3236
Ibn Majahحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ وَاضِحٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ بْنِ أَبِي الْمُخَارِقِ، عَنْ حِبَّانَ بْنِ جَزْءٍ، عَنْ أَخِيهِ خُزَيْمَةَ بْنِ جَزْءٍ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، جِئْتُكَ، لِأَسْأَلَكَ عَنْ أَحْنَاشِ الْأَرْضِ، مَا تَقُولُ فِي الثَّعْلَبِ؟، قَالَ: وَمَنْ يَأْكُلُ الثَّعْلَبَ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا تَقُولُ فِي الذِّئْبِ؟، قَالَ: وَيَأْكُلُ الذِّئْبَ أَحَدٌ فِيهِ خَيْرٌ؟!.
خزیمہ بن جزء (رض) کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! میں آپ کی خدمت میں زمین کے کیڑوں کے متعلق سوال کرنے آیا ہوں، آپ لومڑی کے سلسلے میں کیا فرماتے ہیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : لومڑی کون کھاتا ہے ؟ پھر میں نے عرض کیا : آپ بھیڑئیے کے متعلق کیا فرماتے ہیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : کہیں کوئی آدمی جس میں خیر ہو بھیڑیا کھاتا ہے ؟ ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف : ٣٥٣٣، ومصباح الزجاجة : ١١١٢) ، وقد أخرجہ : سنن الترمذی/الأطعمة ٤ (١٧٩٢) ، مقتصراً علی الجملة الأخیرة) (ضعیف) (سند میں ابن اسحاق مدلس ہیں، اور روایت عنعنہ سے کی ہے، نیز عبد الکریم ضعیف ہیں ) وضاحت : ١ ؎: یہ حدیث تو ضعیف ہے لیکن لومڑی شکار کرتی ہے، تو وہ دانت والے درندوں میں سے ہے۔