Shamail Tirmidhi
31. حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پینے کی چیزوں کے احوال میں
شمايل الترمذي
193
Shamail Tirmidhiحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ مَعْمَرٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ کَانَ أَحَبَّ الشَّرَابِ إِلَی رَسُولِ اللهِ صلی الله عليه وسلم الْحُلْوُ الْبَارِدُ
حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ حضور اقدس ﷺ کو پینے کی سب چیزوں میں میٹھی اور ٹھنڈی چیز مرغوب تھی۔
194
Shamail Tirmidhiحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ قَالَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ عَنْ عُمَرَ هُوَ ابْنُ أَبِي حَرْمَلَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ دَخَلْتُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صلی الله عليه وسلم أَنَا وَخَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ عَلَی مَيْمُونَةَ فَجَائَتْنَا بِإِنَائٍ مِنْ لَبَنٍ فَشَرِبَ رَسُولُ اللهِ صلی الله عليه وسلم وَأَنَا عَلَی يَمِينِهِ وَخَالِدٌ عَلَی شِمَالِهِ فَقَالَ لِي الشَّرْبَةُ لَکَ فَإِنْ شِئِتَ آثَرْتَ بِهَا خَالِدًا فَقُلْتُ مَا کُنْتُ لأُوثِرَ عَلَی سُؤْرِکَ أَحدًا ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی الله عليه وسلم مَنْ أَطْعَمَهُ اللَّهُ طَعَامًا فَلْيَقُلِ اللَّهُمَّ بَارِکْ لَنَا فِيهِ وَأَطْعِمْنَا خَيْرًا مِنْهُ وَمَنْ سَقَاهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَبَنًا فَلْيَقُلِ اللَّهُمَّ بَارِکْ لَنَا فِيهِ وَزِدْنَا مِنْهُ ثُمَّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی الله عليه وسلم لَيْسَ شَيْئٌ يُجْزِئُ مَکَانَ الطَّعَامِ وَالشَّرَابِ غَيْرُ اللَّبَنِ
ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ میں اور خالد بن ولید دونوں حضور اقدس ﷺ کے ساتھ حضرت میمونہ (رض) کے گھر گئے (ام المومنین حضرت میمونہ ان دونوں حضرات کی خالہ تھیں) وہ اک برتن میں دودھ لے کر آئیں حضور اقدس ﷺ نے اس میں سے تناول فرمایا میں دائیں جانب تھا اور خالد بن ولید بائیں جانب مجھ سے ارشاد فرمایا کہ اب پینے کا حق تیرا ہے (کہ تو دائیں جانب ہے) اگر تو اپنی خوشی سے چاہے تو خالد کو ترجیح دے دے میں نے عرض کیا کہ آپ ﷺ کے جھوٹے پر میں کسی کو ترجیح نہیں دے سکتا۔ اس کے بعد حضور اقدس ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جب کسی شخص کو حق تعالیٰ شانہ کوئی چیز کھلائیں تو یہ دعا پڑھنی چاہیے۔