Ibn Majah
31. مشروبات کا بیان
سنن ابن ماجه
3371
Ibn Majahحَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ الْمَرْوَزِيُّ، حَدَّثَنَا بْنُ أَبِي عَدِيٍّ . ح وحَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ الْجَوْهَرِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ جَمِيعًا، عَنْ رَاشِدٍ أَبِي مُحَمَّدٍ الْحِمَّانِيِّ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ أُمِّ الدَّرْدَاءِ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، قَالَ: أَوْصَانِي خَلِيلِي (ﷺ)لَا تَشْرَبْ الْخَمْرَ، فَإِنَّهَا مِفْتَاحُ كُلِّ شَرٍّ.
ابو الدرداء (رض) کہتے ہیں کہ میرے خلیل (جگری دوست) رسول اللہ ﷺ نے مجھے وصیت فرمائی : شراب مت پیو، اس لیے کہ یہ تمام برائیوں کی کنجی ہے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف : ١٠٩٨٥، ومصباح الزجاجة : ١١٦٨) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: آدمی ہر ایک برائی سے عقل کی وجہ سے بچتا ہے جب عقل ہوتی ہے تو اللہ کا خوف ہوتا ہے، شراب پینے سے عقل ہی میں فتور آجاتا ہے، پھر خوف کہاں رہا شرابی سے سینکڑوں گناہ سرزد ہوتے ہیں، اس لئے اس کو ام الخبائث کہتے ہیں، یعنی سب برائیوں کی جڑ۔
3372
Ibn Majahحَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عُثْمَانَ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا مُنِيرُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ عُبَادَةَ بْنَ نُسَيٍّ، يَقُولُ: سَمِعْتُ خَبَّابَ بْنَ الْأَرَتِّ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ (ﷺ) أَنَّهُ، قَالَ: إِيَّاكَ وَالْخَمْرَ، فَإِنَّ خَطِيئَتَهَا تَفْرَعُ الْخَطَايَا، كَمَا أَنَّ شَجَرَتَهَا تَفْرَعُ الشَّجَرَ.
خباب بن ارت (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : شراب سے بچو، اس لیے کہ اس کے گناہ سے دوسرے بہت سے گناہ پھوٹتے ہیں جس طرح ایک درخت ہوتا ہے اور اس سے بہت سی شاخیں پھوٹتی ہیں ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف : ٣٥١٥، ومصباح الزجاجة : ١١٦٩) (ضعیف) (منیر بن زبیر الشامی ضعیف ہے )
3373
Ibn Majahحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ (ﷺ)، قَالَ: مَنْ شَرِبَ الْخَمْرَ فِي الدُّنْيَا، لَمْ يَشْرَبْهَا فِي الْآخِرَةِ، إِلَّا أَنْ يَتُوبَ.
عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جو شخص دنیا میں شراب پئے گا، وہ آخرت میں نہیں پی سکے گا مگر یہ کہ وہ توبہ کرلے ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الأشربة ٨ (٢٠٠٣) ، (تحفة الأشراف : ٧٩٥١) ، وقد أخرجہ : صحیح البخاری/الأشربة ١ (٥٥٧٥) ، سنن الترمذی/الأشربة ١ (١٨٦١) ، موطا امام مالک/الأشربة ٤ (١١) ، مسند احمد (٢/١٩، ٢٢، ٢٨، ٥/٩٨، ١٠٦، ١٣٣، ١٤٢) ، سنن الدارمی/الأشربة ٣ (٢١٣٥) (صحیح )
3374
Ibn Majahحَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي زَيْدُ بْنُ وَاقِدٍ، أَنَّ خَالِدَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُسَيْنٍ حَدَّثَهُ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ (ﷺ)، قَالَ: مَنْ شَرِبَ الْخَمْرَ فِي الدُّنْيَا، لَمْ يَشْرَبْهَا فِي الْآخِرَةِ.
ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جو دنیا میں شراب پئے گا، وہ آخرت میں اس سے محروم رہے گا ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف : ١٢٣٠٠، ومصباح الزجاجة : ١١٧٠) (صحیح )
3375
Ibn Majahحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ الْأَصْبَهَانِيِّ، عَنْ سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ): مُدْمِنُ الْخَمْرِ كَعَابِدِ وَثَنٍ.
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : شراب کا عادی ایسے ہی ہے جیسے بتوں کا پجاری ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف : ١٢٧٤٨، ومصباح الزجاجة : ١١٧١) (حسن) (سند میں محمد بن سلیمان ضعیف ہے، لیکن شواہد کی وجہ سے یہ حسن ہے، ملاحظہ ہو : سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی : ٦٧٧ ) وضاحت : ١ ؎: حالانکہ بت پوجنا شرک ہے اور شرک گناہوں میں سب سے بڑا ہے، مگر شراب بھی ایسا گناہ ہے کہ ہمیشہ کرنے سے وہ شرک کے مثل ہوجاتا ہے جیسے صغیرہ گناہ ہمیشہ کرنے سے کبیرہ ہوجاتا ہے، اس میں ڈر ہے شرابیوں کے لئے ایسا نہ ہو ان کا خاتمہ برا ہو۔
3376
Ibn Majahحَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ عُتْبَةَ، حَدَّثَنِي يُونُسُ بْنُ مَيْسَرَةَ بْنِ حَلْبَسٍ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، عَنِ النَّبِيِّ (ﷺ)، قَالَ: لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مُدْمِنُ خَمْرٍ.
ابو الدرداء (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : عادی شرابی جنت میں داخل نہیں ہوگا ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف : ١٠٩٤٦، ومصباح الزجاجة : ١١٧٢) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٢/١٨٩، ٦/٤٤١) (صحیح) (ملاحظہ ہو : سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی : ٦٧٥ و ٦٧٨ )
3377
Ibn Majahحَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ يَزِيدَ، عَنْابْنِ الدَّيْلَمِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ): مَنْ شَرِبَ الْخَمْرَ وَسَكِرَ، لَمْ تُقْبَلْ لَهُ صَلَاةٌ أَرْبَعِينَ صَبَاحًا، وَإِنْ مَاتَ دَخَلَ النَّارَ، فَإِنْ تَابَ تَابَ اللَّهُ عَلَيْهِ، وَإِنْ عَادَ فَشَرِبَ فَسَكِرَ، لَمْ تُقْبَلْ لَهُ صَلَاةٌ أَرْبَعِينَ صَبَاحًا، فَإِنْ مَاتَ دَخَلَ النَّارَ، فَإِنْ تَابَ تَابَ اللَّهُ عَلَيْهِ، وَإِنْ عَادَ فَشَرِبَ فَسَكِرَ، لَمْ تُقْبَلْ لَهُ صَلَاةٌ أَرْبَعِينَ صَبَاحًا، فَإِنْ مَاتَ دَخَلَ النَّارَ، فَإِنْ تَابَ تَابَ اللَّهُ عَلَيْهِ، وَإِنْ عَادَ كَانَ حَقًّا عَلَى اللَّهِ أَنْ يَسْقِيَهُ مِنْ رَدَغَةِ الْخَبَالِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَمَا رَدَغَةُ الْخَبَالِ؟ قَالَ: عُصَارَةُ أَهْلِ النَّارِ.
عبداللہ بن عمرو (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جو شراب پی کر مست ہوجائے (نشہ ہوجائے) اس کی نماز چالیس روز تک قبول نہیں ہوتی، اور اگر وہ اس دوران مرجائے تو وہ جہنم میں جائے گا، لیکن اگر وہ توبہ کرلے تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول فرمائے گا، پھر اگر وہ توبہ سے پھر جائے اور شراب پئے، اور اسے نشہ آجائے تو چالیس روز تک اس کی نماز قبول نہیں ہوگی، اگر وہ اس دوران مرگیا تو جہنم میں جائے گا، لیکن اگر وہ پھر توبہ کرلے تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول فرمائے گا، اگر وہ پھر پی کر بدمست ہوجائے تو پھر اس کی نماز چالیس روز تک قبول نہیں ہوگی، اور وہ اسی حالت میں مرگیا تو جہنم میں جائے گا، اور اگر اس نے پھر توبہ کرلی تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول کرلے گا، اب اگر وہ (اس کے بعد بھی) پئے تو اللہ تعالیٰ کے لیے حق ہوگا کہ اسے قیامت کے دن ردغ ۃ الخبال پلائے، لوگوں نے سوال کیا : اللہ کے رسول ! یہ ردغ ۃ الخبال کیا ہے ؟ فرمایا : جہنمیوں کا پیپ ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن النسائی/الأشربة ٤٣ (٥٦٦٧) ، (تحفة الأشراف : ٨٨٤٣) ، وقد أخرجہ : سنن الترمذی/الأشربة ١ (١٨٦٢) ، مسند احمد (٢/٣٥، ١٧٦، ١٨٩، ١٩٧، ٥/١٧١، ٦/٤٦٠) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: معاذ اللہ، شراب پینی، اور اتنی کہ آدمی مست ہوجائے، اور ہوش کھو دے، کتنا بڑا سخت گناہ ہے، توراۃ، اور انجیل میں بھی اس کی بہت برائی آئی ہے، اور حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ تیسری بار اگر شراب پئے تو توبہ قبول نہ ہوگی، اور ضرور عذاب ہوگا۔
3378
Ibn Majahحَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْيَمَامِيُّ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو كَثِيرٍ السُّحَيْمِيُّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ): الْخَمْرُ مِنْ هَاتَيْنِ الشَّجَرَتَيْنِ: النَّخْلَةِ وَالْعِنَبَةِ.
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : شراب ان دو درختوں : کھجور اور انگور سے بنتی ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الأشربة ٤ (١٩٨٥) ، سنن ابی داود/الأشربة ٤ (٣٦٧٨) ، سنن الترمذی/الأشربة ٨ (١٨٧٥) ، سنن النسائی/الأشربة ١٩ (٥٥٧٥) ، (تحفة الأشراف : ١٤٨٤١) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٢/٢٧٩، ٤٠٨، ٤٠٩، ٤٧٤، ٤٩٦، ٥١٨، ٥٢٦) ، سنن الدارمی/ الأشربة ٧ (٢١٤١) (صحیح )
3379
Ibn Majahحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، أَنَّ خَالِدَ بْنَ كَثِيرٍ الْهَمْدَانِيّ حَدَّثَهُ، أَنَّالسَّرِيَّ بْنَ إِسْمَاعِيل حَدَّثَهُ، أَنَّ الشَّعْبِيَّ حَدَّثَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ): إِنَّ مِنَ الْحِنْطَةِ خَمْرًا، وَمِنَ الشَّعِيرِ خَمْرًا، وَمِنَ الزَّبِيبِ خَمْرًا، وَمِنَ التَّمْرِ خَمْرًا، وَمِنَ الْعَسَلِ خَمْرًا.
نعمان بن بشیر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : شراب کئی چیزوں سے بنائی جاتی ہے، گیہوں سے، جو سے، منقیٰ سے، کھجور سے اور شہد سے ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/الأشربة ٤ (٣٦٧٦، ٣٦٧٧) ، سنن الترمذی/الأشربة ٨ (١٨٧٢، ١٨٧٣) ، (تحفة الأشراف : ١١٦٢٦) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٤/٢٦٧، ٢٧٣) (صحیح )
3380
Ibn Majahحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْغَافِقِيِّ، وَأَبِي طُعْمَةَ مَوْلَاهُمْ، أَنَّهُمَا سَمِعَا ابْنَ عُمَرَ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ): لُعِنَتِ الْخَمْرُ عَلَى عَشْرَةِ أَوْجُهٍ بِعَيْنِهَا: وَعَاصِرِهَا، وَمُعْتَصِرِهَا، وَبَائِعِهَا، وَمُبْتَاعِهَا، وَحَامِلِهَا، وَالْمَحْمُولَةِ إِلَيْهِ، وَآكِلِ ثَمَنِهَا، وَشَارِبِهَا، وَسَاقِيهَا.
عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : شراب دس طرح سے ملعون ہے، یہ لعنت خود اس پر ہے، اس کے نچوڑنے والے پر، نچڑوانے والے پر، اس کے بیچنے والے پر، اس کے خریدنے والے پر، اس کو اٹھا کرلے جانے والے پر، اس شخص پر جس کے پاس اٹھا کرلے جائی جائے، اس کی قیمت کھانے والے پر، اس کے پینے والے پر اور اس کے پلانے والے پر ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف : ٧٢٩٦، ومصباح الزجاجة : ١١٧٣) ، وقد أخرجہ : سنن ابی داود/الأشربة ٢ (٣٦٧٤) ، مسند احمد (٢/٢٥، ٧١) ، دون قولہ : أکل ثمنہا (صحیح )