Muawtta Imam Muhammad
9. طلاق کا بیان
موطأ الامام محمد
558
Muawtta Imam Muhammadأَخْبَرَنَا مَالِكٌ، حَدَّثَنَا نَافِعٌ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ، كَانَ يَقُولُ: «لا تَبِيتُ الْمَبْتُوتَةُ، وَلا الْمُتَوَفَّى عَنْهَا إِلا فِي بَيْتِ زَوْجِهَا» ، قَالَ مُحَمَّدٌ: وَبِهَذَا نَأْخُذُ، أَمَّا الْمُتَوَفَّى عَنْهَا فَإِنَّهَا تَخْرُجُ بِالنَّهَارِ فِي حَوَائِجِهَا، وَلا تَبِيتُ إِلا فِي بَيْتِهَا، وَأَمَّا الْمُطَلَّقَةُ مَبْتُوتَةً كَانَتْ، أَوْ غَيْرَ مَبْتُوتَةٍ، فَلا تَخْرُجُ لَيْلا، وَلا نَهَارًا مَا دَامَتْ فِي عِدَّتِهَا، وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ، وَالْعَامَّةِ مِنْ فُقَهَائِنَا
عبداللہ بن عمر (رض) فرماتے ہیں کہ جب عورت طلاق ہوجائے یا سا سکا خامند فوت ہوجائے تو وہ عدت مکمل کرنے تک اپنے شوہر کے گھر میں ہی رات بسر کرے۔ (اس اثر کو امام مالک (رح) باب ماقم المتوفی عنہا زوجہا فی بیتہا حتی تحل میں ذکر کیا ہے)
قول محمد (رح) یہ ہے : ہم اسی کو اختیار کرتے ہیں البتہ جس عورت کا خاوند فوت ہوجائے وہ مجبوری کی صورت میں اپنی ضروریات کے لیے دن میں باہر نکل سکتی ہے۔ مکر رات اپنے خاوند ہی کے گھر میں گزارنا ہوگی۔ رہی وہ عورت جس کو طلاق بائنہ ہوچکی یا غیر بائنہ وہ جب تک عدت میں ہے۔ وہ اپنے خاوند کے گھر سے نہ رات کو باہر نکل سکتی ہے یاور نہ دن کود یہی امام ابوحنیفہ (رح) اور ہمارے عام فقہاء کا قول ہے۔
قول محمد (رح) یہ ہے : ہم اسی کو اختیار کرتے ہیں البتہ جس عورت کا خاوند فوت ہوجائے وہ مجبوری کی صورت میں اپنی ضروریات کے لیے دن میں باہر نکل سکتی ہے۔ مکر رات اپنے خاوند ہی کے گھر میں گزارنا ہوگی۔ رہی وہ عورت جس کو طلاق بائنہ ہوچکی یا غیر بائنہ وہ جب تک عدت میں ہے۔ وہ اپنے خاوند کے گھر سے نہ رات کو باہر نکل سکتی ہے یاور نہ دن کود یہی امام ابوحنیفہ (رح) اور ہمارے عام فقہاء کا قول ہے۔
560
Muawtta Imam Muhammadأَخْبَرَنَا مَالِكٌ، أَخْبَرَنَا نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ عَبْدًا لِبَعْضِ ثَقِيفٍ جَاءَ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، فَقَالَ: أَنَّ سَيِّدِي أَنْكَحَنِي جَارِيَتَهُ، فُلانَةً، وَكَانَ عُمَرُ يَعْرِفُ الْجَارِيَةَ، وَهُوَ يَطَؤُهَا فَأَرْسَلَ عُمَرُ إِلَى الرَّجُلِ، فَقَالَ: مَا فَعَلَتْ جَارِيَتُكَ؟ قَالَ: هِيَ عِنْدِي، قَالَ: هَلْ تَطَؤُهَا؟ فَأَشَارَ إِلَى بَعْضِ مَنْ كَانَ عِنْدَهُ، فَقَالَ: لا، فَقَالَ عُمَرُ: أَمَا وَاللَّهِ لَوِ اعْتَرَفَتْ لَجَعَلْتُكَ نَكَالا "، قَالَ مُحَمَّدٌ: وَبِهَذَا نَأْخُذُ، لا يَنْبَغِي إِذَا زَوَّجَ الرَّجُلُ جَارِيَتَهُ عَبْدَهُ أَنْ يَطَأَهَا لأَنَّ الطَّلاقَ وَالْفُرْقَةَ بِيَدِ الْعَبْدِ إِذَا زَوَّجَهُ مَوْلاهُ، وَلَيْسَ لِمَوْلاهُ أَنْ يُفَرِّقَ بَيْنَهُمَا بَعْدَ أَنْ زَوَّجَهَا فَإِنْ وَطِئَهَا يُنْدَمُ إِلَيْهِ فِي ذَلِكَ، فَإِنْ عَادَ أَدَّبَهُ الإِمَامُ عَلَى قَدْرِ مَا يَرَى مِنَ الْحَبْسِ وَالضَّرْبِ، وَلا يَبْلُغَ بِذَلِكَ أَرْبَعِينَ سَوْطًا
نافع (رح) بیان کرتے ہیں کہ عبداللہ بن عمر (رض) نے فرمایا کہ بنو ثقیف قبیلہ کا ایک غلام حضرت فاروق اعظم (رض) کی خدمت اقدس میں حاضر ہوا اور اس نے عرض کیا میرے آقا نے اپنی فلاں کنیز سے میرا نکاح کردیا ( فاروق اعظم (رض) اس لونڈی کو ذاتی طور پر جانتے تھے) اور اب وہ خود بھی اس سے مباشرت کرتا ہے۔ حضرت عمر (رض) نے اس متعلقہ آدمی کو بلا بھیجا وہ حاضر ہوا تو اس سے دریافت کیا تمہاری لونڈی ( فلانہ) کہاں ہے ؟ اس نے بتلایا کہ وہ میرے پاس ہے۔ آپ نے فرمایا کیا تم اس سے مباشرت کرتے ہو ؟ حضرت عمر (رض) نے بعض اہل مجلس نے اس کو اشارہ کیا تو اس آدمی نے کہا نہیں۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا اللہ کی قسم ! اگر تو اعتراف کرتا تو میں تجھے عبرتناک سزا دیتا۔
قول محمد (رح) یہ ہے : ہم اسی کو اختیار کرتے ہیں جب کوئی شخص اپنی لونڈی اپنے کسی غلام کے نکاح میں دے دے تو اس کے لیے جائز نہیں کہ وہ اس سے مباشرت کرے۔ کیونکہ جب آقا نے اس سے اپنی رضا مندی سے نکاح کردیا ہے تو اسے طلاق یا جدائی اختیار ( غلام کو تفویض کردیا ہے اب) غلام اس کو طلاق دے سکتا ہے۔ لونڈی کو اس کے نکاح میں دینے کے بعد آقا کو انھیں جدا کرنے ( طلاق دینے) کا اختیار باقی نہیں رہتا۔ اگر وہ اس سے مباشرت کرے گا تو اس بارے میں اسے ملامت کی جائے گی۔ اگر وہ باز نہ آئے اور اس کا اعادہ کرے تو امام وقت جس قدر چاہے اسے مارپیت یا قید کی سزا دے۔ سب کچھ روا ہے البتہ یہ سزا چالیس کوڑوں سے زیادہ نہ ہوگی۔
قول محمد (رح) یہ ہے : ہم اسی کو اختیار کرتے ہیں جب کوئی شخص اپنی لونڈی اپنے کسی غلام کے نکاح میں دے دے تو اس کے لیے جائز نہیں کہ وہ اس سے مباشرت کرے۔ کیونکہ جب آقا نے اس سے اپنی رضا مندی سے نکاح کردیا ہے تو اسے طلاق یا جدائی اختیار ( غلام کو تفویض کردیا ہے اب) غلام اس کو طلاق دے سکتا ہے۔ لونڈی کو اس کے نکاح میں دینے کے بعد آقا کو انھیں جدا کرنے ( طلاق دینے) کا اختیار باقی نہیں رہتا۔ اگر وہ اس سے مباشرت کرے گا تو اس بارے میں اسے ملامت کی جائے گی۔ اگر وہ باز نہ آئے اور اس کا اعادہ کرے تو امام وقت جس قدر چاہے اسے مارپیت یا قید کی سزا دے۔ سب کچھ روا ہے البتہ یہ سزا چالیس کوڑوں سے زیادہ نہ ہوگی۔
563
Muawtta Imam Muhammadأَخْبَرَنَا مَالِكٌ، أَخْبَرَنَا مُجَبِّرٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: " إِذَا قَالَ الرَّجُلُ: إِذَا نَكَحْتُ، فُلانَةً فَهِيَ طَالِقٌ، فَهِيَ طَالِقٌ، فَهِيَ كَذَلِكَ إِذَا نَكَحَهَا، وَإِذَا كَانَ طَلَّقَهَا وَاحِدَةً، أَوِ اثْنَتَيْنِ، أَوْ ثَلاثًا فَهُوَ كَمَا قَالَ "، قَالَ مُحَمَّدٌ: وَبِهَذَا نَأْخُذُ، وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ
مجبر کہتے ہیں کہ عبداللہ بن عمر (رض) فرماتے تھے کہ جب کوئی شخص کہے ” اگر میں فلانہ عورت سے نکاح کروں تو اس پر طلاق ہے۔ تو وہ جب بہی اس سے نکاح کرے گا ۔ اس کو وہی طلاقیں واقع ہوجائیں گی جتنی طلاقوں کا اس نے ارادہ کیا تھا۔ ایک یا دو یا تین میں جس قدر اس نے کہی تھیں اتنی ہی واقع ہوجائیں گی۔
قول محمد (رح) یہ ہے : ہم اسی کو اختیار کرتے ہیں اور امام ابوحنیفہ (رح) کا بھی یہی قول ہے۔
قول محمد (رح) یہ ہے : ہم اسی کو اختیار کرتے ہیں اور امام ابوحنیفہ (رح) کا بھی یہی قول ہے۔
565
Muawtta Imam Muhammadأَخْبَرَنَا مَالِكٌ، أَخْبَرَنَا الزُّهْرِيُّ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، وَسَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّهُ اسْتَفْتَى عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ فِي رَجُلٍ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ تَطْلِيقَةً أَوْ تَطْلِيقَتَيْنِ، وَتَرَكَهَا حَتَّى تَحِلَّ، ثُمَّ تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ، فَيَمُوتَ أَوْ يُطَلَّقَا فَيَتَزَوَّجُهَا زَوْجُهَا الأَوَّلُ عَلَى كَمْ هِيَ؟ قَالَ عُمَرُ: هِيَ عَلَى مَا بَقِيَ مِنْ طَلاقِهَا ".
قَالَ مُحَمَّدٌ: وَبِهَذَا نَأْخُذُ، فَأَمَّا أَبُو حَنِيفَةَ، فَقَالَ: إِذَا عَادَتْ إِلَى الأَوَّلِ بَعْدَ مَا دَخَلَ بِهَا الآخَرُ عَادَتْ عَلَى طَلاقٍ جَدِيدٍ ثَلاثِ تَطْلِيقَاتٍ مُسْتَقْبِلاتٍ، وَفِي أَصْلِ ابْنِ الصَّوَّافِ، وَهُوَ قَوْلُ ابْنِ عَبَّاسٍ وَابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ
سعید بن مسیب (رح) کہتے ہیں کہ حضرت ابوہریرہ (رض) نے حضرت عمر (رض) سے ایک شخص کے متعلق دریافت کیا کہ جو شخص اپنی بیوی کو ایک یا دو طلاق دے دے اور اس کو چھوڑ دے یہاں تک کہ اس کی عدت پوری ہوجائے پھر وہ کسی دوسرے مرد سے نکاح کرے اور وہ ہدوسرا مرد فوت ہوجائے یا اسے طلاق دے تو اب پہلا مرد اس سے نکاح کرلے وہ مرد اب کتنی طلاقوں مالک ہوگا۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا۔ تین طلاقوں میں سے جتنی طلاقیں باقی رہ گئی ہیں۔ ( اس اثر کو باب جامع الطلاق میں امام مالک (رح) نے ذکر کیا ہے)
قول محمد (رح) یہ ہے : ہم اسی کو اختیار کرتے ہیں۔ اور امام ابوحنیفہ (رح) کا فرمان یہ ہے کہ اگر وہ عورت پہلے شوہر کے پاس اس حالت میں لوٹی کہ دوسرا شوہر اس سے مباشرت کرچکا ہے تو صورت میں پہلا شوہر از سر نو تین طلاقوں کا مالک ہوگا۔
قول محمد (رح) یہ ہے : ہم اسی کو اختیار کرتے ہیں۔ اور امام ابوحنیفہ (رح) کا فرمان یہ ہے کہ اگر وہ عورت پہلے شوہر کے پاس اس حالت میں لوٹی کہ دوسرا شوہر اس سے مباشرت کرچکا ہے تو صورت میں پہلا شوہر از سر نو تین طلاقوں کا مالک ہوگا۔
567
Muawtta Imam Muhammadأَخْبَرَنَا مَالِكٌ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُا، " أَنَّهَا خَطَبَتْ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قُرَيْبَةَ بِنْتِ أَبِي أُمَيَّةَ، فَزَوَّجَتْهُ ثُمَّ إِنَّهُمْ عَتَبُوا عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، وَقَالُوا: مَا زَوَّجْنَا إِلا عَائِشَةَ، فَأَرْسَلَتْ إِلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ فَذَكَرَتْ لَهُ ذَلِكَ، فَجَعَلَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ أَمْرَ قُرَيْبَةَ بِيَدِهَا، فَاخْتَارَتْهُ، وَقَالَتْ: مَا كُنْتُ لِأَخْتَارَ عَلَيْكَ أَحَدًا، فَقَرَّتْ تَحْتَهُ، فَلَمْ يَكُنْ ذَلِكَ طَلاقًا "
قاسم (رح) نے بیان کیا کہ ام المؤمنین عائشہ صدیقہ (رض) عنہا نے اپنے بھائی عبد الرحمن بن ابوبکر (رض) کا پیغام قریبہ بنت ابی امیہ کے پاس بھیجا۔ پس اس سے ان کا نکاح ہوگیا۔ اس پر قریبہ کے ورثاء عبد الرحمن سے ناراض ہوگئے اور کہنے لگے ۔ ہم نے سوچنے سمجھنے کے بغیر عائشہ (رض) عنہا کے کہنے پر نکاح کردیا ہے۔ حضرت ام المؤمنین (رض) عنہا نے اپنے بھائی عبد الرحمن (رض) پیغام بھیجا اور اس بات کا ان سے تذکرہ کیا۔ عبد الرحمن (رض) نے قریبہ کو اختیادے دیا کہ خواہ تو میرے پاس رہے اور خواہ تو جدائی اخیتار کرلے۔ قریبہ نے میں تمہارے مقابلے میں کین اختیار نہیں کرتی۔ پس یہ طلاق نہ ہوئی۔ (اس روایت کو امام مالک نے باب ما لا یبین من التملیک میں ذکر کیا ہے)
569
Muawtta Imam Muhammadأَخْبَرَنَا مَالِكٌ، أَخْبَرَنَا نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: " إِذَا مَلَّكَ الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ أَمْرَهَا فَالْقَضَاءُ مَا قَضَتْ إِلا أَنْ يُنْكِرَ عَلَيْهَا، فَيَقُولُ: لَمْ أُرِدْ إِلا تَطْلِيقَةً وَاحِدَةً فَيُحَلَّفُ عَلَى ذَلِكَ، وَيَكُونُ أَمْلَكَ بِهَا فِي عِدَّتِهَا "
نافع (رح) ابن عمر (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ جب شوہر اپنی بیوی کو طلاق کا اختیار دے دے تو فیصلہ بیوی کی مرضی پر ہوگا۔ مگر یہ شوہر انکار کردے اور کہے کہ میں نے صرف ایک طلاق کا ارادہ کیا تھا۔ تو اس صورت میں اس سے یاس بات کی قسم لی جائے گی۔ اور عدت کے ایام تک وہ خاوند اس کا مالک و مختار ہوگا۔
570
Muawtta Imam Muhammadأَخْبَرَنَا مَالِكٌ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، أَنَّهُ قَالَ: إِذَا مَلَّكَ الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ أَمْرَهَا فَلَمْ تُفَارِقْهُ وَقَرَّتْ عِنْدَهُ فَلَيْسَ ذَلِكَ بِطَلاقٍ، قَالَ مُحَمَّدٌ: وَبِهَذَا نَأْخُذُ، إِذَا اخْتَارَتْ زَوْجَهَا فَلَيْسَ ذَلِكَ بِطَلاقٍ وَإِنِ اخْتَارَتْ نَفْسَهَا فَهُوَ عَلَى مَا نَوَى الزَّوْجُ، فَإِنْ نَوَى وَاحِدَةً فَهِيَ وَاحِدَةٌ بَائِنَةٌ، وَإِنْ نَوَى ثَلاثًا فَثَلاثٌ، وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ وَالْعَامَّةِ مِنْ فُقَهَائِنَا.
سعید بن مسیب (رح) کہتے ہیں کہ جب آدمی اپنی بیوی کو طلاق کا اختیار دے دے اور وہ اس سے جدائی اختیار نہ کرے بلکہ اس کے پاس ٹھہری رہے تو یہ طلاق نہیں ( اس اثر کو امام مالک (رح) نے باب ما لا یبین من التملیک میں ذکر کیا ہے) ۔
قول محمد (رح) یہ ہے : کہ ہم اسی کو اختیار کرتے ہیں جب عورت نے اپنے خاوند کو اختیار کرلیا تو یہ طلاق نہیں۔ اور اگر عورت نے اپنی ذات کو اختیار کرلیا تو اس صورت میں مرد کی نیت کا اعتبار ہوگا اگر اس نے ایک طلاق کی نیت کی ہوگی تو یہ ایک طلاق بائنہ ہوگی۔ اگر تین کی نیت کی ہوگی تو تین طلاقیں واقع ہوجائیں گی۔
امام ابوحنیفہ (رح) اور ہمارے عام فقہاء کا یہی قول ہے۔
قول محمد (رح) یہ ہے : کہ ہم اسی کو اختیار کرتے ہیں جب عورت نے اپنے خاوند کو اختیار کرلیا تو یہ طلاق نہیں۔ اور اگر عورت نے اپنی ذات کو اختیار کرلیا تو اس صورت میں مرد کی نیت کا اعتبار ہوگا اگر اس نے ایک طلاق کی نیت کی ہوگی تو یہ ایک طلاق بائنہ ہوگی۔ اگر تین کی نیت کی ہوگی تو تین طلاقیں واقع ہوجائیں گی۔
امام ابوحنیفہ (رح) اور ہمارے عام فقہاء کا یہی قول ہے۔
572
Muawtta Imam Muhammadأَخْبَرَنَا مَالِكٌ، أَخْبَرَنَا نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ كَانَ " يَقُولُ فِي الأَمَةِ تَحْتَ الْعَبْدِ فَتُعْتَقُ: أَنَّ الْخِيَارَ لَهَا مَا لَمْ يَمَسَّهَا "
نافع (رح) بیان کرتے ہیں کہ ابن عمر (رض) کہتے تھے کہ جو لونڈی کسی غلام کی منکوحہ تھی اور وہ آزاد کردی گئی۔ جب تک اس سے مباشرت نہ کی جائے اس وقت اس کو اختیار حاصل ہے کہ نکاح کو باقی رکھے یا نہ)
574
Muawtta Imam Muhammadأَخْبَرَنَا مَالِكٌ، أَخْبَرَنَا الزُّهْرِيُّ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَوْفٍ، طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَهُوَ مَرِيضٌ فَوَرَّثَهَا عُثْمَانُ مِنْهُ بَعْدَ مَا انْقَضَتْ عِدَّتُهَا.
طلحہ بن عبداللہ بن عوف کا بیان ہے کہ عبد الرحمن بن عوف (رض) نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی۔ جبکہ وہ بیمار تھے۔ حضرت عثمان (رض) نے عدت گزارنے کے بعد انھیں وارث قرار دے کر ترکہ میں حصہ دلایا۔ ( اس اثر کو امام مالک (رح) نے باب طلاق المریض میں ذکر کیا ہے)
575
Muawtta Imam Muhammadأَخْبَرَنَا مَالِكٌ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْفَضْلِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، أَنَّهُ «وَرَّثَ نِسَاءَ ابْنِ مُكْمِلٍ مِنْهُ، كَانَ طَلَّقَ نِسَاءَهُ وَهُوَ مَرِيضٌ» ، قَالَ مُحَمَّدٌ: يَرِثْنَهُ مَا دُمْنَ فِي الْعِدَّةِ فَإِذَا انْقَضَتِ الْعِدَّةُ قَبْلَ أَنْ يَمُوتَ، فَلا مِيرَاثَ لَهُنَّ
وَكَذَلِكَ ذَكَرَ هُشَيْمُ بْنُ بَشِيرٍ، عَنِ الْمُغِيرَةِ الضَّبِّيِّ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ، عَنْ شُرَيْحٍ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ كَتَبَ إِلَيْهِ، فِي رَجُلٍ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ ثَلاثًا وَهُوَ مَرِيضٌ: «أَنْ وَرِّثْهَا مَا دَامَتْ فِي عِدَّتِهَا، فَإِذَا انْقَضَتِ الْعِدَّةُ، فَلا مِيرَاثَ لَهَا» ، وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى، وَالْعَامَّةِ مِنْ فُقَهَائِنَا
اعرج (رح) کہتے ہیں کہ حضرت عثمان بن عفان (رض) نے ابن مکمل کی عورتوں کو وراثت میں حصہ دلایا۔ اس نے اپنی ب یویں کو مرض (الموت) میں طلاق دے دی تھے۔ ( یہ اثر باب طلاق المریض میں امام مالک نے ذکر کیا ہے)
قول محمد (رح) یہ ہے : کہ وہ عورتیں وارث ہونگیں۔ اگر شوہر کی وفات سے قبل عدت ختم ہوجائے تو انھیں ترکہ و وراثت مں ن حصہ نہ ملے گا۔ اس طرح ہشیم بن بشیر نے مغیر (رض) اور انھوں ابراہیم نخعی اور انھوں نے شریح کی سند سے عمر بن خطاب (رض) کا ارشاد نقل کیا کہ انھوں نے اس شخص کے متعلق تحریر کیا جس نے بحلت مرض اپنی بیوی کو تین طلاق دے دیں کہ اگر وہ عدت میں ہو تو اسے وراثت سے حصہ ۔ اگر اس کی عدت مکمل ہوچکی ہو تو اس کو کوئی حصہ مثراث سے نہیں ملے گا۔ امام ابوحنیفہ (رح) اور ہمارے عام فقہاء کا یہی قول ہے۔
قول محمد (رح) یہ ہے : کہ وہ عورتیں وارث ہونگیں۔ اگر شوہر کی وفات سے قبل عدت ختم ہوجائے تو انھیں ترکہ و وراثت مں ن حصہ نہ ملے گا۔ اس طرح ہشیم بن بشیر نے مغیر (رض) اور انھوں ابراہیم نخعی اور انھوں نے شریح کی سند سے عمر بن خطاب (رض) کا ارشاد نقل کیا کہ انھوں نے اس شخص کے متعلق تحریر کیا جس نے بحلت مرض اپنی بیوی کو تین طلاق دے دیں کہ اگر وہ عدت میں ہو تو اسے وراثت سے حصہ ۔ اگر اس کی عدت مکمل ہوچکی ہو تو اس کو کوئی حصہ مثراث سے نہیں ملے گا۔ امام ابوحنیفہ (رح) اور ہمارے عام فقہاء کا یہی قول ہے۔