Shamail Tirmidhi
55. حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خواب میں دیکھنے کا تذکرہ
شمايل الترمذي
384
Shamail Tirmidhiحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ قَالَ حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ خَلِيفَةَ عَنْ أَبِي مَالِکٍ الأَشْجَعِيِّ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی الله عليه وسلم مَنْ رَآنِي فِي الْمَنَامِ فَقَدْ رَآنِي قَالَ أَبُو عِيسَی وَأَبُو مَالِکٍ هَذَا هُوَ سَعْدُ بْنُ طَارِقِ بْنِ أَشْيَمَ وَطَارِقُ بْنُ أَشْيَمَ هُوَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلی الله عليه وسلم وَقَدْ رَوَی عَنِ النَّبِيِّ صلی الله عليه وسلم أَحَادِيثَ سَمِعْتُ عَلِيَّ بْنَ حُجْرٍ يَقُولُ قَالَ خَلَفُ بْنُ خَلِيفَةَ رَأَيْتُ عَمْرَو بْنَ حُرَيْثٍ صَاحِبَ النَّبِيِّ صلی الله عليه وسلم وَأَنَا غُلامٌ صَغِيرٌ
طارق بن اشیم سے بھی یہ ارشاد منقول ہے کہ جس نے مجھے خواب میں دیکھا، اس نے حقیقتاً مجھ ہی کو دیکھا اس لئے کہ شیطان میری صورت نہیں بنا سکتا۔
385
Shamail Tirmidhiحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ هُوَ ابْنُ سَعِيدٍ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ عَنْ عَاصِمِ بْنِ کُلَيْبٍ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی الله عليه وسلم مَنْ رَآنِي فِي الْمَنَامِ فَقَدْ رَآنِي فَإِنَّ الشَّيْطَانَ لا يَتَمَثَّلُنِي قَالَ أَبِي فَحَدَّثْتُ بِهِ ابْنَ عَبَّاسٍ فَقُلْتُ قَدْ رَأَيْتُهُ فَذَکَرْتُ الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ فَقُلْتُ شَبَّهْتُهُ بِهِ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ إِنَّهُ کَانَ يُشْبِهُهُ
کلیب (رح) کہتے ہیں کہ مجھے حضرت ابوہریرہ (رض) نے حضور اقدس ﷺ کا یہ ارشاد مبارک سنایا کہ جو مجھے خواب میں دیکھتے ہیں وہ حقیقتاً مجھ ہی کو خواب میں دیکھتے ہیں اس لئے کہ شیطان میرا شبیہ نہیں بن سکتا۔ کلیب (رح) کہتے ہیں کہ میں نے اس حدیث کا حضرت ابن عباس (رض) سے تذکرہ کیا اور یہ بھی کہا کہ مجھے خواب میں زیارت اقدس میسر ہوئی اس وقت مجھے حضرت امام حسن (رض) کا خیال آیا میں نے حضرت ابن عباس (رض) سے کہا کہ میں نے اس خواب کی صورت کو حضرت حسن (رض) کی صورت کے بہت مشابہہ پایا، اس پر حضرت ابن عباس نے اس کی تصدیق فرمائی کہ واقعی حضرت حسن آپ کے بہت مشابہ تھے۔
386
Shamail Tirmidhiحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالا حَدَّثَنَا عَوْفُ بْنُ أَبِي جَمِيلَةَ عَنْ يَزِيدَ الْفَارِسِيِّ وَکَانَ يَکْتُبُ الْمَصَاحِفَ قَالَ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صلی الله عليه وسلم فِي الْمَنَامِ زَمَنَ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ فَقُلْتُ لابْنِ عَبَّاسٍ إِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صلی الله عليه وسلم فِي النَّوْمِ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ إِنَّ رَسُولَ اللهِ کَانَ يَقُولُ إِنَّ الشَّيْطَانَ لا يَسْتَطِيعُ أَنْ يَتَشَبَّهَ بِي فَمَنْ رَآنِي فِي النَّوْمِ فَقَدْ رَآنِي هَلْ تَسْتَطِيعُ أَنْ تَنْعَتَ هَذَا الرَّجُلَ الَّذِي رَأَيْتَهُ فِي النَّوْمِ قَالَ نَعَمْ أَنْعَتُ لَکَ رَجُلا بَيْنَ الرَّجُلَيْنِ جِسْمُهُ وَلَحْمُهُ أَسْمَرُ إِلَی الْبَيَاضِ أَکْحَلُ الْعَيْنَيْنِ حَسَنُ الضَّحِکِ جَمِيلُ دَوَائِرِ الْوَجْهِ مَلأَتْ لِحْيَتُهُ مَا بَيْنَ هَذِهِ إِلَی هَذِهِ قَدْ مَلأَتْ نَحْرَهُ قَالَ عَوْفٌ وَلا أَدْرِي مَا کَانَ مَعَ هَذَا النَّعْتِ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ لَوْ رَأَيْتَهُ فِي الْيَقَظَةِ مَا اسْتَطَعْتَ أَنْ تَنْعَتَهُ فَوْقَ هَذَا قَالَ أَبُو عِيسَی سقط من هنا کلام طويل من تعريف يزيد الفارسي وغيره حدثنا أبو داود سليمان بن سلم البلخي حدثنا النضر بن شميل قال قال عوف الأعرابي أنا أکبر من قتادة
یزید فارسی کلام اللہ شریف لکھا کرتے تھے۔ ایک مرتبہ خواب میں حضور اکرم ﷺ کی زیارت سے مشرف ہوئے۔ حضرت ابن عباس (رض) اس وقت حیات تھے، ان سے خواب عرض کیا انہوں نے اول ارشاد نبوی ﷺ سنایا کہ جو خواب میں دیکھتا ہے وہ حقیقتاً مجھ ہی کو دیکھتا ہے اس لئے کہ شیطان میری صورت نہیں بنا سکتا۔ یہ ارشاد سنا کر پوچھا کیا خواب کی دیکھی ہوئی صورت کا حلیہ بیان کرسکتے ہو ؟ میں نے عرض کیا کہ آپ ﷺ کا بدن اور آپ ﷺ کا اقامت دونوں چیزیں معتدل اور درمیانی (یعنی جسم مبارک نہ زیادہ موٹا اور نہ زیادہ دبلا ایسے قد نہ زیادہ لمبا نہ زیادہ کوتاہ بلکہ معتدل) آپ کا رنگ گندمی مائل بسفید، آنکھیں سرمگیں خندہ دہن خوب صورت گول چہرہ داڑھی نہایت گنجان جو پورے چہرہ انور کا احاطہ کئے ہوئے تھی اور سینہ کے ابتدائی حصہ پر پھیلی ہوئی تھی۔ عوف (رض) جو اس روایت کے ایک راوی ہیں وہ کہتے ہیں کہ مجھے یاد نہیں رہا کہ میرے استاد یزید نے جو اس خواب کے دیکھنے والے ہیں ان مذکورہ صفات کے ساتھ اور کیا کیا صفتیں بیان فرمائی تھیں۔ حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا کہ اگر تم حضور اکرم ﷺ کو عالم حیات میں دیکھتے تو اس سے زیادہ حلیہ اقدس نہ بتاسکتے، گویا بالکل ہی صحیح حلیہ بیان کردیا۔
387
Shamail Tirmidhiحَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَبِي زِيَادٍ قَالَ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ الزُّهْرِيُّ عَنْ عَمِّهِ قَالَ قَالَ أَبُو سَلَمَةَ قَالَ أَبُو قَتَادَةَ قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی الله عليه وسلم مَنْ رَآنِي يَعْنِي فِي النَّوْمِ فَقَدْ رَأَی الْحَقَّ
ابوقتادہ (رض) سے بھی حضور اکرم ﷺ کا یہ ارشاد مروی ہے کہ جس نے مجھے خواب میں دیکھا اس نے واقعی امر دیکھا۔
388
Shamail Tirmidhiحَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا مُعَلَّی بْنُ أَسَدٍ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْمُخْتَارِ قَالَ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صلی الله عليه وسلم قَالَ مَنْ رَآنِي فِي الْمَنَامِ فَقَدْ رَآنِي فَإِنَّ الشَّيْطَانَ لا يَتَخَيَّلُ بِي وَقَالَ وَرُؤْيَا الْمُؤْمِنِ جُزْئٌ مِنْ سِتَّةٍ وَأَرْبَعِينَ جُزْئًا مِنَ النُّبُوَّةِ
حضرت انس (رض) فرماتے ہیں کہ حضور اکرم ﷺ نے یہ ارشاد فرمایا کہ جو شخص مجھے خواب میں دیکھے اس نے حقیقتاً مجھ ہی کو دیکھا اس لئے کہ شیطان میری صورت نہیں بنا سکتا۔ حضور اکرم ﷺ نے یہ بھی ارشاد فرمایا کہ مومن کا وہ خواب (جو فرشتہ کے اثر سے ہوتا ہے) نبوت کے چھیالیس اجزاء میں سے ایک جزو ہوتا ہے۔
389
Shamail Tirmidhiحدثنا محمد بن علي قال سمعت أبي يقول قال عبد الله ابن المبارک إذا ابتليت بالقضائ فعليک بالأثر
عبداللہ بن مبارک بڑے ائمہ حدیث میں سے ہیں۔ فقہا اور صوفیہ میں بھی ان کا شمار ہے بڑے شیخ عابد زاہد تھے اور حدیث کے حافظوں میں گنے جاتے ہیں۔ تاریخ کی کتابوں میں بڑے فضائل ان کے لکھے ہیں وہ فرماتے ہیں کہ اگر کبھی قاضی اور فیصل کنندہ بننے کی نوبت آئے تو منقولات کا اتباع کیجیو۔
390
Shamail Tirmidhiحدثنا محمد بن علي حدثنا النضر بن عون عن ابن سيرين قال هذا الحديث دين فانظروا عمن تأخذون دينکم
ابن سیرین کہتے ہیں کہ علم حدیث (اور ایسے ہی اور دینی علوم سب) دین میں داخل ہیں۔ لہٰذا علم حاصل کرنے سے قبل یہ دیکھو کہ اس دین کو کس شخص سے حاصل کر رہے ہیں۔