس میں کوئی گناہ سرزد نہ ہو، نیز ایک قول یہ بھی ہے کہ حج مبرور وہ حج ہے جس میں حج کے تمام شرائط اور آداب کی پابندی کی گئی ہو، اور بعضوں نے کہا کہ حج مبرور کی نشانی یہ ہے کہ اس کے بعد حاجی کا حال بدل جائے یعنی توجہ الی اللہ اور عبادت میں مصروف رہے، اور جن گناہوں کو حج سے پہلے کیا کرتا تھا ان سے باز رہے۔ واللہ اعلم۔
2889
Ibn Majahحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ مِسْعَرٍ، وَسُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ): مَنْ حَجَّ هَذَا الْبَيْتَ فَلَمْ يَرْفُثْ وَلَمْ يَفْسُقْ، رَجَعَ كَمَا وَلَدَتْهُ أُمُّهُ.
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جس نے اس گھر (کعبہ) کا حج کیا، اور نہ (ایام حج میں) جماع کیا، اور نہ گناہ کے کام کئے، تو وہ اس طرح واپس آئے گا جیسے اس کی ماں نے اسے جنم دیا ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الإیمان ١٨ (٢٦) ، الحج ٤ (١٥١٩ و ١٥٢١) ، المحصر ٩ (١٨١٩) ، ١٠ (١٨٢٠) ، صحیح مسلم/الحج ٧٨ (١٣٥٠) ، سنن الترمذی/الحج ٢ (٨١١) ، سنن النسائی/الحج ٤ (٢٦٢٨) ، (تحفة الأشراف : ١٣٤٣١) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٢/٢٢٩، ٢٤٨، ٤١٠، ٤٨٤، ٤٩٤) ، سنن الدارمی/الحج ٧ (١٨٣٦) (صحیح) (تراجع الألبانی : رقم : ٣٤٢ )
2890
Ibn Majahحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ الرَّبِيعِ بْنِ صَبِيحٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبَانَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: حَجَّ النَّبِيُّ (ﷺ) عَلَى رَحْلٍ رَثٍّ، وَقَطِيفَةٍ تُسَاوِي أَرْبَعَةَ دَرَاهِمَ أَوْ لَا تُسَاوِي، ثُمَّ قَالَ: اللَّهُمَّ حَجَّةٌ لَا رِيَاءَ فِيهَا، وَلَا سُمْعَةَ.
انس بن مالک (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے ایک پرانے کجاوے پر سوار ہو کر ایک ایسی چادر میں حج کیا جس کی قیمت چار درہم کے برابر رہی ہوگی، یا اتنی بھی نہیں، پھر فرمایا : اے اللہ ! یہ ایسا حج ہے جس میں نہ ریا کاری ہے اور نہ شہرت ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف : ١٦٧٢، ومصباح الزجاجة : ١٠١٩) ، وقد أخرجہ : صحیح البخاری/الحج ٣ (١٥١٧) ، عن ثمامة بن عبد اللہ بن أنس قال : حج أنس علی رحل ولم یکن شحیحاً وحدث أن رسول اللہ ﷺ حج علی رحل وکانت زاعلتہ (صحیح) (الربیع بن صبیح و یزید بن ابان دونوں ضعیف ہیں، لیکن حدیث متابعت اور شواہد کی بناء پر صحیح ہے، ملاحظہ ہو : سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی : ٢٦١٧ ، و مختصر الشمائل : ٢٨٨ ، فتح الباری : ٣؍ ٣٨٧ ) وضاحت : ١ ؎: یعنی خالص تیری رضا مندی اور ثواب کے لیے حج کرتا ہوں، نہ نمائش اور فخر و مباہات کے لیے، اس حدیث سے معلوم ہوا کہ حج میں زیادہ زیب و زینت کرنا اور زیادہ عمدہ سواری یا عمدہ لباس رکھنا خلاف سنت ہے، حج میں بندہ اپنے مالک کے حضور میں جاتا ہے تو جس قدر عاجزی کے ساتھ جائے پھٹے پرانے حال سے اتنا ہی بہتر ہے تاکہ مالک کی رحمت جوش میں آئے، اور یہی وجہ ہے کہ حج میں سلے ہوئے کپڑے پہننے سے اور خوشبو لگانے سے منع کیا گیا ہے۔
2891
Ibn Majahحَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ (ﷺ) بَيْنَ مَكَّةَ وَالْمَدِينَةِ فَمَرَرْنَا بِوَادٍ، فَقَالَ: أَيُّ وَادٍ هَذَا؟، قَالُوا: وَادِي الْأَزْرَقِ، قَالَ: كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى مُوسَى عَلَيْهِ السَّلام فَذَكَرَ مِنْ طُولِ شَعَرِهِ شَيْئًا لَا يَحْفَظُهُ دَاوُدُ وَاضِعًا إِصْبَعَيْهِ فِي أُذُنَيْهِ، لَهُ جُؤَارٌ إِلَى اللَّهِ بِالتَّلْبِيَةِ مَارًّا بِهَذَا الْوَادِي، قَالَ: ثُمَّ سِرْنَا حَتَّى أَتَيْنَا عَلَى ثَنِيَّةٍ، فَقَالَ: أَيُّ ثَنِيَّةٍ هَذِهِ؟، قَالُوا: ثَنِيَّةُ هَرْشَى أَوْ لَفْتٍ، قَالَ: كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى يُونُسَ عَلَى نَاقَةٍ حَمْرَاءَ عَلَيْهِ جُبَّةُ صُوفٍ، وَخِطَامُ نَاقَتِهِ خُلْبَةٌ مَارًّا بِهَذَا الْوَادِي مُلَبِّيًا.
عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ ہم لوگ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ مکہ اور مدینہ کے درمیان تھے، ہمارا گزر ایک وادی سے ہوا، آپ ﷺ نے پوچھا : یہ کون سی وادی ہے ؟ لوگوں نے عرض کیا : وادی ازرق ہے، آپ ﷺ نے فرمایا : گویا میں موسیٰ (علیہ السلام) کو دیکھ رہا ہوں، پھر آپ ﷺ نے موسیٰ (علیہ السلام) کے بالوں کی لمبائی کا تذکرہ کیا (جو راوی داود کو یاد نہیں رہا) اپنی دو انگلیاں اپنے دونوں کانوں میں ڈالے ہوئے بلند آواز سے، لبیک کہتے ہوئے، اللہ سے فریاد کرتے ہوئے اس وادی سے گزرے ۔ عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ ہم چلے یہاں تک کہ ہم ایک وادی میں پہنچے تو آپ ﷺ نے پوچھا : یہ کون سی وادی ہے ؟ لوگوں نے عرض کیا : هرشى أو لفت کی وادی ہے، آپ ﷺ نے فرمایا : گویا میں یونس (علیہ السلام) کو دیکھ رہا ہوں جو بالوں کا جبہ پہنے ہوئے، سرخ اونٹنی پر سوار ہیں، ان کی اونٹنی کی نکیل کھجور کے پتوں کی رسی کی ہے، اور وہ اس وادی سے لبیک کہتے ہوئے گزر رہے ہیں ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الإیمان ٧٤ (١٦٦) ، (تحفة الأشراف : ٥٤٢٤) ، وقد أخرجہ : صحیح البخاری/الحج ٣٠ (١٥٥٥) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: هرشى أو لفت دونوں ٹیلوں کے نام ہیں۔ ٢ ؎: احتمال ہے کہ عالم ارواح میں موسیٰ اور یونس (علیہما السلام) آپ ﷺ کے سامنے اس وقت اسی طرح سے گزرے ہوں، یا یہ واقعہ ان کے زمانہ کا ہے، اللہ تبارک وتعالی نے آپ ﷺ کو پھر دکھلا دیا، یا یہ تشبیہ ہے کمال علم اور یقین کی جیسے اس بات کو دیکھ رہے ہیں۔