Muawtta Imam Muhammad
8. طلاق کا بیان۔
موطأ الامام محمد
552
Muawtta Imam Muhammadأَخْبَرَنَا مَالِكٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ، يَقْرَأُ: «يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَطَلِّقُوهُنَّ لِقُبُلِ عِدَّتِهِنَّ» ، قَالَ مُحَمَّدٌ: طَلاقُ السُّنَّةِ أَنْ يُطَلِّقَهَا لِقُبُلِ عِدَّتِهَا طَاهِرًا مِنْ غَيْرِ جِمَاعٍ حِينَ تَطْهُرُ مِنْ حَيْضِهَا قَبْلَ أَنْ يُجَامِعَهَا، وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ، وَالْعَامَّةِ مِنْ فُقَهَائِنَا
عبداللہ بن دینار کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن عمر (رض) کو قرآن مجید کی یہ آیت یا ایہا الذین امنوا اذا طلقتمن النساء فطلقوہن لقبل عدتہن ۔ اس طرح پڑھتے سنا ( اے ایمان والو ! جب تم اپنی عورتوں کو طلاق دو تو ان کی عدت کے وقت سے کچھ پہلے دو )
قول محمد (رح) یہ ہے : کہ طلاق سنت یہ ہے کہ آدمی اس کی عدت سے کچھ پہلے حالت طہارت میں اسے طلاق دے اور اس طہر میں جماع بھی نہ کرے ؎ دوسری طلاق دوسرے طہر میں دے۔ اسی طرح تیسیر طلاق تیسرے طہر میں دے ۔ یہی امام ابوحنیفہ (رح) اور ہمارے عام فقہاوء کا مسلک ہے۔
قول محمد (رح) یہ ہے : کہ طلاق سنت یہ ہے کہ آدمی اس کی عدت سے کچھ پہلے حالت طہارت میں اسے طلاق دے اور اس طہر میں جماع بھی نہ کرے ؎ دوسری طلاق دوسرے طہر میں دے۔ اسی طرح تیسیر طلاق تیسرے طہر میں دے ۔ یہی امام ابوحنیفہ (رح) اور ہمارے عام فقہاوء کا مسلک ہے۔
553
Muawtta Imam Muhammadأَخْبَرَنَا مَالِكٌ، أَخْبَرَنَا نَافِعٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَأَلَ عُمَرُ عَنْ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «مُرْهُ فَلْيُرَاجِعْهَا، ثُمَّ يُمْسِكْهَا حَتَّى تَطْهُرَ ثُمَّ تَحِيضَ، ثُمَّ تَطْهُرَ، ثُمَّ إنْ شَاءَ أَمْسَكَهَا بَعْدُ، وَإِنْ شَاءَ طَلَّقَهَا قَبْلَ أَنْ يَمَسَّهَا فَتِلْكَ الْعِدَّةُ الَّتِي أَمَرَ اللَّهُ أَنْ تُطَلَّقَ لَهَا النِّسَاءُ» ، قَالَ مُحَمَّدٌ: وَبِهَذَا نَأْخُذُ
عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانہ میں اپنی بیوی کو طلاق دی اس وقت میری بیوی حالت حیض میں تھی۔ (میرے والد) عمر (رض) نے اس بات کا تذکرہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت اقدس میں کیا اور اس کا حکم دریافت کیا تو آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حکم دیا کہ عبداللہ رجوع کرے پھر اس کی بیوی حیض سے پاک ہوجائے پھر اسے حیض آئے اور وہ اس سے پاک ہوجائے۔ اس کے بعد چاہے تو اسے روک لے اور خواہ مباشرت سے قبل اسے طلاق دے دے۔ پس یہی وہ عدت ہے جس کا للہ تعالیٰ نے حکم فرمایا ہے کہ اس کے لیے عورتوں کو طلاق دی جائے (فطلقوہن لعدتہن میں اسی طرح اشارہ ہے)
قول محمد (رح) یہ ہے : ہم اس کو اختیار کرتے ہیں۔
قول محمد (رح) یہ ہے : ہم اس کو اختیار کرتے ہیں۔
554
Muawtta Imam Muhammadأَخْبَرَنَا مَالِكٌ، حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، أَنَّ نُفَيْعًا مُكَاتِبَ أُمِّ سَلَمَةَ كَانَتْ تَحْتَهُ امْرَأَةٌ حُرَّةٌ، فَطَلَّقَهَا تَطْلِيقَتَيْنِ، فَاسْتَفْتَى عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ: فَقَالَ: «حَرُمَتْ عَلَيْكَ»
سعید بن مسیب (رح) بیان کرتے ہیں کہ حضرت ام سلمہ (رض) عنہا کا مکاتب جس کا نام نفیع تھا۔ اس کے نکاح میں ایک آزاد عورت تہی اس نے اپنی اس بیوی کے دو طلاقیں دے دیں۔ پھر اس سے رجوع کرنا چاہا تو ازواج مطہرات (رض) عنہن نے اسے کہا کہ وہ حضرت عثمان (رض) کے خدمت میں جائے اور مسئلہ دریافت کرے چنانچہ وہ حضرت عثمان (رض) کو مقام درج میں جاکر ملاد جبکہ وہ حضرت زید بن ثابت (رض) کا ہاتھ تھامے ہوئے تھے اور ان سے اپنی بیوی کے متعلق دریافت کیا تو دونوں نے فرمایا وہ تجھ پر حرام ہوگئی۔ وہ تجھ پر حرام ہوگئی۔ (یہ اثر امام مالک (رض) نے باب ما جاء فی طلاق العبد میں ذکر کیا ہے)
555
Muawtta Imam Muhammadأَخْبَرَنَا مَالِكٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّ نُفَيْعًا كَانَ عَبْدًا لأُمِّ سَلَمَةَ، أَوْ مُكَاتِبًا، وَكَانَتْ تَحْتَهُ امْرَأَةٌ حُرَّةٌ، فَطَلَّقَهَا تَطْلِيقَتَيْنِ، فَأَمَرَهُ أَزْوَاجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَأْتِيَ عُثْمَانَ فَيَسْأَلَهُ عَنْ ذَلِكَ، فَلَقِيَهُ عِنْدَ الدَّرَجِ وَهُوَ آخِذٌ بِيَدِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، فَسَأَلَهُ فَابْتَدَرَاهُ جَمِيعًا، فَقَالا: «حَرُمَتْ عَلَيْكَ، حَرُمَتْ عَلَيْكَ»
سلیمان بن یسار (رح) بیان کرتے ہیں کہ نفیع حضرت سلمہ (رض) عنہا کا مکاتب یا غلام تھا۔ ان کی زوجیت میں ایک آزاد عورت تھی۔ فقیع نے اسے دو طلاقیں دے دیں ۔ پھر اس سے رجوع کرنا چاہا تو ازواج مطہرات (رض) عنہن نے اسے کہا کہ حضرت عثمان (رض) کی خدمت میں جائے اور مسئلہ دریافت کرے چنانچہ وہ حضرت عثمان (رض) کو مقام درج مں ن جاکر ملاد جبکہ وہ حضرت زید بن ثابت (رض) کے ہاتھ تھامے ہوئے تھے اور ان سے اپنی بیوی کے متعلق دریافت کیا تو دونوں نے فرمایا وہ تجھ پر حرام ہوگئی۔ وہ تجھ پر حرام ہوگئی۔ ( یہ اثر امام مالک (رض) نے باب ما جاء فی طلاق العبد میں ذکر کیا ہے)
556
Muawtta Imam Muhammadأَخْبَرَنَا مَالِكٌ، أَخْبَرَنَا نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: «إِذَا طَلَّقَ الْعَبْدُ امْرَأَتَهُ اثْنَتَيْنِ فَقَدْ حَرُمَتْ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ، حُرَّةً كَانَتْ، أَوْ أَمَةً، وَعِدَّةُ الْحُرَّةِ ثَلاثَةُ قُرُوءٍ وَعِدَّةُ الأَمَةِ حَيْضَتَانِ» ، قَالَ مُحَمَّدٌ: قَدِ اخْتَلَفَ النَّاسُ فِي هَذَا، فَأَمَّا مَا عَلَيْهِ فُقَهَاؤُنَا فَإِنَّهُمْ يَقُولُونَ: الطَّلاقُ بِالنِّسَاءِ وَالْعِدَّةُ بِهِنَّ لأَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ: {فَطَلِّقُوهُنَّ لِعِدَّتِهِنَّ} [الطلاق: 1] ، فَإِنَّمَا الطَّلاقُ لِلْعِدَّةِ فَإِذَا كَانَتِ الْحُرَّةَ وَزَوْجُهَا عَبْدٌ فَعِدَّتُهَا ثَلاثَةُ قُرُوءٍ وَطَلاقُهَا ثَلاثَةُ تَطْلِيقَاتٍ لِلْعِدَّةِ كَمَا قَالَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى، وَإِذَا كَانَ الْحُرُّ تَحْتَهُ الأَمَةُ فَعِدَّتُهَا حَيْضَتَانِ، وَطَلاقُهَا لِلْعِدَّةِ تَطْلِيقَتَانِ، كَمَا قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ
نافع (رح) بیان کرتے ہیں کہ عبداللہ بن عمررضی اللہ عنہما نے فرمایا جب کوئی غلام اپنی بیوی کو دو طلاقیں دے دے خواہ وہ آزاد ہو یا غلام دونوں صورتوں میں وہ عورت اس پر حرام ہوگئی۔ جب تک کہ وہ عورت کسی دوسرے مرد سے نکاح نہ کرے۔ آزاد عورت کی عدت تین حیض ہے اور لونڈی کی عدت دو حیض ہے۔ (یہ اثر ممؤطا امام مالک ما جاء فی طلاق العبد میں ذکر کیا ہے)
قول محمد (رح) یہ ہے : کہ اس مسئلہ میں لوگوں نے اختلاف کیا ہے۔ ہمارے فقہاء احناف (رح) یہ کہتے ہیں کہ طلاق اور عدت میں عورتوں کا اعتبار کیا چائے گا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد گرامی ہے فطلقوہن لعدتہن ۔ پس طلاق عدت کے لحاظ سے ہے۔ جب بیوی آزاد عورت ہو اور شوہر غلام ہو تو اس کی عدت تین طہر ہوگی ۔ اور عدت کے لیے اس کی طلاقیں بھی تین ہوں گی۔ جیسا کہ اللہ جل جلالہ نے فرمایا اور جب شوہر آزاد ہو اور بیوی لونڈی ہو تو اس کی عدت دو حیض ہو کی اور عدت کے لیے اس کی طلاقیں بھی ہوں گی۔ جیسا کہ اللہ جل شانہ نے فرمایا ہے۔
قول محمد (رح) یہ ہے : کہ اس مسئلہ میں لوگوں نے اختلاف کیا ہے۔ ہمارے فقہاء احناف (رح) یہ کہتے ہیں کہ طلاق اور عدت میں عورتوں کا اعتبار کیا چائے گا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد گرامی ہے فطلقوہن لعدتہن ۔ پس طلاق عدت کے لحاظ سے ہے۔ جب بیوی آزاد عورت ہو اور شوہر غلام ہو تو اس کی عدت تین طہر ہوگی ۔ اور عدت کے لیے اس کی طلاقیں بھی تین ہوں گی۔ جیسا کہ اللہ جل جلالہ نے فرمایا اور جب شوہر آزاد ہو اور بیوی لونڈی ہو تو اس کی عدت دو حیض ہو کی اور عدت کے لیے اس کی طلاقیں بھی ہوں گی۔ جیسا کہ اللہ جل شانہ نے فرمایا ہے۔
557
Muawtta Imam Muhammadقَالَ مُحَمَّدٌ: أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَزِيدَ الْمَكِّيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ عَطَاءَ بْنَ أَبِي رَبَاحٍ، يَقُولُ: قَالَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ: " الطَّلاقُ بِالنِّسَاءِ وَالْعِدَّةُ بِهِنَّ، وَهُوَ قَوْلُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، وَأَبِي حَنِيفَةَ، وَالْعَامَّةِ مِنْ فُقَهَائِنَا
محمد (رح) کہتے ہیں کہ عطاء بن ابی رباح (رح) نے کہا حضرت علی مرتضی (رض) نے ارشاد فرمایا ” طلاق عورتوں کے اعتبار سے ہے اور عدت بہی عورتوں کے لحاظ سے ہوگی۔ یہی عبد الہ بن مسعود (رض) کا ارشاد ہے۔ اور ہمارے فقہاء احناف عام طور پر اسی طرف گئے ہیں۔
559
Muawtta Imam Muhammadأَخْبَرَنَا مَالِكٌ، أَخْبَرَنَا نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: «مَنْ أَذِنَ لِعَبْدِهِ فِي أَنْ يَنْكِحَ فَإِنَّهُ لا يَجُوزُ لامْرَأَتِهِ طَلاقٌ إِلا أَنْ يُطَلِّقَهَا الْعَبْدُ، فَأَمَّا أَنْ يَأْخُذَ الرَّجُلُ أَمَةَ غُلامِهِ، أَوْ أَمَةَ وَلِيدَتِهِ، فَلا جُنَاحَ عَلَيْهِ» ، قَالَ مُحَمَّدٌ: وَبِهَذَا نَأْخُذُ، وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ، وَالْعَامَّةِ مِنْ فُقَهَائِنَا
نافع (رح) بیان کرتے ہیں کہ عبداللہ بن عمر (رض) فرماتے تھے کہ جس شخص نے اپنے غلام کو نکاح کی اجازت دی تو اس کی بیوی کو طلاق دینے کا حق ( بھی غلام کو تفویض ہوگیا) صرف وہ غلام ہی اس کو طلاق دے سکتا ہے۔ البتہ وہ شخص اپنے غلام کی لونڈی یا اپنی لونڈی کی لونڈی کو لے لے تو اس پر کوئی گناہ نہ ہوگا ۔ (کیونکہ اس کی ملک اس کی اپنی ملک ہے)
قول محمد (رح) یہ ہے : کہ ہم اسی کو اختیار کرتے ہیں اور یہی امام ابوحنیفہ (رح) اور ہمارے عام فقہاء کا قول ہے۔
قول محمد (رح) یہ ہے : کہ ہم اسی کو اختیار کرتے ہیں اور یہی امام ابوحنیفہ (رح) اور ہمارے عام فقہاء کا قول ہے۔
561
Muawtta Imam Muhammadأَخْبَرَنَا مَالِكٌ، أَخْبَرَنَا نَافِعٌ، «أَنَّ مَوْلاةً لِصَفِيَّةَ اخْتَلَعَتْ مِنْ زَوْجِهَا بِكُلِّ شَيْءٍ لَهَا، فَلَمْ يُنْكِرْهُ ابْنُ عُمَرَ» ، قَالَ مُحَمَّدٌ: مَا اخْتَلَعَتْ بِهِ امْرَأَةٌ مِنْ زَوْجِهَا فَهُوَ جَائِزٌ فِي الْقَضَاءِ، وَمَا نُحِبُّ لَهُ أَنْ يَأْخُذَ أَكْثَرَ مِمَّا أَعْطَاهَا، وَإِنْ جَاءَ النُّشُوزُ مِنْ قِبَلِهَا، فَأَمَّا إِذَا جَاءَ النُّشُوزُ مِنْ قِبَلِهِ لَمْ نُحِبَّ لَهُ أَنْ يَأْخُذَ مِنْهَا قَلِيلا وَلا كَثِيرًا، وَإِنْ أَخَذَ فَهُوَ جَائِزٌ فِي الْقَضَاءِ، وَهُوَ مَكْرُوهٌ لَهُ فِيمَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ اللَّهِ تَعَالَى، وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ
نافع (رح) بیان کرتے ہیں کہ صفیہ (رض) عنہا کی آزاد کردہ لونڈی نے اپنی تمام اشیاء دے کر اپنے خاوند سے خلع حاصل کرلیا۔ تو عبداللہ بن عمر (رض) نے اس بات کو ناپسند نہ (بلکہ رضامندی کا اظہار فرمایا) اس اثر کو امام مالک (رح) نے باب ما جاء فی الخلع میں ذکر کیا ہے۔
قول محمد (رح) ہے : کہ عورت اپنے خاوند سے جس چیز پر بہی خلع کرے فتوی و قضاء کے لحاظ سے یہ جائز ہے۔ لیکن ہمارے ہاں یہ بات پسندیدہ نہیں کہ خاوند اپنے مہر کی مقدار سے زیادہ رقم لے۔ اگرچہ زیادتی اور اختلاف کی ابتداء عورت کی طرف سے ہی کیوں نہ ہو۔ (یہ خلاف مروت ہے) اور اگر اختلاف مرد ہی طرف سے ہو تو ہم پسند نہیں کرتے کہ وہ اس مقدار مہر سے تھوڑا یا زیادہ کچھ بھی لے ۔ البتہ بلحاظ فتوی لینا درست ہے۔ لیکن بندے اور اللہ تعالیٰ (حقوق اللہ) کے لحاظ سے مکروہ ہے۔ یہی امام ابوحنیفہ (رح) کا قول ہے۔
قول محمد (رح) ہے : کہ عورت اپنے خاوند سے جس چیز پر بہی خلع کرے فتوی و قضاء کے لحاظ سے یہ جائز ہے۔ لیکن ہمارے ہاں یہ بات پسندیدہ نہیں کہ خاوند اپنے مہر کی مقدار سے زیادہ رقم لے۔ اگرچہ زیادتی اور اختلاف کی ابتداء عورت کی طرف سے ہی کیوں نہ ہو۔ (یہ خلاف مروت ہے) اور اگر اختلاف مرد ہی طرف سے ہو تو ہم پسند نہیں کرتے کہ وہ اس مقدار مہر سے تھوڑا یا زیادہ کچھ بھی لے ۔ البتہ بلحاظ فتوی لینا درست ہے۔ لیکن بندے اور اللہ تعالیٰ (حقوق اللہ) کے لحاظ سے مکروہ ہے۔ یہی امام ابوحنیفہ (رح) کا قول ہے۔
562
Muawtta Imam Muhammadأَخْبَرَنَا مَالِكٌ، أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جُمْهَانَ مَوْلَى الأَسْلَمِيِّينَ، عَنْ أُمِّ بَكْرٍ الأَسْلَمِيَّةِ، أَنَّهَا اخْتَلَعَتْ مِنْ زَوْجِهَا عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَسِيدٍ، ثُمَّ أَتَيَا عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ فِي ذَلِكَ، فَقَالَ: «هِيَ تَطْلِيقَةٌ إِلا أَنْ تَكُونَ سَمَّتْ شَيْئًا فَهُوَ عَلَى مَا سَمَّتْ» ، قَالَ مُحَمَّدٌ: وَبِهَذَا نَأْخُذُ، الْخُلْعُ تَطْلِيقَةٌ بَائِنَةٌ إِلا أَنْ يَكُونَ سَمَّى ثَلاثًا، أَوْ نَوَاهَا فَيَكُونُ ثَلاثًا
اسلمیین کے غلام جمہان (رح) نے بیان کیا کہ ام بکر اسلمیہ (رض) عنہا نے اپنے شوہر عبداللہ بن اسید (رض) عنے خلع حاصل کرلیا۔ پھر دونوں حضرت عثمان (رض) کی خدمت میں آئے تاکہ اس سلسلہ میں مسئلہ دریافت کریں۔ آپ نے فرمایا یہ ایک طلاق ہے۔ مگر یہ کہ وہ عورت اگر دو یا تین کا نام لے تو اتنی تعداد میں ہوجائیں گی۔
قول محمد (رح) یہ ہے : کہ ہم اسی کو اختیار کرتے ہیں کہ خلع طلاق بائن ہے۔ اگر تین کا نام لے یا تین کی نیت کرے تو تین ہی واقع ہوجائیں گی۔
قول محمد (رح) یہ ہے : کہ ہم اسی کو اختیار کرتے ہیں کہ خلع طلاق بائن ہے۔ اگر تین کا نام لے یا تین کی نیت کرے تو تین ہی واقع ہوجائیں گی۔
564
Muawtta Imam Muhammadأَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ سُلَيْمٍ الزُّرَقِيِّ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، أَنَّ رَجُلا سَأَلَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقَالَ: ": إِنِّي قُلْتُ: إِنْ تَزَوَّجْتُ فُلانَةً فَهِيَ عَلَيَّ كَظَهْرِ أُمِّي، قَالَ: إِنْ تَزَوَّجْتَهَا فَلا تَقْرَبْهَا حَتَّى تُكَفِّرَ "، قَالَ مُحَمَّدٌ: وَبِهَذَا نَأْخُذُ، وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ يَكُونُ مُظَاهِرًا مِنْهَا إِذَا تَزَوَّجَهَا فَلا يَقْرَبْهَا حَتَّى يُكَفِّرَ
قاسم بن محمد (رح) کہتے ہیں کہ عمر فاروق (رض) سے ایک آدمی نے مسئلہ دریافت کیا کہ میں نے اس طرح کہا ہے اکر میں فلاں عورت سے شادی کروں تو وہ میرے لیے میری ماں کی پشت کی طرح ہے۔ تو حضرت عمر (رض) نے جوابا فرمایا اکر تم نے اس سے نکاح کرلیا تو جب تک کفارہ ادا نہ کروگے اس کے قریب نہیں جاسکتے ہو۔
قول محمد (رح) یہ ہے : ہم اسی کو اختیار کرتے ہیں اور امام ابوحنیفہ (رح) کا بھی یہی قول ہے کہ اگر اس سے شادی کرلی تو گویا اس سے ظہار واقع ہوگیا۔ وہ جب تک کفارہ ظہار ادا نہ کردے اس وقت تک اس عورت سے مجامعت نہیں کرسکتا۔
قول محمد (رح) یہ ہے : ہم اسی کو اختیار کرتے ہیں اور امام ابوحنیفہ (رح) کا بھی یہی قول ہے کہ اگر اس سے شادی کرلی تو گویا اس سے ظہار واقع ہوگیا۔ وہ جب تک کفارہ ظہار ادا نہ کردے اس وقت تک اس عورت سے مجامعت نہیں کرسکتا۔