Shamail Tirmidhi
38. حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سونے کا ذکر
شمايل الترمذي
238
Shamail Tirmidhiحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ قَالَ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يَزِيدَ عَنِ الْبَرَائِ بْنِ عَازِبٍ أَنَّ النَّبِيَّ صلی الله عليه وسلم کَانَ إِذَا أَخَذَ مَضْجَعَهُ وَضَعَ کَفَّهُ الْيُمْنَی تَحْتَ خَدِّهِ الأَيْمَنِ وَقَالَ رَبِّ قِنِي عَذَابَکَ يَوْمَ تَبْعَثُ عِبَادَکَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ قَالَ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ عَنْ عَبْدِ اللهِ مِثْلَهُ وَقَالَ يَوْمَ تَجْمَعُ عِبَادَکَ
حضرت براء (رض) کہتے ہیں کہ حضور اقدس ﷺ جس وقت آرام فرماتے تھے تو اپنا دایاں ہاتھ دائیں رخسار کے نیچے رکھتے تھے اور یہ دعا پڑھتے رَبِّ قِنِي عَذَابَکَ يَوْمَ تَبْعَثُ عِبَادَکَ اے اللہ مجھے قیامت کے دن اپنے عذاب سے بچائیو۔
239
Shamail Tirmidhiحَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلانَ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ عُمَيْرٍ عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ عَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ کَانَ النَّبِيُّ صلی الله عليه وسلم إِذَا أَوَی إِلَی فِرَاشِهِ قَالَ اللَّهُمَّ بِاسْمِکَ أَمُوتُ وَأَحْيَا وَإِذَا اسْتَيْقَظَ قَالَ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَحْيَانًا بَعْدَمَا أَمَاتَنَا وَإِلَيْهِ النُّشُورُ
حذیفہ (رض) کہتے ہیں کہ حضور اقدس ﷺ جب بستر پر لیٹتے، اللَّهُمَّ بِاسْمِکَ أَمُوتُ وَأَحْيَا اے اللہ میں تیرے ہی نام سے مرتا (سوتا) اور تیرے ہی نام سے زندہ ہوں گا۔ (سو کر اٹھوں گا) اور جب جاگتے تو یہ دعا پڑھتے الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَحْيَانًا بَعْدَمَا أَمَاتَنَا وَإِلَيْهِ النُّشُورُ تمام تعریفیں اللہ جل جلالہ کے لئے ہیں جس نے موت کے بعد زندگی عطا فرمائی اور اسی پاک ذات کی طرف قیامت میں لوٹنا ہے۔
240
Shamail Tirmidhiحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ قَالَ حَدَّثَنَا الْمُفَضَّلُ بْنُ فَضَالَةَ عَنْ عُقَيْلٍ أُرَاهُ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ کَانَ رَسُولُ اللهِ صلی الله عليه وسلم إِذَا أَوَی إِلَی فِرَاشِهِ کُلَّ لَيْلَةٍ جَمَعَ کَفَّيْهِ فَنَفَثَ فِيهِمَا وَقَرَأَ فِيهِمَا قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ وَ قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ وَ قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ ثُمَّ مَسَحَ بِهِمَا مَا اسْتَطَاعَ مِنْ جَسَدِهِ يَبْدَأُ بِهِمَا رَأْسَهُ وَوَجْهَهُ وَمَا أَقْبَلَ مِنْ جَسَدِهِ يَصْنَعُ ذَلِکَ ثَلاثَ مَرَّاتٍ
حضرت عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ حضور اقدس ﷺ ہر شبانہ جب بستر پر لیٹتے تو دونوں ہاتھوں کو دعا مانگنے کی طرح ملا کر ان پر دم فرماتے تھے اور سورت اخلاص اور معوذتین تین مرتبہ پڑھ کر تمام بدن پر سر سے پاؤں تک جہاں جہاں ہاتھ جاتا پھیرلیا کرتے تھے تین مرتبہ ایسے ہی کرتے، سر سے ابتدا فرماتے اور پھر منہ اور بدن کا اگلا حصہ پھر بقیہ بدن۔
241
Shamail Tirmidhiحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ کُهَيلٍ عَنْ کُرَيْبٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صلی الله عليه وسلم نَامَ حَتَّی نَفَخَ وَکَانَ إِذَا نَامَ نَفَخَ فَأَتَاهُ بِلالٌ فَآذَنَهُ بِالصَّلاةِ فَقَامَ وَصَلَّی وَلَمْ يَتَوَضَّأْ وَفِي الْحَدِيثِ قِصَّةٌ
حضرت ابن عباس (رض) کہتے ہیں کہ حضور اقدس ﷺ ایک مرتبہ سوئے اور خر اٹے لینے لگے۔ حضور اقدس صلی اللہ علیہ کی یہ عادت شریفہ تھی کہ جب سوتے خر اٹے لیتے تھے۔ پس حضرت بلال (رض) نے آ کر تیاری نماز کی اطلاع دی حضور اقدس ﷺ تشریف لے گئے اور نماز پڑھائی وضو نہیں کیا۔ اس حدیث میں ایک قصہ بھی ہے۔
242
Shamail Tirmidhiحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ قَالَ حَدَّثَنَا عَفَّانُ قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صلی الله عليه وسلم کَانَ إِذَا أَوَی إِلَی فِرَاشِهِ قَالَ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَطْعَمَنَا وَسَقَانَا وَکَفَانَا وَآوَانَا فَکَمْ مِمَّنْ لا کَافِيَ لَهُ وَلا مُؤْوِي
حضرت انس (رض) کہتے ہیں کہ حضور اقدس ﷺ جب اپنے بستر پر تشریف لاتے تو یہ دعا پڑھتے۔ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَطْعَمَنَا وَسَقَانَا وَکَفَانَا وَآوَانَا فَکَمْ مِمَّنْ لا کَافِيَ لَهُ وَلا مُؤْوِي۔ تمام تعریفیں اللہ جل جلالہ عما نوالہ کے لئے ہیں جس نے شکم سیر فرمایا اور سیراب کیا اور ہماری مہمات کے لئے خود کفایت فرمائی اور سونے کے لئے ٹھکانہ مرحمت فرمایا بہت سے لوگ ایسے ہیں جن کو نہ کوئی کفایت کرنے والا ہے اور نہ کوئی ٹھکانہ دینے والا ہے۔
243
Shamail Tirmidhiحَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجُرَيْرِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ بَکْرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْمُزَنِيِّ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ رَبَاحٍ عَنْ أَبِي قَتَادَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صلی الله عليه وسلم کَانَ إِذَا عَرَّسَ بِلَيْلٍ اضْطَجَعَ عَلَی شِقِّهِ الأَيْمَنِ وَإِذَا عَرَّسَ قُبَيْلَ الصُّبْحِ نَصَبَ ذِرَاعَهُ وَوَضَعَ رَأْسَهُ عَلَی کَفِّهِ
ابوقتادہ (رض) کہتے ہیں کہ حضور اقدس ﷺ (سفر میں رات کو چلنے کے بعد) اگر اخیر شب میں کچھ سویرے کسی جگہ پڑاؤ ڈالتے تو دائیں کروٹ لیٹ کر آرام فرماتے اور اگر صبح کے وقت ٹھہرنا ہوتا تو اپنا دایاں بازو کھڑا کرتے اور ہاتھ پر سر رکھ کر آرام فرما لیتے۔