hadith book logo

Shamail Tirmidhi

9. حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے گزارہ کے بیان میں

شمايل الترمذي

67
Shamail Tirmidhi
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا حماد بن زيد عن أيوب عن محمد بن سيرين قال کُنَّا عِنْدَ أَبِی هُرَيْرَةَ رضي الله عنه وَعَلَيْهِ ثَوْبَانِ مُمَشَّقَانِ مِنْ کَتَّان فَتَمَخَّطَ في أحدهما فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ بَخْ بَخْ يَتَمَخَّطُ أَبُو هُرَيْرَةَ فِی الْکَتَّانِ لَقَدْ رَأَيْتُنِي وَإِنِّی لأَخِرُّ فِيمَا بَيْنَ مِنْبَرِ رَسُولِ اللهِ صلی الله عليه وسلم وحُجْرَةِ عَائِشَةَ رضي الله عنها مَغْشِيًّا عَلَيَّّ فَيَجِیئُ الْجَانِی فَيَضَعُ رِجْلَهُ عَلَی عُنُقِی يُرَی أَنّ بِي جْنُونٌا وَمَا بِي جُنُونٍ ومَا هو إِلاَّ الْجُوعُ
ابن سیرین کہتے ہیں، کہ ہم ایک مرتبہ ابوہریرہ (رض) کے پاس تھے۔ ان پر ایک لنگی اور ایک چادر تھی وہ دونوں کتان کی تھیں اور گیروی رنگ میں رنگی ہوئی تھیں۔ ابوہریرہ (رض) نے ان میں سے ایک سے ناک صاف کیا پھر تعجب سے کہنے لگے کہ اللہ اللہ ! آج ابوہریرہ (رض) کتان کے کپڑے سے ناک صاف کرتا ہے اور ایک وہ زمانہ تھا کہ جب میں منبر نبوی ﷺ اور حضرت عائشہ کے حجرہ کے درمیان شدت بھوک کی وجہ سے بےہوش پڑا ہوا ہوتا تھا۔ اور لوگ مجھے مجنوں سمجھ کر میری گردن کو پاؤں سے دباتے تھے اور حقیقتا مجھے جنون وغیرہ کچھ نہیں تھا بلکہ شدت بھوک کی وجہ سے یہ حالت ہوجاتی تھی۔
68
Shamail Tirmidhi
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا جعفر بن سليمان الضبعي عن مالک بن دينار قال مَا شَبِعَ رَسُولِ اللهِ صلی الله عليه وسلم مِنْ خُبْزٍ قَط وَلَحم إِلاَّ عَلی ضفَفَ قال مالک بن دينار سألت رجلا من أهل البادية ما الضفف فقال أن يتناول مع الناس
مالک بن دینار فرماتے ہیں، کہ حضور اقدس ﷺ نے کبھی روٹی سے اور گوشت سے شکم سیری نہیں فرمائی مگر حالت ضفف۔ مالک بن دینار کہتے ہیں، کہ میں نے ایک بدوی سے ضفف کے معنی پوچھے تو اس نے لوگوں کے ساتھ کھانے کے معنی بتائے۔