Muawtta Imam Muhammad
3. زکوۃ کا بیان
موطأ الامام محمد
321
Muawtta Imam Muhammadأَخْبَرَنَا مَالِكٌ، أَخْبَرَنَا الزُّهْرِيُّ، عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ، أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، كَانَ يَقُولُ: «هَذَا شَهْرُ زَكَاتِكُمْ، فَمَنْ كَانَ عَلَيْهِ دَيْنٌ، فَلْيُؤَدِّ دَيْنَهُ حَتَّى تُحَصَّلَ أَمْوَالُكُمْ، فَتُؤَدُّوا مِنْهَا الزَّكَاةَ» ، قَالَ مُحَمَّدٌ: وَبِهَذَا نَأْخُذُ، مَنْ كَانَ عَلَيْهِ دَيْنٌ وَلَهُ مَالٌ فَلْيَدْفَعْ دَيْنَهُ مِنْ مَالِهِ، فَإِنْ بَقِيَ بَعْدَ ذَلِكَ مَا تَجِبُ فِيهِ الزَّكَاةُ فَفِيهِ زَكَاةٌ، وَتِلْكَ مِائَتَا دِرْهَمٍ، أَوْ عِشْرُونَ مِثْقَالا ذَهَبًا فَصَاعِدًا، وَإِنْ كَانَ الَّذِي بَقِيَ أَقَلَّ مِنْ ذَلِكَ، بَعْدَ مَا يَدْفَعُ مِنْ مَالِهِ الدَّيْنَ فَلَيْسَتْ فِيهِ الزَّكَاةُ، وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ
حضرت عثمان بن عفان (رض) (رمضان کے متعلق کہا کرتے تھے) یہ تمہاری زکوۃ کا مہینہ ہے ) ۔ پس جس کے ذمہ قرضہ ہو وہ اپنا قرض ادا کرے پھر جو مال باقی رہ جائے پس اس میں سے زکوۃ ادا کرے۔
قول محمد (رح) یہ ہے : ہم اسی کو اختیار کرتے ہیں۔ جس کے ذمہ قرضہ ہو اور اس کے پاس مال ہو تو وہ اپنے مال میں سے اپنا قرضہ ادا کرے اگر اس کے بعد اتنا مال بچ جائے جس میں زکوۃ لازم ہوتی ہو تو اس میں زکوۃ ہے۔ اور اس کی اس نصاب کی مقدار چاندی کے حساب سے دو سو درہم یا بیس مثقال سونا ہے یا اس سے زیادہ ہو ( تو اس میں کزوۃ ہوگی) اگر قرض کی ادائیگی کے بعد بقیہ مال اس مقدار سے کم ہو تو اس میں زکوۃ نہیں ہے۔ اور یہی امام ابوحنیفہ (رح) کا قول ہے (اس روایت کو باب الزکوۃ فی الدین میں امام مالک نے ذکر کیا ہے) امام سرخسی نے مبسوط میں تصریح کی ہے کہ یہ رمضان کا مہینہ ہے کتاب الاثار میں رمضان کا لفظ خود موجود ہے
قول محمد (رح) یہ ہے : ہم اسی کو اختیار کرتے ہیں۔ جس کے ذمہ قرضہ ہو اور اس کے پاس مال ہو تو وہ اپنے مال میں سے اپنا قرضہ ادا کرے اگر اس کے بعد اتنا مال بچ جائے جس میں زکوۃ لازم ہوتی ہو تو اس میں زکوۃ ہے۔ اور اس کی اس نصاب کی مقدار چاندی کے حساب سے دو سو درہم یا بیس مثقال سونا ہے یا اس سے زیادہ ہو ( تو اس میں کزوۃ ہوگی) اگر قرض کی ادائیگی کے بعد بقیہ مال اس مقدار سے کم ہو تو اس میں زکوۃ نہیں ہے۔ اور یہی امام ابوحنیفہ (رح) کا قول ہے (اس روایت کو باب الزکوۃ فی الدین میں امام مالک نے ذکر کیا ہے) امام سرخسی نے مبسوط میں تصریح کی ہے کہ یہ رمضان کا مہینہ ہے کتاب الاثار میں رمضان کا لفظ خود موجود ہے
322
Muawtta Imam Muhammadأَخْبَرَنَا مَالِكٌ، أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ خُصَيْفَةَ، أَنَّهُ سَأَلَ سُلَيْمَانَ بْنَ يَسَارٍ عَنْ رَجُلٍ لَهُ مَالٌ، وَعَلَيْهِ مِثْلُهُ مِنَ الدَّيْنِ، أَعَلَيْهِ الزَّكَاةُ؟ فَقَالَ: لا "، قَالَ مُحَمَّدٌ: وَبِهَذَا نَأْخُذُ وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ.
یزید بن خصیفہ کہتے ہیں کہ میں نے سلیمان بن یسار سے ایسے آدمی کے متعلق سوال کیا کہ جس کے پاس مال بھی ہو اور اتنی مقدار میں اس پر قرض ہو تو کیا ایسے شخص پر زکوۃ لازم ہوگی۔ تو وہ کہنے لگے نہیں۔ ( ان دونوں آثار کو امام مالک نے باب الزکوۃ فی الدین میں ذکر فرمایا ہے)
قول محمد (رح) یہ ہے : ہم اسی کو اختیار کرتے ہیں اور یہی امام ابوحنیفہ (رح) کا قول ہے)
قول محمد (رح) یہ ہے : ہم اسی کو اختیار کرتے ہیں اور یہی امام ابوحنیفہ (رح) کا قول ہے)
323
Muawtta Imam Muhammadأَخْبَرَنَا مَالِكٌ، أَخْبَرَنَا محمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي صَعْصَعَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسَةِ أَوْسُقٍ مِنَ التَّمْرِ صَدَقَةٌ، وَلَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسِ أَوَاقٍ مِنَ الْوَرِقِ صَدَقَةٌ، وَلَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسٍ ذَوْدٍ مِنَ الإِبِلِ صَدَقَةٌ» ، قَالَ مُحَمَّدٌ: وَبِهَذَا نَأْخُذُ، وَكَانَ أَبُو حَنِيفَةَ يَأْخُذُ بِذَلِكَ إِلا فِي خَصْلَةٍ وَاحِدَةٍ، فَإِنَّهُ، كَانَ يَقُولُ: فِيمَا أَخْرَجَتِ الأَرْضُ الْعُشْرُ مِنْ قَلِيلٍ أَوْ كَثِيرٍ إِنْ كَانَتْ تُشْرَبُ سَيْحًا أَوْ تَسْقِيهَا السَّمَاءُ، وَإِنْ كَانَتْ تُشْرَبُ بِغَرْبٍ أَوْ دَالِيَةٍ فَنِصْفُ عُشْرٍ، وَهُوَ قَوْلُ إِبْرَاهِيمَ النَّخَعَيِّ، وَمُجَاهِدٍ
ابو سعید الخدری (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : پانچ وسق سے کم کھجور میں صدقہ نہیں ہے۔ اور چاندی کے پانچ اوقیہ سے کم میں صدقہ نہیں۔ اور پانچ اونٹ سے کم میں صدقہ یعنی زکوۃ نہیں۔ (اسی رویت کو امام مالک نے باب ما یجب فیہ الزکوۃ میں ذکر فرمایا ہے)
قول محمد (رح) یہ ہے : ہم اسی کو اختیار کرتے ہیں۔ امام صاحب (رح) بہی اسی کو اختیار کرتے تھے مکر ایک صورت میں وہ فرماتے جو زمین سے نکلے خواہ پیداوار کم ہو یا زیادہ بشرطیہ بارانی یا چشمہ سے یا بارش سے سیراب ہوتی ہو تو اس میں عشر ہے۔ اکر وہ زمین ڈول یا رہٹ سے سیراب ہوتی ہو تو اس میں نصف عشر ہے اور یہی ابراہیم نخعی اور مجاہد رحمہا اللہ کا قول ہے۔
قول محمد (رح) یہ ہے : ہم اسی کو اختیار کرتے ہیں۔ امام صاحب (رح) بہی اسی کو اختیار کرتے تھے مکر ایک صورت میں وہ فرماتے جو زمین سے نکلے خواہ پیداوار کم ہو یا زیادہ بشرطیہ بارانی یا چشمہ سے یا بارش سے سیراب ہوتی ہو تو اس میں عشر ہے۔ اکر وہ زمین ڈول یا رہٹ سے سیراب ہوتی ہو تو اس میں نصف عشر ہے اور یہی ابراہیم نخعی اور مجاہد رحمہا اللہ کا قول ہے۔
324
Muawtta Imam Muhammadأَخْبَرَنَا مَالِكٌ، أَخْبَرَنَا نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: «لا تَجِبُ فِي مَالٍ زَكَاةٌ حَتَّى يَحُولَ عَلَيْهِ الْحَوْلُ» ، قَالَ مُحَمَّدٌ: وَبِهَذَا نَأْخُذُ، وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ، إِلا أَنْ يَكْتِسَبَ مَالا فَيَجْمَعُهُ إِلَى مَالٍ عِنْدَهُ مِمَّا يُزَكَّى، فَإِذَا وَجَبَتِ الزَّكَاةُ فِي الأَوَّلِ، زَكَّى الثَّانِي مَعَهُ، وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ، وَإِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ رَحِمَهُمَا اللَّهُ تَعَالَى
نافع ابن عمر (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ جب تک سال نہ گزرے زکوۃ لازم نہیں ہوتی۔ (اس روایت کو امام مالک (رح) نے باب الزکوۃ العین من الذہب و الورق میں ذکر کیا ہے)
قول محمد (رح) یہ ہے ہم اسی کو اختیار کرتے ہیں اور یہی امام ابوحنیفہ (رح) کا قول ہے۔ لیکن اگر کوئی نیا مال کمائی تو اسے بہی پہلے مال میں جامع کرے۔ جب پہلے میں زکوۃ واجب ہوگی تو دوسرے کی زکوۃ بھی اس کے ساتھ ادا کرے اور یہی امام ابوحنیفہ اور ابراہیم نخعی رحمہا اللہ کا قول ہے۔
قول محمد (رح) یہ ہے ہم اسی کو اختیار کرتے ہیں اور یہی امام ابوحنیفہ (رح) کا قول ہے۔ لیکن اگر کوئی نیا مال کمائی تو اسے بہی پہلے مال میں جامع کرے۔ جب پہلے میں زکوۃ واجب ہوگی تو دوسرے کی زکوۃ بھی اس کے ساتھ ادا کرے اور یہی امام ابوحنیفہ اور ابراہیم نخعی رحمہا اللہ کا قول ہے۔
325
Muawtta Imam Muhammadأَخْبَرَنَا مَالِكٌ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُقْبَةَ مَوْلَى الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَأَلَ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ عَنْ مُكَاتَبٍ لَهُ قَاطَعَهُ بِمَالٍ عَظِيمٍ؟ قَالَ: قُلْتُ: هَلْ فِيهِ زَكَاةٌ؟ قَالَ الْقَاسِمُ: إِنَّ أَبَا بَكْرٍ كَانَ " لا يَأْخُذُ مِنْ مَالٍ صَدَقَةً حَتَّى يَحُولَ عَلَيْهِ الْحَوْلُ، قَالَ الْقَاسِمُ: وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ إِذَا أَعْطَى النَّاسَ أُعْطِياتِهِمْ يَسْأَلُ الرَّجُلَ هَلْ عِنْدَكَ مِنْ مَالٍ قَدْ وَجَبَتْ فِيهِ الزَّكَاةُ؟ فَإِنْ قَالَ: نَعَمْ، أَخَذَ مِنْ عَطَائِهِ زَكَاةَ ذَلِكَ الْمَالِ، وَإِنْ قَالَ لا، سَلَّمَ إِلَيْهِ عَطَاءَهُ "، قَالَ مُحَمَّدٌ: وَبِهَذَا نَأْخُذُ، وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ
قائم بن محمد (رح) ایک سوال کے جواب میں فرمانے لگے۔ ابوبکر صدیق (رض) اس وقت تک کسی مال سے زکوۃ وصول نہ کرتے تھے ۔ جب تک اس پر سال نہ گرز جائے۔ قاسم کہنے لگے حضرت لوکوں کو بیت المال سے وظائف عطاء فرماتے تو سوال کرتے کہ کیا تمہارے پاس اتنا مال ہے جس پر زکوۃ واجب ہوسکتی ہو ؟ اگر اس کا جواب ہاں میں ہوتا تو اس مال کی زکوۃ اس کے وظیفے سے لے لیتے۔ اگر اس کا جواب نفی میں ہوتا تو اس کا وظیفہ اس کے حوالے کردیتے تھے اور اس میں سے کچھ نہ لیتے تھے۔
قول محمد (رح) یہ ہے : ہم اسی کو اختیار کرتے ہیں اور یہی امام ابوحنیفہ (رح) کا قول ہے۔
قول محمد (رح) یہ ہے : ہم اسی کو اختیار کرتے ہیں اور یہی امام ابوحنیفہ (رح) کا قول ہے۔
326
Muawtta Imam Muhammadأَخْبَرَنَا مَالِكٌ، أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ حُسَيْنٍ، عَنْ عَائِشَةَ بِنْتِ قُدَامَةَ بْنِ مَظْعُونٍ، عَنْ أَبِيهَا، قَالَ: كُنْتُ إِذَا قَبَضْتُ عَطَائِي مِنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، سَأَلَنِي " هَلْ عِنْدَكَ مَالٌ وَجَبَ عَلَيْكَ فِيهِ الزَّكَاةُ؟ فَإِنْ قُلْتُ: نَعَمْ، أَخَذَ مِنْ عَطَائِي زَكَاةَ ذَلِكَ الْمَالِ، وَإِلا دَفَعَ إِلَيَّ عَطَائِي "
قدامہ بن مظعون (رض) روایت کرتے ہیں کہ جب میں اپنا وظیفہ لینے کے لیے حضرت عثمان بن عفان (رض) کے پاس آتا تھا تو وہ استفسار فرماتے کہ کیا تمہارے پاس قابل زکوۃ مال موجود ہے ؟ اکر میں ہان میں جواب دیتا تو وہ اس مال کی زکوۃ میرے وظیفہ سے کاٹ لیتے تھے اور اگر میں کہتا کہ نہیں تو میرا وظیفہ میرے حوالے کردیتے۔ ( اس روایت کو باب الزکوۃ فی العین من الذہب والورق میں امام مالک (رح) نے نقل کیا ہے)
327
Muawtta Imam Muhammadأَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ قَاسِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ عَائِشَةَ كَانَتْ «تَلِي بَنَاتَ أَخِيهَا يَتَامَى فِي حِجْرِهَا، لَهُنَّ حُلِيٌّ، فَلا تُخْرِجُ مِنْ حُلِيِّهِنَّ الزَّكَاةَ»
محمد بیان کرتے ہیں کہ عائشہ صدیقہ (رض) عنہا اپنی یتیم بھتیجیوں کو اپنی گود میں پالتی تھیں، اور ان کے زیورات سے زکوۃ نہ نکالتی تھیں۔
328
Muawtta Imam Muhammadأَخْبَرَنَا مَالِكٌ، حَدَّثَنَا نَافِعٌ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ كَانَ «يُحَلِّي بَنَاتَهُ وَجَوَارِيهِ، فَلا يُخْرِجُ مِنْ حُلِيِّهِنَّ الزَّكَاةَ» ، قَالَ مُحَمَّدٌ: أَمَّا مَا كَانَ مِنْ حُلِيِّ جَوْهَرٍ وَلُؤْلُؤٍ، فَلَيْسَتْ فِيهِ الزَّكَاةُ عَلَى كُلِّ حَالٍ، وَأَمَّا مَا كَانَ مِنْ حُلِيِّ ذَهَبٍ، أَوْ فِضَّةٍ، فَفِيهِ الزَّكَاةُ، إِلا أَنْ يَكُونَ ذَلِكَ لِيَتِيمٍ، أَوْ يَتِيمَةٍ لَمْ يَبْلُغَا، فَلا تَكُونُ فِي مَالِهَا زَكَاةٌ وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ
عبداللہ بن عمر (رض) اپنی بیٹیوں اور لونڈیوں کو سونے کا زیور پہناتے تھے پھر ان کے زیورات میں سے زکوۃ نہ نکالتے تھے۔
قول محمد (رح) یہ ہے : جواہرات کی قسم سے جو زیور ہوگا اور اسی طرح موتیوں سے ہوگا اس میں زکوۃ کسی حال میں بھی نہیں ہے۔ البتہ سونے اور چاندی کے زیورات میں زکو وۃ ہے۔ اگر یتیم بچے یا بچی کا زیور ہو جو کہ نابالغ ہوں تو ان کے مال میں زکوۃ نہیں اور یہی امام ابوحنیفہ (رح) کا قول ہے۔
قول محمد (رح) یہ ہے : جواہرات کی قسم سے جو زیور ہوگا اور اسی طرح موتیوں سے ہوگا اس میں زکوۃ کسی حال میں بھی نہیں ہے۔ البتہ سونے اور چاندی کے زیورات میں زکو وۃ ہے۔ اگر یتیم بچے یا بچی کا زیور ہو جو کہ نابالغ ہوں تو ان کے مال میں زکوۃ نہیں اور یہی امام ابوحنیفہ (رح) کا قول ہے۔
329
Muawtta Imam Muhammadأَخْبَرَنَا مَالِكٌ، حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ عُمَرَ كَانَ «يَأْخُذُ عَنِ النَّبَطِ مِنَ الْحِنْطَةِ، وَالزَّيْتِ نِصْفَ الْعُشُرِ، يُرِيدُ أَنْ يُكْثِرَ الْحِمْلَ إِلَى الْمَدِينَةِ، وَيَأْخُذُ مِنَ الْقِطَنِيَّةِ الْعُشُرَ» ، قَالَ مُحَمَّدٌ: يُؤْخَذُ مِنْ أَهْلِ الذِّمَّةِ مِمَّا اخْتَلَفُوا فِيهِ لِلتِّجَارَةِ مِنْ قِطَنِيَّةٍ، أَوْ غَيْرِ قِطَنِيَّةٍ نِصْفُ الْعُشُرِ فِي كُلِّ سَنَةٍ، وَمِنْ أَهْلِ الْحَرْبِ إِذَا دَخَلُوا أَرْضَ الإِسْلامِ بِأَمَانٍ الْعُشُرُ مِنْ ذَلِكَ كُلِّهِ، وَكَذَلِكَ أَمَرَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ زِيَادَ بْنَ حُدَيْرٍ، وَأَنَسَ بْنَ مَالِكٍ حِينَ بَعَثَهُمَا عَلَى عُشُورِ الْكُوفَةِ وَالْبَصْرَةِ، وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ
عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) عن نبطیوں سے گندم اور زیتون میں سے نصف عشر لیا کرتے تھے اور اس سے ان کا مقصد یہ تھا کہ مدینہ منورہ میں تجارتی اجناس زیادہ سے زیادہ آئیں اور آپ دالوں کی اجناس سے عشر لیتے تھے۔ ( اس اثر کو امام مالک نے باب عشور اہل الذمہ میں ذکر کیا ہے)
قول محمد (رح) یہ ہے : کہ اہل ذمہ جب تجارت کے لیے دار الاسلام میں آمد و رفت کریں تو ان سے دالوں کی اجناس اور دیگر اجناس سے ہر سال میں ایک مرتبہ نصف عشر لیا جائے گا۔ اور اہل حرب جب دار الاسلام میں امام لے کر تجارت کے لیے آئیں تو ان سے تمام اجناس میں عشر وصول کیا جائے گا۔ حضرت عمر (رض) نے جب زیاد بن حدیر اور انس بن مالک کو کوفہ اور بصرہ کے عشرکا نگران بنا کر بھیجا تو انھیں یہی حکم دیا تھا اور امام ابوحنیفہ (رح) کا بھی یہی قول ہے۔
قول محمد (رح) یہ ہے : کہ اہل ذمہ جب تجارت کے لیے دار الاسلام میں آمد و رفت کریں تو ان سے دالوں کی اجناس اور دیگر اجناس سے ہر سال میں ایک مرتبہ نصف عشر لیا جائے گا۔ اور اہل حرب جب دار الاسلام میں امام لے کر تجارت کے لیے آئیں تو ان سے تمام اجناس میں عشر وصول کیا جائے گا۔ حضرت عمر (رض) نے جب زیاد بن حدیر اور انس بن مالک کو کوفہ اور بصرہ کے عشرکا نگران بنا کر بھیجا تو انھیں یہی حکم دیا تھا اور امام ابوحنیفہ (رح) کا بھی یہی قول ہے۔
330
Muawtta Imam Muhammadأَخْبَرَنَا مَالِكٌ، حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «أَخَذَ مِنْ مَجُوسِ الْبَحْرَيْنِ الْجِزْيَةَ، وَأَنَّ عُمَرَ أَخَذَهَا مِنْ مَجُوسِ فَارِسٍ، وَأَخَذَهَا عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ مِنَ الْبَرْبَرِ»
ابن شہاب (رح) کہتے ہیں کہ مج ہے اطلاع پہنچی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بحرین کے مجوسیوں سے جزیہ وصول کیا تھا۔ اور عمر (رض) نے ابران کے مجوسیوں سے جزیہ وصول کیا تھا۔ اور عثمان بن عفان (رض) نے اسے بربر سے وصول کیا تھا۔ بربر سے افریقی قبائل مراد ہیں۔ (اس روایت کو امام مالم نے باب جززیۃ اہل الکتاب و المجوس میں بیان کیا ہے)