Ibn Majah
24. وصیتوں کا بیان
سنن ابن ماجه
2695
Ibn Majahحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي وَأَبُو مُعَاوِيَةَ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْعَائِشَةَ، قَالَتْ: مَا تَرَكَ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ) دِينَارًا وَلَا دِرْهَمًا وَلَا شَاةً وَلَا بَعِيرًا وَلَا أَوْصَى بِشَيْءٍ.
ام المؤمنین عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے (اپنی وفات کے وقت) دینار، درہم، بکری اور اونٹ نہیں چھوڑے اور نہ ہی کسی چیز کی وصیت کی ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الوصایا ٦ (١٦٣٥) ، سنن ابی داود/الوصایا ١ (٢٨٦٣) ، سنن النسائی/الوصایا ٢ (٣٦٥١) ، (تحفة الأ شراف : ١٧٦١٠) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٦/٤٤) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: یعنی دنیاوی امور کے متعلق، کیونکہ آپ ﷺ نے دنیا میں کوئی مال چھوڑا ہی نہیں، اور فرمایا : جو میں چھوڑ جاؤں وہ میری بیویوں اور عامل کی اجرت سے بچے تو وہ صدقہ ہے، سبحان اللہ، جیسے آپ ﷺ دنیا سے صاف رہ کر دنیا میں آئے تھے ویسے دنیا سے تشریف بھی لے گئے، البتہ دین کے متعلق آپ ﷺ نے وصیت کی ہے جیسے دوسری حدیث میں ہے کہ وفات کے وقت بھی آپ ﷺ نے یہ فرمایا کہ نماز کا خیال رکھو، اور غلام لونڈی کا، اور ایک روایت میں ہے کہ آپ ﷺ نے وفود کی خاطر تواضع کرنے کے لئے وصیت کی، اور ایک روایت میں ہے کہ آپ ﷺ نے مشرکوں کو جزیرۃ العرب سے نکال دینے کے لئے وصیت کی اور محال ہے کہ آپ اور مومنین کو تو وصیت کی ترغیب دیتے اور خود وصیت نہ فرماتے، آپ ﷺ نے اللہ کی کتاب یعنی قرآن پر چلنے اور اہل بیت سے محبت رکھنے کی وصیت کی۔
2696
Ibn Majahحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ مَالِكِ بْنِ مِغْوَلٍ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ مُصَرِّفٍ، قَالَ: قُلْتُ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى: أَوْصَى رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ) بِشَيْءٍ؟ قَالَ: لَا، قُلْتُ: فَكَيْفَ أَمَرَ الْمُسْلِمِينَ بِالْوَصِيَّةِ؟، قَالَ: أَوْصَى بِكِتَابِ اللَّهِ.
طلحہ بن مصرف کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن ابی اوفی (رض) سے پوچھا : کیا رسول اللہ ﷺ نے کسی چیز کی وصیت کی ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : نہیں، میں نے کہا : پھر کیوں کر مسلمانوں کو وصیت کا حکم دیا ؟ تو انہوں نے کہا : آپ ﷺ نے اللہ کی کتاب (قرآن) پر چلنے کی وصیت فرمائی ١ ؎۔ مالک کہتے ہیں : طلحہ بن مصرف کا بیان ہے کہ ہزیل بن شرحبیل نے کہا : بھلا ابوبکر (رض) رسول اللہ ﷺ کے وصی پر حکومت کرسکتے تھے ؟ ابوبکر (رض) کا تو یہ حال تھا کہ اگر وہ آپ ﷺ کا حکم پاتے تو تابع دار اونٹنی کی طرح اپنی ناک میں (اطاعت کی) نکیل ڈال لیتے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الوصایا ١ (٢٧٤٠) ، المغازي ٨٣ (٤٤٦٠) ، فضائل القران ١٨ (٥٠٢٢) ، صحیح مسلم/الوصایا ٥ (١٦٣٤) ، سنن الترمذی/الوصایا ٤ (٢١١٩) ، سنن النسائی/الوصایا ٢ (٣٦٥٠) ، (تحفة الأ شراف : ٥١٧٠، ١٩٥٠٧) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٤/٣٥٤، ٣٥٥، ٣٨١) ، سنن الدارمی/الوصایا ٣ (٣٢٢٤) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: یعنی اس حکم پر سب سے پہلے ابوبکر (رض) چلتے اس کے بعد اور لوگ، کیونکہ ابوبکر (رض) سب صحابہ سے زیادہ نبی اکرم ﷺ کے مطیع تھے، ان کے بارے میں گمان بھی نہیں ہوسکتا کہ نبی کریم ﷺ نے کسی اور کو خلیفہ بنانے کے لئے فرمایا ہو اور خود خلافت لے لیں، بلکہ ابوبکر (رض) کو تو خلافت کی خواہش ہی نہ تھی، جب ثقیفہ بنو ساعدہ میں صلاح و مشورہ ہوا تو ابوبکر (رض) نے یہ رائے دی کہ دو آدمیوں میں سے ایک کے ہاتھ بیعت کرلو، عمر بن خطاب کے ہاتھ پر یا ابو عبیدہ بن جراح کے ہاتھ پر، اور اپنا نام ہی نہ لیا، لیکن عمر (رض) نے زبردستی ان سے بیعت کی، اس پر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے بھی بیعت کرلی، آسمان گرپڑے اور زمین پھٹ جائے ان بےایمانوں پر جو نبی کریم ﷺ کے جانثار جانباز صحابہ کے خلاف الزام تراشی کرتے ہیں، اور معاذ اللہ یہ کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے صراحۃ علی (رض) کو اپنے بعد خلیفہ بنایا تھا اور صحابہ اس کو جانتے تھے، لیکن عمداً انہوں نے علی (رض) کا حق دبایا اور ابوبکر (رض) کو خلیفہ بنایا : سبحانک هذا بهتان عظيم (سورة النور : 16) اگر صراحت تو کیا نبی کریم ﷺ کا ذرا بھی اشارہ ہوتا کہ آپ ﷺ کے بعد علی (رض) خلیفہ ہیں تو تمام صحابہ جان و دل سے اس حکم کی اطاعت کرتے، اور علی (رض) کو اسی وقت خلیفہ بناتے بلکہ خلافت کے لئے مشورہ ہی نہ کرتے، کیونکہ جو امر منصوص ہو اس میں صلاح و مشورہ کی کیا حاجت ہے، اگر بالفرض ابوبکر صدیق (رض) نے اس حکم کے خلاف بھی کیا ہوتا تو انصار جن کی جماعت بہت تھی وہ کیونکر ابوبکر (رض) کی خلافت قبول کرلیتے بلکہ حدیث پر چلنے کے لئے ان کو مجبور کردیتے، وہ تو حدیث کے ایسے ماننے والے تھے کہ جب ابوبکر (رض) نے یہ حدیث سنائی : الأ ئم ۃ من قریش امام قریش میں سے ہوں گے تو انہوں نے اپنی امامت کا دعوی چھوڑ دیا، پھر وہ دوسرے کی امامت حدیث کے خلاف کیسے مانتے، اور سب سے زیادہ تعجب یہ ہے کہ بنی ہاشم اور خود علی (رض) ابوبکر (رض) کی خلافت کیسے تسلیم کرتے اور ان سے بیعت کیوں کرتے، برا ہو ان کا جو علی (رض) کو ایسا بزدل مانتے ہیں کہ اپنا واجبی حق بھی نہ لے سکے، معاذ اللہ یہ سب دروغ بےفروغ ہے۔
2697
Ibn Majahحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: كَانَتْ عَامَّةُ وَصِيَّةِ رَسُولِ اللَّهِ (ﷺ) حِينَ حَضَرَتْهُ الْوَفَاةُ وَهُوَ يُغَرْغِرُ بِنَفْسِهِ: الصَّلَاةَ وَمَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ.
انس بن مالک (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی وفات کے قریب جب آپ کا سانس اٹک رہا تھا تو آپ ﷺ کی عام وصیت یہ تھی : لوگو ! نماز اور غلام و لونڈی کا خیال رکھنا ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأ شراف : ١٢٢٩، ومصباح الزجاجة : ٩٥٤) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٣/١١٧) (صحیح )
2698
Ibn Majahحَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ أَبِي سَهْلٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ أُمِّ مُوسَى، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، قَالَ: كَانَ آخِرُ كَلَامِ النَّبِيِّ (ﷺ) الصَّلَاةَ وَمَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ.
علی بن ابی طالب (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی آخری بات یہ تھی : نماز کا اور اپنے غلام و لونڈی کا خیال رکھنا ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/الأدب ١٣٣ (٥١٥٦) ، (تحفة الأ شراف : ١٠٣٤٣) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (١/٧٨) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: یعنی نماز کو اپنے وقت پر شرائط اور اداب کے ساتھ پڑھو، بےوقت مت پڑھو، اور اس میں دیر مت کرو، اور غلاموں اور لونڈیوں کا خیال رکھو کہ ان پر ظلم مت کرو، طاقت سے زیادہ ان سے کام نہ لو، ان کو کھانے پہننے کی تکلیف نہ دو ، جو لوگ نماز کا خیال نہیں رکھتے اس کو قضاء کردیتے ہیں یا جلدی بغیر خشوع و خضوع کے پڑھ لیتے ہیں یا طہارت میں احتیاط نہیں کرتے یا اپنے لونڈی غلام اور خادم پر ظلم و ستم کرتے ہیں وہ کس طرح کے مسلمان ہیں، جب آپ ﷺ کی آخری وصیت کا بھی ان کو خیال نہیں ہے۔
2699
Ibn Majahحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ): مَا حَقُّ امْرِئٍ مُسْلِمٍ أَنْ يَبِيتَ لَيْلَتَيْنِ وَلَهُ شَيْءٌ يُوصِي فِيهِ إِلَّا وَوَصِيَّتُهُ مَكْتُوبَةٌ عِنْدَهُ.
عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جس مسلمان کے پاس وصیت کرنے کے قابل کوئی چیز ہو، اسے یہ حق نہیں ہے کہ وہ دو راتیں بھی اس حال میں گزارے کہ اس کی وصیت اس کے پاس لکھی ہوئی نہ ہو ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الوصایا ١ (١٦٢٨) ، سنن الترمذی/الجنائز ٥ (٩٧٤) ، (تحفة الأ شراف : ٧٩٤٤) ، وقد أخرجہ : صحیح البخاری/الوصایا ١ (٢٧٣٨) ، سنن ابی داود/الوصایا ١ (٢٨٦٢) ، سنن الترمذی/الوصایا ٣ (٢١١٩) ، سنن النسائی/الوصایا ١ (٣٦٤٥) موطا امام مالک/الوصایا ١ (١) ، مسند احمد (٢/٤، ١٠، ٣٤، ٥٠، ٥٧، ٨٠، ١١٣) ، سنن الدارمی/الوصایا ١ (٣٢١٩) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: یعنی اس کے پاس مال ہو جس کے لئے وصیت کی ضرورت ہو یا کسی کی امانت ہو تو ضروری ہے کہ ہمیشہ وصیت لکھ کر یا لکھوا کر اپنے پاس رکھا کرے ایسا نہ ہو کہ موت آجائے اور وصیت کی مہلت نہ ملے، اور لوگوں کے حقوق اپنے ذمہ رہ جائیں۔
2700
Ibn Majahحَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، حَدَّثَنَا دُرُسْتُ بْنُ زِيَادٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ الرَّقَاشِيُّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ): الْمَحْرُومُ مَنْ حُرِمَ وَصِيَّتَهُ.
انس بن مالک (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : محروم وہ ہے جو وصیت کرنے سے محروم رہے ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأ شراف : ١٦٨٥، ومصباح الزجاجة : ٩٥٥) (ضعیف) (یزید بن ابان الرقاشی ضعیف ہیں )
2701
Ibn Majahحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُصَفَّى الْحِمْصِيُّ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَوْفٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ): مَنْ مَاتَ عَلَى وَصِيَّةٍ مَاتَ عَلَى سَبِيلٍ وَسُنَّةٍ وَمَاتَ عَلَى تُقًى وَشَهَادَةٍ وَمَاتَ مَغْفُورًا لَهُ.
جابر بن عبداللہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جو شخص وصیت کر کے مرا، وہ راہ (راہ راست) پر اور سنت کے مطابق مرا، نیز پرہیزگاری اور شہادت پر اس کا خاتمہ ہوا، اس کی مغفرت ہوگی ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأ شراف : ٣٠٠٠، ومصباح الزجاجة : ٩٥٦) (ضعیف) (بقیہ مدلس ہیں، اور حدیث عنعنہ سے روایت کی ہے )
2702
Ibn Majahحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ، حَدَّثَنَا رَوْحُ عَنْ عَوْفٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ (ﷺ) قَالَ: مَا حَقُّ امْرِئٍ مُسْلِمٍ يَبِيتُ لَيْلَتَيْنِ وَلَهُ شَيْءٌ يُوصِي بِهِ إِلَّا وَوَصِيَّتُهُ مَكْتُوبَةٌ عِنْدَهُ.
عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : مسلمان کے لیے یہ بات مناسب نہیں کہ وہ دو راتیں بھی اس طرح گزارے کہ اس کی وصیت لکھی ہوئی اس کے پاس نہ ہو، جب کہ اس کے پاس وصیت کرنے کے لائق کوئی چیز ہو ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأ شراف : ٧٦٦٣ ألف) (صحیح )
2703
Ibn Majahحَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ زَيْدٍ الْعَمِّيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ): مَنْ فَرَّ مِنْ مِيرَاثِ وَارِثِهِ، قَطَعَ اللَّهُ مِيرَاثَهُ مِنَ الْجَنَّةِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ.
انس بن مالک (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جو شخص اپنے وارث کو میراث دلانے سے بھاگے، قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اسے جنت کی میراث نہ دے گا ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأ شراف : ٨٤٣، ومصباح الزجاجة : ٩٥٧) (ضعیف) (سند میں زید العمی اور ان کے لڑکے عبد الرحیم دونوں ضعیف ہیں، نیز ملاحظہ ہو : المشکاة : ٣٠٧٨ )
2704
Ibn Majahحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْأَزْهَرِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ بْنُ هَمَّامٍ، أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ): إِنَّ الرَّجُلَ لَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ الْخَيْرِ سَبْعِينَ سَنَةً، فَإِذَا أَوْصَى حَافَ فِي وَصِيَّتِهِ فَيُخْتَمُ لَهُ بِشَرِّ عَمَلِهِ فَيَدْخُلُ النَّارَ، وَإِنَّ الرَّجُلَ لَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ الشَّرِّ سَبْعِينَ سَنَةً فَيَعْدِلُ فِي وَصِيَّتِهِ فَيُخْتَمُ لَهُ بِخَيْرِ عَمَلِهِ فَيَدْخُلُ الْجَنَّةَ، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: وَاقْرَءُوا إِنْ شِئْتُمْ تِلْكَ حُدُودُ اللَّهِ إِلَى قَوْلِهِ عَذَابٌ مُهِينٌ سورة البقرة آية 187 ـ 90.
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : آدمی ستر سال تک نیک عمل کرتا رہتا ہے، پھر وصیت کے وقت اپنی وصیت میں ظلم کرتا ہے، تو اس کا خاتمہ برے عمل پر ہوتا ہے اور جہنم میں جاتا ہے، اسی طرح آدمی ستر سال تک برے اعمال کا ارتکاب کرتا رہتا ہے لیکن اپنی وصیت میں انصاف کرتا ہے، اس کا خاتمہ بالخیر ہوتا ہے، اور جنت میں جاتا ہے ۔ ابوہریرہ (رض) نے کہا : اگر تم چاہو تو اس آیت کریمہ : تلک حدود الله (سورۃ النساء : ١٣ - ١٤) کو پڑھو یعنی یہ حدود اللہ تعالیٰ کی مقرر کی ہوئی ہیں اور جو اللہ تعالیٰ کی اور اس کے رسول ﷺ کی فرمانبرداری کرے گا اسے اللہ تعالیٰ جنتیوں میں لے جائے گا جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں، جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے اور یہ بہت بڑی کامیابی ہے، اور جو شخص اللہ تعالیٰ کی اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے، اور اس کی مقررہ حدوں سے آگے نکلے اسے وہ جہنم میں ڈال دے گا جس میں وہ ہمیشہ رہے گا ایسوں ہی کے لیے رسوا کن عذاب ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف : ١٣٤٩٥، ومصباح الزجاجة : ٩٥٨) ، وقد أخرجہ : سنن ابی داود/الوصایا ٣ (٢٨٦٧) ، سنن الترمذی/الوصایا ٢ (٢١١٧) ، مسند احمد (٢/٢٧٨) (ضعیف) (ترمذی میں سبعين سنة ہے، اور سند میں شہر بن حوشب ضعیف ہیں، نیز ملاحظہ ہو : ضعیف أبی داود : ٤٩٥ )