Shamail Tirmidhi
53. حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے وصال کا ذکر
شمايل الترمذي
361
Shamail Tirmidhiحَدَّثَنَا أَبُو عَمَّارٍ الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَغَيْرُ وَاحِدٍ قَالُوا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ آخِرُ نَظْرَةٍ نَظَرْتُهَا إِلَی رَسُولِ اللهِ صلی الله عليه وسلم کَشْفُ السِّتَارَةِ يَوْمَ الاثْنَيْنِ فَنَظَرْتُ إِلَی وَجْهِهِ کَأَنَّهُ وَرَقَةُ مُصْحَفٍ وَالنَّاسُ خَلْفَ أَبِي بَکْرٍ فَکَادَ النَّاسُ أَنْ يَضْطَربُوا فَأَشَارَ إِلَی النَّاسِ أَنِ اثْبُتُوا وَأَبُو بَکْرٍ يَؤُمُّهُمْ وَأَلْقَی السِّجْفَ وَتُوُفِّيَ رَسُولُ اللهِ صلی الله عليه وسلم مِنْ آخِرِ ذَلِکَ الْيَوْمِ
حضرت انس (رض) فرماتے ہیں کہ مجھے جس وقت حضور اکرم ﷺ کا آخری دیدار نصیب ہوا وہ وقت تھا جب کہ حضور اکرم ﷺ نے مرض الوفات میں دو شنبہ کے روز صبح کی نماز کے وقت دولت کدہ کا پردہ اٹھایا کہ امتیوں کی نماز کا آخری معائنہ فرمالیں۔ لوگ اس وقت صدیق اکبر (رض) کی اقتداء میں صبح کی نماز ادا کر رہے تھے (صحابہ (رض) آپ ﷺ کو دیکھ کر فرطِ خوشی میں پیچھے ہٹنے لگے اس خیال سے کہ شاید آپ ﷺ تشریف لاتے ہوں اس لئے کہ اس سے پہلے بھی بیماری کے ایام میں حضرت ابوبکر (رض) نماز پڑھاتے رہے اور جس وقت حضور ﷺ کو افاقہ ہوتا تھا تشریف لا کر جماعت میں شرکت فرماتے تھے) حضور اکرم ﷺ نے اشارہ فرمایا کہ اپنی جگہ کھڑے رہو اور اسی دن وصال ہوگیا۔
362
Shamail Tirmidhiحَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ الْبَصْرِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا سُلَيْمُ بْنُ أَخْضَرَ عَنِ ابْنِ عَوْنٍ عَنِ إِبْرَاهِيمَ عَنِ الأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ کُنْتُ مُسْنِدَةً النَّبِيَّ صلی الله عليه وسلم إِلَی صَدْرِي أَوْ قَالَتْ إِلَی حِجْرِي فَدَعَا بِطَسْتٍ لِيَبُولَ فِيهِ ثُمَّ بِالَ فَمَاتَ صلی الله عليه وسلم
حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ وصال کے وقت میں نے حضور عالی ﷺ کو اپنے سینہ پر سہارا دے رکھا تھا کہ آپ ﷺ نے پیشاب کے لئے طشت منگوایا اور پیشاب سے فراغت حاصل کی اور اس کے بعد پھر وصال ہوگیا۔
363
Shamail Tirmidhiحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنِ ابْنِ الْهَادِ عَنْ مُوسَی بْنِ سَرْجِسَ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صلی الله عليه وسلم وَهُوَ بِالْمَوْتِ وَعِنْدَهُ قَدَحٌ فِيهِ مَائٌ وَهُوَ يُدْخِلُ يَدَهُ فِي الْقَدَحِ ثُمَّ يَمْسَحُ وَجْهَهُ بِالْمَائِ ثُمَّ يَقُولُ اللَّهُمَّ أَعِنِّي عَلَی مُنْکَرَاتِ أَوْ قَالَ عَلَی سَکَرَاتِ الْمَوْتِ
حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ وصال کے وقت حضور اقدس ﷺ کے قریب ایک پیالہ میں پانی رکھا ہوا تھا کہ اس میں حضور اکرم ﷺ بار بار ہاتھ ڈالتے تھے اور چہرہ مبارک پر پھیرتے تھے (کہ یہ شدت حرارت اور گھبراہٹ کے وقت سکون کا سبب ہوتا ہے) اس وقت حضور اکرم ﷺ بارگاہ الٰہی میں یہ دعا فرما رہے تھے کہ یا اللہ موت کے شدت پر میری امداد فرما۔
364
Shamail Tirmidhiحَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الصَّبَّاحِ الْبَزَّازُ قَالَ حَدَّثَنَا مُبَشِّرُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْعَلائِ عَنْ أَبِيهِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ لا أَغْبِطُ أَحَدًا بَهَوْنِ مَوْتٍ بَعْدَ الَّذِي رَأَيْتُ مِنْ شِدَّةِ مَوْتِ رَسُولِ اللهِ صلی الله عليه وسلم
حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ حضور اقدس ﷺ کی شدت تکلیف کے بعد اب مجھے کسی شخص کے مرض الموت میں تکلیف نہ ہونے پر رشک نہیں ہوتا۔
365
Shamail Tirmidhiحَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلائِ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَکْرٍ وَهُوَ ابْنُ الْمُلَيْکِيِّ عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْکَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ لَمَّا قُبِضَ رَسُولُ اللهِ صلی الله عليه وسلم اخْتَلَفُوا فِي دَفْنِهِ فَقَالَ أَبُو بَکْرٍ سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللهِ صلی الله عليه وسلم شَيْئًا مَا نَسِيتُهُ قَالَ مَا قَبَضَ اللَّهُ نَبِيًّا إِلا فِي الْمَوْضِعِ الَّذِي يُحِبُّ أَنْ يُدْفَنَ فِيهِ ادْفِنُوهُ فِي مَوْضِعِ فِرَاشِهِ
حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ حضور ﷺ کے وصال کے وقت آپ ﷺ کے دفن میں صحابہ (رض) کا اختلاف ہوا ( کسی نے مسجد نبوی کو پسند کیا اور کسی نے آپ ﷺ کے صحابہ (رض) کے قرب کی وجہ سے بقیع کو کسی کا خیال جد اعلیٰ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے مدفن پر پہنچانے کا ہوا تو کسی کا وطن اصلی مکہ مکرمہ واپس لانے کا۔ غرض مختلف رائیں ہو رہی تھیں) کہ حضرت ابوبکر (رض) نے فرمایا کہ میں نے خود حضور ﷺ سے ایک بات سنی ہے جو مجھے خوب یاد ہے کہ انبیاء (علیہم السلام) کا وصال اسی جگہ ہوتا ہے جہاں ان کا پسندیدہ دفن ہو۔ اس لئے حضور اکرم ﷺ کو آپ کے وصال ہی کی جگہ دفن کرنا چاہئے۔
366
Shamail Tirmidhiحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ وعياش العنبری وسوار بن عبد الله وغير واحد قالوا أخبرنا يحيي بن سعيد عن سفيان الثوری عن موسیٰ بن أبي عائشة عن عبيد الله عن ابن عباس وعائشة أن أبا بکر قبل النبي صلی الله عليه وسلم بعدما مات
حضرت ابن عباس (رض) اور حضرت عائشہ (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت ابوبکر صدیق (رض) حضور اکرم ﷺ کے وصال کے بعد تشریف لائے اور آپ ﷺ کی پیشانی مبارک کو بوسہ دیا۔
367
Shamail Tirmidhiحدثنا نصر بن علي الجهضمي حدثنا مرحوم بن عبد العزيز العطار عن يزيد بن بابنوس عن عائشة أن أبا بکر دخل علی النبي صلی الله عليه وسلم بعد وفاته فوضع فمه بين عينيه ووضع يديه علی ساعديه وقال وانبياه واصفياه واخليلاه
حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ حضور اکرم ﷺ کے وصال کے بعد حضرت ابوبکر (رض) تشریف لائے آپ ﷺ کی پیشانی مبارک پر بوسہ دیا اور آپ ﷺ کے دونوں بازؤں پر ہاتھ رکھ کر یہ فرمایا ہائے نبی ہائے صفی اور ہائے خلیل۔
368
Shamail Tirmidhiحَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ هِلالٍ الصَّوَّافُ الْبَصْرِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ لَمَّا کَانَ الْيَوْمُ الَّذِي دَخَلَ فِيهِ رَسُولُ اللهِ صلی الله عليه وسلم الْمَدِينَةَ أَضَائَ مِنْهَا کُلُّ شَيْئٍ فَلَمَّا کَانَ الْيَوْمُ الَّذِي مَاتَ فِيهِ أَظْلَمَ مِنْهَا کُلُّ شَيْئٍ وَمَا نَفَضْنَا أَيْدِيَنَا مِنَ التُّرَابِ وَإِنَا لَفِي دَفْنِهِ صلی الله عليه وسلم حَتَّی أَنْکَرْنَا قُلُوبَنَا
حضرت انس (رض) فرماتے ہیں کہ جس روز حضور اقدس ﷺ مدینہ منورہ تشریف لائے تھے مدینہ کی ہر چیز منور اور روشن بن گئی تھی ( اور جب انوار کی کثرت ہوتی ہے تو اس قسم کی روشنی محسوس بھی ہوجاتی ہے۔ رمضان المبارک کی اندھیری راتوں میں بسا اوقات انوار کی کثرت سے روشنی ہوجاتی ہے اور جس دن حضور اکرم ﷺ کا وصال ہوا تو مدینہ کی ہر چیز تاریک بن گئی تھی ہم لوگ حضور اکرم ﷺ کے وصال کے بعد مٹی سے ہاتھ بھی نہ جھاڑنے پائے تھے کہ ہم نے اپنے قلوب میں تغیر پایا تھا۔
369
Shamail Tirmidhiحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ قَالَ حَدَّثَنَا عَامِرُ بْنُ صَالِحٍ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ تُوُفِّيَ رَسُولُ اللهِ صلی الله عليه وسلم يَوْمَ الاثْنَيْنِ
حضرت عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ حضور اکرم ﷺ کا وصال دو شنبہ کے روز ہوا۔
370
Shamail Tirmidhiحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُمَرَ قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قُبِضَ رَسُولُ اللهِ صلی الله عليه وسلم يَوْمَ الاثْنَيْنِ فَمَکَثَ ذَلِکَ الْيَوْمَ وَلَيْلَةَ الثُّلاثَائِ وَدُفِنَ مِنَ اللَّيْلِ وَقَالَ سُفْيَانُ وَقَالَ غَيْرُهُ يُسْمَعُ صَوْتُ الْمَسَاحِي مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ
امام باقر (رح) سے منقول ہے کہ حضور اکرم ﷺ کا وصال دو شنبہ کے روز ہوا۔ یہ روز اور سہ شنبہ کا روز انتظام میں گزرا اور منگل بدھ کی درمیانی شب میں حضور اکرم ﷺ کو قبر شریف میں اتارا گیا۔ سفیان (رض) جو اس حدیث کے راوی ہیں وہ کہتے ہیں کہ امام باقر (رح) کی حدیث میں وہی ہے جو گزرا لیکن اور روایت میں یہ بھی ہے کہ اخیر حصہ شب میں پھاؤڑوں کی آواز آتی تھی۔