Ibn Majah
16. ہبہ کا بیان
سنن ابن ماجه
2375
Ibn Majahحَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، قَالَ: انْطَلَقَ بِهِ أَبُوهُ يَحْمِلُهُ إِلَى النَّبِيِّ (ﷺ) فَقَالَ: اشْهَدْ أَنِّي قَدْ نَحَلْتُ النُّعْمَانَ مِنْ مَالِي كَذَا وَكَذَا، قَالَ: فَكُلَّ بَنِيكَ نَحَلْتَ مِثْلَ الَّذِي نَحَلْتَ النُّعْمَانَ، قَالَ: لَا، قَالَ: فَأَشْهِدْ عَلَى هَذَا غَيْرِي، قَالَ: أَلَيْسَ يَسُرُّكَ أَنْ يَكُونُوا لَكَ فِي الْبِرِّ سَوَاءً، قَالَ: بَلَى، قَالَ: فَلَا إِذًا.
نعمان بن بشیر (رض) کہتے ہیں کہ ان کے والد انہیں لے کر نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں آئے، اور عرض کیا : میں آپ کو اس بات پر گواہ بناتا ہوں کہ میں نے اپنے مال میں سے فلاں فلاں چیز نعمان کو دے دی ہے، آپ ﷺ نے فرمایا : تم نے اپنے سارے بیٹوں کو ایسی ہی چیزیں دی ہیں جو نعمان کو دی ہیں ؟ انہوں نے کہا : نہیں، آپ ﷺ نے فرمایا : تب میرے علاوہ کسی اور کو اس پر گواہ بنا لو، کیا تمہیں یہ بات اچھی نہیں لگتی کہ تمہارے سارے بیٹے تم سے نیک سلوک کرنے میں برابر ہوں ؟ انہوں نے کہا : کیوں نہیں، آپ ﷺ نے فرمایا : تب ایسا مت کرو ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الھبة ١٢ (٢٥٨٧) ، صحیح مسلم/الھبات ٣ (١٦٢٣) ، سنن ابی داود/البیوع ٨٥ (٣٥٤٢) ، سنن النسائی/النحل (٣٧٠٩) ، (تحفة الأشراف : ١١٦٢٥) ، وقد أخرجہ : موطا امام مالک/الأقضیة ٣٣ (٣٩) ، مسند احمد (٤/٢٦٨، ٢٦٩، ٢٧٠، ٢٧٣، ٢٧٦) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: یہ صورت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ اولاد کو عطیہ دینے میں سب کا حصہ برابر کا ہوگا، کم زیادہ ہو تو ہبہ باطل ہے مگر جمہور نے اس کی مخالفت کی ہے اور کہا ہے کہ سب کو برابر دینا مندوب ہے، عطیہ وہبہ میں کسی کو زیادہ دینے سے ہبہ باطل نہیں ہوتا لیکن ایک روایت میں آپ ﷺ نے اسے ظلم کہا ہے اور نعمان کے والد بشیر سے آپ کا یہ فرمانا فاردده اسے واپس لے لو اس بات کی تائید کر رہا ہے کہ اولاد کے ساتھ عطیہ میں برابر کا سلوک واجب ہے، یہی احمد، سفیان ثوری اور اسحاق ابن راہویہ وغیرہ کا مذہب ہے۔
2376
Ibn Majahحَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَمُحَمَّدِ بْنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، أَخْبَرَاهُ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، أَنَّ أَبَاهُ نَحَلَهُ غُلَامًا وَأَنَّهُ جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ (ﷺ) يُشْهِدُهُ، فَقَالَ: أَكُلَّ وَلَدِكَ نَحَلْتَهُ، قَالَ: لَا، قَالَ: فَارْدُدْهُ.
نعمان بن بشیر (رض) کہتے ہیں کہ ان کے والد نے ان کو ایک غلام دیا، اور نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے تاکہ آپ کو اس پر گواہ بنائیں تو آپ ﷺ نے فرمایا : تم نے اپنے سارے بیٹوں کو ایسے ہی دیا ہے ؟ انہوں نے کہا : نہیں، آپ ﷺ نے فرمایا : تب اس کو واپس لے لو ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الہبة ١٢ (٢٥٨٦) ، صحیح مسلم/الہبات (١٦٢٣) ، سنن الترمذی/الأحکام ٣٠ (١٣٦٧) ، سنن النسائی/النحل (٣٧٠٥) ، (تحفة الأشراف : ١١٦١٧، ١١٦٣٨) (صحیح )
2377
Ibn Majahحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ خَلَّادٍ الْبَاهِلِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ حُسَيْنٍ الْمُعَلِّمِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَابْنِ عُمَرَ، يرفعان الحديث إلى النَّبِيِّ (ﷺ) قَالَ: لَا يَحِلُّ لِلرَّجُلِ أَنْ يُعْطِيَ الْعَطِيَّةَ ثُمَّ يَرْجِعَ فِيهَا إِلَّا الْوَالِدَ فِيمَا يُعْطِي وَلَدَهُ.
عبداللہ بن عباس اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : آدمی کے لیے جائز نہیں کہ کسی کو عطیہ دے کر واپس لے سوائے باپ کے جو اپنی اولاد کو دے ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/البیوع ٨٣ (٣٥٣٩) ، سنن الترمذی/البیوع ٦٢ (١٢٩٩) ، الولاء البراء ٧ (٢١٣٢، ٢١٣١) ، سنن النسائی/الھبة ٢ (٣٧٢٠) ، (تحفة الأشراف : ٥٧٤٣، ٧٠٩٧) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٢/٢٧، ٧٨) (صحیح )
2378
Ibn Majahحَدَّثَنَا جَمِيلُ بْنُ الْحَسَنِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ عَامِرٍ الْأَحْوَلِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ (ﷺ) قَالَ: لَا يَرْجِعْ أَحَدُكُمْ فِي هِبَتِهِ إِلَّا الْوَالِدَ مِنْ وَلَدِهِ.
عبداللہ بن عمرو بن العاص (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ہبہ کر کے کوئی واپس نہ لے سوائے باپ کے جو وہ اپنی اولاد کو کرے ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن النسائی/الھبة ٢ (٣٧١٩) ، (تحفة الأشراف : ٨٧٢٢) ، وقد أخرجہ : سنن ابی داود/البیوع ٨٣ (٣٥٤٠) ، مسند احمد (٤/١٨٢) ، (حسن صحیح )
2379
Ibn Majahحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ): لَا عُمْرَى فَمَنْ أُعْمِرَ شَيْئًا فَهُوَ لَهُ.
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : عمریٰ کوئی چیز نہیں ہے، جس کو عمریٰ کے طور پر کوئی چیز دی گئی تو وہ اسی کی ملک ہوجائے گی ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف : ١٥١٠٧) ، وقد أخرجہ : سنن النسائی/الرقبي ٤ (٣٥٥٥) (حسن صحیح ) وضاحت : ١ ؎: صحیحین میں ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ عمریٰ والوں کے لئے، عمریٰ میراث ہوگی ایک روایت میں ہے کہ عمریٰ جائز ہے۔
2380
Ibn Majahحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ (ﷺ) يَقُولُ: مَنْ أَعْمَرَ رَجُلًا عُمْرَى لَهُ وَلِعَقِبِهِ فَقَدْ قَطَعَ قَوْلُهُ حَقَّهُ فِيهَا فَهِيَ لِمَنْ أُعْمِرَ وَلِعَقِبِهِ.
جابر (رض) کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا : جس نے کسی کو بطور عمریٰ کوئی چیز دی، تو وہ جس کو دیا ہے اس کی اور اس کے بعد اس کے اولاد کی ہوجائے گی، اس نے عمریٰ کہہ کر اپنا حق ختم کرلیا، اب وہ چیز جس کو عمریٰ دیا گیا اس کی اور اس کے بعد اس کے وارثوں کی ہوگئی ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الھبة ٣٢ (٢٦٢٥) ، صحیح مسلم/الھبات ٤ (١٦٢٥) ، سنن ابی داود/البیوع ٨٧ (٣٥٥٠، ٣٥٥٢) ، سنن الترمذی/الأحکام ١٥ (١٣٥٠) ، سنن النسائی/االعمريٰ (٣٧٧٢) ، (تحفة الأشراف : ٣١٤٨) ، وقد أخرجہ : موطا امام مالک/الأقضیة ٣٧ (٤٣) ، مسند احمد (٣/٣٠٢، ٣٠٤، ٣٦٠، ٣٩٣، ٣٩٩) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: عمریٰ کرنے والے کو اب واپس لینے کا کوئی حق نہیں ہوگا اور نہ ہی اس کا کوئی عذر مقبول ہوگا۔
2381
Ibn Majahحَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنْ حُجْرٍ الْمَدَرِيِّ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، أَنّ النَّبِيَّ (ﷺ): جَعَلَ الْعُمْرَى لِلْوَارِثِ.
زید بن ثابت (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے عمریٰ وارث کو دلا دیا۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/البیوع ٨٩ (٣٥٥٩) ، سنن النسائی/الرقبي (٣٧٤٦) ، (تحفة الأشراف : ٣٧٠٠) (صحیح الإسناد ) وضاحت : ١ ؎: حدیث کا مطلب یہ ہے کہ عمریٰ دینے سے وہ چیز ہمیشہ کے لئے دینے والے کی ملکیت سے نکل جائے گی اور اس کی ہوجائے گی جس کو عمریٰ دیا گیا، اس کے بعد اس کے وارثوں کو ملے گی، اہل حدیث اور جمہور علماء کا یہی قول ہے۔
2382
Ibn Majahحَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ، أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنْبَأَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ): لَا رُقْبَى فَمَنْ أُرْقِبَ شَيْئًا فَهُوَ لَهُ حَيَاتَهُ وَمَمَاتَهُ، قَالَ: وَالرُّقْبَى أَنْ يَقُولَ هُوَ لِلْآخَرِ مِنِّي وَمِنْكَ مَوْتًا.
عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : رقبیٰ کوئی چیز نہیں ہے جس کو بطور رقبیٰ کوئی چیز دی گئی تو وہ اسی کی ہوگی اس کی زندگی اور موت دونوں حالتوں میں راوی کہتے ہیں : رقبیٰ یہ ہے کہ ایک شخص کسی کو کوئی چیز دے کر یہ کہے کہ ہم اور تم میں سے جو آخر میں مرے گا یہ اس کی ہوگی۔ تخریج دارالدعوہ : سنن النسائی/العمریٰ ١ (٣٧٦٣، ٣٧٦٤، ٣٧٦٥) ، (تحفة الأشراف : ٦٦٨٠) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٢/٣٤، ٧٣) (صحیح )
2383
Ibn Majahحَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، ح وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، قَالَا: حَدَّثَنَا دَاوُدُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ): الْعُمْرَى جَائِزَةٌ لِمَنْ أُعْمِرَهَا، وَالرُّقْبَى جَائِزَةٌ لِمَنْ أُرْقِبَهَا.
جابر بن عبداللہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : عمریٰ اس شخص کا ہوجائے گا جس کو عمریٰ دیا گیا، اور رقبیٰ اس شخص کا ہوجائے گا جس کو رقبیٰ دیا گیا ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/البیوع ٨٩ (٣٥٥٨) ، سنن الترمذی/الأحکام ١٦ (١٣٥١) ، سنن النسائی/العمريٰ (٣٧٦٩) ، (تحفة الأشراف : ٢٧٠٥) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: یعنی دونوں صورتوں میں وہ شئے دینے والے کے ملک سے نکل جائے گی، اور جس کو عمریٰ یا رقبیٰ کے طور پر دی گئی ہے اس کی ہوجائے گی، اور اس کے بعد اس کے وارثوں کو ملے گی۔
2384
Ibn Majahحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ عَوْفٍ، عَنْ خِلَاسٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ): إِنَّ مَثَلَ الَّذِي يَعُودُ فِي عَطِيَّتِهِ كَمَثَلِ الْكَلْبِ أَكَلَ حَتَّى إِذَا شَبِعَ قَاءَ ثُمَّ عَادَ فِي قَيْئِهِ فَأَكَلَهُ.
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اس شخص کی مثال جو ہبہ کر کے واپس لے اس کتے جیسی ہے جو خوب آسودہ ہو کر کھالے، پھر قے کر کے اسے چاٹے ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف : ١٢٣٠٥، ومصباح الزجاجة : ٨٣٥) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٢/٢٥٩، ٤٣٠، ٤٩٢) (صحیح) (خلاس اور ابوہریرہ (رض) کے درمیان انقطاع ہے، اس لئے کہ خلاس نے ابوہریرہ (رض) سے کچھ نہیں سنا ہے، لیکن شواہد کی بناء پر یہ حدیث صحیح ہے، ملاحظہ ہو : الإرواء : ٦ ٦٤ و سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی : ١٦٩٩ ) ۔