1274
Ibn Majahحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ خَلَّادٍ الْبَاهِلِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ الْحَسَنِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ النَّبِيَّ (ﷺ): صَلَّى يَوْمَ الْعِيدِ بِغَيْرِ أَذَانٍ وَلَا إِقَامَةٍ.
عبداللہ بن عباس (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے عید کے دن بغیر اذان اور اقامت کے نماز پڑھی۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/العیدین ٨ (٩٦٢) ، صحیح مسلم/العیدین (٨٨٤) ، سنن ابی داود/الصلاة ٢٥٠ (١١٤٧) ، (تحفة الأشراف : ٥٦٩٨) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (١/٢٢٧، ٢٤٢، ٢٨٥، ٣٣١، ٣٤٥، ٣٤٦) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: اس پر سب کا اتفاق ہے اور صحیح میں جابر بن سمرہ (رض) سے بھی ایسی ہی روایت ہے، اس لئے نماز عید میں اذان یا اقامت کہنا بدعت ہے۔