Muawtta Imam Malik
27. کتاب قربانیوں کی
موطأ مالك
969
Muawtta Imam Malikعَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ مَاذَا يُتَّقَى مِنْ الضَّحَايَا فَأَشَارَ بِيَدِهِ وَقَالَ أَرْبَعًا وَكَانَ الْبَرَاءُ يُشِيرُ بِيَدِهِ وَيَقُولُ يَدِي أَقْصَرُ مِنْ يَدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعَرْجَاءُ الْبَيِّنُ ظَلْعُهَا وَالْعَوْرَاءُ الْبَيِّنُ عَوَرُهَا وَالْمَرِيضَةُ الْبَيِّنُ مَرَضُهَا وَالْعَجْفَاءُ الَّتِي لَا تُنْقِي
براء بن عازب سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے پوچھا گیا قربانی میں کن جانوروں سے بچنا چاہئے ؟ آپ ﷺ نے اپنی انگلیوں سے بتایا کہ چار سے بچنا چاہئے براء بن عازب بھی انگلیوں سے بتایا کرتے اور کہتے کہ میرا ہاتھ چوڑا ہے رسول اللہ ﷺ کے ہاتھ سے، ایک لنگڑا جو چل نہ سکے اور کانا جس کا کانا پن کھلا ہو اور بیمار جس کی بیماری ظاہر ہوا اور دبلا جس میں گودا نہیں ہے۔
970
Muawtta Imam Malikعَنْ نَافِعٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ كَانَ يَتَّقِي مِنْ الضَّحَايَا وَالْبُدْنِ الَّتِي لَمْ تُسِنَّ وَالَّتِي نَقَصَ مِنْ خَلْقِهَا
نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر ان قربانیوں سے بچتے جو مسنہ نہ ہوتیں اور جس کا کوئی عضو نہ ہوتا۔
971
Muawtta Imam Malikعَنْ بُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ أَنَّ أَبَا بُرْدَةَ بْنَ نِيَارٍ ذَبَحَ ضَحِيَّتَهُ قَبْلَ أَنْ يَذْبَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْأَضْحَى فَزَعَمَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَهُ أَنْ يَعُودَ بِضَحِيَّةٍ أُخْرَى قَالَ أَبُو بُرْدَةَ لَا أَجِدُ إِلَّا جَذَعًا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ وَإِنْ لَمْ تَجِدْ إِلَّا جَذَعًا فَاذْبَحْ
بشیر بن یسار سے روایت ہے کہ ابا بردہ بن نیار نے ذبح کی قربانی اپنی قبل اس بات کے کہ رسول اللہ ﷺ ذبح کریں تو آپ ﷺ نے دوسری قربانی کا ان کو حکم دیا انہوں نے کہا کہ یا رسول اللہ ﷺ میرے پاس تو اب کچھ نہیں صرف ایک بکری ہے ایک سال کی آپ ﷺ نے فرمایا اسی کو ذبح کر۔
972
Muawtta Imam Malikعَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ أَنَّ عُوَيْمِرَ بْنَ أَشْقَرَ ذَبَحَ ضَحِيَّتَهُ قَبْلَ أَنْ يَغْدُوَ يَوْمَ الْأَضْحَى وَأَنَّهُ ذَكَرَ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَهُ أَنْ يَعُودَ بِضَحِيَّةٍ أُخْرَى
عبادہ بن تمیم سے روایت ہے کہ عویمر بن اشقر نے ذبح کی قربانی اپنی دسویں تاریج کی فجر سے پیشتر جب آپ ﷺ سے بیان کیا آپ ﷺ نے دوسری قربانی کا حکم دیا۔
973
Muawtta Imam Malikعَنْ نَافِعٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ضَحَّى مَرَّةً بِالْمَدِينَةِ قَالَ نَافِعٌ فَأَمَرَنِي أَنْ أَشْتَرِيَ لَهُ كَبْشًا فَحِيلًا أَقْرَنَ ثُمَّ أَذْبَحَهُ يَوْمَ الْأَضْحَى فِي مُصَلَّى النَّاسِ قَالَ نَافِعٌ فَفَعَلْتُ ثُمَّ حُمِلَ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ فَحَلَقَ رَأْسَهُ حِينَ ذُبِحَ الْكَبْشُ وَكَانَ مَرِيضًا لَمْ يَشْهَدْ الْعِيدَ مَعَ النَّاسِ قَالَ نَافِعٌ وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ يَقُولُ لَيْسَ حِلَاقُ الرَّأْسِ بِوَاجِبٍ عَلَى مَنْ ضَحَّى وَقَدْ فَعَلَهُ ابْنُ عُمَرَ
نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر نے قربانی کی ایک بار مدینہ میں تو مجھ کو حکم کیا ایک بکرا سینگ دار خریدنے کا اور اس کے ذبح کرنے کا عیدالاضحی کے روز عیدگاہ میں میں نے ایسا ہی کیا پھر وہ بکرا ذبح کیا ہوا بیجھا گیا عبداللہ بن عمر کے پاس جب انہوں نے اپنا سر منڈایا، ان دنوں میں وہ بیمار تھے عید کی نماز کو بھی نہیں آئے کہا نافع نے عبداللہ بن عمر کہتے تھے کہ سر منڈانا قربانی کرنے والے پر واجب نہیں ہے مگر عبداللہ بن عمر نے یوں ہی سر منڈایا۔
974
Muawtta Imam Malikعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ أَكْلِ لُحُومِ الضَّحَايَا بَعْدَ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ ثُمَّ قَالَ بَعْدُ كُلُوا وَتَصَدَّقُوا وَتَزَوَّدُوا وَادَّخِرُوا
جابر بن عبداللہ سے روایت ہے کہ آپ ﷺ نے پہلے منع کیا تھا قربانی کا گوشت رکھ چھوڑنے سے تین دن سے زیادہ پھر فرمایا بعد اس کے کھاؤ اور دو اور توشہ بناؤ اور رکھ چھوڑو۔
975
Muawtta Imam Malikعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ وَاقِدٍ أَنَّهُ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَكْلِ لُحُومِ الضَّحَايَا بَعْدَ ثَلَاثٍ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِعَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ فَقَالَتْ صَدَقَ سَمِعْتُ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَقُولُ دَفَّ نَاسٌ مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ حَضْرَةَ الْأَضْحَى فِي زَمَانِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ادَّخِرُوا لِثَلَاثٍ وَتَصَدَّقُوا بِمَا بَقِيَ قَالَتْ فَلَمَّا كَانَ بَعْدَ ذَلِكَ قِيلَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَقَدْ كَانَ النَّاسُ يَنْتَفِعُونَ بِضَحَايَاهُمْ وَيَجْمُلُونَ مِنْهَا الْوَدَكَ وَيَتَّخِذُونَ مِنْهَا الْأَسْقِيَةَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَا ذَلِكَ أَوْ كَمَا قَالَ قَالُوا نَهَيْتَ عَنْ لُحُومِ الضَّحَايَا بَعْدَ ثَلَاثٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا نَهَيْتُكُمْ مِنْ أَجْلِ الدَّافَّةِ الَّتِي دَفَّتْ عَلَيْكُمْ فَكُلُوا وَتَصَدَّقُوا وَادَّخِرُوا يَعْنِي بِالدَّافَّةِ قَوْمًا مَسَاكِينَ قَدِمُوا الْمَدِينَةَ
عبداللہ بن واقد سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے منع کیا قربانیوں کے گوشت کھانے سے بعد تین دن کے عبداللہ بن ابی بکر نے کہا میں نے یہ عمرہ بنت عبدالرحمن (رض) بیان کیا وہ بولیں سچ کہا عبداللہ بن واقد نے میں نے سنا حضرت عائشہ (رض) کہ کچھ لوگ جنگل کے رہنے والے آ
976
Muawtta Imam Malikعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّهُ قَدِمَ مِنْ سَفَرٍ فَقَدَّمَ إِلَيْهِ أَهْلُهُ لَحْمًا فَقَالَ انْظُرُوا أَنْ يَكُونَ هَذَا مِنْ لُحُومِ الْأَضْحَى فَقَالُوا هُوَ مِنْهَا فَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ أَلَمْ يَكُنْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْهَا فَقَالُوا إِنَّهُ قَدْ كَانَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَكَ أَمْرٌ فَخَرَجَ أَبُو سَعِيدٍ فَسَأَلَ عَنْ ذَلِكَ فَأُخْبِرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ نَهَيْتُكُمْ عَنْ لُحُومِ الْأَضْحَى بَعْدَ ثَلَاثٍ فَكُلُوا وَتَصَدَّقُوا وَادَّخِرُوا وَنَهَيْتُكُمْ عَنْ الِانْتِبَاذِ فَانْتَبِذُوا وَكُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ وَنَهَيْتُكُمْ عَنْ زِيَارَةِ الْقُبُورِ فَزُورُوهَا وَلَا تَقُولُوا هُجْرًا يَعْنِي لَا تَقُولُوا سُوءًا
ابو سعید خدری سفر سے آئے ان کے گھر کے لوگوں نے گوشے سامنے رکھے انہوں نے کہا دیکھو کہیں قربانی کا گوشت نہ ہو انہوں نے کہا قربانی ہی کا تو ہے، ابوسعید نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے اس سے منع کیا تھا، لوگوں نے کہا بعد آپ ﷺ کے رسول اللہ ﷺ نے اس باب میں دوسرا حکم فرمایا : ابوسعید گھر سے نکلے اس امر کی تحقیق کرنے کو، جب ان کو خبر پہنچی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں نے تم کو منع کیا تھا قربانی کا گوشت کھانے سے بعد تین روز کے لیکن اب کھاؤ اور صدقہ دو اور رکھ چھوڑو اور میں نے تم کو منع کیا تھا نبیذ بنانے سے بعض برتنوں میں اب بناؤ جس برتن میں چاہو لیکن جو چیز نشہ پیدا کرے وہ حرام ہے اور میں نے تم کو منع کیا تھا قبروں کی زیارت سے اب زیارت کرو قبروں کی مگر منہ سے بری بات نہ نکالو۔
977
Muawtta Imam Malikعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّهُ قَالَ نَحَرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْحُدَيْبِيَةِ الْبَدَنَةَ عَنْ سَبْعَةٍ وَالْبَقَرَةَ عَنْ سَبْعَةٍ
جابر بن عبداللہ سے روایت ہے کہ ہم نے نحر کیا حدیبیہ کے سال اونٹ ساتھ آدمیوں کے طرف سے اور گائے ذبح کی سات آدمیوں کی طرف سے۔
978
Muawtta Imam Malikعَنْ عُمَارَةَ بْنِ صَيَّادٍ أَنَّ عَطَاءَ بْنَ يَسَارٍ أَخْبَرَهُ أَنَّ أَبَا أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيَّ أَخْبَرَهُ قَالَ كُنَّا نُضَحِّي بِالشَّاةِ الْوَاحِدَةِ يَذْبَحُهَا الرَّجُلُ عَنْهُ وَعَنْ أَهْلِ بَيْتِهِ ثُمَّ تَبَاهَى النَّاسُ بَعْدُ فَصَارَتْ مُبَاهَاةً قَالَ مَالِك وَأَحْسَنُ مَا سَمِعْتُ فِي الْبَدَنَةِ وَالْبَقَرَةِ وَالشَّاةِ أَنَّ الرَّجُلَ يَنْحَرُ عَنْهُ وَعَنْ أَهْلِ بَيْتِهِ الْبَدَنَةَ وَيَذْبَحُ الْبَقَرَةَ وَالشَّاةَ الْوَاحِدَةَ هُوَ يَمْلِكُهَا وَيَذْبَحُهَا عَنْهُمْ وَيَشْرَكُهُمْ فِيهَا فَأَمَّا أَنْ يَشْتَرِيَ النَّفَرُ الْبَدَنَةَ أَوْ الْبَقَرَةَ أَوْ الشَّاةَ يَشْتَرِكُونَ فِيهَا فِي النُّسُكِ وَالضَّحَايَا فَيُخْرِجُ كُلُّ إِنْسَانٍ مِنْهُمْ حِصَّةً مِنْ ثَمَنِهَا وَيَكُونُ لَهُ حِصَّةٌ مِنْ لَحْمِهَا فَإِنَّ ذَلِكَ يُكْرَهُ وَإِنَّمَا سَمِعْنَا الْحَدِيثَ أَنَّهُ لَا يُشْتَرَكُ فِي النُّسُكِ وَإِنَّمَا يَكُونُ عَنْ أَهْلِ الْبَيْتِ الْوَاحِدِ
عمارہ بن صیاد سے روایت ہے کہ عطاء بن یسار نے خبر دی ان کو، ابوایوب انصاری سے سن کر کہتے تھے کہ ہم قربانی کرتے تھے ایک بکری اپنے اور اپنے تمام گھر والوں کی طرف سے بعد اس کے فخر سمجھ کر ہر ایک کی طرف سے ایک ایک بکری کرنا شروع کی۔ کہا مالک نے میں نے جو بہتر سنا ہے اس باب میں وہ یہ ہے کہ آدمی اپنے اور اپنے گھر والوں کی طرف سے ایک اونٹ یا گائے یا بکری جس کا وہ مالک ہو ذبح کرے اور سب آدمیوں کو ثواب میں شریک کرے لیکن یہ صورت کہ ایک آدمی ایک اونٹ یا گائے یا بکری خرید کرے اور کئی آدمیوں کو قربانی میں شریک کرے یعنی ہر ایک سے حصہ رسد قیمت لے اور اس کے موافق گوشت دے مکروہ ہے ہم نے تو یہ سنا ہے کہ قربانی میں شریک نہیں ہوسکتا بلکہ ایک گھر کے لوگوں کی طرف سے ایک قربانی ہوسکتی ہے۔