hadith book logo

Muawtta Imam Muhammad

4. روزوں سے متعلقہ احادیث

موطأ الامام محمد

344
Muawtta Imam Muhammad
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، حَدَّثَنَا نَافِعٌ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَكَرَ رَمَضَانَ، فَقَالَ: «لا تَصُومُوا حَتَّى تَرَوُا الْهِلالَ، وَلا تُفْطِرُوا حَتَّى تَرَوْهُ، فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَاقْدُرُوا لَهُ» ، قَالَ مُحَمَّدٌ: وَبِهَذَا نَأْخُذُ، وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ
عبداللہ بن دینار ابن عمر (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے رمضان المبارک کا ذکر کرتے ہئے فرمایا ، تم اس وقت تک روزہ نہ رکھو جب تک چاند دیکھ نہ لو اور اس وقت تک افطار نہ کرو جب تک چاند دیکھ نہ لو۔ اگر چاند کے دیکھنے میں بادل حائل ہوجائے تو ( تیس) کی گنتی پوری کرو۔ (اس روایت کو امام مالک نے باب ما جاء فی رؤیۃ الہلال للصیام و الفطر فی رمضان میں ذکر کیا ہے) ۔
قول محمد (رح) یہ ہے : ہم اسی کو اختیار کرتے ہیں اور یہی امام ابوحنیفہ (رح) کا قول ہے۔
345
Muawtta Imam Muhammad
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَنَّ بِلالا يُنَادِي بِلَيْلٍ، فَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى يُنَادِيَ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ»
ابن عمر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا بلال رات کو اذان دیتے ہیں تم کھاتے پیتے رہو یہاں تک کہ ابن ام مکتوم اذان دیں۔ (وہ ططلوع صبح صادق پر اذان دیتے ہیں ( تاکہ لوگ بروقت اٹھ کر سحری کرسکیں) ابن ام مکتوم صبح صادق کے طلوع کے بعد نماز فجر کے لیے اذان دتے اسی لیے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تم کھاتے پیتے رہو یہاں تک کہ ابن ام مکتوم اذان دیں۔
346
Muawtta Imam Muhammad
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ، عَنْ سَالِمٍ، مِثْلَهُ، قَالَ: " وَكَانَ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ لا يُنَادِي حَتَّى يُقَالَ لَهُ: قَدْ أَصْبَحْتَ "، قَالَ مُحَمَّدٌ: كَانَ بِلالٌ يُنَادِي بِلَيْلٍ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ لِسَحُورِ النَّاسِ، وَكَانَ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ يُنَادِي لِلصَّلاةِ بَعْدَ طُلُوعِ الْفَجْرِ، فَلِذَلِكَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى يُنَادِيَ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ
زہری (رح) نے سالم سے اسی طرح کی روایت کی ہے اور ابن ام مکتور (رض) اس وقت تک اذان نہ دیتے کیونکہ وہ نابینا تھے) یہاں تک کہ انھیں کہا جاتا تم نے صبح کردی)
347
Muawtta Imam Muhammad
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَجُلا أَفْطَرَ فِي رَمَضَانَ، «فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُكَفِّرَ بِعِتْقِ رَقَبَةٍ، أَوْ صِيَامِ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ، أَوْ إِطْعَامِ سِتِّينَ مِسْكِينًا» ، قَالَ: لا أَجِدُ، فَأُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَقٍ مِنْ تَمْرٍ، فَقَالَ: «خُذْ هَذَا فَتَصَدَّقْ بِهِ» ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا أَجِدُ أَحَدًا أَحْوَجَ إِلَيْهِ مِنِّي، قَالَ: «كُلْهُ» ، قَالَ مُحَمَّدٌ: وَبِهَذَا نَأْخُذُ إِذَا أَفْطَرَ الرَّجُلُ مُتَعَمِّدًا فِي شَهْرِ رَمَضَانَ بِأَكْلٍ، أَوْ شُرْبٍ، أَوْ جِمَاعٍ فَعَلَيْهِ قَضَاءُ يَوْمٍ مَكَانَهُ، وَكَفَّارَةُ الظِّهَارِ أَنْ يَعْتِقَ رَقَبَةً، فَإِنْ لَمْ يَجِدْ، فَصِيَامُ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ، فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ، أَطْعَمَ سِتِّينَ مِسْكِينًا، لِكُلِّ مِسْكِينٍ نِصْفُ صَاعٍ مِنْ حِنْطَةٍ، أَوْ صَاعٌ مِنْ تَمْرٍ، أَوْ شَعِيرٍ
ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رمضان میں روزہ افطار کرلیا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اس کو غلام آزاد کرنے کا حکم دیا یا دو ماہ کے مسلسل روزے رکھنے یا ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانے کا حکم فرمایا۔ اس نے عرض کیا میں یہ چیزیں نہیں پاتا۔ پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس کھجور کا ایک ٹوکرا لایا گیا تو حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا۔ اسے لے لو اور صدقہ کردو۔ اس نے کہا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مجھ سے زیادہ کوئی محتاج نہیں۔ (اس پر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہنس پڑے یہاں تک کہ آپ کی ناجذ ظاہر ہوگئیں) پھر فرمایا تو ہی اسے کھالے۔
(اس روایت کو مؤطا امام مالک میں باب کفارۃ من افطر فی رمضان میں ذکر کیا گیا ہے)
قول محمد (رح) یہ ہے : ہم اسی کو اختیار کرتے ہیں۔ جب کوئی شخص رمضان کے روزے کو جان بوجھ کر افطار کردے خواہ اس کا سبب کھانا یا پینا یا جماع ہو اس پر ایک یوم کی قضا لازم آئے گی اور کفارہ ظہار لازم ہوگا۔ اولاً وہ گردن آزاد کرے اگر وہ نہ پائے تو دو ماہ کے پے در پے روزے رکھے اگر وہ اس کی طاقت نہیں رکھتا تو ساٹھ مساکین کو کھانا کھلائے ہر مسکین کو نصف صاع گندم یا ایک صاع کچھور یا جو دے۔
348
Muawtta Imam Muhammad
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَعْمَرٍ، عَنْ أَبِي يُونُسَ مَوْلَى عَائِشَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَجُلا قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ وَاقِفٌ عَلَى الْبَابِ وَأَنَا أَسْمَعُ: إِنِّي أَصْبَحْتُ جُنُبًا وَأَنَا أُرِيدُ الصَّوْمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَأَنَا أُصْبِحُ جُنُبًا، ثُمَّ أَغْتَسِلُ فَأَصُومُ» ، فَقَالَ الرَّجُلُ: إِنَّكَ لَسْتَ مِثْلَنَا، فَقَدْ غَفَرَ اللَّهُ لَكَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ، وَمَا تَأَخَّرَ، فَغَضِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ: وَاللَّهِ إِنِّي «لأَرْجُو أَنْ أَكُونَ أَخْشَاكُمْ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، وَأَعْلَمَكُمْ بِمَا أَتَّقِي»
حضرت عائشہ (رض) عنہا سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہا جبکہ وہ دروازے پر کھڑا تھا اور میں سن رہی تہی یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں حالت جنابت میں صبح کرتا ہوں اور روزہ رکھنا چاہتا ہوں۔ اس پر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ میں بہی صبح جنابت کی حالت میں کرتا ہوں اور روزہ رکھنا چاہتا ہوں۔ پس میں غسل کرتا ہوں اور روزہ رکھ لیتا ہوں پس اس شخص نے کہا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ ہماری مانند نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کی اگلی پچھلی کوتاہیان معاف کردی ہیں۔ اس پر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو غصہ آگیا اور فرمایا کہ واللہ مجھے امید ہے کہ میں تم سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ سے خوف کرنے والا ہوں۔ اور تم سب سے زیادہ ان جیزوں کو جاننے والا ہوں ۔ جن سے بچنا ضروری ہے۔ ( اس روایت کو امام مالک باب جاء فی صیام الذ یصبح جنباء میں ذکر کیا)
349
Muawtta Imam Muhammad
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، أَخْبَرَنَا سُمَيٌّ مَوْلَى أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا بَكْرِ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، يَقُولُ: كُنْتُ أَنَا، وَأَبِي عِنْدَ مَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ وَهُوَ أَمِيرُ الْمَدِينَةِ، فَذَكَرَ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ: مَنْ أَصْبَحَ جُنُبًا أَفْطَرَ، فَقَالَ مَرْوَانُ: أَقْسَمْتُ عَلَيْكَ يَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ لِتَذْهَبَنَّ إِلَى أُمَّيِ الْمُؤْمِنِينَ عَائِشَةَ وَأُمِّ سَلَمَةَ، فَتَسْأَلْهُمَا عَنْ ذَلِكَ، قَالَ: فَذَهَبَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ، وَذَهَبْتُ مَعَهُ حَتَّى دَخَلْنَا عَلَى عَائِشَةَ، فَسَلَّمْنَا عَلَى عَائِشَةَ، ثُمَّ قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ: يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ، كُنَّا عِنْدَ مَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ، فَذَكَرَ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ: مَنْ أَصْبَحَ جُنُبًا أَفْطَرَ ذَلِكَ الْيَوْمِ، قَالَتْ: لَيْسَ كَمَا قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ يَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ، أَتَرْغَبُ عَمَّا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُ؟ قَالَ: لا وَاللَّهِ، قَالَتْ: «فَأَشْهَدُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ يُصْبِحُ جُنُبًا مِنْ جِمَاعٍ غَيْرَ احْتِلامٍ، ثُمَّ يَصُومُ ذَلِكَ الْيَوْمِ» ، قَالَ: ثُمَّ خَرَجْنَا حَتَّى دَخَلْنَا عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ، فَسَأَلَهَا عَنْ ذَلِكَ فَقَالَتْ كَمَا قَالَتْ عَائِشَةُ، فَخَرَجْنَا حَتَّى جِئْنَا مَرْوَانَ، فَذَكَرَ لَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ مَا قَالَتَا، فَقَالَ: أَقْسَمْتُ عَلَيْكَ يَا أَبَا مُحَمَّدٍ لَتَرْكَبَنَّ دَابَّتِي، فَإِنَّهَا بِالْبَابِ، فَلَتَذْهَبَنَّ إِلَى أَبِي هُرَيْرَةَ، فَإِنَّهُ بِأَرْضِهِ بِالْعَقِيقِ، فَلَتُخْبِرَنَّهُ ذَلِكَ، قَالَ: فَرَكِبَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ وَرَكِبْتُ مَعَهُ حَتَّى أَتَيْنَا أَبَا هُرَيْرَةَ، فَتَحَدَّثَ مَعَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ سَاعَةً ثُمَّ ذَكَرَ لَهُ ذَلِكَ، فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: لا عِلْمُ لِي بِذَلِكَ، إِنَّمَا أَخْبَرَنِيهِ مُخْبِرٌ، قَالَ مُحَمَّدٌ: وَبِهَذَا نَأْخُذُ، مَنْ أَصْبَحَ جُنُبًا مِنْ جِمَاعٍ مِنْ غَيْرِ احْتِلامٍ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ، ثُمَّ اغْتَسَلَ بَعْدَ مَا طَلَعَ الْفَجْرُ، فَلا بَأْسَ بِذَلِكَ، وَكِتَابُ اللَّهِ تَعَالَى يَدُلُّ عَلَى ذَلِكَ، قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: {أُحِلَّ لَكُمْ لَيْلَةَ الصِّيَامِ الرَّفَثُ إِلَى نِسَائِكُمْ هُنَّ لِبَاسٌ لَكُمْ وَأَنْتُمْ لِبَاسٌ لَهُنَّ عَلِمَ اللَّهُ أَنَّكُمْ كُنْتُمْ تَخْتَانُونَ أَنْفُسَكُمْ فَتَابَ عَلَيْكُمْ وَعَفَا عَنْكُمْ فَالآنَ بَاشِرُوهُنَّ} [البقرة: 187] يَعْنِي الْجِمَاعَ {مَا كَتَبَ اللَّهُ لَكُمْ} [البقرة: 187] يَعْنِي الْوَلَدَ {وَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الأَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الأَسْوَدِ} [البقرة: 187] يَعْنِي حَتَّى يَطْلُعَ الْفَجْرُ، فَإِذَا كَانَ الرَّجُلُ قَدْ رُخِّصَ لَهُ أَنْ يُجَامِعَ، وَيَبْتَغِي الْوَلَدَ، وَيَأْكُلَ، وَيَشْرَبَ حَتَّى يَطْلُعَ الْفَجْرُ فَمَتَى يَكُونُ الْغُسْلُ إِلا بَعْدَ طُلُوعِ الْفَجْرِ، فَهَذَا لا بَأْسَ بِهِ، وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى وَالْعَامَّةِ
ابوبکر بن عبد الرحمن بن الحارث بن ہشام کہتے تھے کہ میں اور میرا والد دونوں مروان بن الحکم کے پاس تھے۔ جن دنوں وہ مدینہ کا امیر تھا ( امیر معاویہ (رض) کے دور میں) پس عبد الرحمن نے مروان کو بتایا کہ ابو ہر ہیرہ (رض) کہتے تھے کہ جو شخص جنابت کی حالت میں صبح کرے اس کا اس دن کا روزہ نہیں رہا۔ اس پر مروان کہنے لگا اے عبد الرحمن میں تمہیں قسم دے کر کہتا ہوں کہ ام المؤمنین عائشہ ام المؤمنین ام سلمہ (رض) کے پاس جاؤ اور یہ مسئلہ ان سے دریافت کرو۔ پس عبد الرحمن : ئے اور میں بھی ان کے ساتھ گیا۔ یہاں تک کہ ہم حضرت عائشہ (رض) عنہا کی خدمت میں پہنچے پس عبد الرحمن نے ان کو سلام کیا اور پہر کہا اے ایمان والو کی ماں ! ہم مروان کے پاس ت ہے اور وہ ان یہ ذکر ہوا کہ ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں جو شخص صبح کو جنابت کی حالت میں اٹھے اس کا اس دن کا روزہ نہیں۔ حضرت عائشہ (رض) عنہا نے فرمایا کہ بات وہ نہیں جو ابوہریرہ نے کہی۔ اے عبد الرحمن کیا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے طریقے سے منہ پھیرتا ہے ؟ عبد الرحمن نے کہا واللہ نہیں۔ حضرت عائشہ (رض) عنہا نے فرمایا کہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے متعلق شہادت دیتی ہوں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) صبح کے وقت جماع کے ساتھ جنابت کی حالت میں ہوتے نہ کہ احتلام کے ساتھ۔ اور پھر اس دن کا روزہ رکھتے تھے۔ ابوبکر بیان کرتے ہیں کہ پہر ہم وہاں سے نکلے تو ام سلمہ (رض) عنہا کے ہاں گئے۔ عبد الرحمن نے ان سے بھی یہی سوال کیا۔ تو انھوں نے بہی حضرت عائشہ (رض) عنہا جیسی بات فرمائی۔ ابوبکر کہتا کہ پھر ہم وہاں سے باہر آئے اور مروان کے پاس پہنچے اور عبد الرحمن نے اسے ان دونوں کا قول بتایا مروان نے کہا۔ اے ابو محمد ! میں تجھے قسم دیتا ہوں کہ میری سواری پر چڑھ جو کہ دروازے پر موجود ہے اور بالضرور ابوہریرہ (رض) کے پاس جا جو مقام عقیق میں اپنی زمین پر ہیں اور انھیں یہ بتلاؤ۔ پس عبد الرحمن سوار ہوئے اور میں بھی ان کے ساتھ سوار ہوا۔ یہ ان تک کہ ہم ابوہریرہ (رض) کی خدمت میں پہنچے۔ عبد الرحمن نے کچھ دیر ان سے گفتگو کی۔ پہر انھیں وہ بات بتلائی۔ ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں مجھے اس کا کجھ علم نہ تھا۔ مجھے تو کسی بتانے والے نے یہ بتایا تھا۔ ( اس روایت کو امام مالک (رح) نے باب ما جاء فی صیام الذی یصبح جننبار فی رمضان میں ذکر کی ہے)
قول محمد (رح) یہ ہے ہم اسی کو اختیار کرتے ہیں جو شخص جماع کے باعث نہ کہ احتلاف کے سبب بوقت صبح رمضان میں جنبی ہو۔ پہر طلوع فجر کے بعد غسل کرے تو اس میں کوئی حرج نہیں اور اللہ تعالیٰ کی کتاب اس پر دلالت کرتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا احل لکم لیلۃ الصیام الرفث الی نسائکم ہن لباس لکم وانتم لباس لہن علم اللہ انکم کنتم تختانون انلفسکم فتاب علیکم وعفا عنکم فالان باشروہن (یعنی جماع کیا ہو) وابتغو ما کتب اللہ لکم (یعنی اولاد) و کلوا و اشربو حتی یتبین لکم الخیط الابیض من الخیط الاسود ( یعنی یہاں تک کہ فجر طلوع ہوجائے) جب اس آیت میں جماع کی اجازت ، ابتغاء اولاد کا حکم اور کھانے اور پینے کی اجازت طکلوع فجر تک پائی جاتی ہے۔ تو یہ ظاہر ہے کہ غسل طلوع فجر کے بعد ہوگا۔ پس اس میں کوئی حرج نہیں اور یہی امام ابوحنیفہ (رح) کا قول ہے۔ اور ہمارے عام فقہاء بہی ادھر ہی گئے ہیں۔
350
Muawtta Imam Muhammad
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّ رَجُلا قَبَّلَ امْرَأَةً وَهُوَ صَائِمٌ، فَوَجَدَ مِنْ ذَلِكَ وَجْدًا شَدِيدًا، فَأَرْسَلَ امْرَأَتَهُ تَسْأَلُ لَهُ عَنْ ذَلِكَ، فَدَخَلَتْ عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخْبَرَتْهَا أُمُّ سَلَمَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ «يُقَبِّلُ وَهُوَ صَائِمٌ» ، فَرَجَعَتْ إِلَيْهِ فَأَخْبَرَتْهُ بِذَلِكَ، فَزَادَهُ ذَلِكَ شَرًّا، فَقَالَ: إِنَّا لَسْنَا مِثْلَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يُحِلُّ اللَّهُ لِرَسُولِهِ مَا شَاءَ، فَرَجَعَتِ الْمَرْأَةُ إِلَى أُمِّ سَلَمَةَ، فَوَجَدَتْ عِنْدَهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا بَالُ هَذِهِ الْمَرْأَةِ؟ فَأَخْبَرَتْهُ أُمُّ سَلَمَةَ، فَقَالَ: أَلا أَخْبَرْتِهَا أَنِّي أَفْعَلُ ذَلِكَ؟ قَالَتْ: قَدْ أَخْبَرْتُهَا، فَذَهَبَتْ إِلَى زَوْجِهَا، فَأَخْبَرَتْهُ، فَزَادَهُ ذَلِكَ شَرًّا، وَقَالَ: إِنَّا لَسْنَا مِثْلَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يُحِلُّ اللَّهُ لِرَسُولِهِ مَا شَاءَ، فَغَضِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ: «وَاللَّهِ إِنِّي لأَتْقَاكُمْ لِلَّهِ، وَأَعْلَمُكُمْ بِحُدُودِهِ»
عطاء بن یسار سے روایت ہے کہ ایک مرد نے رمضان میں روزہ کی حالت میں اپنی بیوی کا بوسہ لیا لیا اور اسے اس کے باعث شدید غم ہوا۔ اس نے اپنی بیوی کو کہا کہ اس کے متعلق جاکر سوال کرو۔ پس وہ عورت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زوجہ محترمہ ام المؤمنین ام سلمہ (رض) عنہا کے پاس حاضر ہوئی اور ان سے اپنے اس واقعہ کا تذکرہ کیا۔ ام سلمہ (رض) عنہا نے بتلایا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) روزے کی حالت میں بوسہ لے لیتے ہیں۔ وہ عورت اپنے خاوند کے پاس واپس آگئی اور اسے یہ بات بتائی تو اس کا رنج اور بڑھ گیا اور کہنے لگا کہ ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مانند نہیں ہیں۔ اللہ تعالیٰ اپنے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے جو چاہے حلال کرسکتا ہے۔ پھر اس کی بیوی ام سلمہ (رض) عنہا کے پاس واپس گئی تو وہاں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو موجود پایا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اس عورت کو کیا کام ہے ؟ ام سلمہ (رض) عنہا نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بتلایا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ تو نے اسے یہ کیوں نہ بتلایا کہ میں بھی ایسا کرتا ہوں ؟ ام سلمہ (رض) عنہا نے کہا میں نے اسے بتایا تھا یہ اپنے خاوند کے پاس گئی اور اسے اس بات کی خبر دی۔ تو اس کا رنج و غم اور بڑھ گیا اور اس نے کہا کہ ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مانند نہیں ہیں۔ اللہ تعالیٰ اپنے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے جو چاہے حلال کردے۔ پس رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ناراض ہوئے اور فرمایا۔ اللہ کی قسم میں تم سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ کا خوف رکھتا ہوں اور اس کی حدود کو زیادہ جانتا ہوں۔ (اس روایت کو امام مالک نے باب ما جاء فی الرخصۃ فی القبلۃ للصائم میں ذکر کیا ہے) ۔
351
Muawtta Imam Muhammad
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، أَخْبَرَنَا أَبُو النَّضْرِ مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، أَنَّ عَائِشَةَ ابْنَةَ طَلْحَةٍ أَخْبَرَتْهُ، أَنَّهَا كَانَتْ عِنْدَ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُا زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَدَخَلَ عَلَيْهَا زَوْجُهَا هُنَالِكَ وَهُوَ عَبْدُ اللَّهِ ابْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ابْنِ أَبِي بَكْرٍ، فَقَالَتْ لَهُ عَائِشَةُ: «مَا يَمْنَعُكَ أَنْ تَدْنُوَ إِلَى أَهْلِكَ تُقَبِّلُهَا وَتُلاعِبُهَا؟» ، قَالَ: " أُقَبِّلُهَا وَأَنَا صَائِمٌ؟ قَالَتْ: نَعَمْ "، قَالَ مُحَمَّدٌ: لا بَأْسَ بِالْقُبْلَةِ لِلصَّائِمِ إِذَا مَلَكَ نَفْسَهُ عَنِ الْجِمَاعِ، فَإِنْ خَافَ أَنْ لا يَمْلِكَ نَفْسَهُ، فَالْكَفُّ أَفْضَلُ، وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ وَالْعَامَّةِ قَبْلَنَا
عائشہ بنت طلحہ نے بتایا کہ میں ام المؤمنین عائشہ (رض) عنہا کے پاس تھی اور عائشہ بنت طلحہ کا خاوند وہیں آگیا جو کہ عبداللہ بن عبد الرحمن تھا۔ اور وہ روزہ سے تھا۔ پس عائشہ (رض) نے اس سے فرمایا تجھے کیا چیز اس سے روکتی ہے کہ تو اپنی بیوی کے قرب جائے اور اس کا بوسہ لے۔ اور اس سے ملاعبت کرے۔ اس نے کہا کیا میں روزہ کی حالت میں بھی اس کا بوسہ لے لوں ؟ حضرت عائشہ (رض) عنہا نے فرمایا۔ ہاں۔ (اس روایت کو امام مالک نے باب الرخصۃ فی القبلۃ للصائم میں ذکر کیا ہے)
قول محمد (رح) یہ ہے : روزہ دار کو اس وقت بوسہ میں کوئی حرج نہیں جبکہ وہ جماع سے بچنے کی پوری قوت رکھتا ہو۔ اگر اسے خطرہ ہو کہ وہ اپنے اوپر قابو نہ رکھ سکے گا تو اس سے بچنا افضل ہے۔ یہی امامابو حنیفہ (رح) کا قول ہے۔ ہم سے پہلے تابعین اور صحابہ کا قول ہے۔
352
Muawtta Imam Muhammad
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، أَخْبَرَنَا نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ كَانَ «يَنْهَى عَنِ القُبْلَةِ، وَالْمُبَاشَرَةِ لِلصَّائِمِ»
نافع کہتے ہیں کہ ابن عمر (رض) روزہ دار کو بوسہ اور مباشرت سے منع کیا کرتے تھے۔ (مباشرت سے مرارد صرف ملامست اور ملاعبت ہے) (اس روایت کو امام مالک نے باب ما جاء فی التشدید فی القبلۃ للصائم میں ذکر کیا ہے۔ )
353
Muawtta Imam Muhammad
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، حَدَّثَنَا نَافِعٌ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ كَانَ يَحْتَجِمُ وَهُوَ صَائِمٌ، ثُمَّ إِنَّهُ كَانَ يَحْتَجِمُ بَعْدَ مَا تَغْرُبُ الشَّمْسُ "
نافع کہتے ہیں کہ ابن عمر (رض) روزے کی حالت میں سینگی لگواتے پھر غروب آفتاب کے بعد سینگی لگوانے لگے۔