Ibn Majah
5. اذان کا بیان
سنن ابن ماجه
706
Ibn Majahحَدَّثَنَا أَبُو عُبَيْدٍ مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ مَيْمُونٍ الْمَدَنِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ الْحَرَّانِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاق، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ) قَدْ هَمَّ بِالْبُوقِ وَأَمَرَ بِالنَّاقُوسِ فَنُحِتَ، فَأُرِيَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ زَيْدٍ فِي الْمَنَامِ، قَالَ: رَأَيْتُ رَجُلًا عَلَيْهِ ثَوْبَانِ أَخْضَرَانِ، يَحْمِلُ نَاقُوسًا، فَقُلْتُ لَهُ: يَا عَبْدَ اللَّهِ تَبِيعُ النَّاقُوسَ؟، قَالَ: وَمَا تَصْنَعُ بِهِ؟، قُلْتُ: أُنَادِي بِهِ إِلَى الصَّلَاةِ، قَالَ: أَفَلَا أَدُلُّكَ عَلَى خَيْرٍ مِنْ ذَلِكَ؟ قُلْتُ: وَمَا هُوَ؟ قَالَ: تَقُول: اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، قَالَ: فَخَرَجَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ زَيْدٍ حَتَّى أَتَى رَسُولَ اللَّهِ (ﷺ) فَأَخْبَرَهُ بِمَا رَأَى، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ رَأَيْتُ رَجُلًا عَلَيْهِ ثَوْبَانِ أَخْضَرَانِ يَحْمِلُ نَاقُوسًا، فَقَصَّ عَلَيْهِ الْخَبَرَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ): إِنَّ صَاحِبَكُمْ قَدْ رَأَى رُؤْيَا، فَاخْرُجْ مَعَ بِلَالٍ إِلَى الْمَسْجِدِ فَأَلْقِهَا عَلَيْهِ وَلْيُنَادِ بِلَالٌ، فَإِنَّهُ أَنْدَى صَوْتًا مِنْكَ، قَالَ: فَخَرَجْتُ مَعَ بِلَالٍ إِلَى الْمَسْجِدِ فَجَعَلْتُ أُلْقِيهَا عَلَيْهِ وَهُوَ يُنَادِي بِهَا، فَسَمِعَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ بِالصَّوْتِ فَخَرَجَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَاللَّهِ لَقَدْ رَأَيْتُ مِثْلَ الَّذِي رَأَى، قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ فَأَخْبَرَنِي، أَبُو بَكْرٍ الْحَكَمِيُّ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ زَيْدٍ الْأَنْصَارِيَّ، قَالَ فِي ذَلِكَ: أَحْمَدُ اللَّهَ ذَا الْجَلَالِ وَذَا الْإِكْـ ـرَامِ حَمْدًا عَلَى الْأَذَانِ كَثِيرَا إِذْ أَتَانِي بِهِ الْبَشِيرُ مِنَ اللَّـ ـهِ فَأَكْرِمْ بِهِ لَدَيَّ بَشِيرَا فِي لَيَالٍ وَالَى بِهِنَّ ثَلَاثٍ كُلَّمَا جَاءَ زَادَنِي تَوْقِيرَا.
عبداللہ بن زید (عبداللہ بن زید بن عبدربہ) (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے بگل بجوانے کا ارادہ کیا تھا (تاکہ لوگ نماز کے لیے جمع ہوجائیں، لیکن یہود سے مشابہت کی وجہ سے اسے چھوڑ دیا) ، پھر ناقوس تیار کئے جانے کا حکم دیا، وہ تراشا گیا، (لیکن اسے بھی نصاری سے مشابہت کی وجہ سے چھوڑ دیا) ، اسی اثناء میں عبداللہ بن زید (رض) کو خواب دکھایا گیا، انہوں نے کہا کہ میں نے خواب میں دو سبز کپڑے پہنے ایک آدمی کو دیکھا جو اپنے ساتھ ناقوس لیے ہوئے تھا، میں نے اس سے کہا : اللہ کے بندے ! کیا تو یہ ناقوس بیچے گا ؟ اس شخص نے کہا : تم اس کا کیا کرو گے ؟ میں نے کہا : میں اسے بجا کر لوگوں کو نماز کے لیے بلاؤں گا، اس شخص نے کہا : کیا میں تمہیں اس سے بہتر چیز نہ بتادوں ؟ میں نے پوچھا : وہ بہتر چیز کیا ہے ؟ اس نے کہا : تم یہ کلمات کہو الله أكبر الله أكبر الله أكبر الله أكبر أشهد أن لا إله إلا الله أشهد أن لا إله إلا الله أشهد أن محمدا رسول الله أشهد أن محمدا رسول الله حي على الصلاة حي على الصلاة حي على الفلاح حي على الفلاح . الله أكبر الله أكبر لا إله إلا الله اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں، میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں، آؤ نماز کے لیے، آؤ نماز کے لیے، آؤ کامیابی کی طرف، آؤ کامیابی کی طرف، اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ۔ راوی کہتے ہیں : عبداللہ بن زید نکلے اور رسول اللہ ﷺ کے پاس آ کر پورا خواب بیان کیا : عرض کیا : اللہ کے رسول ! میں نے ایک آدمی کو دو سبز کپڑے پہنے دیکھا، جو ناقوس لیے ہوئے تھا، اور آپ ﷺ سے پورا واقعہ بیان کیا، تو رسول اللہ ﷺ نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے فرمایا : تمہارے ساتھی نے ایک خواب دیکھا ہے ، عبداللہ بن زید (رض) سے فرمایا : تم بلال کے ساتھ مسجد جاؤ، اور انہیں اذان کے کلمات بتاتے جاؤ، اور وہ اذان دیتے جائیں، کیونکہ ان کی آواز تم سے بلند تر ہے ، عبداللہ بن زید (رض) کہتے ہیں : میں بلال (رض) کے ساتھ مسجد گیا، اور انہیں اذان کے کلمات بتاتا گیا اور وہ انہیں بلند آواز سے پکارتے گئے، عبداللہ بن زید (رض) کہتے ہیں : تو عمر بن خطاب (رض) نے جوں ہی یہ آواز سنی فوراً گھر سے نکلے، اور آ کر عرض کیا : اللہ کے رسول ! میں نے بھی یہی خواب دیکھا ہے جو عبداللہ بن زید نے دیکھا ہے۔ ابوعبید کہتے ہیں : مجھے ابوبکر حکمی نے خبر دی کہ عبداللہ بن زید انصاری (رض) نے اس بارے میں چند اشعار کہے ہیں جن کا ترجمہ یہ ہے : میں بزرگ و برتر اللہ کی خوب خوب تعریف کرتا ہوں، جس نے اذان سکھائی، جب اللہ کی جانب سے میرے پاس اذان کی خوشخبری دینے والا (فرشتہ) آیا، وہ خوشخبری دینے والا میرے نزدیک کیا ہی باعزت تھا، مسلسل تین رات تک میرے پاس آتا رہا، جب بھی وہ میرے پاس آیا اس نے میری عزت بڑھائی ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/الصلاة ٢٨ (٤٩٩) ، سنن الترمذی/الصلاة ٢٥ (١٨٩) ، (تحفة الأشراف : ٥٣٠٩) ، وقد أخرجہ : صحیح مسلم/الصلاة ٣ (٣٧٩) ، مسند احمد (٤/٤٢، ٤٣) ، سنن الدارمی/الصلاة ٣ (١٢٢٤) (حسن ) وضاحت : ١ ؎ : دوسری روایت میں ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : یہ خواب سچا ہے، انشاء اللہ تعالیٰ اور عمر (رض) کے دیکھنے سے اس کی سچائی کا اور زیادہ یقین ہوا، اس پر بھی نبی اکرم ﷺ نے صرف خواب پر حکم نہیں دیا، بلکہ اس کے بعد آپ پر وحی کی گئی کیونکہ دین کے احکام خواب سے ثابت نہیں ہوسکتے، مگر انبیاء کے خواب وحی میں داخل ہیں، تو عبداللہ بن زید (رض) نے جس شخص کو خواب میں دیکھا وہ اللہ تعالیٰ کا فرشتہ تھا، اور صرف وحی پر جو اکتفا نہیں ہوئی، اور اذان کئی شخصوں کو خواب میں دکھلائی گئی تو اس میں بھی یہ راز تھا کہ نبی اکرم ﷺ کی سچائی اور عظمت کا زیادہ ثبوت ہو۔
707
Ibn Majahحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْوَاسِطِيُّ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاق، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّ النَّبِيَّ (ﷺ) اسْتَشَارَ النَّاسَ لِمَا يُهِمُّهُمْ إِلَى الصَّلَاةِ، فَذَكَرُوا الْبُوقَ، فَكَرِهَهُ مِنْ أَجْلِ الْيَهُودِ، ثُمَّ ذَكَرُوا النَّاقُوسَ، فَكَرِهَهُ مِنْ أَجْلِ النَّصَارَى، فَأُرِيَ النِّدَاءَ تِلْكَ اللَّيْلَةَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ، يُقَالُ لَهُ: عَبْدُ اللَّهِ بْنُ زَيْدٍ، وَعُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، فَطَرَقَ الْأَنْصَارِيُّ رَسُولَ اللَّهِ (ﷺ) لَيْلًا، فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ) بِلَالًا بِهِ فَأَذَّنَ، قَالَ الزُّهْرِيُّ: وَزَادَ بِلَالٌ فِي نِدَاءِ صَلَاةِ الْغَدَاةِ، الصَّلَاةُ خَيْرٌ مِنَ النَّوْمِ، فَأَقَرَّهَا رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ) قَالَ عُمَرُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدْ رَأَيْتُ مِثْلَ الَّذِي رَأَى وَلَكِنَّهُ سَبَقَنِي.
عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے لوگوں سے اس مسئلہ میں مشورہ کیا کہ نماز کے لیے لوگوں کو اکٹھا کرنے کی کیا صورت ہونی چاہیئے، کچھ صحابہ نے بگل کا ذکر کیا (کہ اسے نماز کے وقت بجا دیا جائے) تو آپ ﷺ نے اسے یہود سے مشابہت کے بنیاد پر ناپسند فرمایا، پھر کچھ نے ناقوس کا ذکر کیا لیکن آپ ﷺ نے اسے بھی نصاریٰ سے تشبیہ کی بناء پر ناپسند فرمایا، اسی رات ایک انصاری صحابی عبداللہ بن زید اور عمر بن خطاب (رض) کو خواب میں اذان دکھائی گئی، انصاری صحابی رات ہی میں رسول اللہ ﷺ کے پاس پہنچے، آپ ﷺ نے بلال (رض) کو اس کا حکم دیا تو انہوں نے اذان دی۔ زہری کہتے ہیں : بلال (رض) نے صبح کی اذان میں الصلاة خير من النوم نماز نیند سے بہتر ہے کا اضافہ کیا، تو رسول اللہ ﷺ نے اسے برقرار رکھا۔ عمر (رض) نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! میں نے بھی وہی خواب دیکھا ہے جو عبداللہ بن زید نے دیکھا ہے، لیکن وہ (آپ کے پاس پہنچنے میں) مجھ سے سبقت لے گئے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف : ٦٨٦٦، ومصباح الزجاجة : ٢٦١) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٢/١٤٨) (ضعیف) (یہ روایت سنداً ضعیف ہے کیونکہ اس کی سند میں ایک روای محمد بن خالد ضعیف ہے، لیکن معنی کے اعتبار سے یہ حدیث صحیح ہے، کیونکہ بخاری و مسلم میں آئی ہوئی حدیث کے ہم معنی ہے )
708
Ibn Majahحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، أَنْبَأَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي مَحْذُورَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَيْرِيزٍ، وَكَانَ يَتِيمًا فِي حِجْرِ أَبِي مَحْذُورَةَ بْنِ مِعْيَرٍ حِينَ جَهَّزَهُ إِلَى الشَّامِ، فَقُلْتُ لِأَبِي مَحْذُورَةَ: أَيْ عَمِّ إِنِّي خَارِجٌ إِلَى الشَّامِ وَإِنِّي عَنْ تَأْذِينِكَ، فَأَخْبَرَنِي أَنَّ أَبَا مَحْذُورَةَ، قَالَ: خَرَجْتُ فِي نَفَرٍ، فَكُنَّا بِبَعْضِ الطَّرِيقِ فَأَذَّنَ مُؤَذِّنُ رَسُولِ اللَّهِ (ﷺ) بِالصَّلَاةِ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ (ﷺ)، فَسَمِعْنَا صَوْتَ الْمُؤَذِّنِ وَنَحْنُ عَنْهُ مُتَنَكِّبُونَ، فَصَرَخْنَا َحْكِيهِ نَهْزَأُ بِهِ، فَسَمِعَ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ) فَأَرْسَلَ إِلَيْنَا قَوْمًا، فَأَقْعَدُونَا بَيْنَ يَدَيْهِ، فَقَالَ: أَيُّكُمُ الَّذِي سَمِعْتُ صَوْتَهُ قَدِ ارْتَفَعَ؟فَأَشَارَ إِلَيَّ الْقَوْمُ كُلُّهُمْ وَصَدَقُوا، فَأَرْسَلَ كُلَّهُمْ وَحَبَسَنِي وَقَالَ لِي: قُمْ فَأَذِّنْ، فَقُمْتُ وَلَا شَيْءَ أَكْرَهُ إِلَيَّ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ (ﷺ)، وَلَا مِمَّا يَأْمُرُنِي بِهِ، فَقُمْتُ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ (ﷺ)، فَأَلْقَى عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ) التَّأْذِينَ هُوَ بِنَفْسِهِ، فَقَالَ: قُلْ: اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، ثُمَّ قَالَ لِي: ارْفَعْ مِنْ صَوْتِكَ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، ثُمَّ دَعَانِي حِينَ قَضَيْتُ التَّأْذِينَ، فَأَعْطَانِي صُرَّةً فِيهَا شَيْءٌ مِنْ فِضَّةٍ، ثُمَّ وَضَعَ يَدَهُ عَلَى نَاصِيَةِ أَبِي مَحْذُورَةَ، ثُمَّ أَمَرَّهَا عَلَى وَجْهِهِ مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ ثُمَّ عَلَى كَبِدِهِ، ثُمَّ بَلَغَتْ يَدُ رَسُولِ اللَّهِ (ﷺ) سُرَّةَ أَبِي مَحْذُورَةَ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ): بَارَكَ اللَّهُ لَكَ، وَبَارَكَ عَلَيْكَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَمَرْتَنِي بِالتَّأْذِينِ بِمَكَّةَ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَدْ أَمَرْتُكَ، فَذَهَبَ كُلُّ شَيْءٍ كَانَ لِرَسُولِ اللَّهِ (ﷺ) مِنْ كَرَاهِيَةٍ، وَعَادَ ذَلِكَ كُلُّهُ مَحَبَّةً لِرَسُولِ اللَّهِ (ﷺ)، فَقَدِمْتُ عَلَى عَتَّابِ بْنِ أَسِيدٍ عَامِلِ رَسُولِ اللَّهِ (ﷺ) بِمَكَّةَ، فَأَذَّنْتُ مَعَهُ بِالصَّلَاةِ عَنْ أَمْرِ رَسُولِ اللَّهِ (ﷺ)، قَالَ: وَأَخْبَرَنِي ذَلِكَ مَنْ أَدْرَكَ أَبَا مَحْذُورَةَ عَلَى مَا أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَيْرِيزٍ.
عبداللہ بن محیریز جو یتیم تھے اور ابومحذورہ بن معیر کے زیر پرورش تھے، کہتے ہیں کہ جس وقت ابومحذورہ (رض) نے ان کو سامان تجارت دے کر شام کی جانب روانہ کیا، تو انہوں نے ابومحذورہ (رض) سے کہا : چچا جان ! میں ملک شام جا رہا ہوں، اور لوگ مجھ سے آپ کی اذان کے سلسلے میں پوچھیں گے، ابومحذورہ نے مجھ سے کہا کہ میں ایک جماعت کے ہمراہ نکلا، ہم راستے ہی میں تھے کہ اسی دوران رسول اللہ ﷺ کے مؤذن نے نماز کے لیے اذان دی ١ ؎ رسول اللہ ﷺ کے پاس ہم نے مؤذن کی آواز سنی چونکہ ہم اس (اذان یا اسلام) سے متنفر تھے (کیونکہ ہم کفر کی حالت میں تھے) اس لیے ہم چلا چلا کر اس کی نقلیں اتارنے اور اس کا ٹھٹھا کرنے لگے، رسول اللہ ﷺ نے سن لیا، آپ ﷺ نے کچھ لوگوں کو بھیجا، انہوں نے ہمیں پکڑ کر آپ کے سامنے حاضر کیا، آپ ﷺ نے فرمایا : تم میں وہ کون شخص ہے جس کی آواز ابھی میں نے سنی کافی بلند تھی ، سب لوگوں نے میری طرف اشارہ کیا، اور وہ سچ بولے، آپ ﷺ نے سب کو چھوڑ دیا اور صرف مجھے روک لیا، اور مجھ سے کہا : کھڑے ہو اذان دو ، میں اٹھا لیکن اس وقت میرے نزدیک نبی اکرم ﷺ سے اور اس چیز سے جس کا آپ مجھے حکم دے رہے تھے زیادہ بری کوئی اور چیز نہ تھی، خیر میں آپ ﷺ کے سامنے کھڑا ہوا، آپ نے خود مجھے اذان سکھانی شروع کی، آپ ﷺ نے فرمایا : کہو : الله أكبر الله أكبر الله أكبر الله أكبر أشهد أن لا إله إلا الله أشهد أن لا إله إلا الله أشهد أن محمدا رسول الله أشهد أن محمدا رسول الله، پھر آپ ﷺ نے مجھ سے کہا : بآواز بلند کہو : أشهد أن لا إله إلا الله أشهد أن لا إله إلا الله أشهد أن محمدا رسول الله أشهد أن محمدا رسول الله حي على الصلاة حي على الصلاة حي على الفلاح حي على الفلاح الله أكبر الله أكبر لا إله إلا الله، جب میں اذان دے چکا تو آپ ﷺ نے مجھے بلایا اور ایک تھیلی دی جس میں کچھ چاندی تھی، پھر اپنا ہاتھ ابومحذورہ کی پیشانی پر رکھا اور اسے ان کے چہرہ، سینہ، پیٹ اور ناف تک پھیرا، پھر فرمایا : اللہ تمہیں برکت دے اور تم پر برکت نازل فرمائے ، پھر میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! آپ نے مجھے مکہ میں اذان دینے کا حکم دیا ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : ہاں، تمہیں حکم دیا ہے بس اس کے ساتھ ہی جتنی بھی نفرت رسول اللہ ﷺ سے تھی وہ جاتی رہی، اور وہ آپ ﷺ کی محبت سے بدل گئی، ابومحذورہ (رض) کہتے ہیں : پھر میں مکہ میں رسول اللہ ﷺ کے عامل عتاب بن اسید (رض) کے پاس آیا، ان کی گورنری کے زمانہ میں میں نے رسول اللہ ﷺ کے حکم سے نماز کے لیے اذان دی۔ عبدالعزیز بن عبدالملک کہتے ہیں کہ جس طرح عبداللہ بن محیریز نے یہ حدیث مجھ سے بیان کی اسی طرح اس شخص نے بھی بیان کی جو ابومحذورہ (رض) سے ملا تھا۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الصلاة ٣ (٣٧٩) ، سنن ابی داود/الصلاة ٢٨ (٥٠٢) ، سنن الترمذی/الصلاة ٢٦ (١٩١، ١٩٢) ، سنن النسائی/الأذان ٣ (٦٣٠) ، ٤ (٦٣١) ، (تحفة الأشراف : ١٢١٦٩) ، مسند احمد (٣/٤٠٨، ٤٠٩) ، سنن الدارمی/الصلاة ٧ (١٢٣٢) (حسن صحیح ) وضاحت : ١ ؎: اس حدیث سے نبی اکرم ﷺ کے اخلاق حسنہ کا حال معلوم ہوتا ہے کہ آپ مخالفین کے ساتھ کس طرح نرمی اور شفقت سے برتاؤ کرتے تھے کہ ان کا دل خود پسیج جاتا، اور وہ اپنے کئے پر شرمندہ ہوتے، جو کوئی برائی کرے اس کے ساتھ بھلائی کرنا یہی اس کو شرمندہ کرنا ہے۔
709
Ibn Majahحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى، عَنْ عَامِرٍ الْأَحْوَلِ، أَنَّ مَكْحُولًا، حَدَّثَهُ، أَنَّعَبْدَ اللَّهِ بْنَ مُحَيْرِيزٍ، حَدَّثَهُ، أَنَّ أَبَا مَحْذُورَةَ، حَدَّثَهُ، قَالَ: عَلَّمَنِي رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ) الْأَذَانَ تِسْعَ عَشْرَةَ كَلِمَةً، وَالْإِقَامَةَ سَبْعَ عَشْرَةَ كَلِمَةً، الْأَذَانُ: اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَالْإِقَامَةُ سَبْعَ عَشْرَةَ كَلِمَةً: اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ، قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ.
ابومحذورہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے اذان کے لیے انیس کلمات اور اقامت کے لیے سترہ کلمات سکھائے، اذان کے کلمات یہ ہیں :الله أكبر الله أكبر الله أكبر الله أكبر أشهد أن لا إله إلا الله أشهد أن لا إله إلا الله أشهد أن محمدا رسول الله أشهد أن محمدا رسول الله أشهد أن لا إله إلا الله أشهد أن لا إله إلا الله أشهد أن محمدا رسول الله أشهد أن محمدا رسول الله حي على الصلاة حي على الصلاة حي على الفلاح حي على الفلاح الله أكبر الله أكبر لا إله إلا الله۔ اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں، میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں، میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں، آؤ نماز کے لیے، آؤ نماز کے لیے، آؤ کامیابی کی طرف، آؤ کامیابی کی طرف، اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ۔ اور اقامت کے لیے سترہ کلمات یہ ہیں : الله أكبر الله أكبر الله أكبر الله أكبر أشهد أن لا إله إلا الله أشهد أن لا إله إلا الله أشهد أن محمدا رسول الله أشهد أن محمدا رسول الله حي على الصلاة حي على الصلاة حي على الفلاح حي على الفلاح قد قامت الصلاة قد قامت الصلاة الله أكبر الله أكبر لا إله إلا الله اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں، میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں، آؤ نماز کے لیے، آؤ نماز کے لیے، آؤ کامیابی کی طرف، آؤ کامیابی کی طرف، نماز قائم ہوگئی، نماز قائم ہوگئی، اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ١ ؎ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ (حسن صحیح ) وضاحت : ١ ؎: اور دوسری صحیح روایتوں میں یوں بھی آیا ہے کہ اقامت کے کلمے ایک ایک بار کہے، قد قامت الصلو ۃ اور اللہ اکبر کے سوا کہ وہ دو بار کہے، تو اقامت اس طرح سے ہوگی : الله أكبر، الله أكبر، أشهد أن لا إله إلا الله، أشهد أن محمدًا رسول الله، حي على الصلاة، حي على الفلاح، قد قامت الصلاة، قد قامت الصلاة، الله أكبر الله أكبر، لا إله إلا الله ۔
710
Ibn Majahحَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَعْدِ بْنِ عَمَّارِ بْنِ سَعْدٍ مُؤَذِّنِ رَسُولِ اللَّهِ (ﷺ)، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ (ﷺ): أَمَرَ بِلَالًا أَنْ يَجْعَلَ إِصْبَعَيْهِ فِي أُذُنَيْهِ، وَقَالَ: إِنَّهُ أَرْفَعُ لِصَوْتِكَ.
مؤذن رسول اللہ ﷺ سعد (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے بلال (رض) کو حکم دیا کہ وہ اپنی دونوں انگلیوں کو اپنے دونوں کانوں میں ڈال لیں، اور فرمایا : اس سے تمہاری آواز خوب بلند ہوگی ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف : ٣٨٢٥، ومصباح الزجاجة : ٢٦٣) (ضعیف) (ابناء سعد عمار و سعد و عبد الرحمن کے ضعف کی وجہ سے یہ سند ضعیف ہے )
711
Ibn Majahحَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَاشِمِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، عَنْ حَجَّاجِ بْنِ أَرْطَاةَ، عَنْ عَوْنِ بْنِ أَبِي جُحَيْفَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ (ﷺ) بِالْأَبْطَحِ، وَهُوَ فِي قُبَّةٍ حَمْرَاءَ، فَخَرَجَ بِلَالٌ فَأَذَّنَ، فَاسْتَدَارَ فِي أَذَانِهِ، وَجَعَلَ إِصْبَعَيْهِ فِي أُذُنَيْهِ.
ابوجحیفہ (رض) کہتے ہیں کہ میں وادی بطحاء میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا، آپ ایک سرخ خیمہ میں قیام پذیر تھے، بلال (رض) باہر نکلے اور اذان دی، تو اپنی اذان میں گھوم گئے (جس وقت انہوں نے حي على الصلاة اور حي على الفلاح کے کلمات کہے) ، اور اپنی (شہادت کی) دونوں انگلیاں اپنے دونوں کانوں میں ڈالیں ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف : ١١٨٠٥) ، وقد أخرجہ : صحیح البخاری/الأذان ١٥ (٦٣٤) ، صحیح مسلم/الصلاة ٤٧ (٥٠٣) ، سنن ابی داود/الصلاة ٣٤ (٥٢٠) ، سنن الترمذی/الصلاة ٣٠ (١٩٧) ، سنن النسائی/الأذان ١٣ (٦٤٤) ، الزینة من المجتبیٰ ٦٩ (٥٣٨٠) ، مسند احمد (٤/٣٠٨) ، سنن الدارمی/الصلاة ٨ (١٢٣٤) (صحیح) (اس سند میں حجاج ضعیف ہیں، لیکن متن دوسرے طرق سے صحیح ہے كما في التخريج من طرق سفيان الثوري، و شعبة وغيرهما عن عون به ) وضاحت : ١ ؎: موذن جب حي على الصلاة کہے، تو دائیں طرف منہ پھیرے، اور جب حي الفلاح کہے تو بائیں طرف منہ پھیرے، اگر اذان کے منارے میں منہ پھیرنے کی گنجائش نہ ہو تو صرف گھوم جائے۔
712
Ibn Majahحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُصَفَّى الْحِمْصِيُّ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ عَنْ مَرْوَانَ بْنِ سَالِمٍ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي رَوَّادٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ): خَصْلَتَانِ مُعَلَّقَتَانِ فِي أَعْنَاقِ الْمُؤَذِّنِينَ لَلْمُسْلِمِينَ: صَلَاتُهُمْ، وَصِيَامُهُمْ.
عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : مسلمانوں کے دو کام مؤذن کی گردنوں میں لٹکے ہوتے ہیں : ایک نماز، دوسرے روزہ ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ ابن ما جہ، (تحفة الأشراف : ٧٧٧٠، ومصباح الزجاجة : ٢٦٤) (موضوع) (سند میں بقیہ مدلس ہیں اور روایت عنعنہ سے کی ہے، اور مروان بن سالم وضع حدیث میں متہم راوی ہے، نیز ملاحظہ ہو : سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی : ٩٠٥ )
713
Ibn Majahحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ: كَانَ بِلَالٌ لَا يُؤَخِّرُ الْأَذَانَ عَنِ الْوَقْتِ، وَرُبَّمَا أَخَّرَ الْإِقَامَةَ شَيْئًا.
جابر بن سمرہ (رض) کہتے ہیں کہ بلال (رض) اذان وقت سے مؤخر نہ کرتے، اور اقامت کبھی کبھی کچھ مؤخر کردیتے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف : ٢١٧٨، ومصباح الزجاجة :) ، وقد أخرجہ : صحیح مسلم/المساجد ٢٩ (٦٠٦) ، سنن ابی داود/الصلاة ٤٤ (٥٣٧) ، سنن الترمذی/الصلاة ٣٤ (٢٠٢) (حسن) (سند میں شریک القاضی سیء الحفظ ہیں، لیکن شواہد کی بناء پر حدیث حسن ہے، ملاحظہ ہو : الإرواء : ٢٢٧ ) وضاحت : ١ ؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اقامت اس وقت تک نہ ہوتی جب تک نبی اکرم ﷺ حجرہ مبارکہ سے باہر نہ آجاتے، اور آپ کو دیکھ کر بلال (رض) اقامت شروع کرتے۔
714
Ibn Majahحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنْ أَشْعَثَ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ، قَالَ: كَانَآخِرُ مَا عَهِدَ إِلَيَّ النَّبِيُّ (ﷺ) أَنْ لَا أَتَّخِذَ مُؤَذِّنًا يَأْخُذُ عَلَى الْأَذَانِ أَجْرًا.
عثمان بن ابی العاص ثقفی (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے مجھے آخری وصیت یہ کی تھی کہ میں کوئی ایسا مؤذن نہ رکھوں جو اذان پر اجرت لیتا ہو۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/الصلاة ٤١ (٢٠٩) ، (تحفة الأشراف : ٩٧٦٣) ، وقد أخرجہ : سنن ابی داود/الصلاة ٤٠ (٥٣١) ، سنن النسائی/الأذان ٣٢ (٦٧٣) ، مسند احمد (٤/٢١٧) (صحیح )
715
Ibn Majahحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَسَدِيُّ، عَنْ أَبِي إِسْرَائِيلَ، عَنْ الْحَكَمِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ بِلَالٍ، قَالَ: أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ) أَنْ أُثَوِّبَ فِي الْفَجْرِ، وَنَهَانِي أَنْ أُثَوِّبَ فِي الْعِشَاءِ.
بلال (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے حکم دیا کہ میں فجر کی اذان میں تثويب ١ ؎ کہوں، اور آپ نے عشاء کی اذان میں تثويب سے مجھے منع فرمایا ٢ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/الصلاة ٣١ (١٩٨) ، (تحفة الأشراف : ٢٠٤٢) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٦/١٤، ١٤٨) (ضعیف) (سند میں ابو اسرائیل ضعیف ہیں، ملاحظہ ہو : الإرواء : ٢٣٥ ) وضاحت : ١ ؎: تثويب کہتے ہیں اعلان کے بعد اعلان کرنے یا اطلاع دینے کو، اور مراد اس سے الصلاة خير من النوم ہے۔ ٢ ؎: اس سے معلوم ہوا کہ الصلاة خير من النوم کو نبی ﷺ نے فجر کی اذان میں جاری کیا، اور شیعہ جو کہتے ہیں کہ عمر (رض) نے اس کلمہ کو اذان میں بڑھایا یہ ان کا افتراء ہے، عمر (رض) کا یہ منصب نہیں تھا کہ وہ اذان جیسی عبادت میں اپنی رائے سے گھٹاتے بڑھاتے، یہ منصب تو اللہ اور اس کے رسول ﷺ ہی کا ہے، پس بعض روایتوں میں جو یہ آیا ہے کہ مؤذن عمر (رض) کو جگانے کے لئے آیا، اور اس نے کہا : الصلاة خير من النوم عمر (رض) نے کہا : اس کلمے کو اپنی اذان میں مقرر کرو ، اس سے یہ نہیں نکلتا کہ عمر (رض) نے اس کلمے کو ایجاد کیا، بلکہ احتمال ہے کہ لوگوں نے یہ کلمہ فجر کی اذان میں کہنا چھوڑ دیا ہوگا، تو عمر (رض) نے اس سنت کے جاری کرنے کے لئے تنبیہ کی، یا مطلب یہ ہوگا کہ یہ کلمہ اذان میں کہا کرو، اذان کے باہر اس کے کہنے کا کیا موقع، بہرحال اتباع میں عمر (رض) سب صحابہ سے زیادہ سخت تھے، اور بدعت کے بڑے دشمن تھے، ان کے بارے میں یہ سوچا بھی نہیں جاسکتا کہ انہوں نے دین میں کوئی بات کتاب و سنت کی دلیل کے بغیر اپنی طرف سے بڑھائی ہو، جب عمر (رض) کو یہ منصب حاصل نہ ہوا حالانکہ دوسری حدیث میں ابوبکر اور عمر کی پیروی کا حکم ہے، اور ایک حدیث میں ہے کہ میری سنت کو لازم کرلو، اور خلفائے راشدین کی سنت کو، تو کسی صحابی، یا امام، یا مجتہد، یا پیر، یا ولی، یا فقیر، یا غوث، یا قطب کو یہ منصب کیوں کر حاصل ہوگا، کہ وہ دین میں بغیر دلیل کے کوئی اضافہ کرے۔