hadith book logo

Muawtta Imam Muhammad

7. نکاح سے متعلقہ احادیث

موطأ الامام محمد

523
Muawtta Imam Muhammad
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ بَنَى بِأُمِّ سَلَمَةَ، قَالَ لَهَا حِينَ أَصْبَحَتْ عِنْدَهُ: «لَيْسَ بِكِ عَلَى أَهْلِكِ هَوَانٌ، إِنْ شِئْتِ سَبَّعْتُ عِنْدَكِ وَسَبَّعْتُ عِنْدَهُنَّ، وَإِنْ شِئْتِ ثَلَّثْتُ عِنْدَكِ وَدُرْتُ» ، قَالَتْ: ثَلِّثْ، قَالَ مُحَمَّدٌ: وَبِهَذَا نَأْخُذُ يَنْبَغِي إِنْ سَبَّعَ عِنْدَهَا أَنْ يُسَبِّعَ عِنْدَهُنَّ لا يَزِيدُ لَهَا عَلَيْهِنَّ شَيْئًا وَإِنْ ثَلَّثَ عِنْدَهَا أَنْ يُثَلِّثَ عِنْدَهُنَّ، وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ، وَالْعَامَّةِ مِنْ فُقَهَائِنَا
ابوبکر بن حارث نے بیان کیا کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جب حضرت ام سلمہ (رض) عنہا سے نکاح کیا تو صبح کے وقت ان سے فرمایا۔ میں ایسا نہ کروں گا کہ تم اپنے لوگوں میں ذلیل ہوجاؤ۔ اگر تم پسند کرو تو سات دن تمہارے پاس رہوں گا اور سات سات دن دوسری بیویوں کے پاس رہوں۔ اور اکر تم پسند کرو تو تین دن تمہارے ہاں اور ایک ایک دن ان تمام کے ہاں قیام کروں۔ ام سلمہ (رض) عنہا نے عرض کیا تین دن بہتر ہے۔ (اس روایت کو باب المقام عند الایم والبکر میں امام مالک نے ذکر فرمایا ہے)
قول محمد (رح) یہ ہے : اسی کو ہم اختیار کرنے والے ہیں۔ کہ نئی بیوی کے ہاں سات دن رہے اور دوسری ازواج کے ہاں بھی سات سات دن رہے اور اس نئی بیوی کے لیے ان ایام میں کچھ بھی اضافہ نہ کرے۔ اور اگر اس کے ہاں تین دن قیام کرے تو ان کے ہاں بھی تین تین دن رہے۔ یہی امام ابوحنیفہ (رح) اور ہمارے عام فقہاء کا قول ہے۔
524
Muawtta Imam Muhammad
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهِ أَثَرُ صُفْرَةٍ فَأَخْبَرَهُ أَنَّهُ " تَزَوَّجَ امْرَأَةً مِنَ الأَنْصَارِ، قَالَ: كَمْ سُقْتَ إِلَيْهَا؟ قَالَ: وَزْنُ نَوَاةٍ مِنْ ذَهَبٍ، قَالَ: أَوْلِمْ وَلَوْ بِشَاةٍ "، قَالَ مُحَمَّدٌ: وَبِهَذَا نَأْخُذُ، أَدْنَى الْمَهْرُ عَشَرَةُ دَرَاهِمَ مَا تُقْطَعُ فِيهِ الْيَدُ، وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ، وَالْعَامَّةِ مِنْ فُقَهَائِنَا
حمید الطویل نے انس بن مالک (رض) اور انھوں نے عبد الرحمن بن عوف (رض) سے نقل کیا کہ میں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا اور مجھ پر زردی کا نشان تھا۔ میں نے بتلایا کہ میں نے ایک انصاریہ عورت سے شادی کی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اس کا مہر کتنا ادا کیا ی ؟ میں نے جواب میں عرض کیا ایک گٹھلی کے برابر سونا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا۔ ولیمہ کرو اگرچہ ایک بکری سے ہو۔ (اس روایت کو امام مالک (رح) نے باب ما جاء فی الولیمہ میں ذکر کیا ہے) ۔
قول محمد (رح) یہ ہے : اسی پر ہمارا عمل ہے کہ کم سے کم مقدار دس درہم ہے یہ وہ مقدار ہے جس پر چور کا ہاتھ کاٹا جاتا ہے۔ یہی امام ابوحنیفہ (رح) اور ہمارے عام فقہاء کا قول ہے۔
525
Muawtta Imam Muhammad
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لا يَجْمَعُ الرَّجُلُ بَيْنَ الْمَرْأَةِ وَعَمَّتِهَا، وَلا بَيْنَ الْمَرْأَةِ وَخَالَتِهَا» ، قَالَ مُحَمَّدٌ: وَبِهَذَا نَأْخُذُ وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ، وَالْعَامَّةِ مِنْ فُقَهَائِنَا
ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا۔ کہ کوئی شخص کسی عورت اور اس کی پھوپھی کو اور اس کی خالہ کو (ایک نکاح میں) جمع نہ کرے۔
قول محمد (رح) یہ ہے : ہمارا اسی پر عمل ہے۔ یہی امام ابوحنیفہ (رح) و ہمارے عام فقہاء کا قول ہے۔
526
Muawtta Imam Muhammad
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، أَنَّهُ سَمِعَ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ، يَنْهَى أَنْ تُنْكَحَ الْمَرْأَةُ عَلَى خَالَتِهَا، أَوْ عَلَى عَمَّتِهَا وَأَنْ يَطَأَ الرَّجُلُ وَلِيدَةً فِي بَطْنِهَا جَنِينٌ لِغَيْرِهِ، قَالَ مُحَمَّدٌ: وَبِهَذَا نَأْخُذُ وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ وَالْعَامَّةِ مِنْ فُقَهَائِنَا رَحِمَهُمُ اللَّهُ تَعَالَى.
یحی بن سعید (رح) بیان کرتے ہیں کہ میں نے سعید بن مسیب (رح) کو اس بات سے منع کرتے ہوئے سنا کہ کوئی شخص کسی عورت سے اس کی پھوپھی کے نکاح میں ہوتے ہوئے نکاح نہ کرے اور اسی طرح اس کی خالہ کے نکاح میں ہوتے ہوئے اس سے نکاح نہ کرے اور کسی ایسی لونڈی سے مجامعت نہ کرے جو کہ کسی مرد سے حاملہ ہو۔ ( ان دونوں مرویات کو امام مالک نے باب مالا یجمع بینہ من النساء میں ذکر کیا ہے)
قول محمد (رح) یہ ہے : ہم اسی کو اختیار کرتے ہیں اور امام ابوحنیفہ (رح) اور ہمارے عام فقہاء کا قول ہے۔
527
Muawtta Imam Muhammad
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حِبَّانَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ هُرْمُزَ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لا يَخْطُبُ أَحَدُكُمْ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ» ، قَالَ مُحَمَّدٌ: وَبِهَذَا نَأْخُذُ وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ، وَالْعَامَّةِ مِنْ فُقَهَائِنَا رَحِمَهُمُ اللَّهُ
حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ کوئی شخص اپنے (مسلمان) بھائی کے پیغام نکاح پر نکاح کا اپنا پیغام نہ دے۔ (اس روایت کو امام مالک نے باب ما جاء فی الخطبۃ میں ذکر کیا ہے)
قول محمد (رح) یہ ہے : ہم اسی کو اختیار کرتے ہیں اور یہی امام ابوحنیفہ (رح) اور ہمارے عام فقہاء کا قول ہے۔
528
Muawtta Imam Muhammad
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَمُجَمِّعٍ ابْنَيْ يَزِيدَ بْنِ جَارِيَةَ الأَنْصَارِيِّ، عَنْ خَنْسَاءَ ابْنَةِ خِذَامٍ، أَنَّ «أَبَاهَا زَوَّجَهَا وَهِيَ ثَيِّبٌ، فَكَرِهَتْ ذَلِكَ، فَجَاءَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَدَّ نِكَاحَهُ» ، قَالَ مُحَمَّدٌ: لا يَنْبَغِي أَنْ تُنْكَحَ الثَّيِّبُ، وَلا الْبِكْرُ إِذَا بَلَغَتْ إِلا بِإِذْنِهِمَا فَأَمَّا إِذْنُ الْبِكْرِ فَصَمْتُهَا، وَأَمَّا إِذْنُ الثَّيِّبِ فَرِضَاهَا بِلِسَانِهَا، زَوَّجَهَا وَالِدُهَا أَوْ غَيْرُهُ، وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ وَالْعَامَّةِ مِنْ فُقَهَائِنَا
یزید بن جاریہ انصاری کے بیٹے جمع اور عبد الرحمن نے بیان کیا کہ خنساء بنت خذام کے والد نے خنساء کا نکاح اس حالت میں کردیا جبکہ وہ ثیبہ تھیں۔ ان کو یہ نکاح ناپسند ہوا تو وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئیں ( اور شکایت کی) آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کا نکاح رد ( فسخ) کردیا۔ ( اس روایت کو باب جامع ما لا یجوز من النکاح میں ذکر یکا ہے) ۔
قول محمد (رح) یہ ہے : ثیبہ یا باکرہ دجب بالغ ہوجائیں تو ان کا نکاح ان کی اجازت کے بغیر مناسب نہیں۔ باکرہ کی خاموشی اس کی اجازت سمجھی جائے گی مگر ثیبہ کی رضا مندی زبان سے معتبر ہوگی۔ خواہ اس کا نکاح اس کا والد کرے یا کوئی اور کرے۔ امام ابوحنیفہ (رح) اور ہمارے عام فقہاء بھی اسی طرف گئے ہیں۔
529
Muawtta Imam Muhammad
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، أَخْبَرَنَا ابْنُ شِهَابٍ، قَالَ: بَلَغَنَا، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِرَجُلٍ مِنْ ثَقِيفٍ وَكَانَ عِنْدَهُ عَشْرُ نِسْوَةٍ حِينَ أَسْلَمَ الثَّقَفِيُّ، فَقَالَ لَهُ: «أَمْسِكْ مِنْهُنَّ أَرْبَعًا، وَفَارِقْ سَائِرَهُنَّ» ، قَالَ مُحَمَّدٌ: وَبِهَذَا نَأْخُذُ، يَخْتَارُ مِنْهُنَّ أَرْبَعًا أَيَّتُهُنَّ شَاءَ، وَيُفَارِقُ مَا بَقِيَ، وَأَمَّا أَبُو حَنِيفَةَ فَقَالَ: نِكَاحُ الأَرْبَعَةِ الأُوَلِ جَائِزٌ، وَنِكَاحُ مَنْ بَقِيَ مِنْهُنَّ بَاطِلٌ وَهُوَ قَوْلُ إِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ
ابن شہاب زہری کہتے ہیں کہ ہمیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایت پہنچی ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک ثقفی کو فرمایا جس نے اسلام قبول کیا تو اس کے ہاں دس عورتیں تھیں۔ ان بیویوں میں سے چار کو روک لو اور باقی سے جدا اختیار کرلو۔
قول محمد (رح) یہ ہے : ہم اسی کو اختیار کرتے ہیں کہ ان بیویوں میں سے جن چار کو چاہے منتخب کرے جائز ہے اور باقی کو الگ کردے۔ لیکن امام ابوحنیفہ (رح) کا قول یہ ہے کہ پہلی چار کا نکاح جائز ہے۔ اور باقی کا باطل ہے۔ اور ابراہیم نخعی (رح) بھی اسی طرف گئے ہیں۔
530
Muawtta Imam Muhammad
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، حَدَّثَنَا رَبِيعَةُ بْنُ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ الْوَلِيدَ سَأَلَ الْقَاسِمَ، وَعُرْوَةَ وَكَانَتْ عِنْدَهُ أَرْبَعُ نِسْوَةٍ فَأَرَادَ أَنْ يَبِتَّ وَاحِدَةً وَيَتَزَوَّجُ أُخْرَى، فَقَالَ: نَعَمْ، فَارِقِ امْرَأَتَكَ ثَلاثًا وَتَزَوَّجْ، فَقَالَ الْقَاسِمُ فِي مَجَالِسَ مُخْتَلِفَةٍ، قَالَ مُحَمَّدٌ: لا يُعْجِبُنَا أَنْ يَتَزَوَّجَ خَامِسَةً وَإِنْ بَتَّ طَلاقَ إِحْدَاهُنَّ حَتَّى تَنْقَضِيَ عِدَّتُهَا، لا يُعْجِبُنَا أَنْ يَكُونَ مَاؤُهُ فِي رَحِمِ خَمْسِ نِسْوَةٍ حَرَائِرَ، وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ وَالْعَامَّةِ مِنْ فُقَهَائِنَا رَحِمَهُمُ اللَّهُ.
ولد نے عروہ و قاسم سے استفسار کیا کہ میرے گھر میں چار بیویاں ہیں اور میں ایک کو چھوڑنا اور ایک دوسری عورت سے نکاح کرنا چاہتا ہوں د ان دونوں نے جواب دیا کہ بہتر یہ ہے کہ تم ایک عورت کو تین طلاق دے دو اور جس عورت سے نکاح کرنا چاہتے ہو کرلو۔ قاسم کہنے لگے کہ تین مختلف مجالس میں طلاق دو ۔
قول محمد (رح) یہ ہے : ہم یہ پسند نہیں کرتے کہ پانچویں عورت سے نکاح کرے۔ ان میں سے ایک طو طلاق بائنہ دے چکا ہو جب تک کہ اس کی عدت مکمل نہ ہوجائے۔ اس لیے کہ ہمیں یہ پسند نہیں کہ اس کا مادہ منویہ ( بیک وقت) پانچ آزاد عورتوں کے رح میں ہو۔ ( گویا عدت کے بعد اس کو نکاح کرنا چاہیے) یہی امام ابوحنیفہ (رح) اور ہمارے عام فقہاء کا قول ہے۔
531
Muawtta Imam Muhammad
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، أَخْبَرَنَا ابْنُ شِهَابٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، قَالَ: «إِذَا دَخَلَ الرَّجُلُ بِامْرَأَتِهِ، وَأُرْخِيَتِ السُّتُورُ فَقَدْ وَجَبَ الصَّدَاقُ» ، قَالَ مُحَمَّدٌ: وَبِهَذَا نَأْخُذُ، وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ، وَالْعَامَّةِ مِنْ فُقَهَائِنَا، وَقَالَ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ: إِنْ طَلَّقَهَا بَعْدَ ذَلِكَ لَمْ يَكُنْ لَهَا إِلا نِصْفُ الْمَهْرِ إِلا أَنْ يَطُولَ مُكْثُهَا وَيَتَلَذَّذُ مِنْهَا فَيَجِبُ الصَّدَاقُ
ابن شہاب (رح) حضرت زید بن ثابت (رض) سے نقل کرتے ہیں کہ آدمی جب اپنی بیوی کے پاس جائے اور پردے لٹکادئیے جائیں یعنی خلوت صحیحہ میسر ہوجائے تو مہر واجب ہوجاتا ہے۔
قول محمد (رح) یہ ہے : کہ ہم اسی کو اختیار کرتے ہیں اور یہی امام ابوحنیفہ (رح) کا قول ہے اور ہمارے عام فقہاء بھی اسی طرف گئے ہیں۔ البتہ امام مالک (رح) فرماتے ہیں کہ اگر اس نے اس کے بعد طلاق دے دی تو اس کو نصف مہر ملے گا۔ کامل مہر تب ملے گا جب کہ وہ زیادہ دیر ٹھہرے اور اس سے لذت حاصل کرے۔
532
Muawtta Imam Muhammad
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، أَخْبَرَنَا نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «نَهَى عَنِ الشِّغَارِ» ، وَالشِّغَارُ أَنْ يُنْكِحَ الرَّجُلُ ابْنَتَهُ عَلَى أَنْ يُنْكِحَهُ الآخَرُ ابْنَتَهُ لَيْسَ بَيْنَهُمَا صَدَاقٌ، قَالَ مُحَمَّدٌ: وَبِهَذَا نَأْخُذُ، لا يَكُونُ الصَّدَاقُ نِكَاحَ امْرَأَةٍ فَإِذَا تَزَوَّجَهَا عَلَى أَنْ يَكُونَ صَدَاقُهَا أَنْ يُزَوِّجَهُ ابْنَتَهُ فَالنِّكَاحُ جَائِزٌ وَلَهَا صَدَاقُ مِثْلِهَا مِنْ نِسَائِهَا، وَلا وَكْسَ، وَلا شَطَطَ، وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ، وَالْعَامَّةِ مِنْ فُقَهَائِنَا
نافع (رح) نے ابن عمر (رض) سے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ ارشاد نقل کیا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نکاح شغار سے ممانعت فرمائی ۔ شغار کی حقیقت یہ ہے کہ کوئی شخص اپنی بیٹی کا نکاح کسی سے اس شرط پر کرے کہ وہ اپنی بیٹی کا نکاح اس سے کردے گا اس حال میں کہ ان کے درمیان مہر نہ ہو۔ (اس روایت کو امام مالک (رح) نے باب جامع مالا یحوز من النکاح میں ذکر کیا ہے) ۔
قول محمد (رح) یہ ہے : کہ ہم اسی کو اختیار کرتے ہیں کہ کسی عورت کا نکاح کسی دوسری عورت کا مہر قرار نہیں پاسکتا۔ اکر وہ اس طرح نکاح کرلے کہ اس کا مہر یہ ہو کا کہ وہ اپنی بیٹی کا نکاح اس مذکورہ شخص سے کردے گا تو اس صورت میں نکاح جائز ہوجائے گا اور اس کو مہر مثل ادا کرنا ہوگا۔ جتنا اس عورت کے خاندان کی عورتوں کا ہوگا نہ اسمیں کمی کی جائے گی اور نہ اضافہ۔ یہی امام ابوحنیفہ (رح) اور ہمارے عام فقہاء کا قول ہے۔