hadith book logo

Shamail Tirmidhi

23. حضورِ اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا تکیہ کے علاوہ کسی اور چیز پر ٹیک لگانے کی ضرورت

شمايل الترمذي

127
Shamail Tirmidhi
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صلی الله عليه وسلم کَانَ شَاکِيًا فَخَرَجَ يَتَوَکَّأُ عَلَی أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ وَعَلَيْهِ ثَوْبٌ قِطْرِيٌّ قَدْ تَوَشَّحَ بِهِ فَصَلَّی بِهِمْ
حضرت انس (رض) فرماتے ہیں کہ حضور اقدس ﷺ کی طبیعت ناساز تھی اس لئے حجرہ شریف سے حضرت اسامہ پر سہارا کئے ہوئے تشریف لائے اور صحابہ کو نماز پڑھائی۔ حضور اقدس ﷺ اس وقت ایک یمنی منقش چادر لئے ہوئے تھے۔
128
Shamail Tirmidhi
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُبَارَکِ قَالَ حَدَّثَنَا عَطَائُ بْنُ مُسْلِمٍ الْخَفَّافُ الْحَلَبِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ بُرْقَانَ عَنْ عَطَائِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ عَنِ الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ قَالَ دَخَلْتُ عَلَی رَسُولِ اللهِ صلی الله عليه وسلم فِي مَرَضِهِ الَّذِي تُوُفِّيَ فِيهِ وَعَلَی رَأْسِهِ عِصَابَةٌ صَفْرَائُ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَقَالَ يَا فَضْلُ قُلْتُ لَبَّيْکَ يَا رَسُولَ اللهِ قَالَ اشْدُدْ بِهَذِهِ الْعِصَابَةِ رَأْسِي قَالَ فَفَعَلْتُ ثُمَّ قَعَدَ فَوَضَعَ کَفَّهُ عَلَی مَنْکِبِي ثُمَّ قَامَ فَدَخَلَ فِي الْمَسْجِدِ وَفِي الْحَدِيثِ قِصَّةٌ
فضل بن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ میں حضور اقدس ﷺ کی خدمت میں آپ ﷺ کے مرض الوفات کی حالت میں حاضر ہوا، حضور اقدس ﷺ کے سر مبارک پر اس وقت زرد پٹی بندھی ہوئی تھی۔ میں نے سلام کیا حضور ﷺ نے جواب کے بعد ارشاد فرمایا کہ اے فضل اس پٹی سے میرے سر کو خوب زور سے باندھ دو ۔ پس میں نے تعمیل ارشاد کی۔ پھر حضور اقدس ﷺ بیٹھے اور میرے مونڈھے پر ٹیک لگا کر کھڑے ہوئے اور مسجد کو تشریف لے گئے۔ اس حدیث میں ایک مفصل قصہ ہے