Muawtta Imam Malik
10. کتاب قصر الصلوة فی السفر
موطأ مالك
294
Muawtta Imam Malikعَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ يَجْمَعُ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ فِي سَفَرِهِ إِلَی تَبُوکَ
اعرج سے روایت ہے کہ رسول اللہ جمع کرتے تھے ظہر اور عصر کو سفر تبوک میں
295
Muawtta Imam Malikعَنْ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ أَخْبَرَهُ أَنَّهُمْ خَرَجُوا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ تَبُوکَ فَکَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَجْمَعُ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ وَالْمَغْرِبِ وَالْعِشَائِ قَالَ فَأَخَّرَ الصَّلَاةَ يَوْمًا ثُمَّ خَرَجَ فَصَلَّی الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ جَمِيعًا ثُمَّ دَخَلَ ثُمَّ خَرَجَ فَصَلَّی الْمَغْرِبَ وَالْعِشَائَ جَمِيعًا ثُمَّ قَالَ إِنَّکُمْ سَتَأْتُونَ غَدًا إِنْ شَائَ اللَّهُ عَيْنَ تَبُوکَ وَإِنَّکُمْ لَنْ تَأْتُوهَا حَتَّی يَضْحَی النَّهَارُ فَمَنْ جَائَهَا فَلَا يَمَسَّ مِنْ مَائِهَا شَيْئًا حَتَّی آتِيَ فَجِئْنَاهَا وَقَدْ سَبَقَنَا إِلَيْهَا رَجُلَانِ وَالْعَيْنُ تَبِضُّ بِشَيْئٍ مِنْ مَائٍ فَسَأَلَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَلْ مَسِسْتُمَا مِنْ مَائِهَا شَيْئًا فَقَالَا نَعَمْ فَسَبَّهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ لَهُمَا مَا شَائَ اللَّهُ أَنْ يَقُولَ ثُمَّ غَرَفُوا بِأَيْدِيهِمْ مِنْ الْعَيْنِ قَلِيلًا قَلِيلًا حَتَّی اجْتَمَعَ فِي شَيْئٍ ثُمَّ غَسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهِ وَجْهَهُ وَيَدَيْهِ ثُمَّ أَعَادَهُ فِيهَا فَجَرَتْ الْعَيْنُ بِمَائٍ کَثِيرٍ فَاسْتَقَی النَّاسُ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُوشِکُ يَا مُعَاذُ إِنْ طَالَتْ بِکَ حَيَاةٌ أَنْ تَرَی مَا هَاهُنَا قَدْ مُلِئَ جِنَانًا
معاذ بن جبل سے روایت ہے کہ صحابہ نکلے ساتھ رسول اللہ ﷺ کے غزوہ تبوک کے سال تو رسول اللہ ﷺ جمع کرتے ظہر اور عصر اور مغرب اور عشاء کو پس ایک دن تاخیر کی ظہر کی پھر نکل کر ظہر اور عصر کو ایک ساتھ پڑھا پھر داخل ہوئے ایک مقام میں پھر وہاں سے نکل کر مغرب اور عشاء کو ایک ساتھ پڑھا پھر فرمایا کہ کل اگر اللہ چاہے تو تم پہنچ جاؤں گے تبوک کے چشمہ پر سو تم ہرگز نہ پہنچو گے یہاں تک کہ دن چڑھ جائے گا اگر تم میں سے کوئی اس چشمہ پر پہنچے تو اس کا پانی نہ چھوئے جب تک میں نہ آلوں پھر پہنچے ہم اس چشمہ پر اور ہم سے آگے دو شخص وہاں پہنچ چکے تھے اور چشمہ میں کچھ تھوڑا سا پانی چمک رہا تھا پس پوچھا ان دونوں شخصوں سے رسول اللہ ﷺ نے کیا چھوا تم نے اس کا پانی بولے ہاں سو خفا ہوئے رسول اللہ ﷺ ان دونوں پر سخت کہا ان کو اور جو منظور تھا اللہ کو وہ کہا ان سے پھر لوگوں نے چلووں سے تھوڑا تھوڑا پانی چشمہ سے نکال کر ایک برتن میں اکٹھا کیا اور رسول اللہ ﷺ انے اپنے منہ اور ہاتھ دونوں اس میں دھو کر وہ پانی پھر اس چشمہ میں ڈال دیا پس چشمہ خوب بھر کر بہنے لگا سو پیا لوگوں نے پانی اور پلایا جانوروں کو بعد اس کے فرمایا رسول اللہ ﷺ نے قریب ہے اے معاذ اگر زندگی تیری زیادہ ہو تو دیکھے گا تو یہ پانی بھر دے گا باغوں کو۔
296
Muawtta Imam Malikعَنْ نَافِعٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ قَالَ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا عَجِلَ بِهِ السَّيْرُ يَجْمَعُ بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَائِ
نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر نے کہا رسول اللہ ﷺ کو جب جلدی چلنا سفر میں منظور ہوتا تو جمع کرلیتے مغرب اور عشاء کو۔
297
Muawtta Imam Malikعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ قَالَ صَلَّی رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ جَمِيعًا وَالْمَغْرِبَ وَالْعِشَائَ جَمِيعًا فِي غَيْرِ خَوْفٍ وَلَا سَفَرٍ قَالَ مَالِک أُرَی ذَلِکَ کَانَ فِي مَطَرٍ
عبداللہ بن عباس (رض) سے روایت ہے کہ پڑھیں ہمارے ساتھ رسول اللہ ﷺ نے ظہر اور عصر ایک ساتھ اور مغرب اور عشاء ایک ساتھ بغیر خوف اور بغیر سفر کے امام مالک نے کہا میرے نزدیک شاید یہ واقعہ بارش کے وقت ہوگا۔
298
Muawtta Imam Malikعَنْ نَافِعٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ کَانَ إِذَا جَمَعَ الْأُمَرَائُ بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَائِ فِي الْمَطَرِ جَمَعَ مَعَهُمْ
نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر جمع کرلیتے حاکموں کے ساتھ مغرب اور عشاء بارش کے وقت میں۔
299
Muawtta Imam Malikعَنْ ابْنِ شِهَابٍ أَنَّهُ سَأَلَ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ هَلْ يُجْمَعُ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ فِي السَّفَرِ فَقَالَ نَعَمْ لَا بَأْسَ بِذَلِکَ أَلَمْ تَرَ إِلَی صَلَاةِ النَّاسِ بِعَرَفَةَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ أَنَّهُ کَانَ يَقُولُ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَسِيرَ يَوْمَهُ جَمَعَ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ وَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَسِيرَ لَيْلَهُ جَمَعَ بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَائِ
ابن شہاب نے پوچھا سالم بن عبداللہ بن عمر سے کیا سفر میں ظہر اور عصر جمع کی جائیں بولے کچھ حرج نہیں ہے کیا تم نے عرفات میں نہیں دیکھا ظہر اور عصر کو جمع کرتے ہیں۔ امام زین العابدین سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب دن کو چلنا چاہتے ظہر اور عصر کو جمع کرلیتے اور جب رات کو چلنا چاہتے مغرب اور عشاء کو جمع کرلیتے۔
300
Muawtta Imam Malikعَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ رَجُلٍ مِنْ آلِ خَالِدِ بْنِ أَسِيدٍ أَنَّهُ سَأَلَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ فَقَالَ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ إِنَّا نَجِدُ صَلَاةَ الْخَوْفِ وَصَلَاةَ الْحَضَرِ فِي الْقُرْآنِ وَلَا نَجِدُ صَلَاةَ السَّفَرِ فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ يَا ابْنَ أَخِي إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ بَعَثَ إِلَيْنَا مُحَمَّدًا صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا نَعْلَمُ شَيْئًا فَإِنَّمَا نَفْعَلُ کَمَا رَأَيْنَاهُ يَفْعَلُ
امیہ بن عبداللہ نے پوچھا عبداللہ بن عمر سے کہ ہم پاتے ہیں خوف کی نماز اور حضرت کی نماز کو قرآن میں اور نہیں پاتے ہیں ہم سفر کی نماز کو قرآن میں عبداللہ بن عمر نے جواب دیا کہ اے بھتیجے میرے اللہ جل جلالہ نے بھیجا ہمارے طرف حضرت محمد ﷺ کو اس وقت میں کہ ہم کچھ نہ جانتے تھے پس کرتے ہیں ہم جس طرح ہم نے دیکھا حضرت محمد ﷺ کو کرتے ہوئے۔
301
Muawtta Imam Malikعَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهَا قَالَتْ فُرِضَتْ الصَّلَاةُ رَکْعَتَيْنِ رَکْعَتَيْنِ فِي الْحَضَرِ وَالسَّفَرِ فَأُقِرَّتْ صَلَاةُ السَّفَرِ وَزِيدَ فِي صَلَاةِ الْحَضَرِ
حضرت ام المومنیں حضرت عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ کہا انہوں نے نماز دو دو رکعتیں فرض ہوئیں تھیں حضر میں اور سفر میں بعد اس کے سفر میں نماز اپنے حال پر رہی اور حضر کی نماز بڑھا دی گئی۔
302
Muawtta Imam Malikعَنْ يَحْيَی بْنِ سَعِيدٍ أَنَّهُ قَالَ لِسَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ مَا أَشَدَّ مَا رَأَيْتَ أَبَاکَ أَخَّرَ الْمَغْرِبَ فِي السَّفَرِ فَقَالَ سَالِمٌ غَرَبَتْ الشَّمْسُ وَنَحْنُ بِذَاتِ الْجَيْشِ فَصَلَّی الْمَغْرِبَ بِالْعَقِيقِ
یحییٰ بن سعید نے کہا سالم بن عبداللہ سے کہ تم نے اپنے باپ کو کہاں تک دیر کرتے دیکھا مغرب کی نماز میں سفر میں سالم نے کہا آفتاب ڈوب گیا تھا اور ہم اس وقت ذات الجیش میں تھے پھر نماز پڑھی مغرب کی عقیق میں۔
303
Muawtta Imam Malikعَنْ نَافِعٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ کَانَ إِذَا خَرَجَ حَاجًّا أَوْ مُعْتَمِرًا قَصَرَ الصَّلَاةَ بِذِي الْحُلَيْفَةِ
نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر جب مدینہ سے نکلتے مکہ کو حج یا عمرہ کے لئے تو قصر کرتے نماز کو ذوالحلیفہ سے