Shamail Tirmidhi
3. حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سر مبارک کے بالوں کا بیان
شمايل الترمذي
23
Shamail Tirmidhiحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ قَالَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ أنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ کَانَ شَعَرُ رَسُولِ اللهِ صلی الله عليه وسلم إِلَی نِصْفِ أُذُنَيْهِ
حضرت انس (رض) فرماتے ہیں، کہ حضور اکرم ﷺ کے بال مبارک نصف کانوں تک تھے۔
24
Shamail Tirmidhiحَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ قَالَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ کُنْتُ أَغْتَسِلُ أَنَا وَرَسُولُ اللهِ صلی الله عليه وسلم مِنْ إِنَائٍ وَاحِدٍ وَکَانَ لَهُ شَعَرٌ فَوْقَ الْجُمَّةِ وَدُونَ الْوَفْرَةِ
حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ میں اور حضور اقدس ﷺ ایک ہی برتن میں غسل کیا کرتے اور حضور اقدس ﷺ کے بال مبارک ایسے پٹھوں سے جو کان کی لو تک ہوا کرتے ہیں ان سے زیادہ تھے۔ اور ان سے کم تھے جو مونڈھوں تک ہوتے ہیں۔ یعنی نہ زیادہ لمبے تھے نہ چھوٹے بلکہ متوسط درجہ کے تھے۔
25
Shamail Tirmidhiحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَ حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ قَتَادَةَ قَالَ قُلْتُ لأَنَسٍ کَيْفَ کَانَ شَعَرُ رَسُولِ اللهِ صلی الله عليه وسلم قَالَ لَمْ يَکُنْ بِالْجَعْدِ وَلا بِالسَّبْطِ کَانَ يَبْلُغُ شَعَرُهُ شَحْمَةَ أُذُنَيْهِ
حضرت براء فرماتے ہیں کہ حضور اکرم ﷺ متوسط القامۃ تھے آپ ﷺ کے دونوں شانوں کا درمیانی حصہ وسیع تھا۔ آپ کے بال کانوں کی لوتک ہوتے تھے۔
26
Shamail Tirmidhiقتادہ (رض) کہتے ہیں، کہ میں نے حضرت انس (رض) سے پوچھا کہ حضور اکرم ﷺ کے بال مبارک کیسے تھے۔ انہوں نے فرمایا کہ نہ بالکل پیچیدہ نہ بالکل کھلے ہوئے بلکہ تھوڑی سی پیچیدگی اور گھنگریالہ پن لئے ہوئے تھے جو کانوں کی لو تک پہنچتے تھے۔
27
Shamail Tirmidhiحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَی بْنِ أَبِي عُمَرَ الْمَکِّيُّ قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ أُمِّ هَانِئٍ بِنْتِ أَبِي طَالِبٍ قَالَتْ قَدِمَ رَسُولُ اللهِ صلی الله عليه وسلم مَکَّةَ قَدْمَةً وَلَهُ أَرْبَعُ غَدَائِرَ
ام ہانی (رض) فرماتی ہیں کہ حضور اقدس ﷺ ہجرت کے بعد ایک مرتبہ مکہ مکرمہ تشریف لائے تو آپ ﷺ کے بال مبارک چار حصے مینڈھیوں کے طور پر ہو رہے تھے۔
28
Shamail Tirmidhiحَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَکِ عَنْ مَعْمَرٍ عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ شَعَرَ رَسُولِ اللهِ صلی الله عليه وسلم کَانَ إِلَی أَنْصَافِ أُذُنَيْهِ
حضرت انس (رض) سے روایت ہے کہ حضور اکرم ﷺ کے بال مبارک نصف کانوں تک ہوتے تھے۔
29
Shamail Tirmidhiحَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَکِ عَنْ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلی الله عليه وسلم کَانَ يُسْدِلُ شَعَرَهُ وَکَانَ الْمُشْرِکُونَ يَفْرِقُونَ رُؤُوسَهُمْ وَکَانَ أَهْلُ الْکِتَابِ يُسْدِلُونَ رُؤُوسَهُمْ وَکَانَ يُحِبُّ مُوَافَقَةَ أَهْلِ الْکِتَابِ فِيمَا لَمْ يُؤْمَرْ فِيهِ بِشَيْئٍ ثُمَّ فَرَقَ رَسُولُ اللَّهِ صلی الله عليه وسلم رَأْسَهُ
حضرت ابن عباس (رض) فرماتے ہیں، حضور اقدس ﷺ اولاً بالوں کو بغیر مانگ نکال کے ویسے ہی چھوڑ دیا کرتے تھے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ مشرکین مانگ نکالا کرتے تھے اور اہل کتاب نہیں نکالتے تھے۔ حضور اقدس ﷺ ابتداء ان امور میں جن میں کوئی حکم نازل نہیں ہوتا تھا اہل کتاب کی موافقت کو پسند فرماتے تھے۔ لیکن اس کے بعد یہ منسوخ ہوگیا اس لئے حضور اقدس ﷺ مخالفتِ اہل کتاب کرنے لگے۔
30
Shamail Tirmidhiحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ نَافِعٍ الْمَکِّيِّ عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ أُمِّ هَانِئٍ قَالَتْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صلی الله عليه وسلم ذَا ضَفَائِرَ أَرْبَعٍ
ام ہانی (رض) فرماتی ہیں کہ میں نے حضور اکرم ﷺ کو چار گیسوؤں والا دیکھا۔