Muawtta Imam Muhammad
11. قربانی کا بیان
موطأ الامام محمد
629
Muawtta Imam Muhammadأَخْبَرَنَا مَالِكٌ، أَخْبَرَنَا نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ كَانَ «يَنْهَى عَمَّا لَمْ تُسِنَّ مِنَ الضَّحَايَا وَالْبُدْنِ، وَعَنِ الَّتِي نُقِصَ مِنْ خَلْقِهَا»
نافع (رح) فرماتے ہیں کہ ابن عمر (رض) فرماتے کہ ایسی قربانیاں نہ کرو جو مسنہ نہ ہوں۔ جن کے اعضاء میں پیدائشی نقص ہو۔
630
Muawtta Imam Muhammadأَخْبَرَنَا مَالِكٌ، أَخْبَرَنَا نَافِعٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ ضَحَّى مَرَّةً بِالْمَدِينَةِ فَأَمَرَنِي أَنْ أَشْتَرِيَ لَهُ كَبْشًا فَحِيلا أَقْرَنَ، ثُمَّ أَذْبَحَهُ لَهُ يَوْمَ الأَضْحَى فِي مُصَلَّى النَّاسِ فَفَعَلْتُ، ثُمَّ حُمِلَ إِلَيْهِ، فَحَلَقَ رَأْسَهُ حِينَ ذُبِحَ كَبْشُهُ، وَكَانَ مَرِيضًا لَمْ يَشْهَدِ الْعِيدَ مَعَ النَّاسِ، قَالَ نَافِعٌ: وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ يَقُولُ: «لَيْسَ حِلاقُ الرَّأْسِ بِوَاجِبٍ عَلَى مَنْ ضَحَّى إِذَا لَمْ يَحُجَّ» ، وَقَدْ فَعَلَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، قَالَ مُحَمَّدٌ: وَبِهَذَا كُلِّهِ نَأْخُذُ إِلا فِي خَصْلَةٍ وَاحِدَةٍ، الْجَذَعُ مِنَ الضَّأْنِ إِذَا كَانَ عَظِيمًا أَجْزَأَ، فِي الْهَدْيِ وَالأُضْحِيَةِ، بِذَلِكَ جَاءَتِ الآثَارُ: الْخَصِيُّ مِنَ الأُضْحِيَةِ يُجْزِئُ مِمَّا يُجْزِئُ مِنْهُ الْفَحْلُ، وَأَمَّا الْحِلاقُ فَنَقُولُ فِيهِ بِقَوْلِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ: إِنَّهُ لَيْسَ بِوَاجِبٍ عَلَى مَنْ لَمْ يَحُجَّ فِي يَوْمِ النَّحْرِ، وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ، وَالْعَامَّةِ مِنْ فُقَهَائِنَا
نافع (رح) نے ابن عمر (رض) سے نقل کیا۔ کہ انھوں نے ایک مرتبہ مدینہ شریف میں قربانی کی تو انھوں نے مجھے حکم دیا کہ ان کے لیے لئے ایک سینگ والا بکر خرید لاؤں۔ پھر ان کی طرف سے قربانی کے دن عید گاہ میں ذبح کروں۔ میں نے اسی طرح کیا۔ (خرید لایا) پھر قربانی کا جانور ان کی خدمت میں پیش کیا۔ جب ان کا بکر ذبح کیا گیا تو انھوں نے اپنا سر منڈیا۔ وہ بیماری کی وجہ سے لوگوں کے ساتھ عید گاہ نہ جاسکے۔ ن ٧ اف ٧ ع کہتے ہیں کہ ابن عمر (رض) فرماتے تھے کہ قربانی دینے والے پر سر منڈانا واجب نہیں۔ جبکہ اس نے حج نہیں کیا ( حج کے موقعہ پر تو احرام سے نکلنے کے لیے منڈوانا ضروری ہے) عبداللہ بن عمر (رض) نے تبرکا یہاں سر منڈایا ۔ ( اس اثر کو باب ما یستحب من الضحایا میں ذکر کیا گیا ہے)
قول محمد (رح) یہ ہے : کہ اس روایت کو ہم مکمل طور پر اختیار کرتے ہیں۔ البتہ ہمارے ہاں چھ ماہ کا مینڈھا جو بڑا معلوم ہوتا ہو ( سال کے برابر نظر آئے) قربانی میں اس کو ذبح کرنا جائز قرار دیتے ہیں۔ قربانی کے متعلق بہت سے آثار وارد ہیں۔ جس میں فحل جائز ہے۔ اس میں خصی کی قربانی بہی جائز ہے۔ اور سرمنڈوانے کے سلسلہ میں ہم وہی کہتے ہیں جو ابن عمر (رض) نے فرمایا ہے۔ جس نے حج نہیں کیا اس پر قربانی کے دن سرمنڈوانا واجب نہیں۔ یہی امام ابوحنیفہ (رح) اور ہمارے عام فقہاء کا قول ہے۔
قول محمد (رح) یہ ہے : کہ اس روایت کو ہم مکمل طور پر اختیار کرتے ہیں۔ البتہ ہمارے ہاں چھ ماہ کا مینڈھا جو بڑا معلوم ہوتا ہو ( سال کے برابر نظر آئے) قربانی میں اس کو ذبح کرنا جائز قرار دیتے ہیں۔ قربانی کے متعلق بہت سے آثار وارد ہیں۔ جس میں فحل جائز ہے۔ اس میں خصی کی قربانی بہی جائز ہے۔ اور سرمنڈوانے کے سلسلہ میں ہم وہی کہتے ہیں جو ابن عمر (رض) نے فرمایا ہے۔ جس نے حج نہیں کیا اس پر قربانی کے دن سرمنڈوانا واجب نہیں۔ یہی امام ابوحنیفہ (رح) اور ہمارے عام فقہاء کا قول ہے۔
631
Muawtta Imam Muhammadأَخْبَرَنَا مَالِكٌ، أَخْبَرَنَا نَافِعٌ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، «لَمْ يَكُنْ يُضَحِّي عَمَّا فِي بَطْنِ الْمَرْأَةِ» ، قَالَ مُحَمَّدٌ: وَبِهَذَا نَأْخُذُ لا يُضَحَّى عَمَّا فِي بَطْنِ الْمَرْأَةِ
امام نافع (رح) نے ابن عمر (رض) کے متعلق نقل کیا ہے کہ وہ اس بچے کی طرف سے قربانی نہ کرتے تھے جو ابھی ماں کے پیٹ میں ہو۔
قول محمد (رح) یہ ہے : کہ ہم اسی کو اختیار کرتے ہیں کہ اس کے بچے کی طرف سے قربانی نہیں جو ابھی شکم مادر میں ہے۔
قول محمد (رح) یہ ہے : کہ ہم اسی کو اختیار کرتے ہیں کہ اس کے بچے کی طرف سے قربانی نہیں جو ابھی شکم مادر میں ہے۔
632
Muawtta Imam Muhammadأَخْبَرَنَا مَالِكٌ، أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، أَنَّ عُبَيْدَ بْنَ فَيْرُوزَ، أَخْبَرَهُ، أَنَّ الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ، سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَاذَا يُتَّقَى مِنَ الضَّحَايَا؟ فَأَشَارَ بِيَدِهِ، وَقَالَ: «أَرْبَعٌ» ، وَكَانَ الْبَرَاءُ بْنُ عَازِبٍ يُشِيرُ بِيَدِهِ وَيَقُولُ: يَدِي أَقْصَرُ مِنْ يَدِهِ وَهِيَ الْعَرْجَاءُ الْبَيِّنُ ظَلْعُهَا، وَالْعَوْرَاءُ الْبَيِّنُ عَوَرُهَا، وَالْمَرِيضَةُ الْبَيِّنُ مَرَضُهَا، وَالْعَجْفاءُ الَّتِي لا تُنْقِي، قَالَ مُحَمَّدٌ: وَبِهَذَا نَأْخُذُ، فَأَمَّا الْعَرْجَاءُ فَإِذَا مَشَتْ عَلَى رِجْلِهَا فَهِيَ تُجْزِئُ، وَإِنْ كَانَتْ لا تَمْشِي لَمْ تُجْزِئْ، وَأَمَّا الْعَوْرَاءُ فَإِنْ كَانَ بَقِيَ مِنَ الْبَصَرِ الأَكْثَرُ مِنْ نِصْفِ الْبَصَرِ أَجْزَأَتْ، وَإِنْ ذَهَبَ النِّصْفُ فَصَاعِدًا لَمْ تُجْزِئْ، وَأَمَّا الْمَرِيضَةُ الَّتِي فَسَدَتْ لِمَرَضِهَا، وَالْعَجْفَاءُ الَّتِي لا تُنْقِي فَإِنَّهُمَا لا يُجْزِئَانِ
عبید بن فیروز بیان کرتے ہیں کہ براء بن عازب (رض) نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے دریافت کیا۔ کہ قربانی میں کن جانوروں سے بچنا چاہیے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے دست اقدس سے اشارہ فرمایا۔ اور ارشاد فرمایا وہ چار ہیں۔ براء بن عازب اپنے ہاتھ سے اسی طرح اشارہ کرتے اور فرماتے میرا تھا آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بہت ہیی چھوٹا ہے۔ وہ چار یہ ہے۔ (١) لنگڑا جانور جو چل نہ سکے۔ (٢) وہ کانا جانور جس کا کانا ہونا ظاہر ہو۔ (٣) وہ بیمار جانور جس کی بیماری ظاہر و غالب ہو۔ (٤) ایسی دبلی قربانی جس میں گودا اور مخ نہ رہی ہو۔ (اس روایت کو باب ما ینہی من الضحایا میں امام مالک لائے ہیں)
قول محمد (رح) یہ ہیگ ہم اسی کو اخیتار کرتے ہیں۔ البتہ لنگڑا جانور اپنے پاؤں پر چل سکتا تو جائز ہے۔ اگر نہ چل سکتا ہو تو ناجائز ہے۔ کانے جانور کی نصف سے زیادہ بینائی باقی ہو تو جائز ہے۔ اگر نصف جاتی رہے تو جائز نہیں اور مریض جانور سے مراد وہ ہے جو مرض کے سبب خراب ہوجائے۔ اور دبلی پتلی سے مرارد وہ جس میں چربی اور مخ نہ رہے۔ یہ دونوں بہی جائز نہ ہوں گے۔
قول محمد (رح) یہ ہیگ ہم اسی کو اخیتار کرتے ہیں۔ البتہ لنگڑا جانور اپنے پاؤں پر چل سکتا تو جائز ہے۔ اگر نہ چل سکتا ہو تو ناجائز ہے۔ کانے جانور کی نصف سے زیادہ بینائی باقی ہو تو جائز ہے۔ اگر نصف جاتی رہے تو جائز نہیں اور مریض جانور سے مراد وہ ہے جو مرض کے سبب خراب ہوجائے۔ اور دبلی پتلی سے مرارد وہ جس میں چربی اور مخ نہ رہے۔ یہ دونوں بہی جائز نہ ہوں گے۔
633
Muawtta Imam Muhammadأَخْبَرَنَا مَالِكٌ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ وَاقِدٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ أَخْبَرَهُ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «نَهَى عَنْ أَكْلِ لُحُومِ الضَّحَايَا بَعْدَ ثَلاثٍ» ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ: فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِعَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، فَقَالَتْ: صَدَقَ، سَمِعْتُ عَائِشَةَ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ تَقُولُ: " دَفَّ نَاسٌ مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ حَضْرَةَ الأَضْحَى فِي زَمَانِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: ادَّخِرُوا الثُّلُثَ، وَتَصَدَّقُوا بِمَا بَقِيَ "، فَلَمَّا كَانَ بَعْدَ ذَلِكَ قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَقَدْ كَانَ النَّاسُ يَنْتَفِعُونَ فِي ضَحَايَاهُمْ، يَجْمُلُونَ مِنْهَا الْوَدَكَ وَيَتَّخِذُونَ مِنْهَا الأَسْقِيَةَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَمَا ذَاكَ؟ كَمَا قَالَ، قَالُوا: نَهَيْتَ عَنْ إِمْسَاكِ لُحُومِ الأَضَاحِي بَعْدَ ثَلاثٍ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّمَا نَهَيْتُكُمْ مِنْ أَجْلِ الدَّافَّةِ الَّتِي كَانَتْ دَفَّتْ حَضْرَةَ الأَضْحَى، فَكُلُوا وَتَصَدَّقُوا وَادَّخِرُوا
عبداللہ بن واقد (رح) کہتے ہیں کہ ابن عمر (رض) نے روایت نقل کی کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے قربانی کا گوشت تین دن سے زیادہ کھانے سے منع فرمایا۔ عبداللہ بن ابوبکر (رض) نے کہا میں نے عمرہ بنت عبد الرحمن سے اس بات کا تذکر کیا ۔ تو انھوں نے کہا کہ ابن عمر (رض) نے سچ فرمایا ہے۔ میں نے خود ام المؤمنین عائشہ (رض) عنہا سے سنا وہ فرماتی تھیں کہ بادیہ نشینوں کی ایک جماعت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانہ مبارک میں قربانی کے دن پہنچی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا۔ تین دن کے لیے گوشت رکھو باقی خیرات کردو۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے عرض کیا گیا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) لوگ اپنی قربانیوں سے فائدہ اٹھاتے تھے۔ اور ان کی چربی جمع کرتے ت ہے اور ان کی کھالوں سے مشکیں تیار کرتے تھے۔ تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا۔ یہ کیا بات ہے ؟ یا اسی قسم کی بات فرمائی۔ لوگوں نے عرض کیا ہم لوگوں کو تین دن سے زیادہ دن قربانی کا گوشت جمع کرنے سے روک دیا گیا ہے۔ تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تمہیں اس جماعت کے باعث روک دیا گیا تھا۔ جو قربانی کے دن آئی تھی۔ پس (اب تم) کھاؤ، خیرات کرو اور جمع کرکے رکھو۔
635
Muawtta Imam Muhammadأَخْبَرَنَا مَالِكٌ، أَخْبَرَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ الْمَكِّيُّ، أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ أَخْبَرَهُ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ " يَنْهَى عَنْ أَكْلِ لُحُومِ الضَّحَايَا بَعْدَ ثَلاثٍ، ثُمَّ قَالَ بَعْدَ ذَلِكَ: كُلُوا وَادَّخِرُوا وَتَصَدَّقُوا "، [ص:216] قَالَ مُحَمَّدٌ: وَبِهَذَا نَأْخُذُ، لا بَأْسَ بِأَنْ يَأْكُلَ الرَّجُلُ مِنْ أُضْحِيَتِهِ وَيَدَّخِرَ وَيَتَصَدَّقَ، وَمَا نُحِبُّ لَهُ أَنْ يَتَصَدَّقَ بِأَقَلَّ مِنَ الثُّلُثِ، وَإِنْ تَصَدَّقَ بِأَقَلَّ مِنْ ذَلِكَ جَازَ
ابو زبیر مکی (رح) نے جابر بن عبداللہ (رض) سے نقل کیا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تین دن کے بعد قربانی کا گوشت کھانے سے منع فرمایا کرتے تھے۔ پھر اس کے بعد فرمایا۔ کھاؤ، ذخیرہ کرو اور خیرات کرو۔ ( ان آثار و روایت کو امام مالک (رح) نے باب اور ادخار لحم الاضاحی میں ذکر کیا ہے)
قول محمد (رح) یہ ہے : کہ ہم اسی کو اختیار کرتے ہیں۔ اسمیں کوئی حرج نہیں کہ کوئی شخص قربانی کے گوشت میں سے کھائے، جمع کرے اور خیرات کرے ( ہر طرح جائز ہے) البتہ ہمارے ہاں پسندیدہ بات نہیں ہے کہ وہ تہائی سے کم خیرات کرے۔ اور اگر اس سے مزید کم وہ خیرات کرے تو تب بھی درست ہے)
قول محمد (رح) یہ ہے : کہ ہم اسی کو اختیار کرتے ہیں۔ اسمیں کوئی حرج نہیں کہ کوئی شخص قربانی کے گوشت میں سے کھائے، جمع کرے اور خیرات کرے ( ہر طرح جائز ہے) البتہ ہمارے ہاں پسندیدہ بات نہیں ہے کہ وہ تہائی سے کم خیرات کرے۔ اور اگر اس سے مزید کم وہ خیرات کرے تو تب بھی درست ہے)
636
Muawtta Imam Muhammadأَخْبَرَنَا مَالِكٌ، أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ، أَنَّ عُوَيْمِرَ بْنَ أَشْقَرَ، " ذَبَحَ أُضْحِيَتَهُ قَبْلَ أَنْ يَغْدُوَ يَوْمَ الأَضْحَى، وَأَنَّهُ ذَكَرَ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَمَرَهُ أَنْ يَعُودَ بِأُضْحِيَةٍ أُخْرَى، قَالَ مُحَمَّدٌ: وَبِهَذَا نَأْخُذُ، إِذَا كَانَ الرَّجُلُ فِي مِصْرٍ يُصَلَّى الْعِيدُ فِيهِ، فَذَبَحَ قَبْلَ أَنْ يُصَلِّيَ الإِمَامُ فَإِنَّمَا هِيَ شَاةُ لَحْمٍ، وَلا يُجْزِئُ مِنَ الأُضْحِيَةِ، وَمَنْ لَمْ يَكُنْ فِي مِصْرٍ وَكَانَ فِي بَادِيَةٍ أَوْ نَحْوِهَا مِنَ الْقُرَى النَّائِيَةِ عَنِ الْمِصْرِ فَإِذَا ذَبَحَ حِينَ يَطْلُعُ الْفَجْرُ وَحِينَ تَطْلُعُ الشَّمْسُ أَجْزَأَهُ، وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ
عباد بن تیمخ (رض) سے روایت ہے کہ عویر بن اشقر نے قرانی کے دن عیدگاہ جانے سے پہلے قربانی کردی۔ اور سول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس کا تذکرہ کیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حکم دیا کہ دوبارہ اور قربانی کرے۔ ( اس روایت کو باب النہی عن ذبح الاضحیۃ قبل انصنراف الامام میں امام مالک (رح) نے ذکر کیا ہے)
قول محمد (رح) یہ ہے : کہ ہم اسی کو اختیار کرتے ہیں کہ جب کوئی شخص شہر میں ہو جہاں عید کی نماز ہوتی ہے تو امام کے نماز پر ھانے سے پہلے اگر وہ قربانی ذبح کرلے تو گویا وہ ایک بکری کا گوشت ہوگا۔ اگر شہر میں نہ بلکہ جنگل میں ہو یا ایسے گاؤں میں رہتا ہو جو شہر سے دور ہو تو وہ شخص اکر طلوع فجر یا آفتاب کے طلوع کے وقت ذبح کرے گا تو اس کی قربانی جائز ہوگی۔ امام ابوحنیفہ (رح) کا یہی قول ہے۔
قول محمد (رح) یہ ہے : کہ ہم اسی کو اختیار کرتے ہیں کہ جب کوئی شخص شہر میں ہو جہاں عید کی نماز ہوتی ہے تو امام کے نماز پر ھانے سے پہلے اگر وہ قربانی ذبح کرلے تو گویا وہ ایک بکری کا گوشت ہوگا۔ اگر شہر میں نہ بلکہ جنگل میں ہو یا ایسے گاؤں میں رہتا ہو جو شہر سے دور ہو تو وہ شخص اکر طلوع فجر یا آفتاب کے طلوع کے وقت ذبح کرے گا تو اس کی قربانی جائز ہوگی۔ امام ابوحنیفہ (رح) کا یہی قول ہے۔
637
Muawtta Imam Muhammadأَخْبَرَنَا مَالِكٌ، أَخْبَرَنَا عُمَارَةُ بْنُ صَيَّادٍ، أَنَّ عَطَاءَ بْنَ يَسَارٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّ أَبَا أَيُّوبَ، صَاحِبَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَهُ، قَالَ: «كُنَّا نُضَحِّي بِالشَّاةِ الْوَاحِدَةِ يَذْبَحُهَا الرَّجُلُ عَنْهُ وَعَنْ أَهْلِ بَيْتِهِ، ثُمَّ تَبَاهَى النَّاسُ بَعْدَ ذَلِكَ، فَصَارَتْ مُبَاهَاةً» ، قَالَ مُحَمَّدٌ: كَانَ الرَّجُلُ يَكُونُ مُحْتَاجًا فَيَذْبَحُ الشَّاةَ الْوَاحِدَةَ يُضَحِّي بِهَا عَنْ نَفْسِهِ، فَيَأْكُلُ وَيُطْعِمُ أَهْلَهُ، فَأَمَّا شَاةٌ وَاحِدَةٌ تُذْبَحُ عَنِ اثْنَيْنِ، أَوْ ثَلاثَةٍ أُضْحِيَةٌ فَهَذَا لا يُجْزِئُ، وَلا يَجُوزُ شَاةٌ إِلا عَنِ الْوَاحِدِ، وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ، وَالْعَامَّةِ مِنْ فُقَهَائِنَا
عطاء بن یسار (رح) نے بیان کیا۔ حضرت ابو ایوب انصاری (رض) نے بتلایا کہ ہم ایک بکری کی قربانی کرتے تھے۔ ایک شخص اپنی طرف سے اور اپنے اہل خانہ کی طرف سے ذبح کرتا تھا۔ پہر لوکوں نے فخر کرنا شروع کردیا۔ اور قربانی فخر بن گئی ( ای اثر کو باب الشرکۃ فی الضحایا میں ذکر کیا گیا ہے)
قول محمد (رح) یہ ہے : کہ اگر غریب ہوتے تھے تو ایک بکری ذبح کرلیتے تھے۔ اور خود کھالیتے تھے۔ اور اپنے اہل خانہ کو کھلاتے تھے۔ لیکن ایک بکر دو یا تین آدمیوں کی طرف سے قربانی کرنا جائز نہیں۔ ایک بکری کی قربانی ایک شخص کی طرف سے ہی ہوگی۔ امام ابوحنیفہ (رح) اور ہمارے عام فقہاء اسی طرف گئے ہیں۔
قول محمد (رح) یہ ہے : کہ اگر غریب ہوتے تھے تو ایک بکری ذبح کرلیتے تھے۔ اور خود کھالیتے تھے۔ اور اپنے اہل خانہ کو کھلاتے تھے۔ لیکن ایک بکر دو یا تین آدمیوں کی طرف سے قربانی کرنا جائز نہیں۔ ایک بکری کی قربانی ایک شخص کی طرف سے ہی ہوگی۔ امام ابوحنیفہ (رح) اور ہمارے عام فقہاء اسی طرف گئے ہیں۔
638
Muawtta Imam Muhammadأَخْبَرَنَا مَالِكٌ، أَخْبَرَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ الْمَكِّيُّ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: «نَحَرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحُدَيْبِيَةِ الْبَدَنَةَ عَنْ سَبْعَةٍ، وَالْبَقَرَةَ عَنْ سَبْعَةٍ» ، قَالَ مُحَمَّدٌ: وَبِهَذَا نَأْخُذُ، الْبَدَنَةُ وَالْبَقَرَةُ تُجْزِئُ عَنْ سَبْعَةٍ فِي الأُضْحِيَةِ وَالْهَدْيِ مُتَفَرِّقِينَ كَانُوا، أَوْ مُجْتَمِعِينَ مِنْ أَهْلِ بَيْتٍ وَاحِدٍ، أَوْ غَيْرِهِ، وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ، وَالْعَامَّةِ مِنْ فُقَهَائِنَا رَحِمَهُمُ اللَّهُ
ابو زبیر مکی (رح) نے جابر بن عبداللہ (رض) سے روایت کی کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ ہم نے مقام حدیبیہ میں ایک اونٹ اور ایک گائے سات سات آدمیوں کی طرف سے ذبح کیے۔
اس اثر کو باب الشرکۃ فی الضحایا میں امام مالک نے ذکر کیا ہے)
قول محمد (رح) یہ ہے : کہ ہم اسی کو اختیار کرتے ہیں اونٹ اور گائے کی قربانی سات آدمیوں کی طرف سے جائز ہے خواہ وہ ایک گھر کے ہوں یا متفرق گھروں کے ہوں یہی امام ابوحنیفہ (رح) اور ہمارے عام فقہاء کا قول ہے۔
اس اثر کو باب الشرکۃ فی الضحایا میں امام مالک نے ذکر کیا ہے)
قول محمد (رح) یہ ہے : کہ ہم اسی کو اختیار کرتے ہیں اونٹ اور گائے کی قربانی سات آدمیوں کی طرف سے جائز ہے خواہ وہ ایک گھر کے ہوں یا متفرق گھروں کے ہوں یہی امام ابوحنیفہ (رح) اور ہمارے عام فقہاء کا قول ہے۔
639
Muawtta Imam Muhammadأَخْبَرَنَا مَالِكٌ، أَخْبَرَنَا زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّ رَجُلا كَانَ يَرْعَى لِقْحَةً لَهُ بِأُحُدٍ، فَجَاءَهَا الْمَوْتُ فَذَكَّاهَا بِشِظَاظٍ، فَسَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَكْلِهَا، فَقَالَ: «لا بَأْسَ بِهَا كُلُوهَا»
عطاء بن یسار بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی احد کے قریب اپنی اونٹنی چرارہا تھا وہ مرنے لگی تو اس نے ایک تیز دھار لکڑے سے اسے ذبح کرلیا۔ پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں عالیہ میں عرض کیا کہ اس کے گوشت کا کیا حکم ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا۔ اس کو کھالو۔ اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔