3738
Ibn Majahحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، عَنْ حَمْزَةَ بْنِ صُهَيْبٍ، أَنَّ عُمَرَ، قَالَ لِصُهَيْبٍ: مَا لَكَ تَكْتَنِي بِأَبِي يَحْيَى وَلَيْسَ لَكَ وَلَدٌ؟ قَالَ: كَنَّانِي رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ) بِأَبِي يَحْيَى.
حمزہ بن صہیب سے روایت ہے کہ عمر (رض) نے صہیب (رض) سے کہا کہ تم اپنی کنیت ابویحییٰ کیوں رکھتے ہو ؟ حالانکہ تمہیں کوئی اولاد نہیں ہے ؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ رسول اللہ ﷺ نے میری کنیت ابویحییٰ رکھی ہے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف : ٤٩٥٩، ومصباح الزجاجة : ١٣٠٧) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٦/١٦) (حسن) (سند میں عبداللہ بن محمد بن عقیل منکر الحدیث ہے، لیکن عمر (رض) کے ابوداود کے شاہد سے یہ حسن ہے، نیز ملاحظہ ہو : سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی : ٣٣ ) وضاحت : ١ ؎: معلوم ہوا کہ اولاد ہونے سے پہلے بھی آدمی کنیت رکھ سکتا ہے۔