Ibn Majah
33. لباس کا بیان
سنن ابن ماجه
3550
Ibn Majahحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ) فِي خَمِيصَةٍ لَهَا أَعْلَامٌ، فَقَالَ: شَغَلَنِي أَعْلَامُ هَذِهِ، اذْهَبُوا بِهَا إِلَى أَبِي جَهْمٍ وَأْتُونِي بأنبجانيته.
ام المؤمنین عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک چادر میں نماز پڑھی جس میں نقش و نگار تھے، تو آپ ﷺ نے فرمایا : مجھے ان بیل بوٹوں نے غافل کردیا، اسے ابوجہم کو کے پاس لے کر جاؤ اور مجھے ان کی انبجانی چادر لا کر دے دو ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الصلاة ١٤ (٣٧٣) ، الأذان ٩٣ (٧٥٢) ، اللباس ١٩ (٥٨١٧) ، صحیح مسلم/المساجد ١٥ (٥٥٦) ، سنن ابی داود/الصلاة ١٦٧ (٩١٤) ، اللباس ١١ (٤٠٥٢) ، سنن النسائی/القبلة ٢٠ (٧٧٠) ، (تحفة الأشراف : ١٦٤٣٤) ، وقد أخرجہ : موطا امام مالک/الصلاة ١٨ (٦٧) ، مسند احمد (٦/٣٧، ٤٦، ١٧٧، ١٩٩، ٢٠٨) (صحیح )
3551
Ibn Majahحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ، فَأَخْرَجَتْ لِي إِزَارًا غَلِيظًا مِنَ الَّتِي تُصْنَعُ بِالْيَمَنِ، وَكِسَاءً مِنْ هَذِهِ الْأَكْسِيَةِ الَّتِي تُدْعَى الْمُلَبَّدَةَ، وَأَقْسَمَتْ لِي لَقُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ) فِيهِمَا.
ابوبردہ (رض) کہتے ہیں کہ میں ام المؤمنین عائشہ (رض) کی خدمت میں حاضر ہوا، انہوں نے ایک موٹے کپڑے کا تہبند نکالا جو یمن میں تیار کیا جاتا ہے، اور ان چادروں میں سے ایک چادر جنہیں ملبدہ (موٹا ارزاں کمبل) کہا جاتا ہے، نکالا اور قسم کھا کر مجھے بتایا کہ رسول اللہ ﷺ نے انہیں میں وفات پائی ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/فرض الخمس ٥ (٣١٠٨) ، اللباس ١٩ (٥٨١٨) ، صحیح مسلم/اللباس ٦ (٢٠٨٠) ، سنن الترمذی/اللباس ١٠ (١٧٣٣) ، سنن ابی داود/اللباس ٨ (٤٠٣٦) ، (تحفة الأشراف : ١٧٦٩٣) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٦/٣٢، ١٣١) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: سبحان اللہ، جب رسول اکرم ﷺ نے ایک کمبل اور ایک تہبند پر اکتفا کی، تو ہر مومن کے سامنے لباس میں یہ اسوہ رسول رہنا چاہیے، مطلب یہ ہے کہ دنیا داروں کی خوشامد کرنے سے اور بیہودہ دوڑنے پھرنے سے ہمیشہ پرہیز رکھے، اور قناعت کو اپنا شعار گردانے اور سوال اور حاجت لے کر دوسروں کے سامنے جانے کی ذلت و خواری سے اپنے آپ کو بچانا چاہیے۔
3552
Ibn Majahحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ ثَابِتٍ الْجَحْدَرِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ الْأَحْوَصِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، عَنْعُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، أَنَّ ّرَسُولَ اللَّهِ (ﷺ): صَلَّى فِي شَمْلَةٍ قَدْ عَقَدَ عَلَيْهَا.
عبادہ بن صامت (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک ایسی چادر میں نماز پڑھی جس میں آپ نے گرہ لگا رکھی تھی۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف : ٥٠٨٥، ومصباح الزجاجة : ١٢٤٠) (ضعیف الإسناد) (خالد بن معدان نے نہ عبادہ (رض) سے ملاقات کی اور نہ ان سے سنا، نیز احوص بن حکیم ضعیف راوی ہے )
3553
Ibn Majahحَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ إِسْحَاق بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ (ﷺ)، وَعَلَيْهِ رِدَاءٌ نَجْرَانِيٌّ غَلِيظُ الْحَاشِيَةِ.
انس بن مالک (رض) کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم ﷺ کے ساتھ تھا، آپ کے جسم پر موٹے کنارے والی نجرانی چادر تھی۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/فرض الخمس ١٩ (٣١٤٩) ، صحیح مسلم/الزکاة ٤٤ (١٠٥٧) ، (تحفة الأشراف : ٢٠٥) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٣/١٥٣) (صحیح )
3554
Ibn Majahحَدَّثَنَا عَبْدُ الْقُدُّوسِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَسْوَدِ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ (ﷺ) يَسُبُّ أَحَدًا، وَلَا يُطْوَى لَهُ ثَوْبٌ.
ام المؤمنین عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ میں نے کبھی رسول اللہ ﷺ کو نہیں دیکھا کہ آپ نے کسی کو برا بھلا کہا ہو یا آپ کا کپڑا تہ کیا جاتا رہا ہو۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف : ١٧٤١٥، ومصباح الزجاجة : ١٢٤١) (ضعیف) (عبداللہ بن لہیعہ صدوق راوی ہیں، لیکن ان کی کتابوں کے جلنے کے بعد اختلاط کا شکار ہوگئے تھے اس لئے یہ سند ضعیف ہے )
3555
Ibn Majahحَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ،أَنَّ امْرَأَةً جَاءَتْ إِلى رَسُولِ اللَّهِ (ﷺ) بِبُرْدَةٍ، قَالَ: وَمَا الْبُرْدَةُ؟ قَالَ: الشَّمْلَةُ، قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، نَسَجْتُ هَذِهِ بِيَدِي لِأَكْسُوَكَهَا، فَأَخَذَهَا رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ) مُحْتَاجًا إِلَيْهَا، فَخَرَجَ عَلَيْنَا فِيهَا، وَإِنَّهَا لَإِزَارُهُ فَجَاءَ فُلَانُ بْنُ فُلَانٍ رَجُلٌ سَمَّاهُ يَوْمَئِذٍ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا أَحْسَنَ هَذِهِ الْبُرْدَةَ اكْسُنِيهَا، قَالَ: نَعَمْ، فَلَمَّا دَخَلَ طَوَاهَا وَأَرْسَلَ بِهَا إِلَيْهِ، فَقَالَ لَهُ الْقَوْمُ: وَاللَّهِ مَا أَحْسَنْتَ كُسِيَهَا النَّبِيُّ (ﷺ) مُحْتَاجًا إِلَيْهَا، ثُمَّ سَأَلْتَهُ إِيَّاهَا وَقَدْ عَلِمْتَ أَنَّهُ لَا يَرُدُّ سَائِلًا، فَقَالَ: إِنِّي وَاللَّهِ مَا سَأَلْتُهُ إِيَّاهَا لِأَلْبَسَهَا، وَلَكِنْ سَأَلْتُهُ إِيَّاهَا لِتَكُونَ كَفَنِي، فَقَالَ سَهْلٌ: فَكَانَتْ كَفَنَهُ يَوْمَ مَاتَ.
سہل بن سعد ساعدی (رض) سے روایت ہے کہ ایک عورت رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں بردہ (چادر) لے کر آئی (ابوحازم نے پوچھا بردہ کیا چیز ہے ؟ ان کے شیخ نے کہا : بردہ شملہ ہے جسے اوڑھا جاتا ہے) اور کہا : اللہ کے رسول ! اسے میں نے اپنے ہاتھ سے بنا ہے تاکہ میں آپ کو پہناؤں، رسول اللہ ﷺ نے اسے لے لیا کیونکہ آپ کو اس کی ضرورت تھی، پھر آپ اسے پہن کر کے ہمارے درمیان نکل کر آئے، یہی آپ کا تہبند تھا، پھر فلاں کا بیٹا فلاں آیا (اس شخص کا نام حدیث بیان کرنے کے دن سہل نے لیا تھا لیکن ابوحازم اسے بھول گئے) اور عرض کیا : اللہ کے رسول ! یہ چادر کتنی اچھی ہے، یہ آپ مجھے پہنا دیجئیے، فرمایا : ٹھیک ہے ، پھر جب آپ اندر گئے تو اسے (اتار کر) تہ کیا، اور اس کے پاس بھجوا دی، لوگوں نے اس سے کہا : اللہ کی قسم ! تم نے اچھا نہیں کیا، نبی اکرم ﷺ کو اس نے اس لیے پہنائی تھی کہ آپ کو اس کی حاجت تھی، پھر بھی تم نے اسے آپ سے مانگ لیا، حالانکہ تمہیں معلوم تھا کہ آپ کسی سائل کو نامراد واپس نہیں کرتے تو اس شخص نے جواب دیا : اللہ کی قسم ! میں نے آپ سے اسے پہننے کے لیے نہیں مانگا ہے بلکہ اس لیے مانگا ہے کہ وہ میرا کفن ہو، سہل کہتے ہیں : جب وہ مرے تو یہی چادر ان کا کفن تھی ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الجنائز ٢٨ (١٢٧٧) ، البیوع ٣١ (٢٠٩٣) ، اللباس ١٨ (٥٨١٠) ، سنن النسائی/الزینة من المجتبیٰ ٤٣ (٥٣٢٣) ، (تحفة الأشراف : ٤٧٢١) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٥/٣٣٣) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: دوسری روایت میں اس شخص کا نام عبدالرحمن بن عوف مذکور ہے جو بزرگ صحابی اور عشرہ مبشرہ میں سے ہیں۔
3556
Ibn Majahحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ كَثِيرِ بْنِ دِينَارٍ الْحِمْصِيُّ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ نُوحِ بْنِ ذَكْوَانَ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: لَبِسَ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ) الصُّوفَ وَاحْتَذَى الْمَخْصُوفَ، وَلَبِسَ ثَوْبًا خَشِنًا.
انس (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اون کا (سادہ اور موٹا) لباس پہنا ہے، مرمت شدہ جوتا پہنا ہے اور انتہائی موٹا کپڑا زیب تن فرمایا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف : ٥٤٢، ومصباح الزجاجة : ١٢٤٢) (ضعیف) (نوح بن ذکوان ضعیف ہے، اور بقیہ مدلس اور روایت عنعنہ سے کی ہے )
3557
Ibn Majahحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَصْبَغُ بْنُ زَيْدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو الْعَلَاءِ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، قَالَ: لَبِسَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ثَوْبًا جَدِيدًا، فَقَالَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي كَسَانِي مَا أُوَارِي بِهِ عَوْرَتِي، وَأَتَجَمَّلُ بِهِ فِي حَيَاتِي، ثُمَّ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ (ﷺ)، يَقُولُ: مَنْ لَبِسَ ثَوْبًا جَدِيدًا، فَقَالَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي كَسَانِي مَا أُوَارِي بِهِ عَوْرَتِي، وَأَتَجَمَّلُ بِهِ فِي حَيَاتِي، ثُمَّ عَمَدَ إِلَى الثَّوْبِ الَّذِي أَخْلَقَ أَوْ أَلْقَى فَتَصَدَّقَ بِهِ كَانَ فِي كَنَفِ اللَّهِ، وَفِي حِفْظِ اللَّهِ وَفِي سِتْرِ اللَّهِ حَيًّا وَمَيِّتًا، قَالَهَا ثَلَاثًا.
ابوامامہ (رض) کہتے ہیں کہ عمر بن خطاب (رض) نے نیا کپڑا پہنا تو یہ دعا پڑھی : الحمد لله الذي کساني ما أواري به عورتي وأتجمل به في حياتي یعنی : اللہ کا شکر ہے جس نے مجھے ایسا کپڑا پہنایا جس سے میں اپنی ستر پوشی کرتا ہوں، اور اپنی زندگی میں زینت حاصل کرتا ہوں ، پھر کہا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو کہتے سنا کہ جو شخص نیا کپڑا پہنے اور یہ دعا پڑھے : الحمد لله الذي کساني ما أواري به عورتي وأتجمل به في حياتي یعنی اللہ کا شکر ہے جس نے مجھے ایسا کپڑا پہنایا جس سے میں اپنی ستر پوشی کرتا ہوں اور اپنی زندگی میں زینت حاصل کرتا ہوں ، پھر وہ اس کپڑے کو جو اس نے اتارا، یا جو پرانا ہوگیا صدقہ کر دے، تو وہ اللہ کی حفظ و امان اور حمایت میں رہے گا، زندگی میں بھی اور موت کے بعد بھی یہ آپ ﷺ نے تین بار فرمایا۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/الدعوات ١٠٨ (٣٥٦٠) ، (تحفة الأشراف : ١٠٤٦٧) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (١/٤٤) (ضعیف) (سند میں ا بو العلاء مجہول راوی ہیں )
3558
Ibn Majahحَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ (ﷺ) رَأَى عَلَى عُمَرَ قَمِيصًا أَبْيَضَ، فَقَالَ: ثَوْبُكَ هَذَا غَسِيلٌ أَمْ جَدِيدٌ، قَالَ: لَا بَلْ غَسِيلٌ، قَالَ: الْبَسْ جَدِيدًا، وَعِشْ حَمِيدًا، وَمُتْ شَهِيدًا.
عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے عمر (رض) کو ایک سفید قمیص پہنے دیکھا تو پوچھا : تمہارا یہ کپڑا دھویا ہوا ہے یا نیا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : نہیں، یہ دھویا ہوا ہے، آپ ﷺ نے فرمایا : البس جديدا وعش حميدا ومت شهيدا نیا لباس، قابل تعریف زندگی، اور شہادت کی موت نصیب ہو ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف : ٦٩٥٠، ومصباح الزجاجة : ١٢٤٣) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٢/٨٨) (صحیح )
3559
Ibn Majahحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ النَّبِيَّ (ﷺ)نَهَى عَنْ لِبْسَتَيْنِ، فَأَمَّا اللِّبْسَتَانِ: فَاشْتِمَالُ الصَّمَّاءِ، وَالِاحْتِبَاءُ فِي الثَّوْبِ الْوَاحِدِ لَيْسَ عَلَى فَرْجِهِ مِنْهُ شَيْءٌ.
ابو سعید خدری (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے دو طرح کے پہناوے سے منع فرمایا ہے، ایک اشتمال صماء ١ ؎ سے، دوسرے ایک کپڑے میں احتباء ٢ ؎ سے کہ اس کی شرمگاہ پر کچھ نہ ہو۔ تخریج دارالدعوہ : (یہ حدیث مکرر ہے، دیکھئے : ٢١٧٠) ، (تحفة الأشراف : ٤١٥٤) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: اشتمال صماء: ایک کپڑا سارے بدن پر لیپٹ لے، اور کپڑے کے دونوں کنارے اپنے دائیں کندھے پر ڈال لے، اور اس کا داہنا پہلو کھلا رہے۔ ٢ ؎: احتباء: ایک کپڑا اوڑھ کے لوٹ مار کر اس طرح سے بیٹھے کہ شرم گاہ کھلی رہے یا شرم گاہ پر کوئی کپڑا نہ رہے۔