Ibn Majah
8. جنازوں کا بیان
سنن ابن ماجه
1433
Ibn Majahحَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ): لِلْمُسْلِمِ عَلَى الْمُسْلِمِ سِتَّةٌ بِالْمَعْرُوفِ: يُسَلِّمُ عَلَيْهِ إِذَا لَقِيَهُ، وَيُجِيبُهُ إِذَا دَعَاهُ، وَيُشَمِّتُهُ إِذَا عَطَسَ، وَيَعُودُهُ إِذَا مَرِضَ، وَيَتْبَعُ جِنَازَتَهُ إِذَا مَاتَ، وَيُحِبُّ لَهُ مَا يُحِبُّ لِنَفْسِهِ.
علی (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : مسلمان کی مسلمان پر حسن سلوک کے چھ حقوق ہیں : ١ ۔ جب اس سے ملاقات ہو تو اسے سلام کرے، ٢ ۔ جب وہ دعوت دے تو اس کی دعوت قبول کرے، ٣ ۔ جب وہ چھینکے اور الحمد لله کہے تو جواب میں يرحمک الله کہے، ٤ ۔ جب وہ بیمار ہو تو اس کی عیادت (بیمار پرسی) کرے، ٥ ۔ جب اس کا انتقال ہوجائے تو اس کے جنازہ کے ساتھ جائے، ٦ ۔ اور اس کے لیے وہی پسند کرے جو اپنے لیے پسند کرتا ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/الأدب ١ (٢٧٣٦) ، (تحفة الأشراف : ١٠٠٤٤) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (١/٨٨، ٨٩، ٢/٣٧٢، ٤١٢) ، سنن الدارمی/الاستئذان ٥ (٢٦٧٥) (صحیح )
1434
Ibn Majahحَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ أَفْلَحَ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ، عَنِ النَّبِيِّ (ﷺ) قَالَ: لِلْمُسْلِمِ عَلَى الْمُسْلِمِ أَرْبَعُ خِلَالٍ: يُشَمِّتُهُ إِذَا عَطَسَ، وَيُجِيبُهُ إِذَا دَعَاهُ، وَيَشْهَدُهُ إِذَا مَاتَ، وَيَعُودُهُ إِذَا مَرِضَ.
ابومسعود (عقبہ بن عمرو) انصاری (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ایک مسلمان کے دوسرے مسلمان پر چار حقوق ہیں : جب اسے چھینک آئے اور وہ الحمدلله کہے تو اس کے جواب میں يرحمک الله کہے، جب وہ دعوت دے تو اس کی دعوت کو قبول کرے، جب اس کا انتقال ہوجائے تو اس کے جنازہ میں حاضر ہو، اور جب بیمار ہوجائے تو اس کی عیادت کرے ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف : ٩٩٧٩، ومصباح الزجاجة : ٥٠٥) ، مسند احمد (٥/٢٧٢) (صحیح )
1435
Ibn Majahحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ): خَمْسٌ مِنْ حَقِّ الْمُسْلِمِ عَلَى الْمُسْلِمِ: رَدُّ التَّحِيَّةِ، وَإِجَابَةُ الدَّعْوَةِ، وَشُهُودُ الْجِنَازَةِ، وَعِيَادَةُ الْمَرِيضِ، وَتَشْمِيتُ الْعَاطِسِ إِذَا حَمِدَ اللَّهَ.
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : مسلمان کے مسلمان پر پانچ حقوق ہیں : سلام کا جواب دینا، دعوت قبول کرنا، جنازہ میں حاضر ہونا، مریض کی عیادت کرنا، اور جب چھینکنے والا الحمد لله کہے، تو اس کے جواب میں يرحمک الله کہنا۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف : ١٥٠٩٢، ومصباح الزجاجة : ٥٠٦) ، وقد أخرجہ : صحیح البخاری/الجنائز ٢ (١٢٤٠) ، صحیح مسلم/السلام ٣ (٢١٦٢) ، سنن النسائی/الجنائز ٥٢ (١٩٤٠) ، مسند احمد (٢/٣٢١، ٣٣٢، ٣٥٧، ٣٧٢، ٣٨٨) (صحیح )
1436
Ibn Majahحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الصَّنْعَانِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ الْمُنْكَدِرِ، يَقُولُ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ: عَادَنِي رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ) مَاشِيًا، وَأَبُو بَكْرٍ، وَأَنَا فِي بَنِي سَلَمَةَ.
جابر بن عبداللہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اور ابوبکر (رض) پیدل چل کر میری عیادت کے لیے آئے، اور میں (مدینہ سے دور) قبیلہ بنو سلمہ میں تھا۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الوضوء ٤٥ (١٩٤) ، التفسیر ٤ (٤٥٧٧) ، المرضی ٥ (٥٦٥١) ، الفرائض ١ (٦٧٢٣) ، الاعتصام ٨ (٣٠١٥) ، صحیح مسلم/الفرائض ٢ (١٦١٦) ، سنن ابی داود/الجنائز ٢ (٢٨٨٦) ، سنن الترمذی/الفرائض ٧ (٢٠٩٧) ، تفسیرالقرآن ٥ (٣٠١٥) ، سنن النسائی/الطہارة ١٠٣ (١٣٨) ، (تحفة الأشراف : ٣٠٢٨) ، وقد أخرجہ : سنن الدارمی/الطہارة ٥٦ (٧٦٠) (یہ حدیث مکرر ہے، دیکھئے : ٢٧٢٨) (صحیح )
1437
Ibn Majahحَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا مَسْلَمَةُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ (ﷺ): لَا يَعُودُ مَرِيضًا إِلَّا بَعْدَ ثَلَاثٍ.
انس بن مالک (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ مریض کی عیادت اس کی بیماری کے تین دن گزر جانے کے بعد فرماتے تھے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف : ٧١٨، و مصباح الزجاجة : ٥٠٧) (موضوع) (اس میں مسلمہ بن علی متروک اور منکر الحدیث ہے، ابن الجوزی نے اسے موضوعات میں داخل کیا ہے، نیز ملاحظہ ہو : سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی : ١٤٥ )
1438
Ibn Majahحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ خَالِدٍ السَّكُونِيُّ، عَنْ مُوسَى بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ): إِذَا دَخَلْتُمْ عَلَى الْمَرِيضِ، فَنَفِّسُوا لَهُ فِي الْأَجَلِ، فَإِنَّ ذَلِكَ لَا يَرُدُّ شَيْئًا، وَهُوَ يَطِيبُ بِنَفْسِ الْمَرِيضِ.
ابو سعید خدری (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جب تم مریض کے پاس جاؤ، تو اسے لمبی عمر کی امید دلاؤ، اس لیے کہ ایسا کہنے سے تقدیر نہیں پلٹتی، لیکن بیمار کا دل خوش ہوتا ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/الطب ٣٥ (٠٨٧) ، (تحفة الأشراف : ٤٢٩٢) (ضعیف) (موسیٰ بن محمد اس سند میں ضعیف ہیں، ملاحظہ ہو : سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی : ١٨٢ )
1439
Ibn Majahحَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلَّالُ، حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ هُبَيْرَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو مَكِينٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ النَّبِيَّ (ﷺ) عَادَ رَجُلًا، فَقَالَ: مَا تَشْتَهِي؟، قَالَ: أَشْتَهِي خُبْزَ بُرٍّ، قَالَ النَّبِيُّ (ﷺ): مَنْ كَانَ عِنْدَهُ خُبْزُ بُرٍّ، فَلْيَبْعَثْ إِلَى أَخِيهِ، ثُمَّ قَالَ النَّبِيُّ (ﷺ): إِذَا اشْتَهَى مَرِيضُ أَحَدِكُمْ شَيْئًا، فَلْيُطْعِمْهُ.
عبداللہ بن عباس (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ایک بیمار کی عیادت کی، تو اس سے پوچھا : کیا کھانے کو جی چاہتا ہے ؟ اس نے کہا : گیہوں کی روٹی کھانے کی خواہش ہے، تو آپ ﷺ نے فرمایا : جس شخص کے پاس گیہوں کی روٹی ہو، وہ اسے اپنے بیمار بھائی کے پاس بھیج دے پھر آپ ﷺ نے فرمایا : جب تم میں سے کسی کا مریض کچھ کھانے کی خواہش کرے تو وہ اسے وہی کھلائے ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف : ٦٢٢٤، ومصباح الزجاجة : ٥٠٨) (ضعیف) (اس میں صفوان بن ھبیرہ لین الحدیث ہیں، نیز یہ حدیث ( ٣٤٤٠ ) نمبر پر آرہی ہے )
1440
Ibn Majahحَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ، حَدَّثَنَا أَبُو يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ يَزِيدَ الرَّقَاشِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: دَخَلَ النَّبِيُّ (ﷺ) عَلَى مَرِيضٍ يَعُودُهُ، فَقَالَ: أَتَشْتَهِي شَيْئًا؟ أَتَشْتَهِي كَعْكًا؟، قَالَ: نَعَمْ، فَطَلَبُوا لَهُ.
انس بن مالک (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ ایک مریض کی عیادت کے لیے گئے، تو پوچھا : کیا کچھ کھانے کو جی چاہتا ہے ؟ کیا کیک کھانا چاہتے ہو ؟ اس نے کہا : ہاں، تو لوگوں نے اس کے لیے کیک منگوایا۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف : ١٦٨٣، ومصباح الزجاجة : ٥٠٩) (ضعیف) (اس میں یزید بن ابان الرقاشی ضعیف ہیں، نیز ٣٤٤١ نمبر پر یہ حدیث آرہی ہے )
1441
Ibn Majahحَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُسَافِرٍ، حَدَّثَنِي كَثِيرُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ بُرْقَانَ، عَنْ مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، قَالَ: قَالَ لِي النَّبِيُّ (ﷺ): إِذَا دَخَلْتَ عَلَى مَرِيضٍ، فَمُرْهُ أَنْ يَدْعُوَ لَكَ، فَإِنَّ دُعَاءَهُ كَدُعَاءِ الْمَلَائِكَةِ.
عمر بن خطاب (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے مجھ سے فرمایا : جب تم کسی مریض کے پاس جاؤ، تو اس سے اپنے لیے دعا کی درخواست کرو، اس لیے کہ اس کی دعا فرشتوں کی دعا کی طرح ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف : ١٠٦٤٩، ومصباح الزجاجة : ٥١٠) (ضعیف جدًا) (اس سند میں انقطاع ہے، کیونکہ میمون بن مہران نے عمر (رض) کو نہیں پایا ہے )
1442
Ibn Majahحَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ (ﷺ) يَقُولُ: مَنْ أَتَى أَخَاهُ الْمُسْلِمَ عَائِدًا، مَشَى فِي خَرَافَةِ الْجَنَّةِ حَتَّى يَجْلِسَ، فَإِذَا جَلَسَ غَمَرَتْهُ الرَّحْمَةُ، فَإِنْ كَانَ غُدْوَةً صَلَّى عَلَيْهِ سَبْعُونَ أَلْفَ مَلَكٍ حَتَّى يُمْسِيَ، وَإِنْ كَانَ مَسَاءً صَلَّى عَلَيْهِ سَبْعُونَ أَلْفَ مَلَكٍ حَتَّى يُصْبِحَ.
علی (رض) کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا : جو شخص اپنے مسلمان بھائی کی عیادت کے لیے آئے وہ جنت کے کھجور کے باغ میں چل رہا ہے یہاں تک کہ وہ بیٹھ جائے، جب بیٹھ جائے، تو رحمت اسے ڈھانپ لیتی ہے، اگر صبح کے وقت عیادت کے لیے گیا ہو تو ستر ہزار فرشتے شام تک اس کے لیے دعا کرتے ہیں، اور اگر شام کا وقت ہو تو ستر ہزار فرشتے صبح تک اس کے لیے دعا کرتے ہیں ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف : ١٠٢١١، ومصباح الزجاجة : ٥١١) ، وقد أخرجہ : سنن ابی داود/الجنائز ٧ (٣٠٩٨، ٣٠٩٩) ، سنن الترمذی/الجنائز ٢ (٩٦٩) ، مسند احمد (١/٩٧، ١٢٠) (صحیح )