hadith book logo

Ibn Majah

25. وراثت کا بیان

سنن ابن ماجه

2719
Ibn Majah
ضعیف
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْحِزَامِيُّ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ بْنِ أَبِي الْعِطَافِ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ الْأَعْرَجِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْأَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ):‏‏‏‏ يَا أَبَا هُرَيْرَةَتَعَلَّمُوا الْفَرَائِضَ وَعَلِّمُوهَا فَإِنَّهُ نِصْفُ الْعِلْمِ وَهُوَ يُنْسَى وَهُوَ أَوَّلُ شَيْءٍ يُنْتَزَعُ مِنْ أُمَّتِي.
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ابوہریرہ ! علم فرائض سیکھو اور سکھاؤ، اس لیے کہ وہ علم کا آدھا حصہ ہے، وہ بھلا دیا جائے گا، اور سب سے پہلے یہی علم میری امت سے اٹھایا جائے گا ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف : ١٣٦٥٨، ومصباح الزجاجة : ٩٦٤) ، وقد أخرجہ : سنن الترمذی/الفرائض ٢ (٢٠٩١) (ضعیف) (حفص بن عمر ضعیف ہے، نیز ملاحظہ ہو : الإرواء : ١٤٥٦ )
2720
Ibn Majah
صحیح
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُمَرَ الْعَدَنِيُّ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ جَاءَتِ امْرَأَةُ سَعْدِ بْنِ الرَّبِيعِ بِابْنَتَيْ سَعْدٍ إِلَى النَّبِيِّ (ﷺ)، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَتْ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَاتَانِ ابْنَتَا سَعْدٍ قُتِلَ مَعَكَ يَوْمَ أُحُدٍ وَإِنَّ عَمَّهُمَا أَخَذَ جَمِيعَ مَا تَرَكَ أَبُوهُمَا، ‏‏‏‏‏‏وَإِنَّ الْمَرْأَةَ لَا تُنْكَحُ إِلَّا عَلَى مَالِهَا، ‏‏‏‏‏‏فَسَكَتَ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ) حَتَّى أُنْزِلَتْ آيَةُ الْمِيرَاثِ، ‏‏‏‏‏‏فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ) أَخَا سَعْدِ بْنِ الرَّبِيعِ فَقَالَ:‏‏‏‏ أَعْطِ ابْنَتَيْ سَعْدٍ ثُلُثَيْ مَالِهِ وَأَعْطِ امْرَأَتَهُ الثُّمُنَ وَخُذْ أَنْتَ مَا بَقِيَ.
جابر بن عبداللہ (رض) کہتے ہیں کہ سعد بن ربیع (رض) کی بیوی ان کی دونوں بیٹیوں کو لے کر رسول اللہ ﷺ کے پاس آئیں، اور عرض کیا : اللہ کے رسول ! یہ دونوں سعد کی بیٹیاں ہیں، جو آپ کے ساتھ غزوہ احد میں تھے اور شہید ہوگئے، ان کے چچا نے ان کی ساری میراث پر قبضہ کرلیا (اب ان بچیوں کی شادی کا معاملہ ہے) اور عورت سے مال کے بغیر کوئی شادی نہیں کرتا تو آپ ﷺ خاموش رہے یہاں تک کہ میراث والی آیت نازل ہوئی، اور آپ ﷺ نے سعد بن ربیع (رض) کے بھائی کو طلب کیا اور فرمایا : سعد کی دونوں بیٹیوں کو ان کے مال کا دو تہائی حصہ اور ان کی بیوی کو آٹھواں حصہ دے دو ، پھر جو بچے وہ تم لے لو ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/الفرائض ٤ (٢٨٩١، ٢٨٩٢) ، سنن الترمذی/الفرائض ٣ (٢٠٩٢) ، (تحفة الأشراف : ٢٣٦٥) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ٣/٣٥٢) (حسن) (سند میں عبد اللہ بن محمد عقیل منکر الحدیث راوی ہے، لیکن شواہد کی وجہ سے یہ حسن ہے، ملاحظہ ہو : صحیح ابی داود : ٢٥٧٣ - ٢٥٧٤ )
2721
Ibn Majah
صحیح
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي قَيْسٍ الْأَوْدِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ الْهُزَيْلِ بْنِ شُرَحْبِيلَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏وَسَلْمَانَ بْنِ رَبِيعَةَ الْبَاهِلِيِّ فَسَأَلَهُمَا عَنِ ابْنَةٍ، ‏‏‏‏‏‏وَابْنَةِ ابْنٍ وَأُخْتٍ لِأَبٍ، ‏‏‏‏‏‏وَأُمٍّ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَا:‏‏‏‏ لِلِابْنَةِ النِّصْفُ وَمَا بَقِيَ فَلِلْأُخْتِ، ‏‏‏‏‏‏وَائْتِ ابْنَ مَسْعُودٍ فَسَيُتَابِعُنَا فَأَتَى الرَّجُلُ ابْنَ مَسْعُودٍ فَسَأَلَهُ وَأَخْبَرَهُ بِمَا، ‏‏‏‏‏‏قَالَا، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ:‏‏‏‏ قَدْ ضَلَلْتُ إِذًا وَمَا أَنَا وَلَكِنِّي سَأَقْضِي بِمَا قَضَى بِهِ مِنَ الْمُهْتَدِينَ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ):‏‏‏‏ لِلِابْنَةِ النِّصْفُ وَلِابْنَةِ الِابْنِ السُّدُسُ تَكْمِلَةَ الثُّلُثَيْنِ وَمَا بَقِيَ فَلِلْأُخْتِ.
ہذیل بن شرحبیل (رض) کہتے ہیں کہ ایک آدمی ابوموسیٰ اشعری اور سلمان بن ربیعہ باہلی (رض) کے پاس آیا، اور ان سے اس نے بیٹی، پوتی اور حقیقی بہن کے (حصہ کے) بارے میں پوچھا، تو ان دونوں نے کہا : آدھا بیٹی کے لیے ہے، اور جو باقی بچے وہ بہن کے لیے ہے، لیکن تم عبداللہ بن مسعود (رض) کے پاس جاؤ، اور ان سے بھی معلوم کرلو، وہ بھی ہماری تائید کریں گے، وہ عبداللہ بن مسعود (رض) کے پاس آیا، اور ان سے بھی مسئلہ معلوم کیا، نیز بتایا کہ ابوموسیٰ اشعری، اور سلمان بن ربیعہ (رض) نے یہ بات بتائی ہے، تو عبداللہ بن مسعود (رض) نے کہا : اگر میں ایسا حکم دوں تو گمراہ ہوگیا، اور ہدایت یافتہ لوگوں میں سے نہ رہا، لیکن میں وہ فیصلہ کروں گا جو رسول اللہ ﷺ نے کیا، بیٹی کے لیے آدھا، اور پوتی کے لیے چھٹا حصہ ہے، اس طرح دو تہائی پورے ہوجائیں، اور جو ایک تہائی بچا وہ بہن کے لیے ہے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الفرائض ٨ (٦٧٣٦) ، سنن ابی داود/الفرائض ٤ (٢٨٩٠) ، سنن الترمذی/الفرائض ٤ (٢٠٩٣) ، (تحفة الأشراف : ٩٥٩٤) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (١/٣٨٩، ٤٢٨، ٤٤٠، ٤٦٣) ، سنن الدارمی/الفرائض ٧ (٢٩٣٢) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: یعنی ترکہ کے مال کو چھ حصوں میں بانٹ دیا جائے، تین حصہ بیٹی کو، ایک پوتی کو اور دو حصے بہن کو ملیں گے، اس کی وجہ یہ ہے کہ جب مرنے والے کی ایک لڑکی کے ساتھ اس کی پوتیاں بھی ہوں یا ایک ہی پوتی ہو تو آدھا حصہ بیٹی کو ملے گا اور دو تہائی ٢ -٣ پوتیوں پر برابر تقسیم ہوجائے گا، اور بہنیں بیٹی کے ساتھ عصبہ ہوجاتی ہیں یعنی بیٹیوں کے حصہ سے جو بچ رہے وہ بہنوں کو مل جاتا ہے، دوسری روایت میں یوں ہے کہ جب ابوموسی اشعری (رض) نے عبداللہ بن مسعود (رض) کا یہ جواب سنا تو کہا کہ مجھ سے کوئی مسئلہ مت پوچھو جب تک یہ عالم تم میں موجود ہے، اور جمہور علماء اس فتوی میں ابن مسعود (رض) کے ساتھ ہیں، لیکن عبداللہ بن عباس (رض) کا قول یہ ہے کہ بیٹی کے ہوتے ہوئے بہن میراث سے محروم ہوجاتی ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشا ہے :يستفتونک قل الله يفتيكم في الکلالة إن امرؤ هلک ليس له ولد وله أخت فلها نصف ما ترک وهو يرثهآ إن لم يكن لها ولد فإن کانتا اثنتين فلهما الثلثان مما ترک وإن کانوا إخوة رجالا ونساء فللذکر مثل حظ الأنثيين (سورة النساء : 176) اے رسول ! لوگ آپ سے (کلالہ کے بارے میں) فتویٰ پوچھتے ہیں آپ کہہ دیجئے کہ اللہ تعالیٰ خود تمہیں کلالہ کے بارے میں فتویٰ دیتا ہے، اگر کوئی آدمی مرجائے اور اس کی اولاد نہ ہو اور اس کی ایک بہن ہو تو اس کے چھوڑے ہوئے مال کا آدھا حصہ اس بہن کو (حقیقی ہو یا علاتی) ترکہ ملے گا، اور وہ بھائی اس بہن کا وارث ہوگا، اگر اولاد نہ ہو پس اگر دو بہنیں ہوں تو انہیں ترکہ کا دو تہائی ملے گا، اور اگر کئی شخص اس رشتہ کے ہیں مرد بھی اور عورتیں بھی تو مرد کے لیے عورتوں کے دوگنا حصہ ہے) اور ولد کا لفظ عام ہے، بیٹا اور بیٹی دونوں کو شامل ہے، تو معلوم ہوا کہ بہن دونوں سے محروم ہوجاتی ہے۔ جمہور کہتے ہیں کہ ولد سے یہاں بیٹا مراد ہے اور اس کی دلیل یہ ہے کہ آگے یوں فرمایا : وهو يرثهآ إن لم يكن لها ولد (سورة النساء : 176) ... اور اگر وہ بہن مرجائے تو یہ بھائی اس کا وارث ہوگا، بشرطیکہ اس مرنے والی بہن کی اولاد نہ ہو (اور نہ ہی باپ) ... اور یہاں بالاجماع ولد سے بیٹا مراد ہے، اس لئے کہ اجماعاً مرنے والی کی لڑکی بھائی کو محروم نہیں کرسکتی۔
2722
Ibn Majah
صحیح
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا شَبَابَةُ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاق، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي إِسْحَاق، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ الْمُزَنِيِّ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ سَمِعْتُ النَّبِيَّ (ﷺ):‏‏‏‏ أُتِيَ بِفَرِيضَةٍ فِيهَا جَدٌّ فَأَعْطَاهُ ثُلُثًا أَوْ سُدُسًا.
معقل بن یسار مزنی (رض) کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا، آپ کے پاس ترکے کا ایک ایسا مقدمہ لایا گیا جس میں دادا بھی (وراثت کا حقدار) تھا، تو آپ ﷺ نے اسے ایک تہائی یا چھٹا حصہ دیا ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأ شراف : ١١٤٧٢) ، وقد أخرجہ : سنن ابی داود/الفرائض ٦ (٢٨٩٧) ، مسند احمد (٥/٢٧) (صحیح) (یونس اور ان کے د ادا میں بعض کلام ہے، لیکن ا گلی سند سے تقویت پاکر یہ صحیح ہے ) وضاحت : ١ ؎: احمد، ابوداود اور ترمذی نے عمران بن حصین (رض) سے یوں روایت کی کہ ایک شخص نبی کریم ﷺ کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ میرا پوتا مرگیا ہے تو مجھ کو اس کے ترکہ میں سے کیا ملے گا ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : چھٹا حصہ، جب وہ پیٹھ موڑ کر چلا تو اس کو بلا کر فرمایا : ایک چھٹا حصہ سلوک کے طور پر (یعنی اصل میراث تیری صرف سدس (چھٹا حصہ) ہے اور ایک سدس اس صورت خاص کی وجہ سے تجھ کو ملا ہے) بخاری ومسلم نے حسن کی روایت مغفل (رض) سے روایت کی ہے اور دادا کے باب میں صحابہ اور بعد کے علماء کے درمیان اختلاف ہے، بعضوں نے دادا کو باپ کے مثل رکھا ہے اور کبھی اس کو ثلث (ایک تہائی) دلایا ہے کبھی سدس (چھٹا حصہ) کبھی عصبہ بھی کہا ہے، بعضوں نے ہمیشہ اس کے لئے سدس رکھا ہے، اسی طرح اختلاف ہے کہ دادا کے ہوتے ہوئے بہن بھائی کو ترکہ ملے گا یا نہیں تو صحابہ کی ایک جماعت جیسے علی، ابن مسعود اور زید بن ثابت رضی اللہ عنہم کا یہ قول ہے کہ دادا بھائیوں کے ساتھ وراثت میں حصہ دار ہوگا اور بعضوں نے کہا : بھائی بہن دادا کی وجہ سے محروم ہوں گے جیسے باپ کی وجہ سے محروم ہوتے ہیں، ان مسائل کی تفصیل فرائض اور مواریث کی کتابوں میں ملے گی۔
2723
Ibn Majah
صحیح
حَدَّثَنَا أَبُو حَاتِمٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا ابْنُ الطَّبَّاعِ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ يُونُسَ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ الْحَسَنِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَضَى رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ) فِي جَدٍّ كَانَ فِينَا بِالسُّدُسِ.
معقل بن یسار مزنی (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمارے خاندان کے ایک دادا کے لیے چھٹے حصہ کا فیصلہ فرمایا۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/الفرائض ٦ (٢٨٩٧) ، (تحفة الأشراف : ١١٣٦٧) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٥/٢٧) (صحیح) (ملاحظہ ہو : صحیح ابی داود : ٢٥٧٦ )
2724
Ibn Majah
ضعیف
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ الْمِصْرِيُّ، ‏‏‏‏‏‏أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، ‏‏‏‏‏‏أَنْبَأَنَا يُونُسُ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَهُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْقَبِيصَةَ بْنِ ذُؤَيْبٍ، ‏‏‏‏‏‏ح وَحَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عُثْمَانَ بْنِ إِسْحَاق بْنِ خَرَشَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ ذُؤَيْبٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ جَاءَتِ الْجَدَّةُ إِلَى أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ تَسْأَلُهُ مِيرَاثَهَا، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ لَهَا أَبُو بَكْرٍ:‏‏‏‏ مَا لَكِ فِي كِتَابِ اللَّهِ شَيْءٌ، ‏‏‏‏‏‏وَمَا عَلِمْتُ لَكِ فِي سُنَّةِ رَسُولِ اللَّهِ (ﷺ) شَيْئًا، ‏‏‏‏‏‏فَارْجِعِي حَتَّى أَسْأَلَ النَّاسَ، ‏‏‏‏‏‏فَسَأَلَ النَّاسَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ:‏‏‏‏ حَضَرْتُ رَسُولَ اللَّهِ (ﷺ) أَعْطَاهَا السُّدُسَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ:‏‏‏‏ هَلْ مَعَكَ غَيْرُكَ؟ فَقَامَ مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ الْأَنْصَارِيُّ فَقَالَ:‏‏‏‏ مِثْلَ مَا قَالَ الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ، ‏‏‏‏‏‏فَأَنْفَذَهُ لَهَا أَبُو بَكْرٍ. (حديث موقوف) (حديث موقوف) ثُمَّ جَاءَتِ الْجَدَّةُ الْأُخْرَى مِنْ قِبَلِ الْأَبِ إِلَى عُمَرَ تَسْأَلُهُ مِيرَاثَهَا، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ مَا لَكِ فِي كِتَابِ اللَّهِ شَيْءٌ وَمَا كَانَ الْقَضَاءُ الَّذِي قُضِيَ بِهِ إِلَّا لِغَيْرِكِ وَمَا أَنَا بِزَائِدٍ فِي الْفَرَائِضِ شَيْئًا وَلَكِنْ هُوَ ذَاكِ السُّدُسُ فَإِنِ اجْتَمَعْتُمَا فِيهِ فَهُوَ بَيْنَكُمَا وَأَيَّتُكُمَا خَلَتْ بِهِ فَهُوَ لَهَا.
قبیصہ بن ذویب (رض) کہتے ہیں کہ ایک نانی ابوبکر (رض) کے پاس اپنا حصہ مانگنے آئی، تو آپ نے اس سے کہا : کتاب اللہ (قرآن) میں تمہارے حصے کا کوئی ذکر نہیں، اور رسول اللہ ﷺ کی سنت میں بھی مجھے تمہارا کوئی حصہ معلوم نہیں، تم لوٹ جاؤ یہاں تک کہ میں لوگوں سے اس سلسلے میں معلومات حاصل کرلوں، آپ نے لوگوں سے پوچھا، تو مغیرہ بن شعبہ (رض) نے کہا : میں رسول اللہ ﷺ کے پاس موجود تھا آپ ﷺ نے اس کو چھٹا حصہ دلایا، ابوبکر (رض) نے کہا : کیا آپ کے ساتھ کوئی اور بھی تھا ؟ تو محمد بن مسلمہ انصاری (رض) کھڑے ہوئے، اور وہی بات بتائی جو مغیرہ بن شعبہ (رض) نے بتائی تھی، چناچہ ابوبکر (رض) نے اس کو نافذ کردیا۔ پھر دوسری عورت جو دادی تھی عمر (رض) کے پاس اپنا حصہ مانگنے آئی، تو آپ نے کہا : کتاب اللہ (قرآن) میں تمہارا کوئی حصہ نہیں، اور جو فیصلہ پیشتر ہوچکا ہے وہ تمہارے لیے نہیں، بلکہ نانی کے لیے ہوا، اور میں از خود فرائض میں کچھ بڑھا بھی نہیں سکتا، وہی چھٹا حصہ ہے اگر دادی اور نانی دونوں ہوں تو دونوں اس چھٹے حصے کو آدھا آدھا تقسیم کرلیں، اور دونوں میں سے ایک ہو تو وہ چھٹا حصہ پورا لے لے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/الفرائض ٥ (٢٨٩٤) ، سنن الترمذی/الفرائض ١٠ (٢١٠٠، ٢١٠١) ، (تحفة الأشراف : ١١٢٣٢، ١١٥٢٢) ، وقد أخرجہ : موطا امام مالک/الفرائض ٨ (٤) مسند احمد (٤/ ٢٢٥) (ضعیف) (قبیصہ اور ابوبکر (رض) کے مابین سند میں انقطاع ہے، نیز سند میں بھی اختلاف ہے، ملاحظہ ہو : الإرواء : ١٤٢٦ )
2725
Ibn Majah
ضعیف
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا سَلْمُ بْنُ قُتَيْبَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ شَرِيكٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ لَيْثٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ طَاوُسٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، ‏‏‏‏‏‏أَنّ رَسُولَ اللَّهِ (ﷺ):‏‏‏‏ وَرَّثَ جَدَّةً سُدُسًا.
عبداللہ بن عباس (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے دادی و نانی کو چھٹے حصے کا وارث بنایا۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف : ٥٧٤٦، ومصباح الزجاجة : ٩٦٥) ، وقد أخرجہ : سنن الدارمی/الفرائض ١٨ (٢٩٧٥) (ضعیف الإسناد) (سند میں لیث بن أبی سلیم مدلس ہیں، اور روایت عنعنہ سے کی ہے، اور شریک القاضی میں بھی ضعف ہے )
2726
Ibn Majah
صحیح
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل ابْنُ عُلَيَّةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سَعِيدٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ قَتَادَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْمَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ الْيَعْمُرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ قَامَ خَطِيبًا يَوْمَ الْجُمُعَةِ أَوْ خَطَبَهُمْ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ وَقَالَ:‏‏‏‏ إِنِّي وَاللَّهِ مَا أَدَعُ بَعْدِي شَيْئًا هُوَ أَهَمُّ إِلَيَّ مِنْ أَمْرِ الْكَلَالَةِ وَقَدْ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ (ﷺ) فَمَا أَغْلَظَ لِي فِي شَيْءٍ مَا أَغْلَظَ لِي فِيهَا حَتَّى طَعَنَ بِإِصْبَعِهِ فِي جَنْبِي أَوْ فِي صَدْرِي ثُمَّ قَالَ:‏‏‏‏ يَا عُمَرُ تَكْفِيكَ آيَةُ الصَّيْفِ الَّتِي نَزَلَتْ فِي آخِرِ سُورَةِ النِّسَاءِ.
معدان بن ابی طلحہ یعمری سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب (رض) جمعہ کے دن خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے، یا خطبہ دیا، تو اللہ کی حمد و ثنا بیان کی اور کہا : اللہ کی قسم ! میں اپنے بعد کلالہ (ایسا مرنے والا جس کے نہ باپ ہو نہ بیٹا) کے معاملے سے زیادہ اہم کوئی چیز نہیں چھوڑ رہا ہوں، میں نے رسول اللہ ﷺ سے بھی پوچھا، تو آپ ﷺ نے اس قدر سختی سے جواب دیا کہ ویسی سختی آپ نے مجھ سے کبھی نہیں کی یہاں تک کہ اپنی انگلی سے میری پسلی یا سینہ میں ٹھوکا مارا پھر فرمایا : اے عمر ! تمہارے لیے آیت صیف يستفتونک قل الله يفتيكم في الکلالة آپ سے فتویٰ پوچھتے ہیں : آپ کہہ دیجئیے کہ اللہ تعالیٰ (خود) تمہیں کلالہ کے بارے میں فتوی دیتا ہے (سورۃ النساء : ١٧٦ ) جو کہ سورة نساء کے آخر میں نازل ہوئی، وہی کافی ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الفرائض ٢ (١٦١٧) ، (تحفة الأشراف : ١٠٦٤٦) ، وقد أخرجہ : موطا امام مالک/الفرائض ٩ (٧) ، مسند احمد (١/١٥، ٢٦، ٢٧، ٤٨) (صحیح )
2727
Ibn Majah
ضعیف
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، ‏‏‏‏‏‏ وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَا:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْمُرَّةَ بْنِ شَرَاحِيلَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ:‏‏‏‏ ثَلَاثٌ لَأَنْ يَكُونَ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ) بَيَّنَهُنَّ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا الْكَلَالَةُ وَالرِّبَا وَالْخِلَافَةُ.
مرہ بن شراحیل کہتے ہیں کہ عمر (رض) نے کہا : تین باتیں ایسی ہیں کہ اگر رسول اللہ ﷺ ان کو بیان فرما دیتے تو میرے لیے یہ دنیا ومافیہا سے زیادہ پسندیدہ ہوتا، یعنی کللہ، سود اور خلافت۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف : ١٠٦٤٠، ومصباح الزجاجة : ٩٦٧) (ضعیف) (سند میں مرہ بن شراحیل اور عمر (رض) کے درمیان انقطاع ہے )
2728
Ibn Majah
صحیح
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، ‏‏‏‏‏‏سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ:‏‏‏‏ مَرِضْتُ فَأَتَانِي رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ) يَعُودُنِي هُوَ وَأَبُو بَكْرٍ مَعَهُ وَهُمَا مَاشِيَانِ وَقَدْ أُغْمِيَ عَلَيَّ، ‏‏‏‏‏‏فَتَوَضَّأَ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ) فَصَبَّ عَلَيَّ مِنْ وَضُوئِهِ فَقُلْتُ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ أَصْنَعُ؟ كَيْفَ أَقْضِي فِي مَالِي حَتَّى نَزَلَتْ آيَةُ الْمِيرَاثِ فِي آخِرِ النِّسَاءِ وَإِنْ كَانَ رَجُلٌ يُورَثُ كَلالَةً سورة النساء آية 12 وَ يَسْتَفْتُونَكَ قُلِ اللَّهُ يُفْتِيكُمْ فِي الْكَلالَةِ سورة النساء آية 176 الْآيَةَ.
جابر بن عبداللہ (رض) کہتے ہیں کہ میں بیمار ہوا تو میرے پاس رسول اللہ ﷺ عیادت کرنے آئے، ابوبکر (رض) بھی آپ کے ساتھ تھے، دونوں پیدل آئے، مجھ پر بیہوشی طاری تھی، تو رسول اللہ ﷺ نے وضو فرمایا، اور اپنے وضو کا پانی مجھ پر چھڑکا (مجھے ہوش آگیا) تو میں نے کہا : اللہ کے رسول ! میں کیا کروں ؟ اپنے مال کے بارے میں کیا فیصلہ کروں ؟ یہاں تک کہ سورة نساء کے اخیر میں میراث کی یہ آیت نازل ہوئی وإن کان رجل يورث کلالة اور جن کی میراث لی جاتی ہے، وہ مرد یا عورت کلالہ ہو یعنی اس کا باپ بیٹا نہ ہو (سورۃ النساء : 12) اور يستفتونک قل الله يفتيكم في الکلالة آپ سے فتویٰ پوچھتے ہیں : آپ کہہ دیجئیے کہ اللہ تعالیٰ (خود) تمہیں کلالہ کے بارے میں فتوی دیتا ہے (سورۃ النساء : ١٧٦ ) ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الفرائض ١٣ (٦٧٤٣) ، صحیح مسلم/الفرائض ٢ (١٦١٦) ، سنن ابی داود/الفرائض ٢ (٢٨٨٦) ، سنن الترمذی/الفرائض ٧ (٢٠٩٧) ، (تحفة الأشراف : ٣٠٢٨) ، وقد أخرجہ : سنن الدارمی/الطہارة ٥٥ (٧٣٩) (صحیح )