Ibn Majah
17. صدقات کا بیان
سنن ابن ماجه
2390
Ibn Majahحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ (ﷺ) قَالَ: لَا تَعُدْ فِي صَدَقَتِكَ.
عمر بن خطاب (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اپنے صدقہ کو دے کر واپس نہ لو ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الزکاة ٥٩ (١٤٩٠) ، الھبة ٣٠ (٢٦٢٣) ، ٣٧ (٢٦٣٦) ، الوصایا ٣١ (٢٧٧٥) ، الجہاد ١١٩ (٢٩٧٠) ، ١٣٧ (٣٠٠٢) ، صحیح مسلم/الھبات ١ (١٦٢٠) ، سنن النسائی/الزکاة ١٠٠ (٢٦١٦) ، (تحفة الأشراف : ١٠٣٨٥) ، وقد أخرجہ : سنن الترمذی/الزکاة ٣٢ (٦٦٨) ، موطا امام مالک/الزکاة ٢٦ (٤٩) ، مسند احمد (١/٢٥، ٣٧، ٤٠، ٥٤) (صحیح )
2391
Ibn Majahحَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنِي أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْعَبَّاسِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ): مَثَلُ الَّذِي يَتَصَدَّقُ ثُمَّ يَرْجِعُ فِي صَدَقَتِهِ مَثَلُ الْكَلْبِ يَقِيءُ ثُمَّ يَرْجِعُ فَيَأْكُلُ قَيْئَهُ.
عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جو صدقہ دے کر واپس لے لیتا ہے اس کی مثال کتے کی ہے جو قے کرتا ہے پھر لوٹ کر اس کو کھاتا ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم (٢٣٨٥) ، (تحفة الأشراف : ٥٦٦٢) (صحیح )
2392
Ibn Majahحَدَّثَنَا تَمِيمُ بْنُ الْمُنْتَصِرِ الْوَاسِطِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ يُوسُفَ، عَنْ شَرِيكٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ يَعْنِي، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ عُمَرَ، أَنَّهُ تَصَدَّقَ بِفَرَسٍ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ (ﷺ) فَأَبْصَرَ صَاحِبَهَا يَبِيعُهَا بِكَسْرٍ فَأَتَى النَّبِيَّ (ﷺ) فَسَأَلَهُ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ: لَا تَبْتَعْ صَدَقَتَكَ.
عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے عہد میں ایک گھوڑا صدقہ کیا، پھر دیکھا کہ اس کا مالک اس کو کم دام میں بیچ رہا ہے تو وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے، اور آپ ﷺ سے اس سلسلے میں سوال کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا : اپنا صدقہ مت خریدو ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف : ١٠٥٤٦) (صحیح )
2393
Ibn Majahحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرٍ، عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ، أَنَّهُ حَمَلَ عَلَى فَرَسٍ يُقَالُ لَهُ: غَمْرٌ أَوْ غَمْرَةٌ فَرَأَى مُهْرًا أَوْ مُهْرَةً مِنْ أَفْلَائِهَا يُبَاعُ يُنْسَبُ إِلَى فَرَسِهِ فَنَهَى عَنْهَا.
زبیر بن عوام (رض) سے روایت ہے کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کی راہ میں ایک گھوڑی صدقہ میں دی جس کو غمر یا غمرۃ کہا جاتا تھا، پھر اسی کے بچوں میں ایک بچھیرا یا بچھیری کو بکتا دیکھا، جو ان کی گھوڑی کی نسل سے تعلق رکھتا تھا، تو اس کو خریدنے سے روک دیا۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف : ٣٦٣٢، ومصباح الزجاجة : ٨٤٨) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (١/١٦٤) (ضعیف) (سند میں عبد اللہ بن عامر غیر معروف راوی ہیں، ان کے بارے میں یہ نہیں معلوم کہ وہ عبد اللہ بن عامر بن ربیعہ غزی ثقہ راوی ہیں، یا کوئی اور، اس لئے اس احتمال کی وجہ سے حدیث ثابت نہیں )
2394
Ibn Majahحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى النَّبِيِّ (ﷺ)، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي تَصَدَّقْتُ عَلَى أُمِّي بِجَارِيَةٍ وَإِنَّهَا مَاتَتْ، فَقَالَ: آجَرَكِ اللَّهُ وَرَدَّ عَلَيْكِ الْمِيرَاثَ.
بریدہ (رض) کہتے ہیں کہ ایک عورت نے رسول اللہ ﷺ کے پاس آ کر عرض کیا : اللہ کے رسول ! میں نے اپنی ماں کو ایک لونڈی صدقہ میں دی تھی، ماں کا انتقال ہوگیا (اب لونڈی کا حکم کیا ہوگا ؟ ) آپ ﷺ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے تجھے (تیرے صدقہ کا) ثواب دیا، اور پھر اسے تجھے وارثت میں بھی لوٹا دیا ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : (١٧٥٩) ، (تحفة الأشراف : ١٩٨٠) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: یعنی ترکہ (وراثت) میں تمہارے پاس لونڈی آگئی، معلوم ہوا کہ صدقہ کی ہوئی چیز اگر میراث میں آجائے تو اس کا لینا منع نہیں ہے، البتہ اس کو خریدنا منع ہے۔
2395
Ibn Majahحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ الرَّقِّيُّ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ (ﷺ)، فَقَالَ: إِنِّي أَعْطَيْتُ أُمِّي حَدِيقَةً لِي وَإِنَّهَا مَاتَتْ وَلَمْ تَتْرُكْ وَارِثًا غَيْرِي، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ): وَجَبَتْ صَدَقَتُكَ وَرَجَعَتْ إِلَيْكَ حَدِيقَتُكَ.
عبداللہ بن عمرو بن العاص (رض) کہتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں آیا اور عرض کیا : میں نے اپنی ماں کو ایک باغ دیا تھا، اور وہ مرگئیں، اور میرے سوا ان کا کوئی اور وارث نہیں ؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا : تمہیں تمہارے صدقہ کا ثواب مل گیا، اور تمہارا باغ بھی تمہیں واپس مل گیا ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف : ٨٧٤٤، ومصباح الزجاجة : ٨٣٩) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٢/١٨٥) (حسن صحیح )
2396
Ibn Majahحَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: أَصَابَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ أَرْضًا بِخَيْبَرَ فَأَتَى النَّبِيَّ (ﷺ) فَاسْتَأْمَرَهُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَصَبْتُ مَالًا بِخَيْبَرَ لَمْ أُصِبْ مَالًا قَطُّ هُوَ أَنْفَسُ عِنْدِي مِنْهُ فَمَا تَأْمُرُنِي بِهِ، فَقَالَ: إِنْ شِئْتَ حَبَّسْتَ أَصْلَهَا وَتَصَدَّقْتَ بِهَا، قَالَ: فَعَمِلَ بِهَا عُمَرُ عَلَى أَنْ لَا يُبَاعَ أَصْلُهَا وَلَا يُوهَبَ وَلَا يُورَثَ تَصَدَّقَ بِهَا لِلْفُقَرَاءِ وَفِي الْقُرْبَى وَفِي الرِّقَابِ وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ وَابْنِ السَّبِيلِ وَالضَّيْفِ لَا جُنَاحَ عَلَى مَنْ وَلِيَهَا أَنْ يَأْكُلَ مِنْهَا بِالْمَعْرُوفِ أَوْ يُطْعِمَ صَدِيقًا غَيْرَ مُتَمَوِّلٍ.
عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ عمر بن خطاب (رض) کو خیبر میں کچھ زمین ملی، تو وہ نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے، اور آپ سے مشورہ لیا اور عرض کیا : اللہ کے رسول ! مجھے خیبر میں کچھ مال ملا ہے، اتنا عمدہ مال مجھے کبھی نہیں ملا، تو آپ اس کے متعلق مجھے کیا حکم فرماتے ہیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : اگر تم چاہو تو اصل زمین اپنی ملکیت میں باقی رکھو اور اسے (یعنی اس کے پھلوں اور منافع کو) صدقہ کر دو ۔ عمر (رض) نے ایسا ہی کیا، اس طرح کہ اصل زمین نہ بیچی جائے، نہ ہبہ کی جائے، اور نہ اسے وراثت میں دیا جائے، اور وہ صدقہ رہے فقیروں اور رشتہ داروں کے لیے، غلاموں کے آزاد کرانے اور مجاہدین کے سامان تیار کرنے کے لیے، اور مسافروں اور مہمانوں کے لیے اور جو اس کا متولی ہو وہ اس میں دستور کے مطابق کھائے یا کسی دوست کو کھلائے لیکن مال جمع نہ کرے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الشروط ١٩ (٢٧٣٧) ، الوصایا ٢٢ (٦٧٦٤) ، ٢٨ (٢٧٧٢) ، ٣٢ (٢٧٧٧) ، صحیح مسلم/الوصایا ٤ (١٦٣٢) ، سنن ابی داود/الوصایا ١٣ (٢٨٧٨) ، سنن الترمذی/الأحکام ٣٦ (١٣٧٥) ، سنن النسائی/الإحب اس ١ (٣٦٢٩) ، (تحفة الأشراف : ٧٧٤٢) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٢/٥٥، ١٢٥) (صحیح )
2397
Ibn Majahحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُمَرَ الْعَدَنِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّه بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ الْمِائَةَ سَهْمٍ الَّتِي بِخَيْبَرَ لَمْ أُصِبْ مَالًا قَطُّ هُوَ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْهَا، وَقَدْ أَرَدْتُ أَنْ أَتَصَدَّقَ بِهَا، فَقَالَ النَّبِيُّ (ﷺ): احْبِسْ أَصْلَهَا وَسَبِّلْ ثَمَرَهَا. قَالَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ: فَوَجَدْتُ هَذَا الْحَدِيثَ فِي مَوْضِعٍ آخَرَ فِي كِتَابِي، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ عُمَرُ: فَذَكَرَ نَحْوَهُ.
عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ عمر بن خطاب (رض) نے کہا : اللہ کے رسول ! خیبر کے جو سو حصے مجھے ملے ہیں ان سے بہتر مال مجھے کبھی نہیں ملا، میں چاہتا ہوں کہ ان کو صدقہ کر دوں ؟ تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اصل زمین کو رہنے دو ، اور اس کے پھلوں کو اللہ کی راہ میں خیرات کر دو ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن النسائی/الإحب اس ٢ (٣٦٣٣) ، (تحفة الأشراف : ٧٩٠٢) (صحیح ) ابن ابی عمر کہتے ہیں کہ میں نے یہ حدیث اپنی کتاب میں ایک دوسرے مقام پر طسفيان عن عبدالله عن نافع عن ابن عمر کے طریق سے پائی ہے، وہ (ابن عمر) کہتے ہیں : عمر (رض) نے کہا، پھر انہوں نے اسی جیسی روایت ذکر کی۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ ابن ماجہ (تحفة الأشراف : ٧٧٤١) (صحیح )
2398
Ibn Majahحَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ عَيَّاشٍ، حَدَّثَنَا شُرَحْبِيلُ بْنُ مُسْلِمٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا أُمَامَةَ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ (ﷺ) يَقُولُ: الْعَارِيَةُ مُؤَدَّاةٌ وَالْمِنْحَةُ مَرْدُودَةٌ.
ابوامامہ (رض) کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا : عاریت (مانگی ہوئی چیز) ادا کی جائے، اور جو جانور دودھ پینے کے لیے دیا جائے وہ لوٹا دیا جائے ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف : ٤٨٨٤، ومصباح الزجاجة : ٨٤٠) ، وقد أخرجہ : سنن ابی داود/البیوع ٩٠ (٣٥٦٥) ، سنن الترمذی/البیوع ٣٤ (١٢٦٥) ، (الشطر الأول فقط) (صحیح) (سند میں اسماعیل بن عیاش کی وجہ سے ضعف ہے )
2399
Ibn Majahحَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، الدِّمَشْقِيَّانِ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ شُعَيْبٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ (ﷺ) يَقُولُ: الْعَارِيَةُ مُؤَدَّاةٌ وَالْمِنْحَةُ مَرْدُودَةٌ.
انس بن مالک (رض) کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا : عاریت (منگنی لی ہوئی چیز، مانگی ہوئی چیز) ادا کی جائے، اور دودھ پینے کے لیے دئیے گئے جانور کو واپس کردیا جائے ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف : ٨٦٢، ومصباح الزجاجة : ٨٤١) (صحیح) (ملاحظہ ہو : الإرواء : ١٥١٦ )