Muawtta Imam Muhammad
5. حج کا بیان۔
موطأ الامام محمد
378
Muawtta Imam Muhammadأَخْبَرَنَا مَالِكٌ، حَدَّثَنَا نَافِعٌ مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «يُهِلُّ أَهْلُ الْمَدِينَةِ مِنْ ذِي الْحُلَيْفَةِ، وَيُهِلُّ أَهْلُ الشَّامِ مِنَ الْجُحْفَةِ، وَيُهِلُّ أَهْلُ نَجْدٍ مِنْ قَرْنٍ» ، قَالَ ابْنُ عُمَرَ: وَيَزْعُمُونَ أَنَّهُ قَالَ: وَيُهِلُّ أَهْلُ الْيَمَنِ مِنْ يَلَمْلَمَ
عبداللہ بن عمر (رض) روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا۔ اہل مدینہ ذو الحلفہ سے احرام باندھیں اور اہل شام جحفہ سے احرام باند ہیں اور اہل نجد قرن منازل سے احرام باندھیں، عبداللہ بن عمر فرماتے ہیں مجھے خبر پہنچی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ اہل یمن یلملم سے احرام باندھیں۔ (ان کا خیال یہ ہے کہ یہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا۔
اس روایت کو امام مالک (رح) نے باب مواقیت الاہلال میں ذکر کیا ہے۔
اس روایت کو امام مالک (رح) نے باب مواقیت الاہلال میں ذکر کیا ہے۔
379
Muawtta Imam Muhammadأَخْبَرَنَا مَالِكٌ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ، أَنَّهُ قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ: «أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَهْلَ الْمَدِينَةِ أَنْ يُهِلُّوا مِنْ ذِي الْحُلَيْفَةِ، وَأَهْلَ الشَّامِ مِنَ الْجُحْفَةِ، وَأَهْلَ نَجْدٍ مِنْ قَرْنٍ» ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ: أَمَّا هَؤُلاءِ الثَّلاثِ فَسَمِعْتُهُنَّ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأُخْبِرْتُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «وَأَمَّا أَهْلُ الْيَمَنِ، فَيُهِلُّونَ مِنْ يَلْمَلَمَ»
عبداللہ بن عمر (رض) کہتے تھی کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مدینہ والوں کو حکم دیا کہ وہ ذو الحلیفہ سے احرام باندھیں اور شام والوں کو حکم دیا کہ جحفہ سے احرام باندھین اور اہل نجد کم حکم دیا کہ وہ قرن منازل سے احرام باندھیں۔ عبداللہ کہتے ہیں کہ یہ تینوں میقات تو میں نے خود رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنے ہیں۔ اور مجھے یہ بتلایا گیا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا یمن والے یلملم سے احرام باندھیں۔ ( اس روایت کو امام مالک (رح) نے باب مواقیت الاہلال میں ذکر کیا ہے)
380
Muawtta Imam Muhammadأَخْبَرَنَا مَالِكٌ، حَدَّثَنَا نَافِعٌ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ «أَحْرَمَ مِنَ الْفُرُعِ»
نافع (رح) بیان کرتے ہیں کہ عبداللہ بن عمررضی اللہ عنہما نے فرع سے احرام باندہا۔ (اس روایت کو امام مالک (رح) نے مواقیت الاہل میں ذکر کیا ہے)
381
Muawtta Imam Muhammadأَخْبَرَنَا مَالِكٌ، أَخْبَرَنِي الثِّقَةُ عِنْدِي، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ «أَحْرَمَ مِنْ إِيلِيَّاءَ» ، قَالَ مُحَمَّدٌ: وَبِهَذَا نَأْخُذُ، هَذِهِ مَوَاقِيتُ وَقَّتَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلا يَنْبَغِي لأَحَدٍ أَنْ يُجَاوِزَهَا إِذَا أَرَادَ حَجًّا إِلا مُحْرِمًا، فَأَمَّا إِحْرَامُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ مِنَ الْفُرُعِ وَهُوَ دُونَ ذِي الْحُلَيْفَةِ إِلَى مَكَّةَ، فَإِنَّ أَمَامَهَا وَقْتٌ آخَرُ وَهُوَ الْجُحْفَةُ، وَقَدْ رُخِّصَ لأَهْلِ الْمَدِينَةِ أَنْ يُحْرِمُوا مِنَ الْجُحْفَةِ لأَنَّهَا وَقْتٌ مِنَ الْمَوَاقِيتِ
بَلَغَنَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: «مَنْ أَحَبَّ مِنْكُمْ أَنْ يَسْتَمْتِعَ بِثِيَابِهِ إِلَى الْجُحْفَةِ فَلْيَفْعَلْ» ، أَخْبَرَنَا بِذَلِكَ أَبُو يُوسُفَ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ رَاشِدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
عبداللہ بن عمر (رض) نے ایلیا (بیت المقدس) سے احرام باندھا۔ ( اس روایت کو امام مالک نے مواقیت والے باب میں ذکر کیا ہے)
قول محمد (رح) یہ ہے : ہم اسی کو اختیار کرتے ہیں۔ یہ وہ مواقیت ہیں جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مقرر فرمائے ہیں۔ ان سے کسی کو آگے گزرنا بغیر احرارم جائز نہیں جب کہ وہ حج و عمرے کا ارادہ رکھتا ہو۔ باقی عبداللہ بن عمر (رض) نے مقام فرع سے احرام باندہا وہ ذو الحلیفہ سے آگے مکہ کی جانب واقع ہے۔ فرع کے سامنے ایک اور میقات جحفہ آتا ہے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اہل مدینہ کو اجازت دی ہے کہ وہ جحفہ سے احرام باندھ لیں ( یا ذو الحلیفہ سے) کیونکہ وہ بھی مواقیت میں سے ایک میقات ہے۔ ہمیں یہ روایت پہنچی ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جو شخص تم میں سے پسند کرے کہ وہ اپنے کپڑون سے جحفہ تک فائدہ حاصل کرے تو وہ ایسا کرسکتا ہے۔ اس اثر کو علی بن حسین (رح) نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نقل کیا ہے۔
قول محمد (رح) یہ ہے : ہم اسی کو اختیار کرتے ہیں۔ یہ وہ مواقیت ہیں جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مقرر فرمائے ہیں۔ ان سے کسی کو آگے گزرنا بغیر احرارم جائز نہیں جب کہ وہ حج و عمرے کا ارادہ رکھتا ہو۔ باقی عبداللہ بن عمر (رض) نے مقام فرع سے احرام باندہا وہ ذو الحلیفہ سے آگے مکہ کی جانب واقع ہے۔ فرع کے سامنے ایک اور میقات جحفہ آتا ہے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اہل مدینہ کو اجازت دی ہے کہ وہ جحفہ سے احرام باندھ لیں ( یا ذو الحلیفہ سے) کیونکہ وہ بھی مواقیت میں سے ایک میقات ہے۔ ہمیں یہ روایت پہنچی ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جو شخص تم میں سے پسند کرے کہ وہ اپنے کپڑون سے جحفہ تک فائدہ حاصل کرے تو وہ ایسا کرسکتا ہے۔ اس اثر کو علی بن حسین (رح) نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نقل کیا ہے۔
382
Muawtta Imam Muhammadأَخْبَرَنَا مَالِكٌ، أَخْبَرَنَا نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ عُمَرَ كَانَ «يُصَلِّي فِي مَسْجِدِ ذِي الْحُلَيْفَةِ، فَإِذَا انْبَعَثَتْ بِهِ رَاحِلَتُهُ أَحْرَمَ»
ابن عمر (رض) کہتے ہیں کہ عمر (رض) مسجد ذو الحلیفہ میں دو رکعت ادا کرتے جب ان کی اونٹنی کھڑی ہوجاتی تو اس وقت تلبیہ کہتے۔
384
Muawtta Imam Muhammadأَخْبَرَنَا مَالِكٌ، حَدَّثَنَا نَافِعٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ تَلْبِيَةَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ، لَبَّيْكَ لا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ، إِنَّ الْحَمْدَ، وَالنِّعْمَةَ، لَكَ وَالْمُلْكَ، لا شَرِيكَ لَكَ "، قَالَ: وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ يَزِيدُ فِيهَا: لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ، لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ، وَالْخَيْرُ بِيَدَيْكَ، وَالرُّغَبَاءُ إِلَيْكَ وَالْعَمَلُ "، قَالَ مُحَمَّدٌ: وَبِهَذَا نَأْخُذُ، التَّلْبِيَةُ هِيَ التَّلْبِيَةُ الأُولَى الَّتِي رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَمَا زِدْتَ فَحَسَنٌ، وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ، وَالْعَامَّةِ مِنْ فُقَهَائِنَا
عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا تلبیہ یہ تھا۔ لبیک اللہم لبیک لبیک لا شریک لک لبیک ان الحمد و النعمۃ لک و الملک لا شریک لک۔ نافع کہتے ہیں کہ ابن عمر (رض) اس میں لبیک لبیک وسعدیک و الخیر بیدیک و الرغباء الیک والعمل کا اضافہ فرماتے تھے۔
قول محمد (رح) یہ ہے : ہم اسی تلبیہ کو اختیار کرتے ہیں اور وہی پہلا تلبیہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے مروی ہے۔ اور جو اس میں اضافہ کرے۔ وہ اچھا ہے یاور یہی امام ابوحنیفہ (رح) کا قول ہے۔ اور ہمارے عام فقہاء اسی طرف گئے ہیں۔
قول محمد (رح) یہ ہے : ہم اسی تلبیہ کو اختیار کرتے ہیں اور وہی پہلا تلبیہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے مروی ہے۔ اور جو اس میں اضافہ کرے۔ وہ اچھا ہے یاور یہی امام ابوحنیفہ (رح) کا قول ہے۔ اور ہمارے عام فقہاء اسی طرف گئے ہیں۔
385
Muawtta Imam Muhammadأَخْبَرَنَا مَالِكٌ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الثَّقَفِيُّ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ سَأَلَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ وَهُمَا غَادِيَانِ إِلَى عَرَفَةَ: كَيْفَ كُنْتُمْ تَصْنَعُونَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَا الْيَوْمِ؟ قَالَ: «كَانَ يُهِلُّ الْمُهِلُّ، فَلا يُنْكَرُ عَلَيْهِ، وَيُكَبِّرُ الْمُكَبِّرُ، فَلا يُنْكَرُ عَلَيْهِ»
محمد بن ابوبکر ثقفی نے انس بن مالک سے دریافت کیا جب کہ وہ دونوں منی سے عرفات جار رہے تھے۔ کہ يپ لوگ آج کے دن میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ کیا کرتے تھے۔ انس کہنے لگے جو چاہتا تلبیہ کہتا اور اسے کچھ نہ کہا جاتا اور جو چاہتا تکبیر کہتا اور اسے کجھ نہ کہا جاتا۔ ( اس روایت کو امام مالک (رح) نے اسی باب قطع التلبیہ میں ذکر کیا ہے)
386
Muawtta Imam Muhammadأَخْبَرَنَا مَالِكٌ، أَخْبَرَنَا ابْنُ شِهَابٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ: «كُلُّ ذَلِكَ قَدْ رَأَيْتُ النَّاسَ يَفْعَلُونَهُ، فَأَمَّا نَحْنُ فَنُكَبِّرُ» ، قَالَ مُحَمَّدٌ: بِذَلِكَ نَأْخُذُ عَلَى أَنَّ التَّلْبِيَةَ هِيَ الْوَاجِبَةُ فِي ذَلِكَ الْيَوْمِ إِلا أَنَّ التَّكْبِيرَ لا يُنْكَرُ عَلَى حَالٍ مِنَ الْحَالاتِ وَالتَّلْبِيَةِ لا يَنْبَغِي أَنْ تَكُونَ إِلا فِي مَوْضِعِهَا
ابن عمر (رض) فرماتے ہیں یہ سب کچھ میں نے صحابہ کرام (رض) عنہم کو کرتے دیکھا باقی ہم تو تکبیر کہتے ہیں۔
قول محمد (رح) یہ ہے : ہم اسی کو اختیار کرتے ہیں کہ تلبیہ اس دن واجب ہے البتہ تکبیر کا کسی وقت انکار نہیں کیا جاسکتا۔ مگر تلبیہ کے مواقع ہیں انھیں میں ہونا چاہیے۔
قول محمد (رح) یہ ہے : ہم اسی کو اختیار کرتے ہیں کہ تلبیہ اس دن واجب ہے البتہ تکبیر کا کسی وقت انکار نہیں کیا جاسکتا۔ مگر تلبیہ کے مواقع ہیں انھیں میں ہونا چاہیے۔
387
Muawtta Imam Muhammadأَخْبَرَنَا مَالِكٌ، أَخْبَرَنَا نَافِعٌ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ كَانَ «يَدَعُ التَّلْبِيَةَ إِذَا انْتَهَى إِلَى الْحَرَمِ حَتَّى يَطُوفَ بِالْبَيْتِ، وَالصَّفَا وَالْمَرْوَةَ، ثُمَّ يُلَبِّيَ حَتَّى يَغْدُوَ مِنْ مِنًى إِلَى عَرَفَةَ، فَإِذَا غَدَا تَرَكَ التَّلْبِيَةَ»
عبداللہ بن عمر (رض) جب حرم میں پہنچتے تو تلبیہ ترک کردیتے یہاں تک کہ بیت اللہ کے جو اف اور صفا ومروہ کی سعی سے فارغ ہوجاتے پھر جب منی سے عرفات کو جاتے تو تبلیہ کہتے یعنی چلنے سے پہلے تک۔ جب چلنا شروع کرتے تو تلبیہ ترک کردیتے تھے۔ ( اور عمرہ میں جب حرم کے اندر داخل ہوتے تو تلبیہ ترک کردیتے)
388
Muawtta Imam Muhammadأَخْبَرَنَا مَالِكٌ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ عَائِشَةَ «كَانَتْ تَتْرُكُ التَّلْبِيَةَ إِذَا رَاحَتْ إِلَى الْمَوْقِفِ»
عائشہ (رض) عنہا کے متعلق مروی ہے کہ جب وہ موقف کی طرف جاتیں ( عرفات میں زوال کے بعد ) تو تلبیہ چھوڑ دیتیں۔