hadith book logo

Muawtta Imam Malik

19. کتاب الاعتکاف

موطأ مالك

571
Muawtta Imam Malik
عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهَا قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا اعْتَكَفَ يُدْنِي إِلَيَّ رَأْسَهُ فَأُرَجِّلُهُ وَكَانَ لَا يَدْخُلُ الْبَيْتَ إِلَّا لِحَاجَةِ الْإِنْسَانِ
حضرت ام المومنین عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب اعتکاف میں ہوتے تو جھکا دیتے سر اپنا میری طرف سو میں کنگھی کردیتی اور گھر میں نہ آتے مگر حاجت ضروری کے واسطے۔
572
Muawtta Imam Malik
عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ عَائِشَةَ كَانَتْ إِذَا اعْتَكَفَتْ لَا تَسْأَلُ عَنْ الْمَرِيضِ إِلَّا وَهِيَ تَمْشِي لَا تَقِفُ
عمرہ بنت عبدالرحمن (رض) روایت ہے کہ عائشہ جب اعتکاف کرتیں تو بیمار پرسی نہ کرتیں مگر چلتے چلتے، ٹھہرتی نہیں تھیں۔
573
Muawtta Imam Malik
عَنْ مَالِك أَنَّهُ سَأَلَ ابْنَ شِهَابٍ عَنْ الرَّجُلِ يَعْتَكِفُ هَلْ يَدْخُلُ لِحَاجَتِهِ تَحْتَ سَقْفٍ فَقَالَ نَعَمْ لَا بَأْسَ بِذَلِكَ
امام مالک سے روایت ہے کہ انہوں نے پوچھا ابن شہاب سے کہ معتکف کو پٹے ہوئے مکان میں حاجت ضروری کو جانا درست ہے بولے ہاں درست ہے کچھ حرج نہیں۔
574
Muawtta Imam Malik
عَنْ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ وَنَافِعًا مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَا لَا اعْتِكَافَ إِلَّا بِصِيَامٍ بِقَوْلِ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى فِي كِتَابِهِ وَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَكُمْ الْخَيْطُ الْأَبْيَضُ مِنْ الْخَيْطِ الْأَسْوَدِ مِنْ الْفَجْرِ ثُمَّ أَتِمُّوا الصِّيَامَ إِلَى اللَّيْلِ وَلَا تُبَاشِرُوهُنَّ وَأَنْتُمْ عَاكِفُونَ فِي الْمَسَاجِدِ فَإِنَّمَا ذَكَرَ اللَّهُ الْاعْتِكَافَ مَعَ الصِّيَامِ
قاسم بن محمد اور نافع جو مولیٰ ہیں عبداللہ بن عمر کے دونوں کہتے تھے کہ اعتکاف بغیر روزے کے درست نہیں ہے کیونکہ اللہ جل جلالہ نے فرمایا اپنی کتاب میں کھاؤ اور پیو یہاں تک کہ سفید دھاری معلوم ہونے لگے سیاہ دھاری سے فجر کی تمام کرو روزوں کو رات تک اور نہ چمٹو اپنی عورتوں سے جب تم اعتکاف سے ہو مسجدوں میں تو ذکر کیا اللہ جل جلالہ نے اعتکاف کا روزے کے ساتھ۔
575
Muawtta Imam Malik
عَنْ سُمَيٍّ مَوْلَى أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ أَبَا بَكْرِ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ اعْتَكَفَ فَكَانَ يَذْهَبُ لِحَاجَتِهِ تَحْتَ سَقِيفَةٍ فِي حُجْرَةٍ مُغْلَقَةٍ فِي دَارِ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ ثُمَّ لَا يَرْجِعُ حَتَّى يَشْهَدَ الْعِيدَ مَعَ الْمُسْلِمِينَ
سمی جو مولیٰ ہیں ابی بکر کے ان سے روایت ہے کہ ابوبکر بن عبدالرحمن اعتکاف کرتے تو جاتے حاجت ضروری کے واسطے ایک چھت دار کوٹھری میں جو بند رہتی خالد بن ولید کے گھر میں، پھر نہ نکلتے اعتکاف سے یہاں تک کہ حاضر ہوتے عید میں ساتھ مسلمانوں کے۔
576
Muawtta Imam Malik
عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرَادَ أَنْ يَعْتَكِفَ فَلَمَّا انْصَرَفَ إِلَى الْمَكَانِ الَّذِي أَرَادَ أَنْ يَعْتَكِفَ فِيهِ وَجَدَ أَخْبِيَةً خِبَاءَ عَائِشَةَ وَخِبَاءَ حَفْصَةَ وَخِبَاءَ زَيْنَبَ فَلَمَّا رَآهَا سَأَلَ عَنْهَا فَقِيلَ لَهُ هَذَا خِبَاءُ عَائِشَةَ وَحَفْصَةَ وَزَيْنَبَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آلْبِرَّ تَقُولُونَ بِهِنَّ ثُمَّ انْصَرَفَ فَلَمْ يَعْتَكِفْ حَتَّى اعْتَكَفَ عَشْرًا مِنْ شَوَّالٍ
عمرہ بنت عبدالرحمن (رض) روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارادہ کیا اعتکاف کا جب آئے آپ اس جگہ جہاں اعتکاف کرنا چاہتے تھے پائے آپ نے کئی خیمے ایک خیمہ عائشہ کا اور ایک خیمہ حفصہ کا اور ایک خیمہ زینب کا تو پوچھا آپ نے یہ کن کے خیمے ہیں لوگوں نے کہا عائشہ اور حفصہ اور زینب (رض) عنھن کے۔ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کیا تم نیکی کا گمان کرتے ہو ان عورتوں کے ساتھ، پھر لوٹ آئے آپ اور اعتکاف نہ کیا پھر شوال کے دس دنوں میں اعتکاف کیا۔
577
Muawtta Imam Malik
عَنْ ابْنِ شِهَابٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَذْهَبُ لِحَاجَةِ الْإِنْسَانِ فِي الْبُيُوتِ
ابن شہاب سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ حاجت ضروری کے لئے گھروں میں آئے تھے اعتکاف کی حالت میں۔