Muawtta Imam Muhammad
12. دیت کا بیان
موطأ الامام محمد
662
Muawtta Imam Muhammadأَخْبَرَنَا مَالِكٌ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، أَنَّ أَبَاهُ، أَخْبَرَهُ عَنِ الْكِتَابِ الَّذِي كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَتَبَهُ لِعَمْرِو بْنِ حَزْمٍ فِي الْعُقُولِ، فَكَتَبَ: «أَنَّ فِي النَّفْسِ مِائَةً مِنَ الإِبِلِ، وَفِي الأَنْفِ إِذا أُوعِيَتْ جَدْعًا مِائَةً مِنَ الإِبِلِ، وَفِي الْجَائِفَةِ ثُلُثَ النَّفْسِ، وَفِي الْمَأْمُومَةِ مِثْلَهَا، وَفِي الْعَيْنِ خَمْسِينَ، وَفِي الْيَدِ خَمْسِينَ، وَفِي الرِّجْلِ خَمْسِينَ، وَفِي كُلِّ إِصْبَعٍ مِمَّا هُنَالِكَ عَشْرًا مِنَ الإِبِلِ، وَفِي السِّنِّ خَمْسًا مِنَ الإِبِلِ، وَفِي الْمُوضِحَةِ خَمْسًا مِنَ الإِبِلِ» .
قَالَ مُحَمَّدٌ: وَبِهَذَا كُلِّهِ نَأْخُذُ، وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ، وَالْعَامَّةِ مِنْ فُقَهَائِنَا
عبداللہ بن ابوبکر (رض) بیان کرتے ہیں کہ میرے والد نے مجھے اس خط کے متعلق بتلایا جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دیت کے سلسلہ میں عمرو بن حزم (رض) کو تحریر فرمایا تھا۔ اس کے مندرجات یہ تھے۔ (١) جان کی دیت سو اونٹ ہیں (٢) ناک کی دیت جب پوری کٹ جائے تو سو اونٹ ہیں۔ (٣) جائفہ (زخم) میں دیت کا تیسرا حصہ ہے۔ (٤) مامومہ (زخم) میں بھی اسی قدر ہے۔ (٥) آنکھ کی دیت پچاس اونٹ ہیں (٦) ہاتھ کی دیت پچاس اونٹ (٧) پاؤں کی دیت پچاس اونٹ (٨) ہر انگلی کی دیت دس اونٹ۔ (٩) ہر دانت کی دیت پانچ اونٹ (١٠) موضحہ (زخم) کی دیت بھی پانچ اونٹ ہے۔
قول محمد (رح) یہ ہے : ہم اسی کو اختیار کرتے ہیں امام ابوحنیفہ اور ہمارے عام فقہاء کا یہی قول ہے۔ جائفہ پیٹ تک پہنچنے والا زخم، مامومہ سر کا زخم جو پیچھے کی کھال تک پہنچے۔ موضحہ وہ زخم جس سے ہڈی ننگی ہوجائے۔
قول محمد (رح) یہ ہے : ہم اسی کو اختیار کرتے ہیں امام ابوحنیفہ اور ہمارے عام فقہاء کا یہی قول ہے۔ جائفہ پیٹ تک پہنچنے والا زخم، مامومہ سر کا زخم جو پیچھے کی کھال تک پہنچے۔ موضحہ وہ زخم جس سے ہڈی ننگی ہوجائے۔
663
Muawtta Imam Muhammadأَخْبَرَنَا مَالِكٌ، أَخْبَرَنَا ابْنُ شِهَابٍ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، أَنَّهُ قَالَ: فِي الشَّفَتَيْنِ الدِّيَةُ، فَإِذَا قُطِعَتِ السُّفْلَى، فَفِيهَا ثُلُثُ الدِّيَةِ.
قَالَ مُحَمَّدٌ: وَلَسْنَا نَأْخُذُ بِهَذَا، الشَّفَتَانِ سَوَاءٌ، فِي كُلِّ وَاحِدَةٍ مِنْهُمَا نِصْفُ الدِّيَةِ، أَلا تَرَى أَنَّ الْخِنْصَرَ وَالإِبْهَامَ سَوَاءٌ، وَمَنْفَعَتُهُمَا مُخْتَلِفَةٌ.
وَهَذَا قَوْلُ إِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ، وَأبي حَنِيفَةَ وَالْعَامَّةِ مِنْ فُقَهَائِنَا
سعید بن المسیب (رح) فرماتے تھے دونوں ہونٹوں کی پوری دیت ہے۔ اگر نے چت کا ہونٹ کاٹ دیا تو تہائی ہوگئی۔ ( اس اثر کو امام مالک نے باب ما فیہ الدیۃ کاملہ میں ذکر کیا ہے) ۔
قول محمد (رح) یہ ہے ہم اسے اختیار نہیں کرتے۔ ہمارے نزدیک دونوں ہونٹ برابر ہیں۔ ان میں سے ہر ایک میں نصف دیت ہوگی کیا تم غور نہیں کرتے کہ خنصر اور بنصر دونوں انگلیوں میں دیت برابر ہے۔ جبکہ ان کا فائدہ مختلف ہے۔ یہی امام ابوحنیفہ (رح) اور ابراہمن نخعی (رح) اور ہمارے عام فقہاء کا قول ہے۔
قول محمد (رح) یہ ہے ہم اسے اختیار نہیں کرتے۔ ہمارے نزدیک دونوں ہونٹ برابر ہیں۔ ان میں سے ہر ایک میں نصف دیت ہوگی کیا تم غور نہیں کرتے کہ خنصر اور بنصر دونوں انگلیوں میں دیت برابر ہے۔ جبکہ ان کا فائدہ مختلف ہے۔ یہی امام ابوحنیفہ (رح) اور ابراہمن نخعی (رح) اور ہمارے عام فقہاء کا قول ہے۔
664
Muawtta Imam Muhammadأَخْبَرَنَا مَالِكٌ، أَخْبَرَنَا ابْنُ شِهَابٍ، قَالَ: مَضَتِ السُّنَّةُ «أَنَّ الْعَاقِلَةَ لا تَحْمِلُ شَيْئًا مِنْ دِيَةِ الْعَمْدِ إِلا أَنْ تَشَاءَ» .
قَالَ مُحَمَّدٌ: وَبِهَذَا نَأْخُذُ
ابن شہاب زہری فرماتے ہیں کہ سنت یہ ہے کہ قتل عمد میں قاتل کے ورثاء سے دیت نہ لی جائے بلکہ یہ خود قاتل کے ذمہ ہے۔ مگر یہ کہ ورثاء خوشی سے دیں۔
قول محمد (رح) یہ ہے : کہ ہم اسی کو اختیار کرتے ہیں۔
قول محمد (رح) یہ ہے : کہ ہم اسی کو اختیار کرتے ہیں۔
665
Muawtta Imam Muhammadأَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: «لا تَعْقِلُ الْعَاقِلَةُ عَمْدًا، وَلا صُلْحًا، وَلا اعْتِرَافًا، وَلا مَا جَنَى الْمَمْلُوكُ» قَالَ مُحَمَّدٌ: وَبِهَذَا نَأْخُذُ، وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ، وَالْعَامَّةِ مِنْ فُقَهَائِنَا
عبید اللہ بن عبداللہ بن مسعود (رح) فرماتے تھے۔ کہ وارث قتل عمد کی دیت نہ قصدا دیں ، نہ صلح اور اعتراف کی بناء پر ادا کریں اور نہ غلام کی دیت اس کی جنایت کی صورت میں دیں ( بلکہ قاتل و جانی خود ادا کرے)
قول محمد (رح) یہ ہے : ہم اسی کو اختیار کرتے ہیں اور یہی امام ابوحنیفہ اور ہمارے عام فقہاء کا قول ہے۔
قول محمد (رح) یہ ہے : ہم اسی کو اختیار کرتے ہیں اور یہی امام ابوحنیفہ اور ہمارے عام فقہاء کا قول ہے۔
666
Muawtta Imam Muhammadأَخْبَرَنَا مَالِكٌ، أَخْبَرَنَا ابْنُ شِهَابٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: فِي دِيَةِ الْخَطَأِ عِشْرُونَ بِنْتَ مَخَاضٍ، وَعِشْرُونَ بِنْتَ لَبُونٍ، وَعِشْرُونَ ابْنَ لَبُونٍ، وَعِشْرُونَ حِقَّةً، وَعِشْرُونَ جَذَعَةً. قَالَ مُحَمَّدٌ: وَلَسْنَا نَأْخُذُ بِهَذَا، وَلَكِنَّا نَأْخُذُ بِقَوْلِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، وَقَدْ رَوَاهُ ابْنُ مَسْعُودٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " دِيَةُ الْخَطَأِ أَخْمَاسٌ، عِشْرُونَ بِنْتَ مَخَاضٍ، وَعِشْرُونَ ابْنَ مَخَاضٍ، وَعِشْرُونَ بِنْتَ لَبُونٍ، وَعِشْرُونَ حِقَّةً، وَعِشْرُونَ جَذَعَةً، أَخْمَاسٌ.
وَإِنَّمَا خَالَفَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ يَسَارٍ فِي الذُّكُورِ، فَجَعَلَهَا مِنْ بَنِي اللَّبُونِ، وَجَعَلَهَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ مِنْ بَنِي مَخَاضٍ، وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ مِثْلُ قَوْلِ ابْنِ مَسْعُودٍ
سلیمان بن یسار کہا کرتے تھے کہ قتل خطاء کی دیت بیس بنت مخاض بیس بنت لبون، بیس ابن لبون، بیس حقے، بیس جذعے ہے۔ دوسرے سال میں داخل ہونے والی اونٹنی کو بنت مخاض، بنت لبون جو تیسرے سال میں داخل ہوجائے، حقہ چوتھے سال میں داخل ہونے والے اونٹنی جو سواری کے قابل ہو۔ جذعہ جس کا پانچواں سال شروع ۔ (اس اثر کو امام مالک (رح) نے باب دیۃ الخطأ فی القتل میں ذکر کیا ہے)
قول محمد (رح) یہ ہے : ہم اس کو اختیار نہیں کرتے۔ اور عبداللہ بن مسعود کی بات کو اپناتے ہیں۔ انھوں نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایت کیا ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ قتل خطاء کی دیت کے پانچ حصے ہیں۔ بیس بنت مخاض، بیس ابن مخاص، بیس بنت لبون، بیس حقے، اور بیس جذعے، سلیمان بن یسار (رح) نے ہم سے مذکر میں اختلاف کیا ہے۔ انھوں نے ابن لبون کہا ہے اور ابن مسعود (رض) نے ابن مخاض فرمایا ہے۔ امام ابوحنیفہ (رح) کا قول ابن مسعود (رض) کے مطابق ہے۔
قول محمد (رح) یہ ہے : ہم اس کو اختیار نہیں کرتے۔ اور عبداللہ بن مسعود کی بات کو اپناتے ہیں۔ انھوں نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایت کیا ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ قتل خطاء کی دیت کے پانچ حصے ہیں۔ بیس بنت مخاض، بیس ابن مخاص، بیس بنت لبون، بیس حقے، اور بیس جذعے، سلیمان بن یسار (رح) نے ہم سے مذکر میں اختلاف کیا ہے۔ انھوں نے ابن لبون کہا ہے اور ابن مسعود (رض) نے ابن مخاض فرمایا ہے۔ امام ابوحنیفہ (رح) کا قول ابن مسعود (رض) کے مطابق ہے۔
667
Muawtta Imam Muhammadأَخْبَرَنَا مَالِكٌ، أَخْبَرَنَا دَاوُدُ بْنُ الْحُصَيْنِ، أَنَّ أَبَا غَطَفَانَ أَخْبَرَهُ، أَنَّ مَرْوَانَ بْنَ الْحَكَمِ أَرْسَلَهُ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ يَسْأَلُهُ مَا فِي الضِّرْسِ؟ فَقَالَ: إِنَّ فِيهِ خَمْسًا مِنَ الإِبِلِ، قَالَ: فَرَدَّنِي مَرْوَانُ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، فَقَالَ: فَلِمَ تَجْعَلُ مُقَدَّمَ الْفَمِ مِثْلَ الأَضْرَاسِ؟ قَالَ: فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: لَوْلا أَنَّكَ لا تَعْتَبِرُ إِلا بِالأَصَابِعِ عَقْلُهَا سَوَاءٌ، قَالَ مُحَمَّدٌ: وَبِقَوْلِ ابْنِ عَبَّاسٍ نَأْخُذُ، عَقْلُ الأَسْنَانِ سَوَاءٌ، وَعَقْلُ الأَصَابِعِ سَوَاءٌ، فِي كُلِّ إِصْبَعٍ عُشْرٌ مِنَ الدِّيَةِ، وَفِي كُلِّ سِنٍّ نِصْفُ عُشْرٍ مِنَ الدِّيَةِ، وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ، وَالْعَامَّةِ مِنْ فُقَهَائِنَا
ابو غطفان (رح) نے بتلایا کہ مروان بن حکم نے مجھے ابن عباس (رض) کی خدمت میں بھیجا کہ ڈاڑھ کی دیت کیا ہے ؟ ابن عباس (رض) نے فرمایا۔ اس کی دیت پانچ اونٹ ہیں۔ مروان نے مجھے ابن عباس (رض) کی طرف دوبارہ بھیجا کہ ڈاڑھ کو دانتوں کے برابر کیوں کرتے ہیں۔ ابن عباس (رض) نے فرمایا۔ اگر تم دانتوں کو انگلیوں کے برابر قیاس کرتے تو تمہارے لیے کافی ہوتا کیونکہ تمام انگلیوں کی دیت برابر ہے۔
قول محمد (رح) یہ ہے : ہم ابن عباس (رض) کے قول کو اختیار کرتے ہیں۔ کہ دانتوں کی دیت اور انگلیوں کی دیت دونوں برابر ہیں۔ ہر انگلی کی دیت اصل دیت کا دسواں حصہ ہے۔ اور ہر دانت کی دیت اصل دیت کا بیسواں حصہ ہے۔ یہی امام ابوحنیفہ (رح) اور ہمارے عام فقہاء کا قول ہے۔
قول محمد (رح) یہ ہے : ہم ابن عباس (رض) کے قول کو اختیار کرتے ہیں۔ کہ دانتوں کی دیت اور انگلیوں کی دیت دونوں برابر ہیں۔ ہر انگلی کی دیت اصل دیت کا دسواں حصہ ہے۔ اور ہر دانت کی دیت اصل دیت کا بیسواں حصہ ہے۔ یہی امام ابوحنیفہ (رح) اور ہمارے عام فقہاء کا قول ہے۔
668
Muawtta Imam Muhammadأَخْبَرَنَا مَالِكٌ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، أَنَّ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ، كَانَ يَقُولُ: إِذَا أُصِيبَتِ السِّنُّ فَاسْوَدَّتْ فَفِيهَا عَقْلُهَا تَامًّا.
قَالَ مُحَمَّدٌ: وَبِهَذَا نَأْخُذُ، إِذَا أُصِيبَتِ السِّنُّ فَاسْوَدَّتْ أَوِ احْمَرَّتْ أَوِ اخْضَرَّتْ فَقَدْ تَمَّ عَقْلُهَا، وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ
سعید بن المسیب (رح) کہتے ہیں کہ جب دانت کو نقصان ہوجائے اور وہ سیاہ ہوجائے تو اس کی دیت پوری ہوگی۔ ( اس اثر کو اباب جامع الاسنان میں امام مالک نے ذکر کیا ہے) الفاظ کا معمولی فرق ہے۔
قول محمد (رح) یہ ہے : اسی کو ہم اختیار کرتے ہیں کہ جب دانت کو نقصان پہنچ جائے اور وہ سیاہ سرخ یا س بز ہوجائے تو اس کی پوری دیت لازم ہوگی یہی امام ابوحنیفہ (رح) کا قول ہے۔
قول محمد (رح) یہ ہے : اسی کو ہم اختیار کرتے ہیں کہ جب دانت کو نقصان پہنچ جائے اور وہ سیاہ سرخ یا س بز ہوجائے تو اس کی پوری دیت لازم ہوگی یہی امام ابوحنیفہ (رح) کا قول ہے۔
669
Muawtta Imam Muhammadأَخْبَرَنَا مَالِكٌ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ، كَانَ يَقُولُ: «فِي الْعَيْنِ الْقَائِمَةِ إِذَا فُقِئَتْ مِائَةُ دِينَارٍ» .
قَالَ مُحَمَّدٌ: لَيْسَ عِنْدَنَا فِيهَا أَرْشٌ مَعْلُومٌ، فَفِيهَا حُكُومَةُ عَدْلٍ، فَإِنْ بَلَغَتِ الْحُكُومَةُ مِائَةَ دِينَارٍ، أَوْ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ، كَانَتِ الْحُكُومَةُ فِيهَا، وَإِنَّمَا نَضَعُ هَذَا مِنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ لأَنَّهُ حَكَمَ بِذَلِكَ
سلیمان بن یسار فرماتے ہیں زید بن ثابت (رض) فرماتے تھے کہ جب آنکھ درست رہے لیکن بےنور ہوجائے تو اس کی دیت سو دینار ہے۔
قول محمد (رح) یہ ہے : ہمارے ہاں اس کی دیت مقرر نہیں۔ اس میں نحاکم عادل کو اختیار ہے۔ خواہ وہ سود دینار کا حکم دے یا زیادہ کا فیصلہ نافذ ہوگا۔ ہم یہ مسئلہ زید بن ثابت (رض) کے فیصلہ سے اخذ کرتے ہیں۔
قول محمد (رح) یہ ہے : ہمارے ہاں اس کی دیت مقرر نہیں۔ اس میں نحاکم عادل کو اختیار ہے۔ خواہ وہ سود دینار کا حکم دے یا زیادہ کا فیصلہ نافذ ہوگا۔ ہم یہ مسئلہ زید بن ثابت (رض) کے فیصلہ سے اخذ کرتے ہیں۔
670
Muawtta Imam Muhammadأَخْبَرَنَا مَالِكٌ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، " قَتَلَ نَفَرًا، خَمْسَةً، أَوْ سَبْعَةً بِرَجُلٍ قَتَلُوهُ قَتْلَ غِيلَةٍ، وَقَالَ: لَوْ تَمَالأَ عَلَيْهِ أَهْلُ صَنْعَاءَ قَتَلْتُهُمْ بِهِ "، قَالَ مُحَمَّدٌ: وَبِهَذَا نَأْخُذُ، إِنْ قَتَلَ سَبْعَةٌ، أَوْ أَكْثَرُ مِنْ ذَلِكَ رَجُلا عَمْدًا قَتْلَ غِيلَةٍ، أَوْ غَيْرَ غِيلَةٍ ضَرَبُوهُ بِأَسْيَافِهِمْ حَتَّى قَتَلُوهُ قُتِلُوا بِهِ كُلُّهُمْ، وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ، وَالْعَامَّةِ مِنْ فُقَهَائِنَا رَحِمَهُمُ اللَّه
سعید بن المسیب (رح) بیان کرتے ہیں کہ عمر فاروق (رض) نے اشک شخص کے قتل کا بدلہ میں پانچ یا سات آدمیوں کو قتل کیا اور فرمایا کہ اگر صنعاء شہر کے تمام آدمی اس کو قتل کرتے تو میں ان سب کو قتل کردیتا۔ ( اس روایت کو امام مالک نے باب ما جاء فی الغیلۃ والسحر میں ذکر کیا ہے) ۔
قول محمد (رح) یہ ہے : کہ ہم اس کو عمل میں لاتے ہیں کہ اگر سات یا اس سے زیادہ افراد نے کسی کو قصدا دھوکا دے کر یا دھوکا کے بغیر تلواروں سے مارا ہو تو وہ سب کے سب اس کے قتل کے بدلے میں قتل کئے جائیں گے۔ یہی امام ابوحنیفہ (رح) اور ہمارے عام فقہاء کا قول ہے۔
قول محمد (رح) یہ ہے : کہ ہم اس کو عمل میں لاتے ہیں کہ اگر سات یا اس سے زیادہ افراد نے کسی کو قصدا دھوکا دے کر یا دھوکا کے بغیر تلواروں سے مارا ہو تو وہ سب کے سب اس کے قتل کے بدلے میں قتل کئے جائیں گے۔ یہی امام ابوحنیفہ (رح) اور ہمارے عام فقہاء کا قول ہے۔
671
Muawtta Imam Muhammadأَخْبَرَنَا مَالِكٌ، أَخْبَرَنَا ابْنُ شِهَابٍ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، نَشَدَ النَّاسَ بِمِنًى: مَنْ كَانَ عِنْدَهُ عِلْمٌ فِي الدِّيَةِ أَنْ يُخْبِرَنِي بِهِ، فَقَامَ الضَّحَّاكُ بْنُ سُفْيَانَ، فَقَالَ: كَتَبَ إِلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَشْيَمَ الضِّبَابِيِّ: «أَنْ وَرِّثِ امْرَأَتَهُ مِنْ دِيَتِهِ» .
فَقَالَ عُمَرُ: ادْخُلِ الْخِبَاءَ حَتَّى آتِيَكَ، فَلَمَّا نَزَلَ أَخْبَرَهُ الضَّحَّاكُ بْنُ سُفْيَانَ بِذَلِكَ، فَقَضَى بِهِ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، قَالَ مُحَمَّدٌ: وَبِهَذَا نَأْخُذُ، لِكُلِّ وَارِثٍ فِي الدِّيَةِ وَالدَّمِ نَصِيبٌ، امْرَأَةً كَانَ الْوَارِثُ، أَوْ زَوْجًا، أَوْ غَيْرَ ذَلِكَ.
وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ، وَالْعَامَّةِ مِنْ فُقَهَائِنَا.
ابن شہاب زہری کہتے ہیں کہ عمر (رض) نے منی کے مقام میں ان لوگوں کو بلایا جو کہ دیت کے مسائل سے واقفیت رکھتے ہوں۔ تاکہ دیت کے متعلق وہ بتلائیں۔ ضحاک بن سفیان (رض) کھڑے ہوئے اور انھوں نے کہا رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے اشیم الضبابی کے متعلق تحریر فرمایا تھا کہ اس کی دیت میں اس کی ب یوی کو وراثت کا حصہ دلاؤ۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا تم خیمہ میں جاؤ یہ ان تک کہ میں آجاؤں۔ چنانچہ حضرت عمر (رض) خیمہ میں تشریف لے گئے تو ضحاک بن سفیان (رض) نے انھیں بتلایا اور حضر عمر (رض) نے اس کے مطابق فیصل فرمایا ( اس روایت کو باب ما جاء فی میراث العقل و التغلیظ فیہ میں ذکر کیا ہے)
قول محمد (رح) یہ ہے : کہ ہم اس کو اختیار کرتے ہیں کہ دیت اور خون بہاء میں تمام ورثاء کا حصہ ہے۔ وہ وارث شوہر ہو یا بیوی یا ان کے علاوہ اور کوئی وارث ہو۔ امام ابوحنیفہ (رح) اور ہمارے عام فقہاء کا یہی قول ہے۔
قول محمد (رح) یہ ہے : کہ ہم اس کو اختیار کرتے ہیں کہ دیت اور خون بہاء میں تمام ورثاء کا حصہ ہے۔ وہ وارث شوہر ہو یا بیوی یا ان کے علاوہ اور کوئی وارث ہو۔ امام ابوحنیفہ (رح) اور ہمارے عام فقہاء کا یہی قول ہے۔