hadith book logo

Shamail Tirmidhi

40. چاشت کی نماز

شمايل الترمذي

268
Shamail Tirmidhi
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلانَ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ يَزِيدَ الرِّشْکِ قَالَ سَمِعْتُ مُعَاذَةَ قَالَتْ قُلْتُ لِعَائِشَةَ أَکَانَ النَّبِيُّ صلی الله عليه وسلم يُصَلِّي الضُّحَی قَالَتْ نَعَمْ أَرْبَعَ رَکَعَاتٍ وَيَزِيدُ مَا شَائَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ
معاذہ (رض) نے حضرت عائشہ (رض) سے پوچھا کیا حضور اقدس ﷺ چاشت کی نماز پڑھتے تھے۔ انہوں نے فرمایا کہ ہاں چار رکعت (کم سے کم) پڑھتے تھے اور اس سے زائد جتنا چاہتے پڑھ لیتے۔
269
Shamail Tirmidhi
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی قَالَ حَدَّثَنِي حَکِيمُ بْنُ مُعَاوِيَةَ الزِّيَادِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ الرَّبِيعِ الزِّيَادِيُّ عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ أَنَّ النَّبِيَّ صلی الله عليه وسلم کَانَ يُصَلِّي الضُّحَی سِتَّ رَکَعَاتٍ
حضرت انس (رض) فرماتے ہیں کہ حضور اقدس ﷺ صلوہ والضحی یعنی چاشت کی چھ رکعات پڑھا کرتے تھے۔
270
Shamail Tirmidhi
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَی قَالَ مَا أَخْبَرَنِي أَحَدٌ أَنَّهُ رَأَی النَّبِيَّ صلی الله عليه وسلم يُصَلِّي الضُّحَی إِلا أُمُّ هَانِئٍ فَإِنَّهَا حَدَّثَتْ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صلی الله عليه وسلم دَخَلَ بَيْتَهَا يَوْمَ فَتْحِ مَکَّةَ فَاغْتَسَلَ فَسَبَّحَ ثَمَانِيَ رَکَعَاتٍ مَا رَأَيْتُهُ صلی الله عليه وسلم صَلَّی صَلاةً قَطُّ أَخَفَّ مِنْهَا غَيْرَ أَنَّهُ کَانَ يُتِمُّ الرُّکُوعَ وَالسُّجُودَ
عبدالرحمن ایک تابعی کہتے ہیں کہ مجھے حضرت ام ہانی (رض) کے سوا اور کسی نے حضور اکرم ﷺ کی صلوہ الضُحٰی کی خبر نہیں پہنچائی۔ البتہ حضرت ام ہانی (رض) نے یہ فرمایا کہ حضور اقدس ﷺ اس روز جس دن مکہ مکرمہ فتح ہوا تھا ان کے مکان پر تشریف لے گئے اور غسل فرما کر آٹھ رکعات نماز پڑھی، میں نے ان آٹھ رکعات سے زیادہ مختصر حضور اکرم ﷺ کی کبھی کوئی نماز نہیں دیکھی۔ لیکن باوجود مختصر ہونے کے رکوع، سجود پورے پورے فرما رہے تھے۔ یہ نہیں کہ مختصر ہونے کی وجہ سے رکوع اور سجدے ناقص ہوں۔
271
Shamail Tirmidhi
حدثنا ابن أبي عمر حدثنا وکيع حدثنا کهمس بن الحسن عن عبد الله بن شقيق قال قلت لعائشة أکان النبي صلی الله عليه وسلم يصلي الضحی قالت لا إلا يجیئ من مغيبه
عبداللہ بن شقیق (رض) کہتے ہیں میں نے حضرت عائشہ (رض) سے پوچھا کہ حضور اکرم ﷺ صلوہ الضُحٰی پڑھتے تھے ؟ انہوں نے یہ فرمایا کہ معمولا تو نہیں پڑھتے تھے ہاں سفر سے جب لوٹتے تو ضرور پڑھتے۔
272
Shamail Tirmidhi
حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ الْبَغْدَادِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَبِيعَةَ عَنْ فُضَيْلِ بْنِ مَرْزُوقٍ عَنْ عَطِيَّةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ کَانَ النَّبِيُّ صلی الله عليه وسلم يُصَلِّي الضُّحَی حَتَّی نَقُولَ لا يَدَعُهَا وَيَدَعُهَا حَتَّی نَقُولَ لا يُصَلِّيهَا
ابوسعید خدری (رض) کہتے ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ صلوہ الضُحٰی کبھی تو اس قدر اہتمام سے پڑھتے تھے کہ ہم لوگوں کا یہ خیال ہوتا تھا کہ اب کبھی نہیں چھوڑیں گے اور حضور اکرم ﷺ کبھی (فرض ہونے کے خوف سے یا کسی اور مصلحت سے) ایسا ترک فرماتے تھے کہ ہم یہ سمجھتے تھے کہ بالکل چھوڑ دی اب کبھی نہیں پڑھیں گے۔
273
Shamail Tirmidhi
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ عَنْ هُشَيْمٍ قَالَ حَدَّثَنَا عُبَيْدَةُ عَنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ سَهْمِ بْنِ مِنْجَابٍ عَنْ قَرْثَعٍ الضَّبِّيِّ أَوْ عَنْ قَزَعَةَ عَنْ قَرْثَعٍ عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الأَنْصَارِيِّ أَنَّ النَّبِيَّ صلی الله عليه وسلم کَانَ يُدْمِنُ أَرْبَعَ رَکَعَاتٍ عِنْدَ زَوَالِ الشَّمْسِ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّکَ تُدْمِنُ هَذِهِ الأَرْبَعَ رَکَعَاتٍ عِنْدَ زَوَالِ الشَّمْسِ فَقَالَ إِنَّ أَبْوَابَ السَّمَائِ تُفْتَحُ عِنْدَ زَوَالِ الشَّمْسِ فَلا تُرْتَجُ حَتَّی تُصَلَّی الظُّهْرُ فَأُحِبُّ أَنْ يَصْعَدَ لِي فِي تِلْکَ السَّاعَةِ خَيْرٌ قُلْتُ أَفِي کُلِّهِنَّ قِرَائَةٌ قَالَ نَعَمْ قُلْتُ هَلْ فِيهِنَّ تَسْلِيمٌ فَاصِلٌ قَالَ لا حدثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ قَالَ حَدَّثَنَا عُبَيْدَةُ عَنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ سَهْمِ بْنِ مِنْجَابٍ عَنْ قَزَعَةَ عَنْ قَرْثَعٍ عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الأَنْصَارِيِّ عَنِ النَّبِيِّ صلی الله عليه وسلم نَحْوَهُ
ابوایوب انصاری (رض) فرماتے ہیں کہ حضور اقدس ﷺ ہمیشہ زوال کے وقت چار رکعت پڑھتے تھے میں نے عرض کیا کہ آپ ان چار رکعتوں کا بڑا اہتمام فرماتے ہیں۔ حضور اکرم ﷺ نے فرمایا کہ آسمان کے دروازے زوال کے وقت سے ظہر کی نماز تک کھلے رہتے ہیں میرا دل چاہتا ہے کہ میرا کوئی کار خیر اس وقت آسمان پر پہنچ جائے میں نے عرض کیا کہ ان کی ہر رکعت میں قرأت کی جائے۔ حضور اکرم ﷺ نے فرمایا کہ ہاں قرأت کی جائے میں نے عرض کیا کہ ان میں دو رکعت پر سلام پھیرا جائے۔ حضور اکرم ﷺ نے فرمایا کہ نہیں چاروں رکعات ایک ہی سلام سے ہونی چاہیں۔
274
Shamail Tirmidhi
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمِ بْنِ أَبِي الْوَضَّاحِ عَنْ عَبْدِ الْکَرِيمِ الْجَزَرِيِّ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ السَّائِبِ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صلی الله عليه وسلم کَانَ يُصَلِّي أَرْبَعًا بَعْدَ أَنْ تَزُولَ الشَّمْسُ قَبْلَ الظُّهْرِ وَقَالَ إِنَّهَا سَاعَةٌ تُفْتَحُ فِيهَا أَبْوَابُ السَّمَائِ فَأُحِبُّ أَنْ يَصْعَدَ لِي فِيهَا عَمَلٌ صَالِحٌ
عبداللہ بن سائب (رض) کہتے ہیں کہ حضور اقدس ﷺ زوال کے بعد ظہر سے قبل چار رکعت پڑھتے تھے اور یہ فرمایا کرتے تھے کہ اس وقت میں آسمان کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں میرا دل چاہتا ہے کہ میرا کوئی عمل صالح اس وقت بارگاہ عالی تک پہنچے۔
275
Shamail Tirmidhi
حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ يَحْيَی بْنُ خَلَفٍ قَالَ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَلِيٍّ الْمُقَدَّمِيُّ عَنْ مِسْعَرِ بْنِ کِدَامٍ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ عَنْ عَلِيٍّ أَنَّهُ کَانَ يُصَلِّي قَبْلَ الظُّهْرِ أَرْبَعًا وَذَکَرَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صلی الله عليه وسلم کَانَ يُصَلِّيهَا عِنْدَ الزَّوَالِ وَيَمُدُّ فِيهَا
حضرت علی (رض) ظہر سے قبل چار رکعت پڑھتے تھے اور یہ فرمایا کرتے تھے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ بھی ان چار رکعت کو پڑھتے تھے اور ان میں طویل قرأت پڑھتے تھے۔