3489
Ibn Majahحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عَقَّارِ بْنِ الْمُغِيرَةِ، عَنْأَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ (ﷺ)، قَالَ: مَنِ اكْتَوَى أَوِ اسْتَرْقَى، فَقَدْ بَرِئَ مِنَ التَّوَكُّلِ.
مغیرہ (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جس نے (آگ یا لوہا سے بدن) داغنے یا منتر (جھاڑ پھونک) سے علاج کیا، وہ توکل سے بری ہوگیا ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/الطب ١٤ (٢٠٥٥) ، (تحفة الأشراف : ١١٥١٨) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٤/٢٤٩، ٢٥١، ٢٥٣) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: وہ دم (جھاڑ پھونک) ممنوع ہے جس میں شرکیہ الفاظ یا ایسے الفاظ ہوں جو معنی و مفہوم کے لحاظ سے واضح نہ ہوں۔