Shamail Tirmidhi
39. حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی عبادت کا ذکر
شمايل الترمذي
244
Shamail Tirmidhiحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَبِشْرُ بْنُ مُعَاذٍ قَالا حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلاقَةَ عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ قَالَ صَلَّی رَسُولُ اللهِ صلی الله عليه وسلم حَتَّی انْتَفَخَتْ قَدَمَاهُ فَقِيلَ لَهُ أَتَتَکَلَّفُ هَذَا وَقَدْ غَفَرَ اللَّهُ لَکَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِکَ وَمَا تَأَخَّرَ قَالَ أَفَلا أَکُونُ عَبْدًا شَکُورًا
مغیرہ بن شعبہ (رض) کہتے ہیں کہ حضور اقدس ﷺ اس قدر لمبی نفلیں پڑھتے تھے کہ آپ ﷺ کے قدم مبارک ورم کر گئے تھے۔ صحابہ (رض) نے عرض کیا کہ آپ ﷺ اس قدر مشقت برداشت کرتے ہیں حالانکہ حق تعالیٰ جل شانہ نے آپ ﷺ کے اول و آخر کے سب گناہ بخش دئیے ہیں۔ حضور اقدس ﷺ نے ارشاد فرمایا ( کہ جب حق تعالیٰ جل شانہ نے مجھ پر اتنا انعام فرمایا) تو کیا میں اس کا شکر ادا نہ کروں ؟۔
245
Shamail Tirmidhiحَدَّثَنَا أَبُو عَمَّارٍ الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ قَالَ حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَی عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ کَانَ رَسُولُ اللهِ صلی الله عليه وسلم يُصَلِّي حَتَّی تَرِمَ قَدَمَاهُ قَالَ فَقِيلَ لَهُ أَتَفْعَلُ هَذَا وَقَدْ جَائَکَ أَنَّ اللَّهَ تَعَالَی قَدْ غَفَرَ لَکَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِکَ وَمَا تَأَخَّرَ قَالَ أَفَلا أَکُونُ عَبْدًا شَکُورًا
حضرت ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ حضور اقدس ﷺ اس درجہ نوافل پڑھا کرتے تھے کہ پاؤں پر ورم ہوجاتا تھا کسی نے عرض کیا کہ آپ ﷺ پر اگلے پچھلے سب گناہوں کی معافی کی بشارت نازل ہوچکی ہے پھر آپ ﷺ اس درجہ کیوں مشقت برداشت فرماتے ہیں آپ ﷺ نے فرمایا کہ میں شکر گزار بندہ نہ بنوں ؟۔
246
Shamail Tirmidhiحَدَّثَنَا عِيسَی بْنُ عُثْمَانَ بْنِ عِيسَی بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الرَّمْلِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا عَمِّي يَحْيَی بْنُ عِيسَی الرَّمْلِيُّ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ کَانَ رَسُولُ اللهِ صلی الله عليه وسلم يَقُومُ يُصَلِّي حَتَّی تَنْتَفِخَ قَدَمَاهُ فَيُقَالُ لَهُ يَا رَسُولَ اللهِ تَفْعَلُ هَذَا وَقَدْ غَفَرَ اللَّهُ لَکَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِکَ وَمَا تَأَخَّرَ قَالَ أَفَلا أَکُونُ عَبْدًا شَکُورًا
ابوہریرہ (رض) سے ہی مروی ہے کہ حضور اقدس ﷺ سے عرض کیا گیا کہ آپ ﷺ اتنی طویل نماز پڑھتے کہ آپ ﷺ کے قدم مبارک ورم کر آتے آپ صلی اللہ سے عرض کیا گیا کہ آپ ﷺ اتنی طویل نماز پڑھتے ہیں حالانکہ آپ کے سب اگلے اور پچھلے گناہ معاف ہوچکے ہیں۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کیا میں شکر گزار بندہ نہ بنوں ؟۔
247
Shamail Tirmidhiحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنِ الأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ قَالَ سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَنْ صَلاةِ رَسُولِ اللهِ صلی الله عليه وسلم بِاللَّيْلِ فَقَالَتْ کَانَ يَنَامُ أَوَّلَ اللَّيْلِ ثُمَّ يَقُومُ فَإِذَا کَانَ مِنَ السَّحَرِ أَوْتَرَ ثُمَّ أَتَی فِرَاشَهُ فَإِذَا کَانَ لَهُ حَاجَةٌ أَلَمَّ بِأَهْلِهِ فَإِذَا سَمِعَ الأَذَانَ وَثَبَ فَإِنْ کَانَ جُنُبًا أَفَاضَ عَلَيْهِ مِنَ الْمَائِ وَإِلا تَوَضَّأَ وَخَرَجَ إِلَی الصَّلاةِ
اسود (رض) کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ (رض) سے حضور اقدس ﷺ کی رات کی نماز یعنی تہجد اور وتر کے متعلق استفسار کیا کہ حضور اقدس ﷺ کا کیا معمول تھا انہوں نے فرمایا کہ حضور اقدس ﷺ (عشاء کی نماز کے بعد) شب کے نصف اول میں استراحت فرماتے تھے اس کے بعد تہجد پڑھتے تھے۔ یہاں تک کہ اخیر شب ہوجاتی تب وتر پڑھتے۔ اس کے بعد اپنے بستر پر تشریف لے آتے۔ اگر رغبت ہوتی تو اہل کے پاس تشریف لے جاتے یعنی صحبت کرتے پھر صبح کی اذان کے بعد فوراً اٹھ کر اگر غسل کی ضرورت ہوتی تو غسل فرماتے ورنہ وضو فرما کر نماز کے لئے تشریف لے جاتے۔
248
Shamail Tirmidhiحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ عَنْ مَالِکِ بْنِ أَنَسٍ )ح( وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مُوسَی الأَنْصَارِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا مَعْنٌ عَنْ مَالِکٍ عَنْ مَخْرَمَةَ بْنِ سُلَيْمَانَ عَنْ کُرَيْبٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ بَاتَ عِنْدَ مَيْمُونَةَ وَهِيَ خَالَتُهُ قَالَ فَاضْطَجَعْتُ فِي عَرْضِ الْوِسَادَةِ وَاضْطَجَعَ رَسُولُ اللهِ صلی الله عليه وسلم فِي طُولِهَا فَنَامَ رَسُولُ اللهِ صلی الله عليه وسلم حَتَّی إِذَا انْتَصَفَ اللَّيْلُ أَوْ قَبْلَهُ بِقَلِيلٍ أَوْ بَعْدَهُ بِقَلِيلٍ فَاسْتَيْقَظَ رَسُولُ اللهِ صلی الله عليه وسلم فَجَعَلَ يَمْسَحُ النَّوْمَ عَنْ وَجْهِهِ ثُمَّ قَرَأَ الْعَشْرَ الآيَاتِ الْخَوَاتِيمَ مِنْ سُورَةِ آلِ عِمْرَانَ ثُمَّ قَامَ إِلَی شَنٍّ مُعَلَّقٍ فَتَوَضَّأَ مِنْهَا فَأَحْسَنَ الْوُضُوئَ ثُمَّ قَامَ يُصَلِّي قَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبَّاسٍ فَقُمْتُ إِلَی جَنْبِهِ فَوَضَعَ رَسُولُ اللهِ صلی الله عليه وسلم يَدَهُ الْيُمْنَی عَلَی رَأْسِي ثُمَّ أَخَذَ بِأُذُنِي الْيُمْنَی فَفَتَلَهَا فَصَلَّی رَکْعَتَيْنِ ثُمَّ رَکْعَتَيْنِ ثُمَّ رَکْعَتَيْنِ ثُمَّ رَکْعَتَيْنِ ثُمَّ رَکْعَتَيْنِ ثُمَّ رَکْعَتَيْنِ قَالَ مَعْنٌ سِتَّ مَرَّاتٍ ثُمَّ أَوْتَرَ ثُمَّ اضْطَجَعَ حَتَّی جَائَهُ الْمُؤَذِّنُ فَقَامَ فَصَلَّی رَکْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ ثُمَّ خَرَجَ فَصَلَّی الصُّبْحَ
حضرت ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ میں ایک رات (لڑکپن میں) اپنی خالہ حضرت میمونہ (ام المومنین (رض) کے یہاں سویا۔ حضور اقدس ﷺ اور ان کے اہل تکیہ کے طولانی حصہ پر سر رکھے ہوئے تھے اور میں تکیہ کے چوڑائی پر سر رکھے ہوئے تھا (قاضی عیاض وغیرہ حضرات نے بجائے تکیہ کے بسترے کا ترجمہ فرمایا ہے لیکن جب کہ لفظ کا اصل ترجمہ تکیہ ہی ہے اور تکیہ مراد لینے میں کوئی بُعد بھی نہیں تو پھر بستر مراد لینے کی ضرورت نہیں ہے کہ مثلا تکیہ لمبائی پر حضور اقدس ﷺ سر مبارک رکھ کر قبلہ کی طرف منہ کر کے لیٹ گئے اور ابن عباس تکیہ کے چوڑان پر سر رکھ کر (یعنی قبلہ کی طرف سر رکھ کر لیٹ گئے ہوں) حضور اقدس صلی اللہ (اپنی اہلیہ سے تھوڑی باتیں فرمانے کے بعد) سو گئے اور تقریباً سو گئے اور تقریبا نصف رات ہونے پر یا اس سے کچھ پہلے بیدار ہوئے اور اپنے چہرہ مبارک پر ہاتھ پھیر کر نیند کے آثار کو دور فرمانے لگے اور پھر سورت آل عمران کے اخیر رکوع ان فی خلق السموات والارض کو تلاوت فرمایا (علماء کہتے ہیں کہ جاگنے کے بعد تھوڑا سا قرآن شریف پڑھ لینا چاہئے کہ اس سے نشاط پیدا ہوتا ہے اور ان آیات کا پڑھنا مستحب ہے) اس کے بعد مشکیزہ کی طرف جو پانی سے بھرا ہوا لٹک رہا تھا تشریف لے گئے اور اس سے (برتن میں پانی لے کر) وضو کیا اور نماز کی نیت باندھ لی۔ ابن عباس (رض) کہتے ہیں کہ میں بھی وضو کر کے حضور اقدس ﷺ کے (بائیں جانب) برابر کھڑا ہوگیا، حضور اقدس ﷺ نے (اس لئے کہ مقتدی کو دائیں جانب کھڑا ہونا چاہئے) میرے سر پر دست مبارک رکھ کر میرا کان مروڑا (تنبیہ کے لئے ایسا کیا ہو اور ایک روایت میں ہے کہ اونگھنے لگا تو حضور اقدس ﷺ نے میرا کان پکڑا) ایک روایت میں ہے کہ کان پکڑ کر دائیں جانب کو کھینچا تاکہ سنت کے موافق امام کے دائیں جانب کھڑے ہوجائیں پھر حضور اقدس ﷺ دو دو رکعت پڑھتے رہے۔ معن (رض) جو اس کے راوی ہیں وہ کہتے ہیں کہ چھ مرتبہ حضور اقدس ﷺ نے دو دو رکعت پڑھی ہوگی۔ ملا علی قاری نے لکھا ہے کہ امام اعظم ابوحنیفہ (رح) کے نزدیک تہجد کی بارہ رکعتیں ہیں) پھر وتر پڑھ کر لیٹ گئے صبح نماز کے لئے جب بلال بلانے آئے تو دو رکعت سنت مختصر قرأت سے پڑھ کر صبح کی نماز کے لئے تشریف لے گئے۔
249
Shamail Tirmidhiحَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلائِ قَالَ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ أَبِي جَمْرَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ کَانَ النَّبِيُّ صلی الله عليه وسلم يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ ثَلاثَ عَشْرَةَ رَکْعَةً
حضرت ابن عباس (رض) کہتے ہیں کہ حضور اقدس ﷺ تہجد (مع وتر کبھی) تیرہ رکعت پڑھا کرتے تھے۔
250
Shamail Tirmidhiحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَی عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صلی الله عليه وسلم کَانَ إِذَا لَمْ يُصَلِّ بِاللَّيْلِ مَنَعَهُ مِنْ ذَلِکَ النَّوْمُ أَوْ غَلَبَتْهُ عَيْنَاهُ صَلَّی مِنَ النَّهَارِ ثِنْتَيْ عَشْرَةَ رَکْعَةً
حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ جب کبھی کسی عارض کی وجہ سے رات کو تہجد نہیں پڑھ سکتے تھے تو دن میں چاشت کے وقت بارہ رکعتیں پڑھ لیا کرتے تھے۔
251
Shamail Tirmidhiحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلائِ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ هِشَامٍ يَعْنِي ابْنَ حَسَّانَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلی الله عليه وسلم قَالَ إِذَا قَامَ أَحَدُکُمْ مِنَ اللَّيْلِ فَلْيَفْتَتِحْ صَلاتَهُ بِرَکْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ
حضرت ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ حضور اقدس ﷺ نے یہ ارشاد فرمایا کہ جب رات کو تہجد کے لئے اٹھو تو شروع میں اول دو مختصر رکعتیں پڑھ لو۔
252
Shamail Tirmidhiحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ عَنْ مَالِکِ بْنِ أَنَسٍ )ح( وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مُوسَی قَالَ حَدَّثَنَا مَعْنٌ قَالَ حَدَّثَنَا مَالِکٌ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي بَکْرٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ قَيْسِ بْنِ مَخْرَمَةَ أَخْبَرَهُ عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ أَنَّهُ قَالَ لأَرْمُقَنَّ صَلاةَ النَّبِيِّ صلی الله عليه وسلم فَتَوَسَّدْتُ عَتَبَتَهُ أَوْ فُسْطَاطَهُ فَصَلَّی رَسُولُ اللهِ صلی الله عليه وسلم رَکْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ ثُمَّ صَلَّی رَکْعَتَيْنِ طَوِيلَتَيْنِ طَوِيلَتَيْنِ طَوِيلَتَيْنِ ثُمَّ صَلَّی رَکْعَتَيْنِ وَهُمَا دَونَ اللَّتَيْنِ قَبْلَهُمَا ثُمَّ صَلَّی رَکْعَتَيْنِ وَهُمَا دُونَ اللَّتَيْنِ قَبْلَهُمَا ثُمَّ صَلَّی رَکْعَتَيْنِ وَهُمَا دُونَ اللَّتَيْنِ قَبْلَهُمَا ثُمَّ صَلَّی رَکْعَتَيْنِ وَهُمَا دُونَ اللَّتَيْنِ قَبْلَهُمَا ثُمَّ أَوْتَرَ فَذَلِکَ ثَلاثَ عَشْرَةَ رَکْعَةً
حضرت زید بن خالد (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے ایک دن یہ ارادہ کیا کہ حضور اقدس ﷺ کی نماز کو آج غور سے دیکھوں گا۔ میں آپ ﷺ کے مکان یا خیمہ کی چوکھٹ پر سر رکھ کر لیٹ گیا (تاکہ غور سے دیکھتا رہوں) حضور اقدس ﷺ نے اول دو مختصر رکعتیں پڑھیں۔ اس کے بعد طویل طویل دو دو رکعتیں پڑھیں (تین دفعہ طول کا لفظ اس کی زیادتی طول بیان کرنے کے لئے فرمایا) پھر ان سے مختصر دو رکعتیں پڑھیں پھر ان سے بھی مختصر دو رکعتیں پڑھیں پھر وتر پڑھے یہ سب تیرہ رکعتیں ہوئی۔
253
Shamail Tirmidhiحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مُوسَی قَالَ حَدَّثَنَا مَعْنٌ قَالَ حَدَّثَنَا مَالِکٌ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ سَأَلَ عَائِشَةَ کَيْفَ کَانَتْ صَلاةُ رَسُولِ اللهِ صلی الله عليه وسلم فِي رَمَضَانَ فَقَالَتْ مَا کَانَ رَسُولُ اللهِ صلی الله عليه وسلم لِيَزِيدَ فِي رَمَضَانَ وَلا فِي غَيْرِهِ عَلَی إِحْدَی عَشْرَةَ رَکْعَةً يُصَلِّي أَرْبَعًا لا تَسْأَلْ عَنْ حُسْنِهِنَّ وَطُولِهِنَّ ثُمَّ يُصَلِّي أَرْبَعًا لا تَسْأَلْ عَنْ حُسْنِهِنَّ وَطُولِهِنَّ ثُمَّ يُصَلِّي ثَلاثًا قَالَتْ عَائِشَةُ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللهِ أَتَنَامُ قَبْلَ أَنْ تُوتِرَ فَقَالَ يَا عَائِشَةُ إِنَّ عَيْنَيَّ تَنَامَانِ وَلا يَنَامُ قَلْبِي
ابوسلمہ (رض) کہتے ہیں کہ انہوں نے حضرت عائشہ (رض) سے دریافت کیا کہ حضور اقدس ﷺ رمضان المبارک میں تہجد کی کتنی رکعتیں پڑھتے تھے۔ انہوں نے فرمایا کہ حضور اکرم ﷺ رمضان اور غیر رمضان میں گیارہ رکعت سے زیادہ نہیں پڑھتے تھے ( گویا آٹھ رکعت تہجد اور تین رکعت وتر چناچہ خود اس کی تفصیل فرماتی ہیں) کہ اول چار رکعت پڑھتے تھے یہ نہ پوچھ کہ وہ کتنی طویل ہوتی تھیں اور کس عمدگی کے ساتھ بہترین حالت یعنی خشوع و خضوع سے پڑھی جاتی تھیں اسی طرح پھر چار رکعت اور پڑھتے ان کی بھی لمبائی اور عمدگی کا حال کچھ نہ پوچھ۔ پھر تین رکعات پڑھتے تھے یعنی وتر حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ میں نے حضور اکرم ﷺ سے عرض کیا کہ آپ ﷺ وتر سے پہلے سو جاتے ہیں آپ ﷺ نے فرمایا کہ میری آنکھیں سوتی ہیں لیکن دل جاگتا رہتا ہے۔ (یہ انبیاء (علیہم السلام) کا خاصہ ہے کہ ان کے قلوب جاگتے رہتے ہیں ) ۔