Muawtta Imam Malik
23. کتاب نذروں کے بیان میں
موطأ مالك
923
Muawtta Imam Malikعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ سَعْدَ بْنَ عُبَادَةَ اسْتَفْتَی رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنَّ أُمِّي مَاتَتْ وَعَلَيْهَا نَذْرٌ وَلَمْ تَقْضِهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اقْضِهِ عَنْهَا
عبداللہ بن عباس (رض) سے روایت ہے کہ سعد بن عبادہ نے پوچھا رسول اللہ ﷺ سے کہ میری ماں مرگئی اور اس پر ایک نذر واجب تھی اس نے ادا نہیں کی آپ نے فرمایا تو ادا کرو اس کی طرف سے۔
924
Muawtta Imam Malikعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَکْرٍ عَنْ عَمَّتِهِ أَنَّهَا حَدَّثَتْهُ عَنْ جَدَّتِهِ أَنَّهَا کَانَتْ جَعَلَتْ عَلَی نَفْسِهَا مَشْيًا إِلَی مَسْجِدِ قُبَائٍ فَمَاتَتْ وَلَمْ تَقْضِهِ فَأَفْتَی عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ ابْنَتَهَا أَنْ تَمْشِيَ عَنْهَا
عبداللہ بن ابی بکر سے روایت ہے کہ انہوں نے سنا اپنی پھوپھی سے انہوں نے بیان کیا کہ ان کی دادی نے نذر کی مسجد قبا میں پیدل جانے کی پھر مرگئیں اور اس نذر کو ادا نہیں کیا تو عبداللہ بن عباس نے ان کی بیٹی کو حکم کیا کہ وہ ان کی طرف سے اس نذر کو ادا کریں۔
925
Muawtta Imam Malikعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي حَبِيبَةَ قَالَ قُلْتُ لِرَجُلٍ وَأَنَا حَدِيثُ السِّنِّ مَا عَلَی الرَّجُلِ أَنْ يَقُولَ عَلَيَّ مَشْيٌ إِلَی بَيْتِ اللَّهِ وَلَمْ يَقُلْ عَلَيَّ نَذْرُ مَشْيٍ فَقَالَ لِي رَجُلٌ هَلْ لَکَ أَنْ أُعْطِيَکَ هَذَا الْجِرْوَ لِجِرْوِ قِثَّائٍ فِي يَدِهِ وَتَقُولُ عَلَيَّ مَشْيٌ إِلَی بَيْتِ اللَّهِ قَالَ فَقُلْتُ نَعَمْ فَقُلْتُهُ وَأَنَا يَوْمَئِذٍ حَدِيثُ السِّنِّ ثُمَّ مَکَثْتُ حَتَّی عَقَلْتُ فَقِيلَ لِي إِنَّ عَلَيْکَ مَشْيًا فَجِئْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ فَسَأَلْتُهُ عَنْ ذَلِکَ فَقَالَ لِي عَلَيْکَ مَشْيٌ فَمَشَيْتُ
عبداللہ بن ابی حبیبہ سے روایت ہے کہ میں نے کہا ایک شخص سے اور میں کمسن تھا کہ اگر کوئی شخص صرف اتنا ہی کہے کہ علی مشئی الی بیت اللہ یعنی میرے اوپر پیدل چلنا ہے بیت اللہ تک اور یہ نہیں کہا کہ میرے اوپر نذر ہے پیدل چلنے کی بیت اللہ تک تو اس پر کچھ لازم نہیں آتا، وہ شخص مجھ سے بولا کہ میرے ہاتھ میں یہ ککڑی ہے تجھے دیتا ہوں تو اتنا کہہ دے کہ میرے اوپر پیدل چلنا ہے بیت اللہ تک میں نے کہا ہاں کہتا ہوں تو میں نے کہہ دیا اور میں کم سن تھا پھر ٹھہر کر تھوڑی دیر میں مجھے عقل آئی اور لوگوں نے مجھ سے کہا کہ تجھ پیدل چلنا بیت اللہ تک واجب ہوا میں سعید بن مسیب کے پاس آیا اور ان سے پوچھا انہوں نے بھی کہا کہ تجھ پر پیدل چلنا واجب ہوا بیت اللہ تک تو میں پیدل چلا بیت اللہ تک۔
926
Muawtta Imam Malikعَنْ عُرْوَةَ بْنِ أُذَيْنَةَ اللَّيْثِيِّ أَنَّهُ قَالَ خَرَجْتُ مَعَ جَدَّةٍ لِي عَلَيْهَا مَشْيٌ إِلَی بَيْتِ اللَّهِ حَتَّی إِذَا کُنَّا بِبَعْضِ الطَّرِيقِ عَجَزَتْ فَأَرْسَلَتْ مَوْلًی لَهَا يَسْأَلُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ فَخَرَجْتُ مَعَهُ فَسَأَلَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ فَقَالَ لَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ مُرْهَا فَلْتَرْکَبْ ثُمَّ لْتَمْشِ مِنْ حَيْثُ عَجَزَتْ قَالَ يَحْيَی و سَمِعْت قَوْله تَعَالَی يَقُولُ وَنَرَی عَلَيْهَا مَعَ ذَلِکَ الْهَدْيَ عَنْ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ وَأَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ کَانَا يَقُولَانِ مِثْلَ قَوْلِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ
عروہ بن اذینه لیثی سے روایت ہے کہ کہا میں نکلا اپنی دادی کے ساتھ اور اس نے نذر کی تھی بیت اللہ تک پیدل جانے کی، راستے میں تھک گئیں تو اپنے غلام کو بھیجا عبداللہ بن عمر کے پاس مسئلہ پوچھنے کو میں بھی ساتھ گیا اس نے عبداللہ بن عمر سے پوچھا انہوں نے جواب دیا کہ اب سوار ہوجائے پھر دوبارہ جب آئے جہاں سے سوار ہوئی تھیں وہاں سے پیدل چلے۔ کہا مالک نے اور باوجود اس کے ایک ہدیہ بھی اس پر واجب ہے۔ سعید بن مسیب اور ابا سلمہ بن عبدالرحمن کہتے تھے اس مسئلہ میں جیسا عبداللہ بن عمر نے کہا۔
927
Muawtta Imam Malikعَنْ يَحْيَی بْنِ سَعِيدٍ أَنَّهُ قَالَ کَانَ عَلَيَّ مَشْيٌ فَأَصَابَتْنِي خَاصِرَةٌ فَرَکِبْتُ حَتَّی أَتَيْتُ مَکَّةَ فَسَأَلْتُ عَطَائَ بْنَ أَبِي رَبَاحٍ وَغَيْرَهُ فَقَالُوا عَلَيْکَ هَدْيٌ فَلَمَّا قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ سَأَلْتُ عُلَمَائَهَا فَأَمَرُونِي أَنْ أَمْشِيَ مَرَّةً أُخْرَی مِنْ حَيْثُ عَجَزْتُ فَمَشَيْتُ قَالَ مَالِک الْأَمْرُ عِنْدَنَا فِيمَنْ يَقُولُ عَلَيَّ مَشْيٌ إِلَی بَيْتِ اللَّهِ أَنَّهُ إِذَا عَجَزَ رَکِبَ ثُمَّ عَادَ فَمَشَی مِنْ حَيْثُ عَجَزَ فَإِنْ کَانَ لَا يَسْتَطِيعُ الْمَشْيَ فَلْيَمْشِ مَا قَدَرَ عَلَيْهِ ثُمَّ لْيَرْکَبْ وَعَلَيْهِ هَدْيُ بَدَنَةٍ أَوْ بَقَرَةٍ أَوْ شَاةٍ إِنْ لَمْ يَجِدْ إِلَّا هِيَ
یحییٰ بن سعید نے کہا میں نے بیت اللہ تک پیدل چلنے کی نذر کی تھی میری ناف میں درد ہونے لگا میں سوار ہو کر مکے میں آیا اور عطا بن ابی رباح وغیرہ سے پوچھا انہوں نے کہا تجھ کو ہدی لازم ہے جب میں مدینہ آیا وہاں لوگوں سے پوچھا انہوں نے کہا تجھ کو دوبارہ پیدل چلنا چاہئے جہاں سے سوار ہوا تھا تو پیدل چلائیں۔ کہا مالک نے ہمارے نزدیک جو شخص یہ کہے کہ مجھ پر پیدل چلنا ہے بیت اللہ تک اور چلے پھر عاجز ہوجائے تو سوار ہوجائے پھر دوبارہ جب آئے تو جہاں سے سوار ہوا تھا وہاں سے پیدل چلے اگر چلنے کی طاقت نہ ہو تو جہاں تک ہو سکے چلے پھر سوار ہوجائے اور ہدی میں ایک اونٹ یا گائے دے اگر نہ ہو سکے تو بکری دے۔
928
Muawtta Imam Malikعَنْ مَالِک أَنَّ أَحْسَنَ مَا سَمِعْتُ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ فِي الرَّجُلِ يَحْلِفُ بِالْمَشْيِ إِلَی بَيْتِ اللَّهِ أَوْ الْمَرْأَةِ فَيَحْنَثُ أَوْ تَحْنَثُ أَنَّهُ إِنْ مَشَی الْحَالِفُ مِنْهُمَا فِي عُمْرَةٍ فَإِنَّهُ يَمْشِي حَتَّی يَسْعَی بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ فَإِذَا سَعَی فَقَدْ فَرَغَ وَأَنَّهُ إِنْ جَعَلَ عَلَی نَفْسِهِ مَشْيًا فِي الْحَجِّ فَإِنَّهُ يَمْشِي حَتَّی يَأْتِيَ مَکَّةَ ثُمَّ يَمْشِي حَتَّی يَفْرُغَ مِنْ الْمَنَاسِکِ کُلِّهَا وَلَا يَزَالُ مَاشِيًا حَتَّی يُفِيضَ قَالَ مَالِک وَلَا يَکُونُ مَشْيٌ إِلَّا فِي حَجٍّ أَوْ عُمْرَةٍ
کہا مالک نے اگر مرد یا عورت قسم کھائے کعبہ شریف کو پیدل جانے کی پھر قسم اس کی ٹوٹے اور اس کو پیدل جانا کعبہ کا لازم آئے تو عمرہ میں جب تک سعی سے فارغ ہو پیدل چلے اور حج میں جب تک طواف الزیارۃ سے فارغ ہوپیدل چلے۔
929
Muawtta Imam Malikعَنْ حُمَيْدِ بْنِ قَيْسٍ وَثَوْرِ بْنِ زَيْدٍ الدِّيلِيِّ أَنَّهُمَا أَخْبَرَاهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَحَدُهُمَا يَزِيدُ فِي الْحَدِيثِ عَلَی صَاحِبِهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَی رَجُلًا قَائِمًا فِي الشَّمْسِ فَقَالَ مَا بَالُ هَذَا فَقَالُوا نَذَرَ أَنْ لَا يَتَکَلَّمَ وَلَا يَسْتَظِلَّ مِنْ الشَّمْسِ وَلَا يَجْلِسَ وَيَصُومَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرُوهُ فَلْيَتَکَلَّمْ وَلْيَسْتَظِلَّ وَلْيَجْلِسْ وَلْيُتِمَّ صِيَامَهُ
حمید بن قیس اور ثور بن زید سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک شخص کو دھوپ میں کھڑا ہوا دیکھا آپ ﷺ نے اس کا باعث پوچھا لوگوں نے کہا اس نے نذر کی ہے کہ میں کسی سے بات نہ کروں گا نہ سایہ لوں گا نہ بیٹھوں گا اور روزہ سے رہوں گا۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ اس کو حکم کرو بات کرے، سایہ میں آئے، بیٹھے، روزہ اپنا پورا کرے۔
930
Muawtta Imam Malikعَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ أَنَّهُ سَمِعَهُ يَقُولُ أَتَتْ امْرَأَةٌ إِلَی عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ فَقَالَتْ إِنِّي نَذَرْتُ أَنْ أَنْحَرَ ابْنِي فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ لَا تَنْحَرِي ابْنَکِ وَکَفِّرِي عَنْ يَمِينِکِ فَقَالَ شَيْخٌ عِنْدَ ابْنِ عَبَّاسٍ وَکَيْفَ يَکُونُ فِي هَذَا کَفَّارَةٌ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ إِنَّ اللَّهَ تَعَالَی قَالَ وَالَّذِينَ يُظَاهِرُونَ مِنْکُمْ مِنْ نِسَائِهِمْ ثُمَّ جَعَلَ فِيهِ مِنْ الْکَفَّارَةِ مَا قَدْ رَأَيْتَ
قاسم بن محمد سے روایت ہے کہ ایک عورت عبداللہ بن عباس کے پاس آئی اور بولی میں نے نذر کی اپنے بیٹے کو ذبح کرنے کی ابن عباس نے کہا مت ذبح کر اپنے بیٹے کو اور کفارہ دے اپنی قسم کا ایک شخص بولا ابن عباس (رض) سے اس نذر میں کفارہ کیوں ہوگا ابن عباس نے جواب دیا کہ ظہار بھی ایک معصیت ہے اور اس میں اللہ نے کفارہ مقرر کیا۔
931
Muawtta Imam Malikعَنْ مَالِک عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عَبْدِ الْمَلِکِ الْأَيْلِيِّ عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ابْنِ الصِّدِّيقِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ نَذَرَ أَنْ يُطِيعَ اللَّهَ فَلْيُطِعْهُ وَمَنْ نَذَرَ أَنْ يَعْصِيَ اللَّهَ فَلَا يَعْصِهِ قَالَ يَحْيَی و سَمِعْت قَوْله تَعَالَی يَقُولُ مَعْنَی قَوْلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ نَذَرَ أَنْ يَعْصِيَ اللَّهَ فَلَا يَعْصِهِ أَنْ يَنْذِرَ الرَّجُلُ أَنْ يَمْشِيَ إِلَی الشَّامِ أَوْ إِلَی مِصْرَ أَوْ إِلَی الرَّبَذَةِ أَوْ مَا أَشْبَهَ ذَلِکَ مِمَّا لَيْسَ لِلَّهِ بِطَاعَةٍ إِنْ کَلَّمَ فُلَانًا أَوْ مَا أَشْبَهَ ذَلِکَ فَلَيْسَ عَلَيْهِ فِي شَيْئٍ مِنْ ذَلِکَ شَيْئٌ إِنْ هُوَ کَلَّمَهُ أَوْ حَنِثَ بِمَا حَلَفَ عَلَيْهِ لِأَنَّهُ لَيْسَ لِلَّهِ فِي هَذِهِ الْأَشْيَائِ طَاعَةٌ وَإِنَّمَا يُوَفَّی لِلَّهِ بِمَا لَهُ فِيهِ طَاعَةٌ
کہا مالک نے رسول اللہ ﷺ نے جو یہ فرمایا اگر کوئی نذر کرے اللہ کی معصیت کی تو معصیت نہ کرے مراد اس سے یہ ہے کہ مثلا آدمی نذر کرے شام یا مصر یا جدہ یا زبدہ میں جانے کی یا اور کسی کام کی جو ثواب نہیں ہے اگر ایسے امورات میں اس کی قسم ٹوٹے مثلا یوں کہے کہ اگر میں زید سے بات کروں تو مصر جاؤں گا پھر زید سے پات کرے تو اس پر کچھ لازم نہیں آتا بلکہ اس نذر کا پورا کرنا ضرور ہے جس میں ثواب ہو۔
932
Muawtta Imam Malikعَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ أَنَّهَا کَانَتْ تَقُولُ لَغْوُ الْيَمِينِ قَوْلُ الْإِنْسَانِ لَا وَاللَّهِ لَا وَاللَّهِ
حضرت ام المومنین عائشہ فرماتی تھیں کہ لغو قسم وہ ہے جو آدمی باتوں میں کہتا ہے نہیں واللہ ہاں واللہ۔